معاشرہ اور ثقافت

نوجوانوں میں تجر بے کا شوق- تجسس یا فیشن

مزمل احمد فیروزی

ہما رے نو جوان دنیا کے کسی بھی ملک کے نوجوانوں سے برعکس ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان مثالی نوجوانوں میں آج بیرون ملک سے بر آمد فیشن کے نام پر ایک ایسی خطرناک بیماری کی لت پڑ گئی ہے جس نے نوجوانوں صحت کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب و تمدن سے بھی کوسوں دور کر دیا ہے۔ جی ہاں، یہ بیماری ’’شیشہ‘‘ ہے جسکا استعمال اشرافیہ سے ہوتا اب متوسط طبقے میں شدت اختیا ر کر گیا ہے۔ آج کے نو جوان ہر چیز کا تجربہ کر نا چا ہتے ہیں اور یہی و جہ ہے کہ وہ برُے سے بُرے اور بڑے سے بڑے کام کا تجر بہ کر نے سے گریز کرتے نہیں گھبراتے۔ مثال کے طور پر 15سے 20 سال تک کے لڑکوں کا مو ٹر سا ئیکل کو ایک وھیل پر چلا نا ،ہر نا ممکن کام کو ممکن بنا نا ،تعلیمی درسگاہوں میں سگر یٹ نو شی اور اب شیشہ پینا ایک فیشن اور اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔۔!! ا دانستہ سگریٹ نوشی کا تجر بہ کرتے نوجوان نادانستہ اس بیماری کے تسلسل میں پڑجاتے اور اب اس سے بھی آگے کالج کے بعد دوستوں کی محفلوں میں شیشہ اسمو کنگ کے نشے پڑ کر تمام تعمیری سرگرمیوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں لاہور کے سفر کے دوران اسٹیشن پر جینز ٹی شرٹ میں ملبوس لڑکے لڑکیوں کو ہاتھوں میں حقہ اُٹھائے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ یہ گندا ٹرینڈ اب شیشہ باروں سے نکل کر ایسے سر عام ہوگیا ہے جیسے ہم زمانہ طالب علمی میں کالج اور یونیورسٹی میں چائے اور سموسے کھایا کرتے تھے اور آجکل کے نوجوان سگریٹ اور چرس کا دھواں اُڑا کر وقت گزارا کرتے ہیں،یعنی ایک بار کی دانستہ آزمائش بعد میں مستقل عادت کا روپ دھار کر نوجوانوں کو ایسے مقام پر لے جا کھڑا کرتی ہے جہاں سے واپسی ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہوجاتی ہے۔ انسان کے اندر تجربہ اور تجسس لازمی امر ہے کیونکہ اسکے بغیر انسان اپنی تحقیق اور پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز نہیں کر سکتا ،مگر منفی چیزوں پر تجربہ، غلط چیزوں کے بارے میں تجسس اور بے سرُوپا فیشن انسان کو ایسی جگہ لے جاتا ہے اُسے ناقابل تلافی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ آج کی نوجوان نسل ہر چیز کا تجربہ کرنا چاہتی ہے اور نت نئے تجربات کی جستجو انہیں وقتی سرور سے تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کرتی ہے۔سگر یٹ نو شی کے بعد شیشہ سمو کنگ کا رجحا ن ہما رے ملک کے نو جوان لڑ کے اور لڑکیوں میں بہت تیز ی سے پھیل رہا ہے ، کراچی کے امیرگھرانوں کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کے نوجوانبھی شیشے کی اس لعنت میں بُری طرح مبتلا نظر آتے ہیں۔ ڈیفنس ،کلفٹن کے بعد اب گلستان جوہر اور طارق روڈ پربھی جگہ جگہ’’ شیشہ پار‘‘ ایک کامیاب کاروبار کی شکل اختیاکر گیا ہے۔شہر کے تمام پوش علاقوں میں شام ہوتے ہی نوجوان ان شیشہ باروں کارخ کرتے ہیں اور رات گئے تک ذائقے سے بھر ے زہریلے تمبا کو کے سرور سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔۔!! ورلڈ آر گنا ئز یشن (WHO)کی رپورٹ کے مطا بق پا کستا ن میں پچیس ملین افر د تمبا کو کا نشہ کر تے ہیں جن میں سے 36فیصد نو جوان لڑکے اور 19فیصد نو جوان لڑکیاں شا مل ہیں اس کے علا وہ ہما رے ملک میں ہر سال ساٹھ ہزار افراد تمبا کو کے استعما ل کی وجہ سے ہو نے والی بیما ریوں کا شکا ر ہو کر اپنی جا ن سے ہا تھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ملک کی نو جوا ن نسل جس زہر کو شیشہ کے نا م پر اپنی رگوں میں گھول رہی ہے ،یہ تقر بیاً 3000سا ل پہلے اسے ’’حقہ‘‘ کے نا م سے منسوب کیا جاتا تھا جو اب جد ید ہوکر شیشے کے نام سے مشہور ہے۔ اس بات سے سب بخوبی واقف ہو ں گے کہ حقہ بنا نے کے کیلئے تمبا کو ،ٹا راور نیکو ٹین کا استعما ل کیا جا تا ہے جو کہ صحت کے لئے نہائت نقصان دہ ہے۔ماہرین کے مطابق شیشے کا ایک کش 10سگریٹوں کے برابر ہوتا ہے ۔پا کستانی قانون کے مطا بق سو لہ سال سے کم عمر نو جوان کو سگر یٹ فروخت کر نے پر پا بند ی عا ئد ہے البتہ یہ بات الگ ہے کہ آج تک ہمارا ملک اس قانون کے اطلاق سے محر وم نظر آتا ہے ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ نے تمام شیشہ بار فوری طور پر بندکرنے کا حکم صادر فرمایا تھا مگر کراچی کے حالات دیکھ کر لگتا ہے سندھ پولیس نے سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا جبکہ پولیس کی ملی بھگت کی وجہ سے شیشہ بار دو دن سے زیادہ کیلئے بندہی نہیں ہوتے ۔۔!!حال ہی میں ایس ایچ او درخشاں نے کلفٹن کے شیشہ بار پرچھاپہ مارا تو ایس ایچ کی چھٹی کرادی گئی،اس کے جو ہورہا ہے ہونے دوکی پالیسی پر تمام افسران عمل پیرا ہوتے ہوئے پولیس نے شیشہ بارمالکان سے دس سے تیس ہزار ماہانہ وصول کرکے انہیں قانونی تحفظ دینا شروع کر دیا۔ایک تحقیق کے مطابق بعض شیشہ پارلرزمیں نشہ آور اشیاء کاکھلے عام ستعمال کیا جاتاہے او خاطرمدارات کیلئے لڑکیوں کی خدمات بھی پیش کی جاتی ہیں۔۔!! کراچی کے مشہورپارلرزمیں شامل اوزون کیفے،ڈاؤن ٹاؤن کیفے، جیک چارلی کیفے،بخش کیفے،سگنیچرکیفے، حریرہاکیفے،کیفے لندن،ایریزوناکیفے،راؤنڈون کیفے،لیون کلب بہت مشہور ہیں ۔یہ کیفے زیادہ تر پولیس والوں یاان کے رشتے داروں کی ملکیت ہیں۔ بعض کیفوں میں ڈانس فلوربھی بنے ہوئے ہیں جہاں ڈانس پارٹیز کی فیس الگ سے وصول کی جاتی ہے۔۔!!اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطا بق پا کستا ن میں تمبا کو نو شی کر نے والی خوا تین کی شر ح میں اضا فہ ہو اہے جس کی و جہ خا ص طو ر پر تعلیم یا فتہ طبقے میں شیشہ اسمو کنگ میں اضا فہ ہے شیشے کا استعما ل کر نے والوں میں 50فیصد شر ح لڑکیو ں اور نو جوان خوا تین کی ہے ،بڑ ے شہر وں خصو صاًاسلا م آباد ،لا ہو ر اور کر اچی میں نو جوان لڑکے اور لڑکیوں میں اس کا استعمال کے رجحا ن میں اضا فہ دیکھنے میں آر ہا ہے ۔ تمبا کو نو شی کے مر دوں کے نسبت خواتین پرزیا دہ منفی اثر ات مر تب ہو تے ہیں جس سے وہ مختلف بیما ریوں میں مبتلاہو جا تی ہیں جن میں ہیپاٹائٹس اور کینسر پھیلانے میں شیشہ بار سر فہرست ہے جبکہ یہ مختلف فلیور والا زہریلا تمباکو خواتین کو آنے والی زندگی میں بانجھ بھی بنا سکتا ہے اور منہ سے منہ پھیلنے والی بیماریاں بھی شیشہ بار کی مہربانیاں ہیں۔ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی خاتون کے مطابق شیشہ بار میں آناانہیں ذہنی سکون مہیا کرتاہے ،اس سے ذہنی تنا ؤ اور بو ریت ختم جبکہ مزاج میں بہتری اورخود اعتما دی میں اضا فہ ہوتا ہے۔ایک اور شیشہ بار میں آنے والوں کے مطابق موٹا پے اور جسم پر چر بی بڑھنے سے بچاتا ہے۔
خواتین میں شیشہ و سگریٹ نوشی کے بڑھتا ہوا رجحان با لخصوص مراعات یا فتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑ کیاں اس کی لت میں زیادہ مبتلا نظرآتی ہیں اور ان ہی کی دیکھا دیکھی متوسط گھرانے کی لڑکیاں اپنا اسٹیٹس بنانے کے چکر میں شیشہ بار کی لت میں پڑ گئی ہیں ۔ذاتی مشاہدے کے مطابق سگر یٹ نو شی ، شیشہ اور دوسری نشہ آور اشیاء کا استعما ل آج بطور فیشن یا ایڈونچر بھی کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف شیشہ بار میں مہیا کیا جانے والا رومانوی ماحول بھی نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور دیمک کی طرح نوجوانوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم یہ سب ہوتا دیکھ رہے ہیں کہ وطن عزیز کامستقبل اڑ رہاہے شیشے بار میں دھویں کے ساتھ اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کو بچانے کے لیے یہ امر بہت ضرور ی ہے کہ کو شیشے کی لعنت سمیت تما م نشئی اشیاء سے جڑے نقصانات سے عوام الناس کو بھر پور روشناس کر وایا جا ئے،جس کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ تمام طبقات با لخصوص میڈ یا، اساتذہ اوراہل قلم اپنی تحر یر وں ،تقریروں ،خطبا ت کے ذریعے اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس برے رجحا ن کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کو یقینی بنائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مزمل احمد فیروزی

مضمون نگار بلاگر ورکن کراچی یونین آف جرنلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ رکن مجلس عاملہ پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ بھی ہیں۔ انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی روزنامہ آزاد ریاست سے منسلک ہیں اور جز وقتی طور پر اسکول آف جرنلزم میں شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ سیروسیاحت، مطالعہء کتب اور نت نئی معلومات کے لئے انٹرنیٹ سرفنگ سے خصوصی شغف ہے۔

متعلقہ

Close