صحتمعاشرہ اور ثقافت

نشہ حرام ہے!

نشے کا ناش، دیش کا وکاس

شاہ مدثر

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر مسئلے کا بہترین حل اور کامیاب راہ نمائی موجود ہے، زندگی کے کسی بھی شعبہ میں اسلام نے ہمیں آزاد نہیں چھوڑا ہے، بیت اللّٰہ سے لے کر  بیت الخلاء تک ہماری راہ نمائی کی گئی ہے۔ بحثیت مسلمان ہمیں اس راہ نمائی سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں جو مال و دولت،صحت اور صلاحیت عطا کی ہے  وہ يوں ہی بلافا‏ئدہ ضائع کرنے کے لئےنہیں بلکہ ان کومناسب جگہوں ميں خرچ کرنےکےلئے دی ہے۔ جن کی وضاحت اسلامی تعلیمات میں تفصیل کے ساتھ پیش کردی گئی ہے، جہاں تک ایک مسلمان کا تعلق ہے تو اسے ایسی تمام لغویات سے بچنے کی ضرورت ہے جو عبادات اور مقصدِ زندگی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہو۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کامیاب ہونے والے مومنوں کی ایک اہم علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ لغو  کاموں اور باتوں سے  اعراض کرتے ہیں۔ ایک اچھے مسلمان سے یہ توقع رکھی گئی ہے کہ وہ ان چیزوں سے  دور رہےجو بے مقصد اور بے فائدہ ہیں۔ اور اگر کوئی چیز نقصان دہ ہے تو اس سے بچنا تو اور بھی زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ آج اس وقت معاشرے میں نشہ کا استعمال عام ہوچکا ہے، یہ دورِ حاضر کا بدترین المیہ ہے۔

نشہ ایک ایسا لفظ جس کا ذکر آتے ہی نگاہوں کے سامنے بے شمار خرابیاں آنے لگتی ہے۔ نشہ آور چیزوں  کے استعمال سے دنیا میں بھی بہت سارے گھاٹے اور نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کا انجام بدترین ہوگا۔ چونکہ  نشہ کا استعمال انسانی جسم وروح کے لئے بگاڑ وفساد کا سبب بنتا ہے بلکہ بسااوقات آدمی کی جان بھی چلی جاتی ہے اس بناپر  نشہ کا استعمال شریعت کی رو سے حرام ہے خواہ وہ نشہ کسی بھی قسم کا ہو۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

كلُّ مُسكِرٍ خَمرٌ . وَكُلُّ مُسكِرٍ حَرامٌ(صحيح مسلم)

ترجمہ: ہرنشہ آورچیز خمرہےاور ہرنشہ والی چیز حرام ہے۔

اسی طرح دوسر ی روایت میں ہے۔

ولا تشرَبوا مُسْكِرًا( صحيح مسلم:)

ترجمہ:اور نشہ آورچیز کا استعمال مت کرو۔

نشہ کی حرمت قرآن و سنت سے ثابت ہے، اور اس بات پر تمام علماء کرام کا اتفاق بھی ہے کہ نشہ پیدا کرنے والی تمام چیزوں کا کم مقدار میں استعمال بھی حرام ہے۔

حضرت جابر بن عبد اللّٰہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: جس چیز کے زیادہ مقدار سے نشہ پیدا ہو،اس کی کم مقدار بھی حرام ہے (ترمذی)

اصل میں شراب ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے، اور اسی کے استعمال کو حرام قرار دیا گیا ہے، اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ(البقرة: 219)

ترجمہ: لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے۔

یہ بڑے گناہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہرگناہ وشر کی چابی ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے :

اجتنِبوا الخمرَ ؛ فإنَّها مِفتاحُ كلِّ شرٍّ(صحيح الترغيب:2368)

ترجمہ: شراب نہ پیئو کیونکہ یہ ہر برائی کی چابی ہے۔

لیکن اسی کے ساتھ ساتھ وہ تمام نشہ آور اشیاء حرمت میں شامل ہے جس کا تھوڑا استعمال بھی نشہ کا باعث ہو،شراب کے علاوہ افیون، ہیروئین، چرس، کوکین، تمباکو،بیڑی، سگریٹ،گٹکھا،گانجہ، نشہ آور انجکشن، ڈرگس وغیرہ حرمت کے درجے میں شامل ہے، کیونکہ ان تمام اشیاء کے استعمال سے جسمانی و روحانی نقصان ہوتا ہے، لیکن چند نشہ خور دانشور سگریٹ،تمباکو،بیڑی اور گٹکھے  وغیرہ کو جائز بتلاکر اپنے لئے نشہ خوری کی حلت کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ جو انتہائی شرمناک بات ہے۔

نشہ کی حقیقت کا اندازہ اس بات سے اچھی طرح لگایا جاسکتا ہے کہ ہے کہ اس سے سیکڑوں بیماریاں جسم کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔جو انسانی صحت کے لئے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ شراب، تمباکو،بیڑی، سگریٹ،گٹکھا،گانجہ،چرس وغیرہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں حلق کی خرابی،لیور کی خرابی،دل کا مرض، جسمانی کمزوری، زخم معدہ،خون فاسد،تنفس کی خرابی،ہچکی،کھانسی،پھپھڑوں کی سوجن،کینسر،سردرد، بے خوابی،دیوانگی، ضعف اعصاب،فالج،ہارٹ اٹیک،ضعف بصارت،دمہ، ٹی وی، خفقان،مردانہ کمزوری،بواسیر،دائمی قبض،گردے کی خرابی،شوگر وغیرہ اہم بیماریاں ہیں۔ ان میں کچھ ایسی بیماریاں ہیں جن کا انجام  موت ہے۔

درحقیقت شراب ونشہ ایک سست رفتار زہر ہے، اور اس سے انسان کا بدن کھوکھلا ہوتا چلا جاتا ہے، جسمانی اعضاء کمزور پڑجاتے ہیں،اور تیزی سے انسان موت کی طرف بڑھتے چلے جاتا ہے۔ نشہ کے استعمال سے سب سے بڑا نقصان جسم و قوت کو پہونچتا ہے، یہ بات ذہن نشین رہے کہ انسان کی زندگی، صحت، جسم اور طاقت اس کی اپنی ملکیت نہیں، بلکہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہیں، اس امانت میں خیانت کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔

کیوںکہ انسان کا سب سے اصل جوہر اس کا اخلاق و کردار ہے، نشہ انسان کو اخلاقی پاکیزگی سے محروم کر کے گندے کاموں اور ناپاک حرکتوں کا مرتکب بناتا ہے۔ نشہ کے  استعمال کی عادت انسان سے ہر گناہ کرالیتی ہے، قتل، زنا، ظلم، بدزبانی، فضول گوئی، آبروریزی، دوسروں کی عزت سے کھلواڑ، فحاشی، خباثت، ذلت و رسوائی، چوری، رہزنی غرض کون سا ایسا کرائم ہے جو نشہ خوروں کے ہاتھوں نہیں ہوتا ہوگا؟؟؟ اگر جرائم کے حادثات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا سب سے زیادہ کرائم حالتِ نشے میں ہوتے ہیں۔ اکثر جنسی واقعات اور زنابالجبر نشے کے سبب رونما ہوتے ہیں،

نشے کے استعمال کے اثرات انتہائی بھیانک ہوتے ہیں اس کی وجہ سے  پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔نشے کی حالت میں انسانی جان اور عزت و آبروں کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی، نشے میں مبتلا افرادجب شام کو گھر واپس آتے ہیں تو نہ وہ فیملی میں بیٹھنے کے قابل رہتے ہے اور نہ ہی وہ ہوش میں رہ کر کوئی بات کرسکتے ہے، نشے کے عادی افراد شیطان کے مکروہ پنجوں میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ شیطان ہر برائی میں ان کی رہنمائی کر رہا ہے،نیکی کے کاموں  سے انہیں روک رہا ہے، نشے میں انسان کہیں کسی کو قتل کر رہا ہے، کہیں رشتوں کا تقدس پامال کر رہا ہے تو کہیں رہزنی اور آبروں ریزی بھی کر رہا ہے۔بالخصوص امت مسلمہ کا نوجوان طبقہ نشہ کا کثرت سے استعمال کررہا ہے، اسی عادت کا نتیجہ ہے کہ آج بیشتر مسلم نوجوان اپنی خودی اور مقصدِ زندگی سے لاپرواہ ہوچکے ہیں۔ سگریٹ نوشی،تمباکو اور گٹکھا نوجوانوں کا معمول بن چکا ہے، نشہ آور چیزوں نے نوجوانوں کے ذہنوں کو کمزور کردیا ہے،

نشے کے عادی نوجوان اپنی جان کے دشمن اوراللّٰہ تعالیٰ کے نافرمان ہوتے جارہے ہیں، جو اس کی عطاکردہ زندگی کی قدرکرنے کے بجائے اُسے بربادکرنے پرتلے رہتے ہیں۔ اصل دشمن تو وہ اسمگلر ہے جو نشہ آور اشیاء کو فروخت کرکے  انسانوں کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔ آج ہمارے ملک ہندوستان میں نشہ اسمگلرز کی  تعداد کافی زیادہ ہوگئی ہے۔حکومت نشہ اسمگلرز کی  روک تھام کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے لیکن  تمام دعویں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے سے نشے کو مٹانے کے لئے اسلامی تعلیمات کو بنیاد بناکر کام کیا جائے، مایوس اور بے روزگار لوگ جب ڈپریشن سے نشے کے عادی بنتے ہیں ان کی دعوتی نقطۂ نظر سے کائونسلنگ کی جائے،بالخصوص آج امت کی نوجوان نسل کو اس برائی سے نکالنے کےلئے پورے جوش و ولولے کے ساتھ کام کرنے ضرورت ہے کیونکہ یہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جس کے ہاتھوں میں قوم کا روشن مستقبل ہے۔ اسی طرح والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں نشہ آور چیزوں کے استعمال سے روکیں، بری صبحت سے اولاد کو محفوظ رکھیں،تاکہ بچوں کے اندر نشے کی عادت پیدا نہ ہو، کیونکہ نشہ انسان کی صحت و عقل دونوں کو برباد کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وفہم سے نوازاہے۔اور صحت و عقل انسان کو دی جانے والی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے۔ جس  کی حفاظت کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔۔۔اور حرام کردہ چیزوں سے محفوظ رکھیں۔۔۔ آمین

مزید دکھائیں

شاہ مدثر

عمرکھیڑ

متعلقہ

Close