معاشرہ اور ثقافت

ننھی پری مسکان جان

الطاف جمیل شاہ  ندوی

ایک ننھی سی پری  ترکانجن دوسری عید کو چلی ہزاروں خوشیوں کو منانے اپنی سہیلوں  کے سنگ ننھی ارمان ننھی خوشیاں سہیلیوں کے ساتھ دن بھر خوشیاں منانے  کے بعد رات کے اندھیرے تک گھر نہ آئی۔ اماں نے پکوان  بنا کے رکھے بیٹی آئے گئی بھوک سے بلک رہی ہوگئی پر بیٹی کو نہ آنا  تھا نہیں آئی ۔ اماں نے آس پڑوس میں معلوم کیا پر کہیں نہ ملی دو دن گزرے چار دن ہفتہ گزرا نہ ملی۔

اس معصوم پری کا نام  مسکان جان، بنت مشتاق احمد گنائی، ساکن لڑی ترکانجن۔ تحصیل بونیار اسکول جاتی تھی پر عید تھی نا نہیں گئی پڑھنے ورنہ یہ پری اسکول جاتی تھی اور پانچویں جماعت کی ایک ہونہار طالبہ تھی اس کی اماں گر چہ غیر ریاستی تھی پر تھی نا اماں ہی اپنی پری کے لئے ہزاروں ارمان دل میں  سجائے جیتی تھی اماں پر تب قیامت ٹوٹ پڑی جب دوسری عید دن کے 3 بجے ہوئی پورے ڈیڑہ ہفتے تک امان تڑپتی رہی ترستی رہی پر پری  نہ آئی  پر گیارہ روز بعد اچانک خبر پھیلی مسکان تو جنگل میں مری پڑی ہے سب نے کہا درندوں نے چیر پھاڑ  کی ہے  درندوں کو خوب کوسا گیا  ننھی پری کی تصویر جو دیکھی آنکھیں دیکھنے سے ڈر محسوس کرنے لگئی اس کا جسم ہائے  چیر پھاڑ  ہوا تھا ایسا لگتا تھا بیٹا مسکان سوئی ہوئی ہے پر یہ کیا اس کے جسم کا تو نصف حصہ ہے ہی نہیں چمڑی کے سوا   گیارہ دن کے بعد لڑی ترکانج کے نزدیکی جنگل میں اس لاش کیا ملی ایک وحشتناک لاش ملی ایک ادہ کھلی کلی کی مسکان کی جگہ اس کے جسم  کے ایسے ہیبتناک  ٹکڑے جس نے دیکھئے لرز گیا تڑپ گیا آپ ہی آپ درد و کرب  میں ڈوبی آہین بھرنے لگا میں جب یہ سطور لکھ رہا ہوں  انتہائی آزردہ ہوکر لکھ رہا ہوں درد و کرب میں ڈوبی ہوئی یہ باتیں لکھنا کتنا دشوار ہے کتنا کٹھن ہے یہ میں جانتا ہوں  میں نے اس بچی کے بارے میں اسی طرح کی کچھ خبریں پڑھیں پر ۴ ستمبر شام کو کسی دوست کی توجہ دلانے پر ایک ویڈیو میں دیکھا کہ  پولیس  اس کیس کے بارے میں بتاتے ہوئے اپنی آنکھیں صاف کررہی ہے۔
مطلب یہ المناک واقعہ ہے جس پر بات کرتے ہوئے آنسو بہہ رہے ہیں  جب تفصیلات سن لی تو میں سکتے میں آگیا کہ کیا ہم اس قدر گرے ہوئے ہیں کہ ایسا وحشتناک  منظر بھی دیکھنا اور سننا پڑے گا ۔ پہلے پہل جو خبر چلی تھی اخبارات میں آیا ۔

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے بونیار اوڑی میں پیر کے روز 9 سالہ کمسن بچی کے مبینہ قتل کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے دوران بونیار اور اس سے ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے سری نگر مظفرآباد روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا۔ وہ کمسن بچی کے مبینہ قتل میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔خیال رہے کہ بونیار اوڑی کے تری کنجن جنگل سے اتوار کے روز ایک 9 سالہ کمسن بچی کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ مہلوک کمسن بچی 23 اگست کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوئی تھی۔ بارہمولہ ڈسٹرکٹ پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر کہا تھا ’9 سالہ لاپتہ لڑکی کو بونیار بارہمولہ کے جنگلی علاقہ میں مردہ پایا گیا مہلوک لڑکی شناخت مسکان جان کے بطور کی گئی۔ وہ 23 اگست کو لاپتہ ہوئی تھی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مہلوک لڑکی کو ظاہری طور پر کسی جنگلی جانور نے حملہ کرکے مارا ڈالا ہے۔ تاہم بونیار کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کمسن بچی کا انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔

اب جو قتل کا معمہ حل ہوگیا ہے پولیس کی انتھک کوشش کے نتیجے میں پر جو بتایا گیا ہے وہ اس قدر اذیت ناک ہے کہ درندے بھی شرمندہ ہیں  عصمت دری کی گئی  ۔ اس کے اعضاء کو زخم دئے گئے اس پر چاقو کے وار کئے گئے اس پر تیزاب ڈالا کر اسے جلایا گیا ۔

میں کیا لکھوں قاصر ہوں کیا یہی ہے ہمارا سماج  جہاں ایسے درندے شیطان صفت لوگ رہتے ہیں  جنہیں انسانوں میں شمار کرنا کار دشوار ہے۔

سماج کے وہ ذی شعور لوگ کیا بتا سکتے ہیں ان کی اب کیا زمہداری ہے یہ کوئی غیر ریاستی یا غیر مسلم نہیں ہے یہ ذلت ہمارے اپنے سماج میں پروان چڑھے ہیں  یہ وہ بدطینت ہیں جنہیں مسکان کی چیخیں  مسکان کا درد و کرب  بھی ہوش میں  نہ لاسکا  اس معصوم کی مسکان کو چھیننے والے کیسے دماغ کے لوگ ہیں  ہم جانتے ہیں اگر کوئی غیر ہوتا کسی اور کی حرکت ہوتی تو ہم نے زمین و آسمان  میں کہرام مچایا ہوتا جیسا کہ بیٹی آصفہ کے معاملے میں ہوا تو کیا مسکان ہماری نہیں مسکان کی چیخیں کیوں سنائی نہیں دیتیں  کیا یہ اپنی ریاست کے ہیں نہیں ایسا نہیں سوچتے اس ناسور کو پلنے نہ دو اپنی صف میں کیا خبر کل میری مسکان ہو کل میری مسکان تڑپ رہی ہو کل میری مسکان کی عید کی خوشیاں چھین لی جائیں  ہاں ہمیں یہ سوچنا ہے۔

ایسی صورتحال میں  منافرت نہیں  بلکہ حقائق کا سامنا کیجئے دوہرے معیار کو مت پنپنے دیں کیوں کہ  کوئی بھی معاشرہ تب تک صحیح  طرح مضبوط نہیں ہوسکتا جب تک اس کے سوچنے کا معیار صحیح  نہ ہو  اس ذلت کے لئے بھی وہی سب ہونا چاہئے جو آصفہ بیٹی کے لئے کیا گیا سب نے یک آواز چلایا ظلم ہوا ہے انصاف چاہئے یہ بھی ظلم ہوا انصاف کے لئے اپنی  حد تک کوشش کرے ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہی بدطینت لوگ پھر سے اسی جنگل کو جائیں گئے کسی اور مسکان کی مسکان  کو مسلنے کے لئے یاد رکھے بیٹیاں سب کی پیاری ہوتی ہیں یہ سب دنیا کی معصوم پریوں  جیسی ہوتی ہیں انہیں درندوں  کے نرغے میں رہنے مت دیجئے    کوئی اور مسکان نہ مسلی جائے اس سلسلے میں کام کیجئے  کاش ہم اس فکر میں رہتے تو یقینا مسکان باقی رہتی کوئی مسکان ڈر ڈر کے جینے پر مجبور نہ ہوتی یہ درد و کرب کی داستاں بیان کرنے کے لئے دل پتھر کا ہونا چاہئے میں سوچتا ہوں کہ گر  میرے سامنے ہی میری چھوٹی سی پری ہوتی تو ضرور میری آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر کہتی  بابا کیوں رو رہے ہیں  آپ گر میں بتاتا تو ضرور   کہتی  بابا تو مجھے آپ خود ہی مار ڈالے نا  دوسرے تو پھر بڑی بے رحمی سے مار دیتے ہیں بابا آپ آرام سے میرا گلہ گھونٹ دیں  ایک خیالی خط جو آپ کی نظر کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔

جنت سے  مسکان کی صدا

ماں  یہ جو عید کے بعد میں اپنوں کے ساتھ گئی تھی نا
انہیں میں نے کچھ نہیں کیا  تھا نا
یقیناً وہ اپنے   گھر کو کوٹ آئے ہوں گئے
یقیناً پاپا کو بھی اب اطمنان مل گیا  ہوگا
ماں معاف  کرنا لوٹ کر میں واپس   نہ  آپائی   آپ کے پاس
تم  اکثر کہتی تھی نا تیز نہ دوڑا کرو بٹیا
تمہیں تو کہتی تھی ہرنی کی طرح چال ہے میری
مگر اس بار وہ ہرنی کے جیسے پیر بھی میرے
کہیں پہ جاکے ساقط ہوگئے  تھے ماں
کوئی   دہشت تھی پیچھا کر رہی تھی
کئی وحشی  تھے پیچھا کر رہے تھے
وہ انسانوں کے جیسے بھیڑیے تھے
نہ ان کو سینگ تھی نہ پنکھ تھے نہ خونی پنجے تھے
بتاؤں تم کو کیسے ماں کہ وہ کیسے درندے تھے
وہ پتھر پیڑ پودھے پھول سبزہ زار سب چپ تھے
وہ جن سے کھیلتی تھی میں جنھیں  میں  دوست کہتی تھی
کسی نے کچھ نہیں بولا
کوئی آگے نہیں آیا
سبھی مجبور تھے شاید
یہی تو مصلحت  ہے ماں
ماں میں نے  بہت منتیں کی  پر وہ میری ایک بھی نہیں  سنے ماں
ماں میں بہت چیخیں چلائی ہاتھ پیر چلائے ماں وہ طاقتور تھے میں بھاگ نہ سکی
مجھے معلوم ہے آپ آئی تھیں مجھے  ڈھونڈھنے
میرے کانوں میں آپ  کی چیخ ۔۔۔مسکان مسکان  تم کہاں ہو
ابھی بھی گونجتی ہے
مگر ماں مجھ میں طاقت بھی نہیں تھی
درندوں نے مرے ہر ہر عضو کو چیر ڈالا تھا ۔
مجھے انسانوں کی دنیا سے اب نفرت سی ہوتی ہے
مگر ماں فکر نا کرنا
میں اب جنت میں ہوں
یہاں بھی باغ  ہیں جھرنے ہیں سبزہ زار ہیں
یہاں بھی تتلیاں ہیں پھول بھی ہیں
میں ان سے کھیلتی ہوں
مگر ماں وہ لوگ اب بھی تو وھیں ہیں
مجھے اک  ڈر  سا لگتا ہے
بہت خونخوار ہیں وہ لوگ
تم اپنا اور پاپا کا خیال رکھنا
ہاں وہ آخری بات
وہیں پر ایک جنگل  ہے
جہاں اک پرندے رہتے  ہیں انہیں
سامنے سب کچھ ہوا تھا
نہ جانے کیوں وہ بھی کچھ نہ کرسکے  بہت خاموش تھے  اس  دن  سب

شاید ان کی دندناہٹ سے ڈر کر سہم گئے تھے ان کی آنکھوں کا وحشی پن دیکھ کر دبک گئے تھے
ہاں ماں ان کے ہاتھوں میں کلہاڑی دیکھ کر مبہوت ہوگئے تھے انہیں لگا یہ ہمارا آشیانہ اجاڑنے آئے ہیں
ان کے پاس ماں تیزاب بھی تھا جنگل میں سناٹا تھا شاید اس جنگل کو لگا ہو یہ مجھے جلانے آئے ہیں
چاقو دیکھ کر بھی کچھ پرندے چہچہانا بول گئے تھے انہیں لگا شاید ان کا شکار کرنے آئے ہیں
ماں میں نے کہا بھی میں ہی اجڑنے والی ہوں پر پرندوں  کی خاموشی نہ ٹوٹی
جنگل کا سناٹا کم نہ ہوا ماں میں جب تھک کر گر گئی انہوں نے مجھے جو زخم دئے ان سے خون رس رہا تھا میں دیکھ رہی تھی تب آپ کی بہت یاد آئی
ماں یاد آیا میرا بھائی بھی تھا وہاں پر اس نے نہیں بچایا
ماں کیا ہوا اسے جو اس نے بھی تھپڑ مارے
لات ماری مجھے گھسیٹا ماں اس سے مت کہنا
ماں اب میرے سب  کھیلونے  اسی کو دے دینا مجھے کچھ نہین چاہئے اب
ماں دکھی مت ہونا اب آرام ہے میرے زخم اب ٹھیک ہوگئے ہیں
ماں تم مت رونا اب میں تو نہیں آسکتی آنسو پونچھنے
ماں میں مسکان ہوں نا اس لئے میں اب بلکل بھی نہیں روتی

اللہ حافظ اماں

ایسے المیے نہ ہوں بس بہت ہوا یہ کرب بہت روئی اب ہم سب کی مسکان بیٹیاں  اب ان کے آنسو پونچھنے کا وقت ہے ان کی خوشیاں  لوٹانے کی ضرورت ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

الطاف جمیل شاہ

سوپور، کشمیر

متعلقہ

Close