معاشرہ اور ثقافت

نکاح کے بغیر جنسی تعلق ۔ نظامِ خاندان کی تباہی

خاندان کی اہمیت و افادیت عہد قدیم سے مسلّم رہی ہے اور اسے سماج کا ایک اہم ادارہ سمجھا گیا ہے۔ اسی بنا پر دنیا کی تمام تہذیبوں ، ملکوں اور خطوں میں انسان خاندانی نظام کے تحت زندگی گزارتے رہے ہیں، لیکن موجودہ دور میں مختلف اسباب سے یہ ادارہ معرضِ خطر میں ہے۔ ان دنوں انسانیت جن سنگین مسائل سے دو چار ہے ان میں سے ایک خاندان کی تباہی و بربادی ہے۔ بے محابا آزادی، خود غرضی، مفاد پرستی، شہوت رانی، مادیت کے غلبے اور مال و دولت کی حرص نے اس مقدّس ادارہ کو بری طرح شکست و ریخت سے دوچار کردیا ہے، خاندان کی ذمہ داریوں سے فرار کی راہیں تلاش کی جارہی ہیں، یہاں تک کہ اب اس کی ضرورت سے بھی انکار کیا جانے لگا ہے۔
اس رجحان کو اصطلاحی طور پر Live in Relationship یا Cohabitation کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی مرد اور عورت کا ایک ساتھ رہتے ہوئے زندگی گزارنا۔ اس کا اطلاق ان جوڑوں پر کیا جاتا ہے، جو نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگیں۔ ان کی یہ معاشرت عارضی اور چند روزہ بھی ہوسکتی ہے اور اس میں پائیداری بھی ممکن ہے کہ وہ طویل زمانے تک ایک ساتھ رہیں۔ اس عرصے میں ان کے درمیان جنسی تعلق بھی قائم رہتا ہے، جس کے نتیجے میں بسا اوقات بچے بھی ہوجاتے ہیں ، لیکن میاں بیوی کی طرح رہنے کے باوجود ان کے درمیان نکاح کا معاہدہ نہیں ہوتا، جس کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کواختیار رہتا ہے کہ جب بھی اس کی مرضی ہو علیٰحدگی اختیار کرلے۔ نکاح نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ساتھی کے تعلق سے ہر طرح کی ذمہ داریوں سے آزاد رہتا ہے اور اس پر کوئی قانونی بندش نہیں ہوتی۔
عالمی صورتِ حال
نصف صدی قبل تک دنیاکے بیش تر حصوں میں نکاح کے بغیر جنسی تعلق کو سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا اور زیادہ تر ممالک کے دستوروں اور قوانین میں اسے غیر قانونی قرار دیا گیاتھا، لیکن اس کے بعد صورت حال بہت تیزی سے تبدیل ہونے لگی اور خاندان کی پابندیوں سے آزاد رہ کر زندگی گزارنے کا رجحان پرورش پانے لگا، جس میں برابر اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ اب اس نے انتہائی خطرناک اور بھیانک صورت اختیار کرلی ہے۔ اس کا اندازہ اس سلسلے میں مختلف ممالک کے بارے میں جاری ہونے والے اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے۔
امریکا میں 1960ء سے قبل تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار جوڑے بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہتے تھے۔ 2000ء تک ایسے لوگوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوگیا، یہاں تک کہ 2011ء میں ان کی تعداد تقریباً ساڑھے سات ملین تک پہنچ گئی۔ 2009ء میں U.S. Census Bureau نے American Community Survey کروایا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تیس (30) سے چوالیس (44) سال کی درمیانی عمر کے مرد اور خواتین، جو نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہتے ہیں، ان کا تناسب 1999ء میں چار (4) فی صد تھا، جو اب سات (7) فی صد ہوگیا۔ خواتین کا الگ سے کیے جانے والے سروے کا نتیجہ یہ تھا کہ کہ انیس (19) سے چوالیس (44) سال کی درمیانی عمر کی ایسی خواتین ، جو نکاح کے بغیر کسی مرد کے ساتھ رہتی ہوں، ان کا تناسب 1987ء میں تینتیس (33) فی صد تھا، جو اب بڑھ کر اٹھاون (58) فی صد ہوگیا۔ برطانیہ کے Office for National Statistics کے مطابق وہاں 2012ء میں بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہنے والے جوڑوں کی تعداد 9.5 ملین تھی، جو 1996ء میں ان کی تعداد کی دوگنی تھی۔ یہی حال یورپی ممالک کا ہے۔ 2011ء میں یورپی یونین کے ستائیس (27) ممالک میں پیدا ہونے والے بچوں میں 39.5 فی صد ایسے تھے، جن کی ولادت بغیر نکاح کے جنسی تعلق کے نتیجے میں ہوئی تھی۔
یہ وبا مغربی ممالک کے ساتھ اب مشرقی ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ National Institute of Population and Social Security Research Japan کے مطابق پچیس (25) سے انتیس (29) سال کی درمیانی عمر کی خواتین کی تقریباً تین (3) فی صد تعداد اس وقت جاپان میں بغیرنکاح کے مردوں کے ساتھ رہ رہی ہے اور بیس (20) فی صد خواتین ایسی ہیں جنھوں نے اپنی ز ندگی میں کبھی نہ کبھی بغیر نکاح کے جنسی تعلق کا تجربہ کیا ہے۔ فلپائن میں 2004ء میں بیس (20) سے چوبیس (24) سال کی درمیانی عمر کے تقریباً ڈھائی ملین افراد (مرد و خو اتین) بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہ رہے تھے۔ Live in Relationship اختیار کرنے والے جوڑوں کا تناسب آسٹریلیا میں 2005ء میں وہاں کی آبادی کا بائیس (22) فی صد اور نیوزی لینڈ میں 2001ء میں وہاں کی مجموعی آبادی کا اٹھارہ (18) فی صد تھا۔ 1؂ یہ صرف چند ممالک کے اعداد و شمار ہیں۔ دیگر ممالک کا حال اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔
ہندوستان کا حال
ہندوستان زمانۂ قدیم سے ایک مذہبی اور اخلاقی روایات کا احترام کرنے والا ملک رہا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، اقوام و قبائل اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے بستے ہیں۔ یہ سب خاندانی نظام کے قائل رہے ہیں۔ ان کے نزدیک نکاح کو اعتبار و استناد حاصل رہاہے اور نکاح کے بغیر جنسی تعلق کو سخت ناپسندیدہ اورگھناؤنا کام سمجھا جاتا رہاہے۔ لیکن اباحیت، فحاشی اور آوارگی میں روزافزوں اضافہ کی وجہ سے اب یہاں بھی Live in Relationship کو گوارا کیا جانے لگا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس کی شناعت کے احساس میں کمی آئی ہے، بلکہ اس کو قانونی جواز دینے کی باتیں بھی کی جانے لگی ہیں۔
ہندوستان میں کتنے جوڑے بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہتے ہیں؟ اس کے اعداد و شمار دست یاب نہیں ہیں، لیکن مختلف رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رجحان یہاں بہت تیزی سے فروغ پارہا ہے اور خاص طور سے میٹرو شہروں میں رہنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس کی طرف مائل ہورہے ہیں۔
ہندوستان کی پارلیمنٹ کا رجحان بھی اس کی خاموش تائید و حمایت کی طرف ہے اور یہاں کی عدالتیں اسے قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ خواتین کو گھریلو تشدّد سے محفوظ رکھنے کے لیے 2005ء میں ایک قانون منظور کیا گیا ، جسے Protection of Women from Domestic Violence Act کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے دائرے میں ان خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے جو بغیر نکاح کے مردوں کے ساتھ رہتی ہوں۔ ان کے باہمی جنسی تعلق کو Relationship in the Nature of Marriage (نکاح کی نوعیت کا تعلق) قرار دیا گیا ہے۔اس قانون میں ایسی عورتوں کو، ان پر گھریلو تشدد ہونے کی صورت میں ، بعض مالی اور دیگر سہولیات کی ضمانت دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے 23؍ مارچ 2010ء میں S.Khushboo vs Kanniammal کے کیس میں یہ رولنگ دی کہ بالغ مرد اورعورت بغیر نکاح کے بھی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فاضل ججوں نے ساتھ ہی اپنے ان احساسات کا اظہار کرنا بھی ضروری سمجھا:
"When two adult People want to live togather, what is offence? Does it amount an offence? Living togather is not an offence. It can not be an offence”
’’اگر دو جوان (مرد اور عورت) ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس میں جرم کیا ہے؟ یہ معاملہ جرم تک کہاں پہنچتا ہے؟ ایک ساتھ رہنا جرم نہیں ہے۔ یہ جرم ہو بھی نہیں سکتا‘‘۔
13؍اگست 2010ء کو Madan Mohan singh vs Rajni Kant کیس میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے یہ رائے دی کہ کوئی مرد اور عورت اگر لمبے عرصے تک بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہیں تو ان کے تعلق کو ’نکاح پر مبنی تعلق‘ کے مثل مانا جاسکتا ہے۔ایک دوسرے کیس (Bharata Matha vs R. Vijaya) میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے فیصلہ دیا کہ Live in Relationship کے نتیجے میں اگر کوئی اولاد ہوتی ہے تو اسے اپنے باپ اور ماں دونوں کی جانب سے وراثت کے حقوق حاصل ہوں گے۔
سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے 21؍ اکتوبر 2010ء کو D. Velusamy vs D. Patchaiammal کے کیس میں رائے دی کہ Demestic Violence Act 2005 کے تحت درج ذیل شرائط پوری کرنے پر دو افراد کے Live in Relationship کو نکاح کی حیثیت دی جاسکتی ہے:
(1) وہ دونوں سماج کی نگاہوں میں میاں بیوی کی طرح رہتے ہوں۔
(2) وہ اس عمر کو پہنچ گئے ہوں جو قانونی طور پر نکاح کے لیے ضروری قرار دی گئی ہے۔
(3) بغیر نکاح کے ساتھ رہتے ہوئے وہ اس لائق ہوں کہ ان کے درمیان قانونی
طور پر نکاح ہوسکتا ہو۔
(4) وہ رضا کارانہ طور پر ایک ساتھ رہتے ہوں اور انھوں نے ایک قابل لحاظ
مدت تک ’مشترکہ رہائش‘ اختیار کی ہو۔ 2؂
ابھی حال میں مدھیہ پردیش کی عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا ہے کہ بغیر نکاح کے ساتھ رہنے والی عورت کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو نکاح کرکے ساتھ رہنے والی عورت کو حاصل رہتے ہیں۔دونوں شوہر کے ساتھ ایک مکان میں الگ الگ کمروں میں رہیں گی اور دونوں کے ساتھ شوہر کو پندرہ پندرہ دن رہنا ہوگا۔
اس تفصیل سے ہندوستانی عدلیہ کے رجحان کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح Live in Relationship کو نکاح جیسی قانونی حیثیت دینے کے لیے بے تاب ہے۔
اسباب اور قائلینِ جواز کے دلائل
خاندان کی قید و بند سے فرار اور بغیر نکاح کے آزادانہ رہن سہن کے مختلف اسباب بیان کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ اس رجحان کی حمایت کرتے ہیں اور اسے قانونی حیثیت دینے کے لیے کوشاں ہیں وہ اس کے مختلف دلائل پیش کرتے ہیں۔ ذیل میں ان کاتذکرہ کیا جاتا ہے:
(1) جس مرد اور عورت کا آپس میں نکاح ہوتاہے، ان کے درمیان عموماً پہلے سے تعارف نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو بہت معمولی۔ وہ ایک دوسرے کی عادات و اطوار، مزاج، رہن سہن کے انداز اور دیگر باتوں سے واقف نہیں ہوتے۔ بغیر نکاح کے ساتھ رہنے کا مقصد ایک دوسرے سے تفصیلی واقفیت حاصل کرنا اور یہ جائزہ لینا ہوتا ہے کہ کیا وہ آئندہ زندگی ایک ساتھ رہ کر گزار سکتے ہیں؟ بعض سروے رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہنے والے افراد میں سے تین چوتھائی سے زیادہ یہی کہتے ہیں کہ نکاح سے قبل ان کا ساتھ رہنا نکاح کا پیش خیمہ ہے۔
(2) نکاح کے بندھن میں بندھ کر اگر کوئی مرد اور عورت ایک ساتھ زندگی گزاریں گے تو کچھ عرصہ کے بعد ناپسندیدگی یا کسی اور وجہ سے الگ ہونے میں قانونی رکاوٹیں اور رواجی بندشیں ہوں گی۔ اس لیے زیادہ بہتر صورت یہ ہے کہ بغیر نکاح کے وہ ایک ساتھ رہیں اور جب ان کا جی بھر جائے، ایک دوسرے سے علیٰحدہ ہوجائیں اور اپنی اپنی راہ لیں۔
(3) کچھ لوگوں کی آمدنی محدود ہوتی ہے یا وہ اپنی معاشیات کے بارے میں غیریقینی صورت حال سے دوچار رہتے ہیں۔ وہ شادی میں تاخیر کرتے ہیں، یا بسا اوقات شادی ہی نہیں کرتے۔ اس لیے کہ وہ نکاح کے مصارف برداشت کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، یا انھیں اندیشہ رہتا ہے کہ اگرنکاح کے بعد رشتہ پائیدار نہ رہ سکا اور اس کا طلاق پر خاتمہ ہوا تو وہ مالی مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔ یہ لوگ اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ نکاح کے بغیر صنفِ مخالف کے ساتھ کچھ وقت گزار لیں۔
(4) بعض نوجوان لڑکے یا لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کے حصول یا ملازمتوں کے لیے وطن سے دور کہیں عارضی طور پر مقیم ہوتے ہیں اور مختلف اسباب سے ان کے لیے ابھی نکاح کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگتے ہیں۔
(5) کوئی شخص شادی شدہ ہو اور وہ کسی وجہ سے دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہو، لیکن قانون پہلی بیوی کے رہتے ہوئے دوسرے نکاح کی اجازت نہ دیتا ہو تو وہ بغیر نکاح کے دوسری عورت کے ساتھ رہنے لگتا ہے۔
(6) کچھ مرد اور خواتین نکاح کو فرسودہ روایت سمجھتے ہیں اور خود کو اس کا اسیر نہیں بنانا چاہتے۔ وہ اسی چیز کو دانش مندی سمجھتے ہیں کہ نکاح کے بندھن میں بندھے بغیر جس کے ساتھ چاہیں کچھ وقت گزارلیں اور جب اس سے جی بھر جائے تو اسے چھوڑکر دوسرے سے رشتہ استوار کرلیں۔
نظامِ خاندان۔ فطرت کا تقاضا
حقیقت یہ ہے کہ انسانی فطرت خاندانی نظام کے تحت زندگی گزارنے کاتقاضا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے اس پر عمل پیرا رہے ہیں اور موجودہ دور کی اباحیت پسند اور مادہ پرست تہذیب کے غلبے سے قبل کسی نے اس کا انکار نہیں کیا ہے اورنظامِ خاندان کو کم زور کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔
نسلِ انسانی کی بقا اور تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت کا صنفی تعلق پائیدار بنیادوں پر قائم ہو۔ دونوں محض اپنی شہوانی خواہش کی تکمیل اور حصولِ لذّت کے لیے باہم ملنے، پھر الگ ہوجانے کے معاملے میں آزاد نہ ہوں، بلکہ ان کے درمیان ایسا مستحکم تعلق ہو جو معاشرہ میں معروف ہواور اس کے تحفظ کی ضمانت بھی دی گئی ہو۔ اس لیے کہ ان سے جو اولاد ہوگی وہ اپنی زندگی، نگہ داشت اور تربیت کے لیے بہت زیادہ توجہ، نگرانی، خبرگیری اور سرپرستی چاہتی ہے۔اس کام میں اگر مرد ساتھ نہ دے تو تنہا عورت اسے صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکتی۔
اسی مقصد کے لیے فطرت نے مرد اورعورت کے درمیان صنفی کشش رکھی ہے۔ اسی غرض سے وہ باہم ملتے ہیں، پھر جب اولاد ہوتی ہے تو دونوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے۔ دونوں مل کر اس کی پرورش کرتے ہیں، اس کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں اور اسے زندگی کی دوڑ دھوپ کے قابل بناتے ہیں۔
نکاح کے بغیر جنسی تعلق سے فطرت کے یہ تقاضے پامال ہوتے ہیں، اس لیے کہ اس سے محض لذّت کوشی اور شہوانی جذبات کی تسکین مقصود ہوتی ہے، نسل انسانی کا تسلسل پیش نظر نہیں ہوتا اور اگر اتفاقاً حمل ٹھہر جائے اور بچہ پیدا ہوجائے تو مرد اس کی سرپرستی قبول کرنے اور اس کی تربیت و کفالت کا بار اٹھانے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
تمدن کی ترقی خاندانی نظام پر منحصر ہے
خاندانی نظام اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر تمدن کی ترقی ممکن نہیں۔ تمدن کا وجود ہی اس وقت ہوتا ہے جب ایک مرد اور عورت مل کر ایک گھر بناتے اور خاندان کی تشکیل کرتے ہیں۔ اولاد ہوتی ہے اور خاندان وسیع ہوتا ہے تو اس کے دائرے میں والدین اور دوسرے رشتے دار آجاتے ہیں۔ بہت سے خاندان وجود میں آتے ہیں اور ان کے درمیان رابطے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس طرح اجتماعی زندگی شروع ہوتی ہے اور تمدن پروان چڑھتا ہے۔ لیکن اگر مردوں اور عورتوں پر خودغرضی اورانفرادیت پسندی غالب رہے اوروہ خود کو محض اپنے شہوانی جذبات کی تسکین اور لطف و لذت کی تحصیل تک محدود رکھیں اور خاندان کی تشکیل سے دل چسپی نہ لیں تو اجتماعی زندگی کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے اور وہ بنیاد ہی باقی نہیں رہتی جس پر تمدن کی عمارت قائم ہوسکے۔
خاندان انسان کو حیوان سے ممتاز کرتا ہے
خاندان انسانی زندگی کاخاصّہ ہے۔ وہ انسانوں کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔ حیوانات میں بھی جنسی جذبات پائے جاتے ہیں، جن کے تحت ان کے نر اور مادہ ملتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچے پیدا ہوتے ہیں اور ان کی نسل چلتی ہے۔ لیکن حیوانات میں جنسی اتصال کے بعد ان کے نر کا مادہ اور اور بچے سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا، یا اگر رہتا ہے تو بہت کم زور سا۔ مادہ اپنی نئی نسل کی پرورش اور حفاظت کرتی ہے، وہ بھی صرف اس حد تک کہ وہ زندہ رہ سکے۔ اس کے بعد وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس انسانوں کے باہمی رشتے میں پائیداری پائی جاتی ہے۔ مرد اور عورت بامقصد طریقے پر جنسی تعلق قائم کرتے ہیں۔ ان سے جو اولاد ہوتی ہے، دونوں مل کر طویل عرصے تک اس کی پرورش و پرداخت کرتے ہیں۔ ان کے درمیان الفت و محبت، ہمدردی آخر تک قائم رہتی ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق کی پاس داری اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائی کا خیال رکھتے ہیں۔
انسانوں میں جولوگ اپنے تعلقات کو صرف جنسی جذبہ کی تسکین تک محدود کرلیتے ہیں اور خاندان کی تشکیل اوراپنی نسل کی پرورش و نگہ داشت سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، وہ حقیقت میں خود کو انسانیت کے بلند مرتبے سے حیوانیت کے پست درجے میں گرالیتے ہیں۔
عورت کا سراسر خسارہ
بچے کی پیدائش اور پرورش و پرداخت میں عورت کا کردار مرد سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ مرد کا کام اصلاً صرف تخم ریزی ہے۔ جنسی تعلق قائم کرکے وہ الگ ہوجاتا ہے، آگے کے تمام مراحل عورت کو تنہا سر انجام دینے پڑتے ہیں۔ وہ نو مہینے بچے کو اپنے پیٹ میں رکھتی اور اپنے خون سے اس کی پرورش کرتی ہے۔ وضع حمل کے بعد دوسال تک مسلسل اسے اپنا دودھ پلاتی ہے۔ بچہ انتہائی کم زور اور لاغر پیدا ہوتا ہے اور بھرپور نگہ داشت کا محتاج ہوتا ہے ، وہ اپنا آرام و سکون تج کر جی جان سے اس کی نشو و نما میں لگی رہتی ہے۔ اسے یہ خدمت طویل عرصے تک انجام دینی پڑتی ہے۔ معاہدۂ نکاح کے نتیجے میں مرد کا عورت اور بچے سے تعلق مسلسل قائم رہتاہے۔ وہ عورت کو ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کرتا ہے، اس کی کفالت کا بار اٹھاتا ہے، اس کی ضروریات پوری کرتا ہے، اس کی سرپرستی اور نگرانی میں عورت سکون واطمینان کے ماحول اورالفت و محبت کی فضا میں اپنے کارہائے مفوّضہ انجام دیتی ہے۔ دونوں مل کر بچے کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تربیت کرتے ہیں۔ اگر نکاح کامضبوط بندھن نہ ہو تو مرد بہ طیب خاطر اس ذمہ داری کو قبول نہیں کرسکتا اور اگر وہ اس سے انکار کردے تو کسی طرح بھی اسے اس کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ اس صورت میں عورت کا سراسر خسارہ ہے۔ مرد تو چند لمحات اس کے ساتھ گزار کر الگ ہوجائے گا اوروہ ساری مشقتیں اور پریشانیاں تنہا جھیلنے کے لیے مجبور ہوگی۔ ماہرینِ سماجیات نے اس بے اعتدالی، ناانصافی اور ظلم کو محسوس کیا ہے اور اس پراپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر پارول شرما نے Live in Relationship کے بارے میں ملکی اور بین الاقوامی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد آخر میں اپنے احساسات ان الفاظ میں بیان کیے ہیں:
’’یہ ایک حسّاس مسئلہ ہے۔ لوگ اب بڑی تعداد میں Live in Relationship کی طرف مائل ہورہے ہیں اور مختلف اسباب سے اس طریقۂ معاشرت کو رواج مل رہا ہے، لیکن نوجوان نسل، خاص طور پر مرد اس ’رشتہ‘ کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور زندگی کے خوش گوار ایام آنے سے قبل ہی اپنے ساتھی سے بے وفائی کر بیٹھتے ہیں اور اس سے لاتعلق ہوجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ مایوسی، غصہ اور ذہنی دباؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور معاملہ بسااوقات خودکشی تک جاپہنچتا ہے‘‘۔ 3؂
بے قید معاشرت کے تلخ نتائج
نکاح ایک مضبوط بندھن ہے، جو مرد، عورت، بچوں اور خاندان کے دیگرافراد کو ایک دوسرے سے مربوط رکھتا ہے۔ان کے درمیان محبت، ایثار، ہم دردی، خیرخواہی اورتعاون کے جذبات پروان چڑھاتا ہے۔ انھیں ایک دوسرے کی مدد کرنے، ان کی ضروریات پوری کرنے اور ان کے کام آنے پر ابھارتا ہے۔ یہ بندھن نہ ہو تو افراد خودغرضی، ذاتی مفاد اور مطلب براری کے لیے ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں اور اپنی ضرورت پوری ہوتے ہی ایک دوسرے سے لاتعلق ہوجاتے ہیں۔ ہر ایک کو صرف اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے اور دوسرے کا استحصال کرتے ہوئے اسے ذرا بھی شرم نہیں آتی۔ اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر وہ بچے ہوتے ہیں جو بے قید جنسی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی صحیح ڈھنگ سے پرورش نہیں ہوپاتی، وہ اچھی تربیت ، عمدہ اخلاق اور صحیح خطوط پر شخصیت کی تعمیر سے محروم رہتے ہیں، گھر کا سکون اور خاندان کی پر امن فضا انھیں میسر نہیں آتی، اس بنا پر وہ سماج میں انتشار، فواحش و منکرات اور بے حیائی پھیلنے کا باعث بنتے ہیں۔ الغرض بے قید معاشرت کے نتیجے میں تمدن کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے، افراد کی زندگیاں تلخ ہوجاتی ہیں اور پورا معاشرہ دائمی اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ آج پوری دنیا میں اور خاص طور پر مغربی معاشروں میں ہم اس کا نمونہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
موہوم فائدے
نظامِ خاندان کی مخالفت کرنے والے اور بغیر نکاح کے جنسی تعلق کو جواز فراہم کرنے والے اس کے جو فائدے بیان کرتے ہیں وہ موہوم اور خیالی ہیں، ان کا حقیقت سے دوٗر کا بھی واسطہ نہیں۔ لیکن بالفرض اگر انھیں تسلیم کرلیا جائے تو تمدن پر اس کے جو دوٗر رس اور بھیانک اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ بڑے عبرت انگیز اور تشویش ناک ہیں۔ اس لیے دانش مندی کا تقاضا ہے کہ اس سے احتراز کیا جائے اور اس رجحان کو ختم کرنے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا۔ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ نکاح سے قبل ایک ساتھ رہنے سے ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے اگر کچھ عرصہ ایک ساتھ گزار کر نکاح کیا جائے گا تو اس رشتے میں پائیداری رہے گی، لیکن یہ بات حقیقت سے بعید ہے۔ National Centre for Health Statistics نے بارہ ہزار پانچ سو اکہتر (571،12) افراد کی اسٹڈی کی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو مرد اور عورت اس ارادہ سے ایک ساتھ رہے کہ آئندہ نکاح کرلیں گے، یا رشتہ طے ہوجانے کے بعد نکاح سے قبل انھوں نے کچھ وقت ایک ساتھ گزارا، ان میں علیٰحدگی کے امکانات اتنے ہی رہے جتنے ان جوڑوں میں تھے جنھوں نے نکاح سے قبل ایک ساتھ زندگی نہیں گزاری تھی۔ 4؂
اسلام کا نقطۂ نظر
اسلام نظامِ خاندان کا حامی ہے، اس لیے وہ اسے مستحکم کرنے کی مختلف تدابیر اختیار کرتا ہے اور اسے کم زور کرنے والے اسباب کو دفع کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ ذیل میں اسلام کے نقطۂ نظر کی کسی قدر وضاحت کی جارہی ہے:
خاندان اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے
اسلام خاندان کو ایک سماجی ضرورت ہی نہیں قرار دیتا، بلکہ اس کا ایک دینی تقاضے کی حیثیت سے ذکر کرتا ہے۔ قرآن میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جو پیغمبر بھیجے ہیں انھوں نے خاندانی زندگی گزاری ہے اور اس کے تقاضے پورے کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَہُمْ أَزْوَاجاً وَذُرِّیَّۃً۔ (الرعد:38)

تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا۔
وہ بیوی بچوں کو انسان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے نیک بندوں کی زبانی یہ دعا کرنے کی تلقین کی گئی ہے:
رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ إِمَاماً۔ (الفرقان:74)

اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔
آباد خاندان، جس میں بیوی، لڑکے لڑکیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں اور دیگر رشتے دار ہوں اور آدمی ان کے درمیان رہ کر خوشی و مسرت، سکون و اطمینان اور کیف و فرحت محسوس کرے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، جس پر اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔ قرآن کہتا ہے:
وَاللّہُ جَعَلَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً وَّجَعَلَ لَکُم مِّنْ أَزْوَاجِکُم بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً وَّرَزَقَکُم مِّنَ الطَّیِّبٰتِ أَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللّہِ ہُمْ یَکْفُرُونَ۔ (النحل:72)

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے تمھاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمھیں بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمھیں کھانے کو دیں۔ پھر کیا یہ لوگ (یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی) باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔
نکاح جنسی تعلق کا واحد جائز ذریعہ
اسلام نے مرد اورعورت کے جائز اور صحت مند تعلق کے لیے نکاح کو لازم قرار دیا ہے۔ وہ نہ تو رہبانیت کی ہمت افزائی کرتا ہے اور نہ جنسی تسکین کی کھلی چھوٹ دیتا ہے۔ اس کے نزدیک نکاح کے ذریعے ایک مضبوط خاندان وجود میں آتا ہے، جس کے تمام افراد میں ذمہ داری کا احساس پایا جاتا ہے اور وہ اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق سے غفلت نہیں برتتے۔ اس لیے وہ نکاح کی ترغیب دیتا ہے اور افراد، خاندان اور معاشرہ کو صریح الفاظ میں اس کی تاکید کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَنکِحُوا الْأَیَامَی مِنکُمْ …۔ (النور:32)

تم میں سے جو لوگ مجرّد ہوں ان کے نکاح کردو…۔
’ایامیٰ‘ جمع ہے ، جس کا واحد ’ایّم‘ ہے۔اس کا اطلاق اس مرد پر ہوتا ہے جو بغیر بیوی کے ہو اور اس عورت پر ہوتا ہے جو بغیر شوہر کے ہو، خواہ ابھی ان کانکاح ہی نہ ہوا ہو، یا نکاح کے بعد عورت بیوہ ہوگئی ہو اور مرد کی بیوی کا انتقال ہوگیا ہو ۔ 5؂
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
من قدر علی ان ینکح ، فلم ینکح ، فلیس منّا۔ 6؂

جو شخص نکاح کرنے پر قادر ہو، پھر بھی نکاح نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔
اسلام جنسی خواہش کی تکمیل کو نکاح کا پابند بناتا ہے اور نکاح سے ہٹ کر کسی طرح کا تعلق رکھنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔ وہ مردوں اور عورتوں دونوں پر سخت پابندی عائد کرتا ہے کہ نکاح کے علاوہ وہ باہم کسی طرح کا جنسی تعلق نہ رکھیں۔ قرآن میں ہے:
مُحْصِنِیْنَ غَیْْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْ أَخْدَانٍ۔ (المائدۃ:5)

اس طرح کہ تم (مرد) ان (عورتوں) سے باقاعدہ نکاح کرو۔ یہ نہیں کہ علانیہ زنا کرو، یاپوشیدہ بدکاری کرو۔
مُحْصَنٰتٍ غَیْْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَلاَ مُتَّخِذٰتِ أَخْدَانٍ۔ (النساء:25)

وہ عورتیں پاک دامن ہوں، نہ کہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں، نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں۔
ان آیات میں وارد تینوں الفاظ قابل غور ہیں۔ حَصُن کے معنیٰ محفوظ ہونے کے ہیں، حِصْن قلعہ کو کہتے ہیں، جو دشمنوں سے حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اِحْصَان پاک دامن رہنے اور بدکاری سے محفوظ ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ گویا نکاح کی حیثیت ایک مضبوط قلعے کی ہوتی ہے، جس کے حصار میں آکر انسان شیطان کے حملوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اسی معنیٰ میں مردوں کے لیے ’محصنین‘ اور عورتوں کے لیے ’مُحْصَنَات‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ سَفَح کے معنیٰ کوئی سیّال چیز (مثلاً خون، پانی، آنسو یا منی وغیرہ) بہانے کے ہیں۔ مُسَافَحَۃ بغیر نکاح کے کسی مرد اور عورت کے ایک ساتھ رہنے کو کہتے ہیں۔ خَدْن (جمع اَخْدَان) کے معنی دوست کے ہیں۔ مُسَافِحِین / مُسَافِحَات ان مردوں اور عورتوں کو کہتے ہیں جو علانیہ بدکاری کا ارتکاب کریں اور مَتَّخِذِی اَخْدَان / مُتَّخِذَاتِ اَخْدَان انھیں کہتے ہیں جو پوشیدہ طریقے پر اس میں مبتلا ہوں۔ ایک فرق یہ بیان کیا گیا ہے کہ مُسَافَحَۃ میں بہت سے افراد سے بدکاری کے معنیٰ پائے جاتے ہیں اور اِتِّخاذ خَدْن (دوست رکھنا) یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت کسی ایک فرد کے ساتھ ناجائز تعلق رکھے۔7؂
امام رازیؒ فرماتے ہیں:
’’بیش تر مفسرین نے کہا ہے: مُسَافِحَۃ اس عورت کو کہتے ہیں جو علانیہ خود کو بدکاری کے لیے پیش کرے کہ جو مرد بھی چاہے آکر اس سے جنسی تعلق قائم کرلے اور مُتَّخِذَۃُ الْخَدْنِ وہ عورت ہے جو کسی ایک ہی فرد سے ناجائز جنسی تعلق استوار رکھے۔ اہل جاہلیت دونوں قسموں کے درمیان فرق کرتے تھے۔ وہ بہت سے مردوں سے بدکاری کرنے والی عورت کو تو زانیہ مانتے تھے، لیکن کسی ایک مرد سے جنسی تعلق رکھنے والی عورت کو زانیہ نہیں مانتے تھے۔ چوں کہ یہ فرق ان کے درمیان معروف اور معتبر تھا اس لیے اللہ سبحانہ نے بدکاری کی ان دونوں قسموں کا الگ الگ تذکرہ کیا اور دونوں کو حرام قرار دیا۔‘‘8؂
زنا کی حرمت
نسلِ انسانی کے تسلسل اور تمدن کی ترقی دونوں کے لیے ضروری ہے کہ مرد اورعورت کا صنفی تعلق قانون کے دائرے میں اور قابل اعتماد رابطے تک محدود ہو۔ اسی لیے اسلام زنا کو اس نظر سے دیکھتا ہے کہ یہ وہ فعل ہے جس کی اگر آزادی دے دی جائے تو ایک طرف نسل انسانی کا تسلسل دشوار ہوجائے اور دوسری طرف تمدّن کی جڑ کٹ جائے۔ اس بنا پر وہ اسے سخت گھناؤنا اور بُرا فعل قرار دیتا ہے اور اس سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَی إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاء سَبِیْلاً۔ (الاسراء:32)

اور زنا کے قریب نہ جاؤ۔ بلاشبہ وہ بڑی بے شرمی کا کام اوربرا راستہ ہے۔
’فاحشۃ‘ اس برائی کو کہتے ہیں جس کی شناعت بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہو۔ 9؂
اس آیت میں کہا گیا ہے کہ ’زنا کے قریب نہ جاؤ‘۔ اس میں بڑی بلاغت پائی جاتی ہے۔ گویا کہا جارہا ہے کہ نہ صرف یہ کہ زنا کا ارتکاب نہ کرو، بلکہ ان تمام دواعی و محرکات سے بھی دور رہو جو زنا تک لے جانے والے ہوں۔10؂
اسلام زنا کو ایک سنگین سماجی جرم قرار دیتا ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سخت سزا تجویز کرتا ہے:
الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ۔ (النور:2)

زانیہ عورت اورزانی مرد، دونوں میں سے ہرایک کو سو کوڑے مارو۔
باہم رضا مندی سے بھی بغیرنکاح کے جنسی تعلق کی اجازت نہیں
مغربی ممالک کے قوانین، جنھیں اب دنیا کے بیش تر ممالک نے تسلیم کرلیا ہے اورعالمی رائے عامہ کا بھی ان پر تقریباً اتفاق ہوگیا ہے،ان کے مطابق اگر بغیر نکاح کے جنسی تعلق فرق مخالف کی رضامندی سے قائم کیا جائے تو وہ قابلِ تعزیر جرم نہیں ہے۔ اسے جو چیز جرم بناتی ہے وہ جبر اور زور زبردستی ہے۔ 2012ء کے اواخر میں ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کا واقعہ پیش آیا۔ اس پر پورے ملک میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے اور سماج کے تمام طبقات نے اس کی شدید مذمت کی، خاص طور سے حقوقِ نسواں کی تنظیموں اور کالجوں اور یونی ورسٹیوں کی اسٹودینٹس یونینوں نے آسمان سر پراٹھالیا۔ اس دوران میں لڑکیوں کے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈس (Play Cards) دیکھے گئے جن پر لکھا ہوا تھا: ’تم میری مرضی کے بغیر مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے‘۔ گویا کسی لڑکے کا کسی لڑکی سے جائز رشتے کے بغیر اس سے جنسی تعلق قائم کرنا جرم نہیں ہے، بلکہ جرم یہ ہے کہ اس کام کے لیے اس کی رضامندی کیوں نہیں حاصل کی گئی اور اس کے ساتھ زور زبردستی کیوں کی گئی۔
اسلام کی نظر میں جتنا سنگین جرم زنا بالجبر ہے اتنا ہی سنگین جرم زنا بالرضا بھی ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جو لوگ بغیر نکاح کے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں وہ قوانینِ فطرت سے کھلواڑ کرتے ہیں اور نظام تمدن میں انتشار و اضطراب کا باعث بنتے ہیں، اس لیے وہ بھی سزا کے مستحق ہیں۔
خاندان کے استحکام کی دیگر تدابیر
اسلام نے خاندان کے استحکام کے لیے اور بھی بہت سی تدابیر اختیار کی ہیں، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ اس نے میاں بیوی، اولاد، والدین اور دیگر رشتہ داروں کے حقوق بیان کیے ہیں اور سب کو ان کی ادائی کا پابند کیا ہے۔اس نے معاشرہ کی عفت و پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے متعدداحتیاطی احکام دیے ہیں اور بدکاری، بے حیائی اور فواحش و منکرات کو رواج دینے والوں کے لیے سخت تعزیری قوانین بیان کیے ہیں۔ اسلام کی ان تعلیمات پر عمل کیا جائے تو خاندان کا ادارہ مستحکم ہوگا اور صالح تمدن کے فروغ کے لیے اپنا کردار بہ خوبی انجام دے سکے گا۔
حواشی و مراجع
1؂ ملاحظہ کیجیے wikipedia.org/wiki/cohabitation
2؂ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے wikipedia.org/wiki/cohabitation_in_India
3؂ ؂ VSRD International Journal of Technical and Non- Technical Research, Vol.IV, Issue VIII, August 2013, Article: Live in Relationship : A Comparative Approach, by Parul Solanki Sharma, Asstt. Prof. School of Law, FIMT, GGSIPU, New Delhi, p.199
4؂J ayson, Sharon, "Report: Cohabiting has little effect on marriage Success”, USA Today, October 14,2010
5؂ زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، دارالکتب العلمیۃ بیروت، 1995ء، 3/227۔ رازی، مفاتیح الغیب، المعروف بالتفسیر الکبیر، دارالکتب العلمیۃ بیروت، 1990ء، 23/183
6؂ دارمی، کتاب النکاح، باب الحثّ علی التزویج
7؂ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، دارالکتب العلمیۃ بیروت، 1988ء، 5/94
8؂ التفسیر الکبیر، تفسیر سورۂ نساء ، آیت:25
9؂ الکشاف: 2/638 (فاحشۃ) قبیحۃ زائدۃ علی حدّ القبح ،شوکانی، فتح القدیر۔ ای قبیحاً مبالغا فی القبح مجاوزاً للحد
10؂ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 10/165

(مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close