میرا جسم، میری مرضی

1

حامد محمودراجا

محبوب کے رخسار کا تِل شاعروں کا من پسند موضوع ہے۔ اس چھوٹے سے نشان پر بے شمار اشعار موجود ہیں۔ چائے کی پیالی تو پھر بھی کچھ بڑی ہوتی ہے جس میں کم از کم مکھی کے لیے تو طوفان کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ تل پیالی کی نسبت ہزاروں مرتبہ کم وجود رکھنے کے باوجود بے شمار طوفان اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، ار دو شعرا تو ابھر ابھر کر ا س طوفان کی لہروں میں غرق ہوئے ہیں او ریہ اس تل کی کرامت ہے کہ ان کو اپنی بردبادی کا تِل برابر بھی افسوس نہیں ہے۔ گلابی گالوں پر تل کا چھوٹا سانشان، حسن کی وہ علامت ہے کہ شاعر اس پر پوری کائنات کو قربان کو تیار ہو جاتے ہیں۔ بقول سرور عالم راز

مجھ کو بھاتا ہی نہیں اک آنکھ حسن کائنات

ہاں مگر وہ جو ترے رخسار کے اک تل میں ہے

میر حسن کو چہرے سے زیادہ تل پسندہے

ابروو چشم و زلف مژہ کی تو کہیے کیا

ہم کو تو تیرے منہ سے ترا تل عزیز ہے

تلوک چند محروم اسی تل کی وجہ سے ہر چیز سے محروم ہوگئے:

نہ پوچھو کب سے میں شامل ہوا ہوں تیرہ بختوں میں

کسی کے عارض روشن کا جب سے تل پسند آیا

اس تل کے کرشمے ہیں کہ یہ محبو ب کو مشکوک بھی بنا دیتا ہے۔ بقول نذیر جالندھری:

کالا تل نسواری آنکھیں

ہیں مشکوک تمہاری آنکھیں

اگر یہ تل محبوب کے گال پر موجود نہ ہو تو شاعر کسی بھی طرح اس کو بنانے پر تُل جاتا ہے۔ ضیا الحق قاسمی مچھر کے کاٹنے پر بننے والے نشان کو بھی تل مان کرخوش ہو جاتے ہیں

نہ سہی لال تل تو بنا ہے

اچھا ہوا مچھر نے ترے گال پہ کاٹا

احمد عطااسی تل کی وجہ سے حسن کے پجاریوں میں شامل ہو جاتے ہیں:

یہ ترا حسن کچھ ایسا نہیں پوجیں جس کو

لیکن اے یار ترے گال کا جو تل ہے نا

اس طولانی تمہید کے بعد مختصر تمنا یہ کہ اتنی بیش قیمت چیز ہمارے رخسار پر بھی موجود تھی لیکن اس کی قدر قیمت ہمیں بعد میں معلوم ہوئی،اس سے پہلے ولن کے کرخت چہرے والا تل جسے’ مسا ‘یا’ موہکا ‘کہا جاتا ہے، کی وجہ سے یہ نشان ہمارے لیے نفرت کی علامت بن چکا ہوا تھا۔ بڑی مونچھیں ، غصیلا چہرہ، طنزیہ ہنسی اور گال پر ایک بڑا سا کالے رنگ کا ابھراہوا گوشت کا لوتھڑا جسے دیکھے ہی نفرت اور کراہت کے تصورات دل و دماغ مین جنم لینے لگتے ہیں۔ بچپن میں ا گرچہ ولن والی وہ کرختگی تو چہر ے پر نہیں ہوتی لیکن یہ کیا کم ہے کہ کوئی نہ کوئی قدر ولن کے ساتھ مشترک ہو جائے۔ ناپسندیدگی کے یہ جذبا ت دل کے کسی کونے میں چھپے ہوئے تھے کہ ایک دن وین سے گزرتے ہوئے ایک بورڈ پر نظرپڑی جس پر لکھا تھا : تل، موہکے ختم۔ دوسرے دن میں بورڈ کی رہنمائی میں کلینک تک جاپہنچا۔ ڈاکٹرسے معاوضے کا پتا کیا اور کچھ دنوں بعد میں پیسوں کا انتظام کرکے واپس ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا۔ معالج نے ایک معمولی سی سوئی میرے ہاتھ کی پشت پر چبھوئی اور پوچھنے لگے: کتنی تکلیف ہوئی ؟ میں نے کہا: بالکل معمولی سی۔ وہ کہنے لگے بس اتنی سی تکلیف ہو گی کہ یہ تل کا نشان ختم ہو جائے گا او رواقعی ایسا ہوا۔ میں ا ُن دنوں لاہور میں رہ کر بی اے کی تیاری کررہا تھا۔

کچھ دنوں کے بعد گھر گیا تو میرے چچا کہنے لگے: یہ تم نے اچھا نہیں کیا کہ تل ختم کروادیا۔ میں نے کہا : مجھے وہ برالگتا تھا۔ کہنے لگے :لیکن ہمیں تو اچھالگتا تھا۔ پھر پوچھنے لگے:کیا تمہیں اپنے نانا جی کا چہرہ یاد ہے؟میں نے اپنی یادداشت پر زور دیا تو ذہن کے پردے پر ایک ہلکی سی تصویرنانا جی کی نمایاں ہوئی۔ ’چھوٹی چھوٹی ڈاڑ ھی، ناک کی سیدھ میں بائیں گال پر اس جگہ تل کا نشان موجود تھاجہاں سے بالوں کا خط شروع ہوتاہے۔ اور یہ تل ٹھیک اسی جگہ میرے گال پر بھی موجود تھا۔ چچا نے اپنی بات جاری رکھی: تمہاری ماں کو تمہارے چہرے میں اپنے ابا کا چہر ہ نظر آتا یہ واحد نشانی تھی جو تم نے ختم کروا دی۔ زندگی میں پہلی دفعہ احساس ہوا کہ میرا جسم صرف میری ہی مرضی میں نہیں بلکہ میرے گھر والوں کی بھی مرضی میں ڈھلا ہوا ہونا چاہیے۔

اب جو لوگ یہ کہتے میرا جسم ….میری مرضی، وہ سوچیں جب اپنوں کو تل اترنے سے اتنی تکلف ہوتی ہے تو پگڑی اترنے سے کتنی تکلیف ہوتی ہوگی؟ ہمارے جسم پرہمارے خاندان ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا بھی حق ہے۔ ہم چوری نہیں کرسکتے کہ ہمارے ہاتھوں سے کسی کو تکلیف ہو گی۔ ہم غیبت نہیں کرسکتے کہ لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ ہمارے دل میں حسد اور نفرت کے جذبات کسی اور کے لیے پریشان کن ہوسکتے ہیں۔ ہماری نظر سے کسی کا دل گھائل ہو سکتا ہے۔ ہمارا طنز کسی جگر کے آر پار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بے شمار ادروں میں ایک مخصوص یونیفارم ہوتا ہے اور وہ پہن کر ہی آپ اُس ادارے میں ملازمت کرسکتے ہیں۔ فوج کی کٹنگ تو معروف ہے، فوجی ہئیر اسٹائل کے بنا فوج میں نہیں رہا جاسکتا، اگر ہر شخص کاجسم اُس کی مرضی کے تابع ہے تو پھر یہ پابندیاں کیوں لگائی جاتی ہیں؟

خاندان، معاشرے اور ادارے کی طرح اس جسم پر اس کے خالق کا بھی حق ہے جس نے اس کو پیداکیا۔ رب نے جو احکامات ہمیں دیے ان کے مجموعہ کو شریعت کہا جاتا ہے۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حجاب کا حکم نازل ہو نے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو اپنا قدم مبارک کاشانہ نبوت کے اندر رکھا، دوسرا قدم ابھی باہر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے (گھر والوں کے) درمیان پردہ لٹکالیا۔ اس وقت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عمر 15 سال کے لگ بھگ تھی۔اب کچھ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے جسم پر اپنے خاندان، معاشرے اور ادارے کے حق کو تو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ اپنے جسم پر اپنے رب کاحق کو ماننے کو تیار نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے