معاشرہ اور ثقافت

نسخۂ محبت

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

زمانہ ترقی ٔ معکوس کی راہ پرطوفانِ نوح سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے، شب وروز یہاں ایک نیاتماشا کھیلا جاتاہے، کردارسے بڑھ کرلوگ گفتار کے دھنی ہیں، عمل سے بڑھ کرلوگوں کازور’’عملیات‘‘پرصرف ہورہاہے، آج میں کچھ عملیات ہی سے متعلق دیدہ تعبی کی جسارت کررہاہوں، امیدہی نہیں، یقینِ کامل ہے کہ آپ حضرات اپنی بے آواز تالیوں سے میری ہمت افزائی کرنے میں بھی بخالت کاثبوت دیں گے۔

  میرے ایک بے تکلف سے بڑھ کرپُرتکلف دوست پروفیسرٹامک ٹوئیاں کا شوق عجیب ہی نہیں، عجوبہ ہے، ہیں تووہ بے حد پستہ قداورٹھوس رنگ کے حامل، یعنی کالے کلوٹے، ناک کا نقشہ توبالکل ایسا، جیسا ہندوستان کے نقشہ میں میزورم، ہونٹ ذراموٹے موٹے اورگلابی، دانت کسی زمانہ میں چمکدارتھے؛ مگراب پان اورگٹکھے کی کثرت کی وجہ سے شبِ دیجورمیں کبھی کبھی اورکہیں کہیں چمکنے والے جگنوکی مانندہوچکے ہیں، گالوں میں پڑی ہوئی جھریوں کی بھرپائی دودومن کریم سے کرتے ہیں، پوشش میں کرتا، پاجامہ اوراس پرصدری کوترجیح دیتے ہیں، ان حضرت کاعجوبہ شوق عشق فرمانے کا ہے، حضرت کاپریڈ ہفتہ میں تین ہی ہوتاہے؛ لیکن کالج جاتے ہیں بلاناغہ، اندرتوداخل نہیں ہوتے، بس گیٹ پرنزول اجلال فرماتے ہیں اورآنے جانے والی لڑکیوں کواس طرح گھورگھوردیکھتے رہتے ہیں، جس طرح مندرکے راستہ میں بھیک منگے ہربجاری کوگھورتے ہیں، کافی تگ ودو اورنقشِ پاکی گرد کوسرمہ بنالینے کے بعدبھی جب کیل مہاسے لیس لڑکی نے بھی گھاس نہیں ڈالاتوعملیات والے باباکے درشن کوگئے۔

 بابانے پہلے تو’’یہ منھ اورمسورکی دال‘‘ والی کہانی دہراتے ہوئے پروفیسرٹامک ٹوئیاں کوکھراکھرایوں جواب دیا: ’’یہ منھ اورعشق میاں، جاؤ، آئنہ دیکھ کرآؤ‘‘، پروفیسرصاحب کافی عرصہ سے آئنہ دیکھناترک کرچکے ہیں ؛ کیوں آئنہ دیکھ کراُن کی حالت ایسی ہی ہوجاتی ہے، جیسی حالت پاؤ ں دیکھ لینے سے طاؤوس کوہوتی ہے، چنانچہ منت سماجت کے ساتھ، دادودہش کاسہارالے کر’’بابا‘‘کوراضی کرہی لیا، بابانے پہلے تواپنی بھاری بھرکم توند کے حساب سے فیس وصول کی، پھرایک عدد’’نسخۂ محبت‘‘ سے نوازا، یہ نسخۂ محبت پروفیسرصاحب کے عجوبہ شوق کی طرح ہی عجوبہ ہے اوربغیر فیس کے اتنی آسانی کے ساتھ دستیاب بھی نہیں ہوسکتا؛ لیکن چوں کہ ہرعاشقِ نامراد کے لئے میرے دل میں ہمدردی کا ایک ٹھاٹھیں مارتاہواسمندرہے؛ اس لئے میں نے سوچا کہ اگرکسی کوئلے کی طرح جلے ہوئے دل والے کواس سے کوئی فائدہ ہوجائے توحرج ہی کیاہے؟

وصولیِ فیس کے بعد بابائے عملیات نے پروفیسرصاحب کومخاطب کرتے ہوئے کچھ اس طرح ’’نسخہ محبت‘‘ سے نوازا، ’’یہ نسخہ صدہابارتجربہ کے بعد بتارہاہوں، اس نسخہ پرعمل کرنے والا نامراد نہیں رہاہے، مادہ اُلّوکودائیں جانب سے جاکرپکڑو، تین دن تک دیسی گھی کی روٹی اسے کھلاؤ، پھرٹھیک جمعرات کی رات کے بارہ بجے اُسے اس طرح ذبح کروکہ اس کی ٹانگیں آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی ہوں اورمنھ نیچے کی جانب، اس بات کا خاص خیال رکھوکہ ذبح کے دورران تمہاراسایہ اس پر نہ پڑنے پائے، یہ بات بھی یادرہے کہ ذبح کے لئے چاندکی راتیں (۱۳/۱۴/۱۵)نہ اختیارکئے جائیں، بہترہے کہ ۲۷/کی شب ہو، ذبح کرلینے کے بعداس آنکھیں نکال لو، سات دن تک سایہ میں اس طرح سُکھاؤکہ کسی کی بھی نظراس پرنہ پڑنے پائے، آٹھویں دن آزادشیرنی کے دودھ میں اُسے اتناپکاؤ کہ جل کرراکھ ہوجائے، پھراسے پیس کر سفوف بنالواورتین، پانچ یاسات دن صرف بائیں آنکھ میں لگاؤ، کیسی ہی نک چڑھی کیوں نہ ہو، تمہاری جوتیوں کے نیچے لوٹنے لگے گی‘‘۔

پروفیسر ٹامک ٹوئیاں بڑی جاں فشانی اورآبلہ پائی کے بعدسفوف بنانے میں کامیاب ہوسکے، جس کا اندازہ خود آپ کوبھی ہوگا، پھراس کوسات دن تک استعمال کرتے رہے؛ لیکن چنداں فائدہ نہیں، بلکہ اُلٹانقصان یہ ہواکہ پروفیسرصاحب کی بینائی آنکھ سے محروم ہوگئی، شرماتے لجاتے پھربابائے عملیات کے پاس گئے اورقصۂ دردکہہ کرسنایا، بابانے جواب دیافرمایا: ’’تجربہ میں نے اپنے اوپر نہیں کیاتھا؛ بلکہ تمہاری طرح کچھ لوگ اوربھی میرے پاس اسی مقصدبراری کی غرض سے آئے تھے اورمیں نے یہ رٹارٹایانسخہ اُنھیں بتادیا، آج تک ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا، میں نے سمجھاکہ بالیقین ان کا کام ہوگیاہے؛ کیوں کہ کام نہ ہونے پرتولوگ ضروررابطہ کرتے ہیں، جب کہ کام بن جانے پراحسان فراموش ہوجاتے ہیں، اس لئے میں نے اس نسخہ کومجرب نسخہ مان لیا‘‘، جب مجرب زدہ لوگوں کوتلاش کیاگیاتومعلوم ہواکہ ان میں سے ہرایک کی بینائی آنکھ سے محروم ہے؛ لیکن مارے شرم کے کسی کومنھ دکھانے کے قابل نہیں رہے؛ اس لئے قید تنہائی کوپسند کرلیا، یہ توپروفیسرصاحب کی بے جگری کی بات تھی کہ دوبارہ باباکے دربارمیں جادھمکے اورباباکے آزمودہ نسخہ کے زورداراثرکاتذکرہ کیا، ورنہ نہ جانے اورکتنے عشق پیچاں کی جال میں پھنس کراس تجربہ کی نذرہوجاتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close