معاشرہ اور ثقافت

موبائل کا اصل مقصد

محمد ابوذر

(جلگاؤں)

یوں تو موبائل سے ہم بہت سے کام نکالتے ہیں۔ جیسے کتابیں پڑھنا، عمدہ قسم کے ڈیزائن بنانا ، موسیقی سے لطف اندوز ہونا،کچھ دیکھ کر آنکھوں کو  سرور پہونچانا،سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں سے جڑنا، نئے دوست بنانا، چَیٹنگ کرنا ،گیمز کھیلنا۔ تصویر نکالنا، سیلفی لینا وغیرہ۔

لیکن کیا آپ کو اس کا اصل مقصد پتہ ہے؟ جس کی وجہ سے وہ تمام کاموں کو روک دیتاہے، جو جہاں ہے اس کو  وہیں چھوڑ دیتاہے۔ جب تک اس کام کو انجام نہ دے لے اس وقت تک آگے نہیں بڑھتا۔

موبائل کا اصل مقصد کسی سے بات کرنا یا کسی کی بات سننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی کی کال آتی ہے تو موبائل باقی سارے کام روک کر ، صرف فون کی گھنٹی سناتاہے۔ اب سوچئے !! کہ موبائل کے کال کے علاوہ بہت سے کام ہیں۔ بہت سے مقاصد ہیں ،بہت سے فائدے ہیں۔ لیکن کال کے لیے سارے کام سارے مقاصد ساری مصلحتیں موبائل  پیچھے دھکیل دیتاہے اور کہتا ہے کہ پہلے کال لو! فون اٹھاؤ!یہ ایک مشین اپنا اصل کام اور اصل مقصد کبھی نہیں بھولتی، پر حیرت ہے حضرت انساں پر!  جو کاموں میں لگ کر اپنا  اصل کام  اور اصل مقصد ہی بھول جاتاہے۔

  انسان کسی اسکول یا کالج میں پڑھے، کھیتی باڑی کرتاہے تو کرے،فیکٹری اور ملیں چلاتاہے تو شوق سے چلائے، دکانداری کرتاہے تو کرے،انجینئر بن کر ایجادات کی دنیا میں دھماکا کرتاہے تو کرے،ڈاکٹر بن کر لوگوں کی زندگیاں بچاتاہے تو بچائے ،استاذ بن کر روحِ انسانیت کو سنوارتا ہے تو  سنوارے، ،لیکن انسان کا اصل مقصد خدا کی بندگی ہے ،اس کو ماننا اور اس کی مان کر زندگی کا سفر طے کرناہے، جس وقت خدا کا جو تقاضا ہو اس کو سب سے پہلے پورا کرے،جب خدا کا کوئی حکم آن پڑے سب سے پہلے  اس کو انجام دے۔

غور کریں! ایک چھوٹا سا موبائل ایک چھوٹی سی مشین اپنا مقصد نہیں بھولتی۔ ہم کیسے انسان ہیں کہ اپنا مقصد بھول بیٹھے؟ ہم کیسے عقلمند ہیں کہ دنیا کے فریب میں آگئے ؟

  یاد رکھیں!جیسے موبائل کا اصل مقصد بات کرناہے،جس کے لیے موبائل ہر کام کو پیچھے دھکیل دیتاہے ایسے ہی ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت کرناہے، جس کے لیے ہمیں بھی اپنے تمام کاموں کو پیچھے دھکیل کر اپنے اصل مقصد اللہ کی عبادت میں لگنا اور سجدوں میں اس کا آسرا ڈھونڈھناہے، زندگی کے تمام شعبوں میں رضاء الہی کو مقصود بناکر اسی کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اپنے تمام کاموں کو اس کے احکام کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔ وہ موبائل کا مقصد تھا یہ زندگی کا مقصد ہے۔ جب موبائل اپنا مقصد نہیں بھولتا تو ہم انسان اپنا مقصد کیوں بھولیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

2 تبصرے

متعلقہ

Back to top button
Close