تعلیم و تربیتمعاشرہ اور ثقافت

نئے تنقید نگار !(2)

محمد عرفان ندیم

نئے تنقید نگاروں میں اچھا خاصا اضافہ، مختلف یونیورسٹیوں کے اسلامک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس نے کیا۔ پچھلے آٹھ دس سالوں میں، ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے نام سے دھڑا دھڑایڈمیشن شروع ہوئے،مدارس کے فارغ التحصیل علماء جو غم روزگار سے پریشان تھے، انہوں نے ان یونیورسٹیوں کو امید کی کرن سمجھا۔ چند ہی سالوں میں اچھی خاصی تعداد ان یونیورسٹیوں کی اسیر ہوئی، یونیورسٹی مالکان نے بھی،جو کبھی ’’مولویوں ‘‘ سے خائف رہا کرتے تھے، وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دروازے کھول دیئے، وہ الگ بات ہے کہ اس وسیع القلبی کے پیچھے، وہ کاروباری ذہنیت کار فرماتھی جس کے تحت یہ یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔ ایک طرف یونیورسٹی کا آذادانہ ماحول اور دوسرے طرف پروفیسر حضرات کے طنز و تنقید سے بھرپور گفتگو، کوئی کہاں تک خود کو سنبھالے،ماحول اور گفتگو کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

نئے آنے والوں کو بھی ہوا لگنا شروع ہوئی، بزعم خود ذہن کھلے،سوچ وسیع ہوئی اور آنکھیں کھلی کہ ہم اب تک کن غاروں میں بند رہے۔ نتیجہ استاد، مہتمم اور مدرسے پر تنقید کی صورت میں نکلا، تنقید کرنے والے مگر یہ بھول گئے کہ وہ اسی مدرسے اور استاد کی بدولت یونیورسٹی پہنچے تھے۔دو تین سال اور دو تین لاکھ روپیہ لگانے کے بعد، ڈگری تو ہاتھ میں آ گئی لیکن مدرسہ، استاد اور دین کی محبت دل سے نکلی یا کم ضرور ہوئی، فیا اسفا۔ میں خود ان سارے مناظراور صورتحال کا چشم دید گواہ ہوں، یہ سب دیکھنے کے بعد ایک بات البتہ بڑی شدت سے ذہن نشین ہوئی کہ بڑے ٹھیک ہی کہتے تھے، ہر ایرے غیرے کو کالج یونیورسٹی نہ بھیجا جائے کہ جب تک بنیاد مضبوط نہ ہو، ایسے لوگ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے۔نتیجہ اس ساری محنت و ریاضت کا، سوائے مایوسی پھیلانے اور بڑوں پر عدم اعتماد کے اور کچھ نہ نکلا۔یہ نتائج حکم کلی نہیں کہ کچھ استثناء ہر جگہ موجود رہتے ہیں۔

یہ وہ کمین گاہیں اور مورچے تھے جہاں بیٹھ کر نشانہ بازی کی گئی، سوشل میڈیانے جلتی پر تیل کا کام کیا، کچے اذہان، ناقص مطالعہ،علم کا خمار،بڑوں پر عدم اعتماد،تنقید کا شوق اور یک رخی سوچ کے حامل ان نوجوانوں کو گویا گوہر مراد مل گیا، سارا دن اور ساری رات یہاں بیٹھ کر شعلہ نوائی کی گئی، کردہ ناکردہ گناہوں کا الزام بڑوں کے سر تھونپا گیا۔ جس نے دو حرف پڑھے تھے وہ بھی اور جس کا دامن حروف سے خالی تھا وہ بھی، مسند سنبھال یکسو ہو کر ہذیان لکھنے اور بولنے لگے۔ان تنقید نگاروں کا پس منظراور انداز مختلف سہی لیکن نشانہ ایک تھا، مدرسہ، مہتمم، استاداور دینی قوتیں۔ خود تو دور ہوئے ہی تھے اوروں کی دوری کا بھی سبب ٹھہرے۔

پچھلے کالم کے بعد جو رد عمل سامنے آیا اس سے اندازہ ہوا کہ میرے مدعا کو ٹھیک سے سمجھا نہیں گیا، مختلف اطراف سے متنوع احکام صادر ہوئے، بڑوں اور اکابرین سے کیا مراد ہے، بڑوں کے قول و فعل کے تضاد کا حوالہ دیا گیا، نئے نسل کی نفسیات کو سمجھے بغیر کالم لکھا، خود مدارس اور نصاب و نظام میں خامیاں موجود ہیں، تنقید ہر کسی پر کی جا سکتی ہے یہ اور اس جیسے دیگر اعتراضات۔میرا ماننا مگر یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو مجھ سے علم و عمل میں آگے ہے وہ مجھ سے بڑا ہے، اکابرین کا تعین میرے خیال میں فطری ہے اور اللہ جسے یہ مقام دیں اس کی عزت و احترام اور محبت خود بخود دلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ مدارس کے نظام و نصاب میں خامیاں بجا لیکن اس کا حل کیا ہے۔ تنقید سے کوئی ماوراء نہیں مگر اس کی حدود اور اخلاقیات کیا ہونی چاہییں۔ ان پہلؤوں پر میرے خیال میں کچھ بات ہو جانی چاہئے۔

 تنقید اس زعم کے ساتھ، کہ زمانے اور حالات کا جو اداراک مجھے ہو چکاہے وہ بڑوں کو نہیں، جدید فقہی، ریاستی، آئینی،سماجی اور معاشی مسائل کو جس انداز میں میں سمجھ رہا ہوں بڑے اس سے غافل ہے، مدارس، نصاب ونظام کے بارے میں جو میری رائے ہے وہی حرف آخر ہے وغیرہ۔اس زعم اوررویے کے ساتھ جو تنقید کی جاتی ہے اس میں بڑوں پر عدم اعتماداور اظہار بیزاری کا عنوان نمایاں ہے،میرا کرب یہی ہے کہ یہ ساری تنقید اسی زعم میں ہو رہی ہے،جہاں بڑوں پراعتماد ہی نہ رہے وہاں تنقید تحقیر اور اس سے آگے تمسخر میں بدل جاتی ہے اوریہاں پہنچ کر اجتماعیت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ کیا ان تنقید نگاروں کو احساس ہے کہ وہ اصلاح کی آڑ میں کس سمت جا رہے ہیں۔ یہ بھی واضح ہوجانا چاہئے کہ جب بات اجتماعیت کی ہو رہی ہے تو انفرادیت کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، ذاتی تجربات اور انفرادی مثالوں کا سہارا لے کر اجتماعیت کا شیرازہ بکھیرنا کسی طور قرین عقل نہیں۔

یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ اسلامیات کے موضو ع پر نت نئی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں ان سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، میرا مدعا یہ ہے کہ یہ تحقیقات جہاں سے آ رہی ہیں اس کا لازمی نتیجہ بڑوں پر عدم اعتماد کی صورت میں نکلتا ہے، استفادہ ضرور کیا جائے لیکن ساتھ ہی یہ کوشش بھی رہے کہ اپنے بڑوں کو احساس دلایا جائے کہ ایسی کوششیں اپنے ہاں متعارف کروائیں اور اس نہج پر کام شروع کریں۔ یہ کیا ہوا کہ آپ اپنا خیمہ اور مرکزچھوڑ کر،کہ جسے آپ کے خیال کے مطابق اصلاح کی ضرورت تھی، دوسرے خیمے میں چھلانگ لگاگئے، نرم لفظوں میں بھی کہا جائے تو اسے بے حسی اور منافقت سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

سیاستدانوں کابھی حوالہ دیا جاتا ہے کہ جب صدر اور وزیر اعظم پر تنقید ہو سکتی ہے تو ان پر کیوں نہیں، اس معاملے میں میرا ماننا مگر یہ ہے کہ یہ قیاس مع الفارق ہے، سیاست ایک سماجی مسئلہ ہے مذہب کا معاملہ البتہ الگ ہے، ادب، احترام اور کسی حد تک تقدس مذہب کا بنیادی تقاضہ ہے، مذہب محض الفاظ کی نئی نسل تک منتقلی کا نام نہیں بلکہ یہ سینہ بسینہ منتقلی اور روحانیت کا ایک عمل ہے اور اس میں جب تک بڑوں پر اعتماد نہ رہے اس کی روح آگے منتقل نہیں ہو سکتی۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ سے جس والہانہ عشق و محبت اظہار کیا اور تاریخ میں ہمارے اسلاف کی جو روایات موجود ہیں ان سے عقل و دانش کا کافی سامان حاصل کیا جا سکتا ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمیں تنقید کی بجائے ’’ احساس‘‘ کا لفظ استعمال کرنا چاہئے کہ ہم ابھی اتنے’’ جہاندیدہ‘‘ نہیں ہوئے کہ بڑوں کو آئینہ دکھائیں اور اساتذہ پر تنقید کا شوق پورا کریں، ہاں ہم بڑوں کو اپنے احساسات اور جذبا ت کا ’’احساس ‘‘ ضرور دلا سکتے ہیں کہ ہم یہ سوچتے ہیں اور ہمارے یہ مسائل ہیں۔ ہمیں آپ سے، مدارس سے، نصاب و نظام سے یہ شکایات ہیں وغیرہ وغیرہ۔ میں یہاں علمی تنقید کی بات نہیں کر رہا بلکہ حکمت عملی،سماجی نفسیات،پیش آمدہ مسائل اور حالات کے ادارک کی بات کر رہا ہوں۔ بات صرف لفظ کی نہیں بلکہ رویے بھی اس لفظ کے مطابق ڈھالنے ہوں گے، اگرتنقید کی جگہ ہم احساس کا لفظ لے آئیں اور رویے وہی رہیں توکچھ حاصل نہ ہوگا۔ مثلا ایک صاحب جو دار العلوم کراچی کے فاضل اور اچھی شہرت کے حامل ہیں، فیس بک پر فرمانے لگے مدارس کے نصاب کے حوالے سے جس کو جو شکایا ت ہیں وہ یہاں درج کریں ہم اکابرین کے ناک میں دم کر کے انہیں منوائیں گے۔ میں نے عرض کیا ’’یہ الفاظ، لہجہ اور رویہ ٹھیک نہیں، آپ پہلے اپنی سفارشات مرتب کریں، انہیں لکھ کر منتظمین کو ارسال کریں، ان کے جواب کا انتظا رکریں اور اگر شنوائی نہ ہو تو پھر آپ ناک میں دم کریں یا کان میں۔ ‘‘سال بیت گیا ایسا مگر ہونا تھا نہ ہوا۔ اس مثال کو آپ مجموعی صورتحال پر چسپاں کر سکتے ہیں۔

 یہی میرا مدعا ہے کہ بڑوں کو احساس دلانے کی بجائے ہم خود مہاتمابن بیٹھے، ہمیں یہ زعم ہو گیا کہ جو ہمیں پتا ہے جو ہم جانتے ہیں بڑوں کو اس کی کیا خبر،یہ حالات سے بے خبرہیں، انہیں معاشرتی نفسیات کا علم نہیں، یہ بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھ نہیں سکتے، یہ صرف نام کے بڑے ہیں، ان کے قول و فعل میں تضاد ہے وغیر ہ وغیرہ۔ دیگر شعبوں میں شاید، اس زعم کے ساتھ تنقید قابل قبول ہو لیکن ہماری دینی روایت کہ جس کی بنیاد ہی اعتماد،احترام، تقدس، خود سپردگی،سینہ بسینہ علوم اور روحانیت کی منتقلی پر ہو وہاں یہ کسی طور قابل قبول نہیں۔ باقی نوجوان نسل کیا سوچ رہی ہے اور بڑوں کو کن پہلؤوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے اس کا جائزہ ہم آئندہ لیں گے۔

ّ(نوٹ) نوجوان نسل کو بڑوں سے جو تحفظات اور شکایات ہیں وہ مجھے ارسال کریں تاکہ انہیں آئیندہ کالم کا حصہ بنایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close