معاشرہ اور ثقافت

موجودہ معاشرہ اور خواتین 

عبدالمقیت عبدالقدیر

گذشتہ ماہ واٹس اپ پر ایک پیغام موصول ہو ا کہ اس ماہ کی شروعات سے اخیرتک سو کے قریب مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی رچانے والی ہیں۔ بدقسمتی سے ایسی باتیں افواہ بھی نہیں ہوتیں۔ ان پیغامات میں لڑکی کے محلے،گھر اور خاندان کا نا م پتہ واضح لکھا ہوتا ہے کہ ہر کس و ناکس کو پتہ چل جائے کہ اس محلے کی اور اس خاندان کی لڑکی بگڑی ہوئی ہے اور غیر مسلم سے شادی کرنے والی ہے۔ پیغام جب دلی سے گزر کر گلی تک پہنچتا ہے تو مصلحین بچی کے گھر کی دوڑ لگاتے ہیں اور اچانک خوف خدا دکھا کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کچھ اس طرح کوشش کرتے ہیں کہ اس سے لڑکی کو تو کیا اس گھر کی دوسری لڑکیوں کے لیے مسلم رشتے بھی نہ آئیں۔ بہر حال اپنی اپنی سطح پر کوششیں جاری رہتی ہیں مگر اگلے ہفتے پھر ایسی ہی خبر ملتی ہے اور اگلی کہانی شروع ہوجاتی ہے۔

ہمارے اہل علم اور مصلحین حضرات مضامین، خطبے، تقاریر سے اسے دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں مگر یہ کیا ہمارے جلسوں میں خواتین برائے نام تعداد میں حاضر ہوتی ہیں، ہماری تقاریر راست مرد وں سے مخاطب، ہمارے منبر سے نشرخطبے محض مرد حضرات کے لیے تو پھر خواتین کی اصلاح کیسے ہو؟ ان مسائل سے زیادہ حیرانی ان کے تدارک کی تدابیر پر ہوتی ہے۔ یہ کیسے اصلاح معاشرے کے خطبے ہیں جن کا مقصد خواتین کی اصلاح تو ہے مگر ان خطبات سے خواتین ہی غائب ہیں۔ جب اس معمے کا حل پوچھا جاتا ہے تو جو کچھ ترکیب بتائی جاتی ہے وہ اور بھی زیادہ حیران کن ہوتی ہے کہ ہمارے مرد حضرات بیان سنیں گے اور پھر گھر کی خواتین کی اصلاح کریں گے! اگر یہ حقیقتا واقع ہوتا تو یہ لڑکیوں کے ارتداد کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے مصلحین خوش ہیں کہ انھوں نے سہ روزہ، ہفتہ وار تو بہت جگہ یک ماہی اصلاح معاشرہ کی مہمیں منائیں ہیں مگر نتیجہ کیا ہوا؟

ان سلسلہ وار ارتداد کے پس پردہ کچھ وجوہات دیگر بھی ہیں کہ وقت کا تقاضا کہہ کر ہر گھر میں ٹی وی تو موجود ہے جو مخرب اخلاق ٹی وی سیریلس، فلمیں ہمارے گھروں میں پہنچاتا ہے جن کا محور داستان محبت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ مثبت تفریح کے لیے ہمارے پاس ٹی وی چینلس اور پروگرامس بھی نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اور خود ہمارے لیے دینی اقدار اور دین پر مبنی ٹی وی پروگرامس پیش کر سکیں۔ ایک حد کے بعد خواتین گھر کی چار دیواری سے بیزار ہوکر بازار کا چکر لگا لیتی ہیں تو ہمارے ماتھے پر کوئی شکن نہیں آتی۔ کیونکہ وہاں بھی وقت کا تقاضا کہہ کر ہم خاموش ہوجاتے ہیں۔

ہماری بیٹیاں اعلی تعلیم کے لیے مخلوط اداروں میں شرکت کے لیے مجبور ہیں جہاں نامحرموں سے شناسائی کبھی مجبوری تو کبھی خواہش کے بل پر ہوہی جاتی ہے۔ عام مشاہد ہ ہے کہ جو لڑکے لڑکیاں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں وہ اپنے گھروں سے دور ہوسٹلس میں رہنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں۔ ہوسٹل میں گھر کی طرح نہ کوئی بڑا ان کا نگران ہوتا ہے اور نہ کوئی خاص اخلاقی نظم ان کے لیے لاگو رہتا ہے جو گھر میں ہر وقت رائج رہتا ہے۔ ایسے میں وہی خدشات پورے ہونے لگتے ہیں جن کا ڈر ہمیں ہروقت لگا رہتا ہے۔

 غیر مسلموں سے شادی کرنے والی لڑکیو ں میں خاصی تعدادان لڑکیوں کی بھی ہوتی ہے جو کسی ایسی بستی کی رہائشی ہوتی ہے جہاں مسلم ماحول یا مسلم آبادی نہ کے برابر ہوتی ہے ایسے ماحول میں رہ کر انہیں اسلام سے محض رسمی وابستگی ہی رہتی ہے شعوری  طور پر وہ اپنے ماحول میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہیں۔ افسوس کے ہمارے پاس ہر شہر میں پانچ پانچ دینی مدرسے تو موجود ہوتے ہیں مگر ایسے طلبہ کے لیے اسلامی ماحول والے ہوسٹل موجود نہیں ہیں۔ ان سب مسائل کے ہوتے ہوئے بھی ایک موقع ایسا ہے جہاں ہم اپنی ملت کی بیٹوں کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ وہ ہے ہماری مساجد میں خواتین کے لیے نظم بنانا۔ خواتین کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کا اجتماعی ماحول گھروں میں نہیں بن پاتا اس لیے کچھ حد تک نمازوں سے تساہل برتا جاتا ہے۔ اگر خواتین بھی مساجد میں خصوصاً جمعہ کے خطبے اور نماز با جماعت کے لیے مسجد میں آنے لگیں تو اس بات امکان رہتا ہے کہ ان میں دینی شعور پروان چڑھے گا۔ مگر امت مسلمہ ہند کا مسئلہ عجیب ہے یہاں دین مسائل کا حل نہیں مسلک کے نام پر مسائل کو بڑھانے کا نام بن چکا ہے۔ فی الوقت ہندوستان میں خواتین کا مساجد میں داخلہ کلی طور پر شجر ممنوعہ ہی ہے اور ملت اس فیصلے پر کافی مطمئن بھی ہے۔ملت کی اسی روش کے پیش نظر حال ہی میں ہندوستان کی عدالت عظمیٰ میں ایک اپیل داخل کی گئی ہے جس میں ملک کے اقلیتی کمیشن، وزارت برائے اقلیتی اموروغیرہ کے ساتھ مسلم پرسنل سے اپنا موقف واضح کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی خواتین کی مساجد میں داخلے کوممنوعہ قرار دینے کو غیر دستوری اور شہر ی حقوق کی پامالی کے تحت دستور ہند کی خلاف ورزی بھی قرار دینے کی گزارش کی گئی ہے۔ یہ مقدمہ مہاراشٹر کے شہر پونہ سے تعلق رکھنے والی خاتون یاسمین زبیر احمد پیرزادے اوران کے شوہر زبیر احمد پیرزادے نے داخل کی ہے۔ یہ عجیب مسئلہ ہے کہ ہماری حکومت شہری حقوق کے نام پر مسلم معاشرے میں اور مسلم ثقافت میں مداخلت کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ وہ تین طلاق بل کا مسئلہ ہو یا مدرسوں کے متعلق ہو یا کوئی اور بس انہیں اپنے ہی ملک کے شہریوں کی دل آزاری میں دلچسپی۔ جبکہ حال اس قدر برا ہے کہ آج بھی اسی ملک کی دیگر مذاہب کی عورتوں کو اپنی بقا کے لیے جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔ سبری مالا کا مسئلہ تو محض ایک بہانہ ہے۔ اس کے علاوہ ہند کے کئی منادر، آستانے ہیں جہاں دلتوں اور خواتین کا داخلہ ممنوع ہے۔ اس ملک میں کئی ایسی عورتیں ہیں جن کے شوہروں نے بلا وجہ انہیں اپنے گھر اور زندگی سے نکال دیا ہے مگر ملک کی فسطائی حکومت کو ان کا خیال نہیں آتا۔ شمالی ہند میں لداخ، ہریانہ اورراجستھان میں آج بھی مشترکہ دلہن (سارے بھائیوں کی صرف ایک ہی بیوی) سے شادی عام ہے۔ ایسی بہت سی خباثتیں آج بھی رائج ہیں۔ بعض ہندوستانی برادریوں میں سگے بھائی بہن کی شادی کی اجازت اسی دستور ی حق کے نام پر روا ہے جس کا بہانہ بنا کر حکومت مسلم معاشرے کی بنیادوں پر حملہ آ ور ہوتی رہتی ہے۔ یہ سب شہری فلاح کے نام پر اسلام دشمنی کے لیے کیا جاتا ہے۔ دین اسلام نے انسانوں پر کبھی ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی جو انسانی معاشرے کے لیے ضروری نہ ہو۔ ہمارے لیے کھانے پینے کے لیے حلال و حرام کا فرق، ہمارے معاشرتی آداب میں اخلاق اور رشتوں کی تمیز،ہماری کمائی اور خرچ میں معاشرے کی فلاح کی جانب ہمارے دین مبین نے توجہ دی ہے۔ غرض انسان کے ہر معاملے کو اسلام نے انسانی سماج کی فلاح کے لیے ترتیب دیا ہے۔ عورتوں کو اسلام نے کبھی عبادات یا عبادت گاہوں سے دور رہنے کو نہیں کہا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت بیت اللہ اور مسجدنبوی میں بلاامتیاز صنف عبادت کی اجازت ہے۔ حج اور عمرہ میں جس طرح مرد حاضر رہتے ہیں ان کے شانہ بشانہ عورتیں بھی حاضر رہتی ہیں۔ برصغیر میں عربی سے ناواقفیت کی وجہ سے دین و قرآن سے برصغیر کی مسلم اکثریت کافی دور ہو چکی ہے۔ یہاں دین محض مخصوص وضع قطع کا نام ہوچکاہے۔ احکام اور شریعت مخصوص اعمال کو ہی مان لیا گیا ہے۔ عوام  ذاتی تحقیق اور مطالعہ سے زیادہ مدارس کے فارغین پر تکیہ کیے ہوئے ہیں اب تو حال یہ ہو چلا ہے کہ لوگ شادی سے پہلے مخصوص معلومات کے لیے امام صاحب سے اپوائنٹ مینٹ لینے کے لیے مجبورہیں۔ بچہ کی پیدائش پر اذان اورکسی کی وفات پر تجہیز و تکفین تک امام صاحب کی مداخلت کے بنا ممکن نہیں رہی۔ایسے معاشرے میں مخصوص مسلکی ذہن عوام میں فروغ پاچکا ہے اب انھیں اگر مسجد میں کوئی الگ طرح سے ہاتھ باندھے نماز پڑھتے بھی نظر آجائے تو لوگ اپنی کم علمی کے باعث بے چین ہونے لگتے ہیں۔ ان احادیث کو قبول کرنا بھی عوام کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے جن میں نبی ﷺ نے عورتوں کے لیے مسجد میں آنے سے متعلق حکم دیا ہے۔

امہات المومنین نبی ﷺ کے پاس اس وقت تشریف لے آیا کرتی تھیں جب آپ مسجد میں اعتکاف میں ہوتے تھے، اسی طرح ایک باندی مسجد نبوی کی صفائی کا کام بھی کیا کرتی تھی۔نبی ؐ نے مردوں کو منع فرمایاکہ وہ عورتوں کو مسجدوں میں نماز ادا کرنے سے روکیں، چنانچہ آپ نے فرمایا:

لا تمنعو اماء اللہ مساجداللہ (صحیح بخاری:900 /صحیح مسلم:442)

’اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو‘۔ایک دوسری حدیث میں نبی ﷺنے فرمایا:اذااستاذنکم نساؤکم بالیل الی المسجد فاذنولھنَّ  (صحیح بخاری:865 /صحیح مسلم:442) ’عورتیں اگر تم سے رات کی نماز مسجد میں ادا کرنے کی اجازت طلب کریں تو انہیں اجازت دے دیا کرو‘۔نبیﷺ نے فرمایا:خیر صفوف النساء آخرھا و شرّ اولھا  (صحیح مسلم:440) ’عورتوں کی بہترین صف، آخری صف اور بدترین صف، پہلی صف ہے‘۔

عورت کے لیے اس بات کی اجازت ہیکہ وہ نماز جمعہ اور دیگر تمام نمازیں باجماعت اداکرنے کے لیے مسجد میں آسکتی ہے۔ عورت جب مسجد میں آئے تو اسے ان آداب کی پابندی کرنی چاہیے جو اسلام نے اسے سکھائے ہیں، یعنی لباس ایسا زیب تن کرے جو ستر پوشی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہو، چست یا باریک لباس پہننے سے اجتناب کرے، مسجد میں آتے وقت خوشبو بھی استعمال نہ کرے، مردوں کی صفوں میں شامل نہ ہو بلکہ مردوں کی صفوں کے پیچھے صف بنائے۔رسول اللہ کے زمانے میں عورتیں اس طرح مسجد میں آتی تھیں کہ انہوں نے اپنی چادروں کے ساتھ اپنے آپ کو چھپا رکھا ہوتا تھا اور وہ مردوں کی صفوں کے پیچھے صفیں بناکر نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ مساجد کے آداب اس بات کی علامت ہے کہ عورتیں مسجد میں کس طرح سے آئیں۔

امت مسلمہ کا حال بھی عجیب ہے ہم لوگ امام صاحب کی آسان نکاح کی باتوں کو ان سنا کردیتے ہیں۔ ہماری عورتیں بازار،  مال، گارڈن، ہوٹلس اور سنیما تھیٹر میں بھی جا سکتی ہیں مگر مجال ہے جو مسجد جا سکیں۔ جہاں نہیں جانا ہے وہاں ہم انھیں برداشت کر رہے ہیں اور جہاں جانا عوتوں کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے وہاں ہم عورتوں کو منع کررہے ہیں۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے نبی ﷺ کے فرمان کو لے کر ہی دشمنان اسلام ہم پر مقدمہ دائر کر رہے ہیں کہ بتاؤ تم اپنے نبیﷺ کی بات سے انکار کیوں کر رہے ہو؟ ہمارے اہل منبر اور فارغین مدارس احادیث کے رد میں من چاہے اصول اورعذر لنگ پیش کرنے میں مصروف ہیں۔ اللہ ہمیں عقل سیلم عطا کرے کہ ہم اپنے نبی کی باتوں پر عمل کر یں اور اپنی مساجد میں نصف انسانیت کے داخلہ کو ممکن بنا سکیں۔اللہ ہمیں جہنم کی آگ سے بچنے اور بچانے والا دین کو قائم کرنے والا بنائے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close