موبائل فون ضرورت یا عادت

 عزیز اعظمی

  امی کو موبائل کی عادت ہے اور دادا کو چائے کی ہر گھنٹے بعد اگر دادا کو چائے نہ ملے تو انکا بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے اگر امی کو نٹ  نہ ملے تو انکا پارہ . دادا کو موبائل سے اس قدر نفرت کہ اگر کسی کو نیٹ چلاتے دیکھ لیا تو اسکی خیر نہیں امی کے کونے والے کمرے میں سگنل نہیں آتا تو وہ اکثر برآمدے میں بیٹھ کر نٹ استعمال کر تیں ہیں  آج جیسے برآمدے میں موبائل لیکر آئیں تب تک کہ دادا کی آواز آئی علیزہ کی امی ایک کپ چائے بنانا ۔۔۔ اچھا ابا ابھی لائی ۔۔۔ امی ابو سے بات کرتے ہوئے کچن میں گئیں جلدی سے ایک کپ چائے بنائی اور دادا کے ٹیبل پر رکھ کر کمرے میں چلی گئیں. تب تک پھر دادا کی آواز آئی علیزہ کی امی چائےمیں شکر کے بجائے نمک ڈال دیا. تم لوگوں کا واٹس اپ ، فیس بک کسی دن میری جان لے لیگا. کل راشن کے سامان کے ساتھ چوہے مارنے کی دوا بھی لایا تھا. وہ کہاں رکھی ہے. تم لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں, موبائل کے چکر میں کہیں کھانے میں ہی نہ ڈال. دو یہ انٹر نیٹ موبائل اور فیس بک والے مجھے کہیں مل جائیں تو میں انکا خون پی جاوں ان لوگوں نے نئی نسل اور معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے. بچے جوان بہو بیٹیاں سب کے سب دن رات موبائل اسکرین پر اپنا دیدہ پھوڑتے رہتے ہیں نہ پڑھنے لکھنے پردھیان نہ کھانے پکانے کا خیال نہ سونے جاگنے کا وقت اگر میں یوگی کی جگہ ہوتا تو باخدا گوشت گے بجائے نیٹ اور شراب پر پابندی لگا تا لیکن گائے میں ماتا اور گوبرمیں ہیرا ڈھونڈنے والوں کو کون سمجھائے مودی جی انڈیا کو جملوں سے چلا رہے ہیں اور مائیں گھر کو موبائل سے  حالت یہ ہے کہ نہ ملک چل رہا ہے اور نہ گھر –

کل بازار میں ڈاکٹر راشد صاحب کے دواخانے پر بیٹھا تھا کہ ایک 5، 6 سال کا بچہ روتا ہوا جا رہا ہے. میں نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو آگے اس کی ماں موبائل پر کسی سے بات کرتے ہوئے جا رہی ہے. پیچھے مُڑ کر بچے کو جلدی آنے کا اشارہ کر کے خود باتوں میں غرق تیزی سے بھاگتی جارہی ہے. بچے کو روتا دیکھ مجھے سے رہا نہیں گیا. میں نے بچے سے پوچھا بیٹا کیوں رو رہے ہو؟ بچے نے بڑی معصومیت سے کہا کہ میں اپنی ماما سے کہتا ہوں کہ وہ میری انگلی پکڑ کر چلے، میرے ساتھ ساتھ چلے میرے ساتھ بات کرے میں بھی اس سے بات کروں، پر امی ہے کہ موبائل سے بات کرتی ہے مجھ سے نہیں مجھے تو بس ڈانٹتی رہتی ہے!

گھر پر ان سے بات کرتا ہوں تب بھی وہ موبائل پر لگی رہتی ہیں میری طرف دیکھے بغیر مجھےسنے بغیر صرف ہاں ہاں کرتی رہتی ہیں دادا اچھا ہوتا کہ میں انکا بیٹا ہونے کے بجائے  موبائل ہوتا کم ازکم ماما میرا خیال تو رکھتیں مجھ سے بات تو کرتیں میں نے بچے کی انگلی پکڑی اس سے کہا کہ چلو تمہاری ماما سے پوچھوں کہ وہ تم سے بات کیوں نہیں کرتی موبائل دوکان پر پہونچا تو میڈم جیو سم خریدنے میں مصروف تھیں میں نے کہا یہ بچہ آپ کا ہے …جی ابا میرا ہی ہے.. آپکو بیٹے سے زیادہ جیو سم کی فکر ہے ابا میں اتنی دور سے صرف سم لینے آئی ہوں ابھی دوکان بند ہو جاتی تو میرا آنا ہی بے کار ہوتا میڈم کی بات سن کر اپنا غصہ پیتے ہوئے یہ کہ کر واپس ہوا کہ آگ لگے تمارے سم میں جس کی خاطر تمہیں بیٹے کی فکر نہیں یہی آج کی ماں ہے؟

جو اپنے بچے کی معمولی خواہش کا احساس تک نہیں کر پا رہی ہے ،اس کے احساسات کو مجروح کر رہی ہے حالانکہ ماں تو بڑی سے بڑی قربانی اولاد کے لیے دینے سے دریغ نہیں کرتی، ماں کی ہر خوشی اولاد سے شروع ہوتی ہے اور اولاد پر ختم ہوتی ہے۔ لیکن دنیا کی رنگینیوں نے کس طرح ماوں کو ماڈرن بنا دیا ہے ایسا لگتا ہے کہ مودی کے ڈیجیٹل انڈیا میں اب ماوں نے بچوں کی پرورش کو بھی ڈیجٹل بنا دیا ہے –

دوستو!

 موبائل فون دور حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے اسکی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن انٹرنیٹ کی دنیا نے جہاں زندگی کو آسان بنایا یے وہیں کچھ منفی اثرات بھی مرتب کئے ہیں ہمیں اپنے اور اپنے بچوں کے تئیں اس منفی اثرات سے محتاط رہنے کی بھی ضرورت ہے۔



⋆ عزیز اعظمی

عزیز اعظمی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ڈیجیٹل انڈیا میں ڈیجیٹل سموسہ

بھگتو کو ہر چیز ڈیجیٹل ہی نظر آتی ہے اور آپ اسکو سمجھا بھی نہیں سکتے. اگر آپ کہتے کہ بابو سموسہ ڈیجیٹل نہیں ہو سکتا تو وہ آپ پر اینٹی نیشنلسٹ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہتا کہ جب گوبر کوہ نور ہیرا ہو سکتا ہے تو سموسہ ڈیجیٹل کیوں نہیں ہو سکتا چچا  کی بات میں بڑی گہرائی اور سچائی تھی کہ بھگتی کے آگے تعلیم بھی دم توڑ جاتی ہے  پڑھا لکھا انسان جاہل ہو جاتا ہے اور جاہل بھگوان ہو جاتا ہے چچا سے یہ کہتے ہوئے کہ دیس بدل رہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے