معاشرہ اور ثقافت

نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا استعمال

عاصم رسول

مسلمان معاشرہ کو جن اسباب نے دیوالیہ زدہ اور کھوکھلا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، ان میں ایک اہم سبب منشیات کا بڑھتا رجحان ہے۔ منشیات کے بڑھتے استعمال نے معاشرہ کو فالج زدہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ صورتِ حال کا انتہائی خطرناک پہلو یہ ہے کہ منشیات سے نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔ نوجوانوں کا نشہ آور چیزوں کے استعمال میں ملوث ہونا مسلم معاشرہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اس حقیقت سے ہر شخص واقف ہے کہ نوجوان معمارانِ قوم ہوتے ہیں ۔ قوم وملّت کو صالح اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں نوجوانوں کا کلیدی رول ہوتا ہے۔ فطری طور اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کو گرمیٔ خون، جوشِ عمل اور جہد مسلسل  کے اوصافِ حمیدہ سے نوزا ہوتا ہے۔ ان اوصاف کے بل بوتے پر نوجوان کسی بھی سخت سے سخت اور مشکل سے مشکل مہم یا مقصد کو پورا کرکے کامیابی کے جنڈے گاڑسکتے ہیں ۔ لیکن جب انہی فطری صلاحیتوں کو معمارانِ قوم مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں بروئے کار لانے کے بجائے منشیات کی تیز چھری سے ذبح کرنے پر تلے ہوئے ہوں تو جو حال قوم و معاشرے کا ہوتا ہے وہ آج ہمارے سامنے ہے۔

نشہ آور چیزوں کے استعمال کا مسلم معاشرے میں راسخ ہوجانے کا یہ لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ ہی دین باقی رہ سکتا ہے، نہ ایمان، نہ تہذیب، نہ شرافت اور نہ ہی معاشرے کی بہن بیٹیوں کی عصمت وعزت کی سلامتی کی کوئی گارنٹی دی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ جب عصمت کے محافظ ہی نشہ میں دھت ہوکر عصمت کے لٹیرے بن جائیں تو عصمت کی سلامتی، چہ معنی دارد!۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے کے دین پسند اور دردمند افراد مسئلہ کی سنگینی کا ادراک کرکے اس کے خلاف حسبِ استطاعت منشیات مخالف بیداری مہم چلائیں تاکہ نوجوان نسل، جو اس دلدل میں دانستہ یا نادانستہ پھنسی یا پھنسائی جارہی ہے، کومکمل طوردھنسنے سے قبل اس سے باہر نکالا جاسکے۔ ساتھ ہی ساتھ درسگاہوں اور قرآنی مراکز کی طرف نوجوانوں کو دعوت دینے اور ان حلقوں سے وابستہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان قرآنی تعلیمات کے علاوہ صالح اَخلاق اور زندگی کے حقیقی مشن سے متعارف ہوکر اپنی خداداد صلاحیتیں اس مشن کی سربلندی کے لیے وقف کریں ۔

ظاہر ہے یہ کام محض احساس پیدا ہوجانے سے نہیں ہوگا، جب تک نہ اس سلسلے میں عملی اقدامات اُٹھائے جائیں ۔ بقول شاعر

صرف احساس سے کم نہ ہوں گے انجمن کے بھیانک اندھیرے

روشنی کے لیے ہم نشینو اپنے دل کو جلانا پڑے گا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عاصم رسول

سرینگر، کشمیر

متعلقہ

Close