معاشرہ اور ثقافت

نکاح آسان کرو، یہاں تک کے زنا مشکل ہو جائے

‌نئے سال کی مناسبت  سے

ذوالقرنین احمد

جنسی  بے راہ روی اور جھوٹے عشق و محبت کے تعلقات کو فروغ ملنے میں سب سے بڑا کردار ان والدین کا ہے جنہوں نے ایک تو اپنے بچوں کی تربیت قرآن و سنت کے‌مطابق نہیں کی، اور دوسری یہ کہ لڑکے، لڑکیوں کے مقررہ مدت میں رشتے کرنے میں دیری کی کیونکہ نکاح ایک فطری عمل ہے اگر شریعت کے مطابق بلوغت کو پہنچنے پر لڑکے، لڑکیوں کا انکے مناسب جوڑ کے لحاظ سے نکاح نہیں کروایا گیا تو وہ گناہوں میں مبتلا ہوگے اور اسکا وبال والدین پر ہوگا، آج رشتہ کرنے کا معیار یہ بن چکا ہے کہ لڑکا کتنا ہی آوارہ قسم کا کیوں نہ ہو، اس میں دینداری نام کیلئے بھی باقی نہ رہے، اس کے بغیر نکاح کے جنسی تعلقات کہئ کہئ فاحشہ عورتوں سے ہو، بد اخلاق بد کردار ہو، تعلم یافتہ نہ بھی ہو، نہ کوئی ہنر ہاتھ میں ہو، پھر بھی لڑکی والوں کا رشتہ تلاش کرنے کا معیار یہ بن چکا ہے کہ اسکی دولت، زمین، کھیتی، پیسہ، بنگلہ، گاڑی، اسٹیٹس، دیکھا جاتا ہے، اور اگر کوئی دین داری اور اخلاق کی بات کریں تو اسے یہ کہے کر خاموش کردیا جاتا ہے کہ اللہ ہدایت دینے والا ہے سدھر جائیں گا، اور وہی اگر کسی میڈل کلاس کے با اخلاق با کردار لڑکے کا رشتہ آجائیں تو اسے خالی ہاتھ واپس کردیا جاتا ہے کہ ہماری لڑکی کے خرچے بہت ہے یہ برداشت نہیں کر پائیں گا، یہ کیسا اندھا انصاف ہے اور کیسا معیار معاشرے میں رواج عروج پارہا ہے کیا اللہ تعالیٰ قادر نہیں ہے کہ جس بد کردار کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے سکتا ہے اور وہ بھی ہدایت ایسی کے پل صراط پار کرانے والی ہدایت جس سے دنیا بھی کامیاب اور آخرت بھی کامیاب۔

 اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا کی اہمیت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے تو کیا وحدہُ لا شریک اس دیندار میڈل کلاس لڑکے کو مال و دولت سے نہیں نواز سکتا اصل چیز تو آخرت ہے اللہ اتنا مہربان ہے کہ آخرت کی کامیابی دے رہا ہے دنیا کونسی بڑی بات ہے اور دنیا کا نظام تو اللہ کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہیں جب چاہے حالات تبدیل کردیتا ہے، اور پھر اگر لڑکا، لڑکی ایک دوسرے کو پسند بھی کرلیں تو وہاں والدین آڑ بن جاتے ہے حالانکہ کے یہ انکا حق ہے کے ایک دوسرے کو  ایک نظر دیکھیں تاکہ آگے چل کر کوئی پریشانی یا رشتہ میں دراڑ کا سبب نہ بن جائے ایسے بہت سے حادثات ہماری اطراف میں دیکھنے میں آتے ہیں کہ ماں باپ لڑکی پسند کرنے جاتے ہیں اور رشتہ بھی طے کرلیتے ہے لڑکے کو لڑکی نہیں بتائی جاتی اور لڑکی کو لڑکا نہیں بتایا جاتا، اور والدین سمجھتے ہے کہ ہم گھر کے بڑے ہے ہمنے جو طے کرلیا وہی ہوگا، اور پھر کچھ ہی دنوں یا مہینے میں وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر معیار پر دونوں خاندان اتر بھی گے تو ذات اور برادری کو دیکھا جاتا ہے حالانکہ رشتے طے کرنے کا معیار یہ ہے کہ لڑکی کی دینداری دیکھی جائے نا کے حسن اور مال و دولت کو، دونوں طرف سے اگر یہ شریعت کے مطابق باتیں پائی جاتی ہے تو نکاح میں دیری نہیں کرنی چاہیے۔

 نکاح کیلئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ شوہر لڑکی کا کھانے پہنے رہنے کا خرچ اٹھانے کے قابل ہو، ایسی کئی احادیث نکاح کی تعلق سے ملتی ہے جس میں نکاح میں جلدی کرنے کیلئے کہاں گیا ہے، آج معاشرے میں بگاڑ کا سبب خود والدین بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہی لوگ اپنی اپنی سوچ کے مطابق اپنے‌معیار کے مطابق رشتے تلاش کرنے میں اپنے بچوں کی جوانیوں کو برباد کررہے ہیں، آج آزادی نسواں کے نام پر لڑکیوں کا اعلیٰ تعلیم دلائی جاتی ہے میرا کہنے کا‌مقصد تعلیم سے روکنا نہیں ہے لیکن جو آج اعلیٰ تعلیم کے نام پر لڑکیوں کی عمریں شادی کی عمر سے تجاوز کر جاتی ہے اور پھر اخبارات اور ویب سائٹ، پر اشتہارات دیے جاتے ہیں اور پھر کوئی لڑکا نہیں ملتا جو ان تعلم یافتہ لڑکیوں سے شادی کریں یا پھر انکے معیار کا لڑکا نہیں مل پاتا جو انہیں اپنا سکے، ایسی ہزاروں لڑکیاں گھروں میں سسکیاں لے کر مر‌رہی ہے، اور‌ معاشرے کا یہ رواج بن گیا ہے کہ زیادہ عمر کی لڑکیوں سے نکاح نہیں کیا جاتا بیوہ خواتین سے نکاح نہیں کیا جاتا اسے معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیواؤں سے نکاح کیا۔

 معاشرے میں جنسی استحصال کا شکار ہورہے معصوم بچیاں اسکول میں پڑھنے والی لڑکیاں، کالج میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیا تمام جنسی درندگی کا شکار ہورہی ہے، لڑکے لڑکیوں کے بروقت نکاح نہ کرنے کی بنا پر جنسی حراسانیاں، درندگی بڑھتی جارہی ہے روزانہ اخبارات سوشل میڈیا، ٹی وہ چینلز پر ایسی درجنوں خبریں موصول ہورہی ہے جس کو پڑھ کر دل دہل جاتا ہے گزشتہ ہفتے پڑوسی ملک میں فریال نام کی تین سالہ بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا، اسکے چند روز بعد ہی نوشہرہ کی مناہل کو جنسی درندگی کا شکار بنایا گیا، یہ آگ پورے ہند و پاک میں برابر لگی ہوئی ہے، یوپی میں جسے گنڈہ راج کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی سنجلی نام کی لڑکی پر ایسڈ ڈال کر زندہ جلا دیا گیا، ایسی سیکڑوں مثالیں ہے لیکن یہ سلسلہ روکنے کا نام نہیں لے رہا ہے حکومت ایسے مجرموں کیلے پھانسی یا قتل کا قانون بنانے کیلئے تیار نہیں ہم کچھ دن غم مناتے ہیں اور پھر سب اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں، اور پھر نئی خبر سنے ملتی ہے جو دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے کب تک بنت حوا کی عصمت تار تار ہوتی رہی گی کب تک معصوم کلیوں کے جنازے اٹھاتے رہے گے، اگر ان حالت پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تو شریعت اسلام کے قانون پر عمل پیرا ہونا ہوگا، معاشرے میں نکاح کو آسان کرنا ہوگا اور زنا کو مشکل کرنا ہوگا۔

آج حالات یہ بنے ہوئے ہیں کے لڑکے لڑکیاں نکاح کی عمر کو پہنچ جاتے ہے اور کالجوں یونیورسٹیوں میں غیر محرموں سے تعلقات قائم کرلیتے ہے یہاں تک کے غیر مذہب میں کے لڑکوں سے مسلم لڑکیاں عشق و محبت کے نام پر اپنے والدین اور دین و ایمان  کو خیرباد کہہ دیتی ہیں ایسی کئ خبریں انڈین میریج ایکٹ کی ویب سائٹ پر پڑھیں جاسکتی ہیں ہر روز کوئی مسلم دو شیزہ غیر مسلم کے ساتھ شادی کرنے کیلئے کورٹ میں فائیل داخل کر رہی ہیں والدین سمجھتے ہے کہ انکی لڑکی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں وہ بلا تحقیق بھروسے پر گاؤں سے شہروں کی طرف اپنی بچیوں کو ہاسٹل میں داخل کراتے ہیں، اور وہ غیروں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے پھرتی ہیں۔

ابھی حال ہی میں نیا سال شروع ہونے والا ہے اور نیے سال کی مبارکباد پیش کرنے کا سلسلہ پیچھلے ہفتے جاری ہے نئے سال کی خوشیاں منانے کے نام پر کالجوں یونیورسٹیوں کے لڑکے لڑکیاں پرایویٹ ہوٹل اور ریستوران، میں جاکر کھلے عام ایسی ایسی بے ہودہ حرکات کرتے ہیں کہ اسے بیان نہیں کیا جاسکتا نیا سال منانے کا رواج تقریباً ۱۶ ویں صدی میں شروع ہوا جب جہازوں میں کام کرنے والے فوجی کئی کئی مہینوں اپنی بیوی سے نہیں مل پاتے تھے اور اکثر سمندر کے سفر میں رہتے وہاں سے سلسلہ شروع ہوا کہ نیا سال منانے کیلئے جہاز کے کمانڈر سے ان‌ فوجی نے کہا ہمیں ایک دن کے لئے ہماری بیویوں کو لانے کی اجازت دی جائے اور‌سمندر کے ساحل پر جشن منانے کی اجازت دی جائے انہیں کمانڈر نے اجازت دے دی اور وہاں جشن کی تیاریاں کی گئی تمام لوگ جمع ہوگئے اور ٹھیک نئی سال شروع ہونے سے قبل روشنی بند کردی گئیں اور وہ لوگ شراب نوشی میں مست ہوکر جشن منانے لگیں اسطرح یہ سلسلہ چلتا ہوا آرہا ہے جو کہ شریعت کے خلاف ہے اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 آج کے دور‌میں اس سے بڑھ کر اب فیشن اور ماڈرن سوچ کے نام پر نئی سال کی رات میں پہلے سے ہوٹلیں بک کی جاتی ہے پرایویٹ روم بوک کیے جاتے ہیں ہوٹلوں کے باہر نوجوان لڑکے لڑکیاں جمع ہوتے ہیں کوئی اپنی بیوی کے ساتھ تو کوئی اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ تو لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کی ساتھ، عیاشی کرنے کیلئے جمع ہوتے ہیں، اور ایسے سنگل لڑکے لڑکیاں بھی موجود ہوتی ہے جس کا‌ اس دن کا خرچ اٹھا کر اسکے ساتھ رات گزاری جاتی ہے، آج یہ معاشرہ اور ہمارے نوجوان جس میں اکشر کالج اور یونیورسٹیوں کے لڑکے لڑکیاں موجود ہوتی ہے جو ایسی  پارٹیوں کو شان سے سلیبر یٹ کرتے ہیں جس میں ننگا ناچ ہوتا ہے جہاں پر بنت حوا عشق و محبت کے چھوٹے بندھن میں پھنس کر اپنی عصمتیں گنوا دیتی ہیں اور پھر عمر بھر پچھتانے کے سوا کچھ نہیں بچتا، یہ حالات اس وجہ سے عروج پارہے ہیں کیونکہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے بالغ ہونے پر نکاح میں دیری کی جارہی ہیں اور وہ اپنی حوس کو مٹانے کیلئے ایسے غیر شرعی راستے اپناتی ہے بہت کم ایے لڑکے لڑکیاں ہوتی ہے جو ایسے حالات میں خود پر قابو رکھ پاتی ہیں لیکن والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بالغ ہونے پر جوڑ کا رشتہ دیکھ کر فوراً نکاح کردیں، اگر صحیح اسلامی طریقہ پر فطری عمل کو پورا نہیں کیا گیا تو انسان کی فطرت ہے وہ کئی غلط طریقے سے حرام طریقے سے پورے کریگا ہی اس لیے ضروری ہےکہ رشتوں کو اپنے اپنے معیار پر نہ پرکھے اور نا ہی اناؤ ذات پات برادری کے بت باندھ کر رکھے بلکہ شریعت کے معیار پر رشتہ کو ترجیح دیں اور نکاح کو آسان بنائے تاکہ زنا مشکل ہوجائے۔

نیا سال شروع ہونے والا ہے اپنے گھر و اطراف کے بچوں پر کڑی نظر رکھیں ایک غلط قدم پوری زندگی تباہ کرنے کیلے کافی ہے ایک بار بوری لت لگ گئیں تو عمر بھر پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے اپنے بچوں کو دینی ماحول فراہم کریں انکے اندر مطالعہ کا‌شوق پیدا کریں دینی شعور پیدا کریں ورنہ جو لوگ یہ سمجھتے ہے کہ ہم ہمارا گھر اس سے محفوظ ہے تو وہ غفلت کی نیند میں ہے  کیونکہ

لگے گی آگ تو آئے گے اور بھی کئی گھر زد میں
گلی میں صرف غیروں کا مکان تھوڑی ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ذوالقرنین احمد

Freelance journalist Article writer Social Activitist مہاراشٹر۔انڈیا

متعلقہ

Close