سائنس و ٹکنالوجیمعاشرہ اور ثقافت

نیکی کر سوشل میڈیا میں ڈال

کسی کی آبرو کو وسیلئہ شہرت بنانے کے شوق میں یہ اعمال کل وبالِ جان بن سکتےہیں۔

سالک ادؔیب بونتی

ہم اس دور میں جی رہےہیں جوگلوبل نیٹورک کادور کہلاتاہے، جہاں دولت کی ریل پیل ہے، جہاں روز نت نئے طرزکےایجادات شاملِ حیات ہورہےہیں۔

ہرشخص  برانڈیڈ برانڈیڈ کی راگ الاپنےمیں لگاہے۔

یوں کہیے نمائش ہمارےدور کی پہچان بن گئی ہے۔

مسجد کے لیے ایک پنکھے کا بھی انتظام کردیا تو ہم فوراً سوشیل میڈیاپہ اپلوڈکردیتےہیں،کسی فقیرکےلیے اگرسوکانوٹ بھولے سےبھی جیب سےنکل گیا توسوچتےہیں کم ازکم ایک سیلفی تو ہوجائے!

رمضان کے مہینےمیں کسی ضرورتمندکی مدد کردی تو خوبصورت تمہیداور پوری بےشرمی سے فیسبک پہ اپلوڈکردیاـ
کسی سفیرکوکبھی کسی ہوٹل میں عَشائیہ کروادیاتو اسٹیٹس اپڈیٹ کردیا”فلاں مدرسےکےلیے چندے پرآئےہوئے مولانا….. کے ساتھ”
دن بھر روزہ کیسے گیااس کی کچھ خبرنہیں ہاں مغرب کے وقت افطارکےلیےچارلوگوں اور رشتےداروں کواگربُلایاتوتصویرلینانہیں بھولتےـ

راستےمیں راہ گیروں کےلیے لائٹ کابندوبست کردیاتو فوٹوایڈٹ کرکےشئرکردیا۔

ہماری سوچ اتنی گر چکی ہے کہ کسی غریب طالبِ علم کےلیےاگر کتابوں کاانتظام کردیاتو اسےبھی نہیں بخشااور انسٹگرام کی سولی پر چڑھادی ـ

‌ذراسوچیے جب اس طالبِ علم کےہاتھ میں کتاب کاپیاں تھماکرتصویرلےگئی توکیا طالبِ علم نےکچھ نہیں سمجھا….!

‌یہ ارتقائےشعورکادور ہے… ہمارےگھرکےبچےجب سمجھتےہیں توکسی غریب کابچہ کیوں نہیں سمجھ سکتا…. اس کےدل پہ کیاگزری ہوگی… جب بھی پڑھنےکےلیے کتاب اور لکھنےکےلیے کاپی کھولےگا تو ہمارے تئیں اس کےدل میں کونساجذبہ جاگےگا…؟

اچھاتھاکہ  اس کی مددہی نہ کرتے اور اس کےضمیرکوٹھیس نہ پہنچتی ـ

رمضان کےآخری عشرےمیں زکات کی بوری تھماکر تصویر کھینچتےوقت کوئی بیوہ اپنے پھٹےدوپٹّے سے چہرہ کیوں

ڈھانپناچاہتی ہے…!

کیاغریب اور بیوہ ہوناجرم ہے….؟

اس بیوہ کابھی مقام وہی ہے جوآپ کاہے، اس کی عزت بھی اتنی اہم اور قیمتی ہے جتنی ہماری اپنی عورتوں کی… اسلام میں سب برابرہیں اس کاہمیں ہمیشہ احساس رہناچاہیے …دولت نے اس قدراندھاکردیاہےکہ ہم غریبوں کی فہرست  بناکرسرِ عام پکارتے پھرتے ہیں کہ ہم نے ان ان میں اتنی زکات تقسیم کی…نمائش نمائش۔

حدتویہ ہے کہ غلافِ کعبہ تھام کربھی ہم سیلفی لینانہیں بھولتے۔

یہ نمائش نیکیوں کوضائع کردےگی، کسی کی آبرو کو وسیلئہ شہرت بنانے کے شوق میں یہ اعمال کل وبالِ جان بن سکتےہیں۔
اجی نیکی یوں کرو کہ دایاں دے تو بائیں کوخبر نہ ہو۔ ایسا نہیں تو ایسی نیکی کاشمارنیکی میں ہوگابھی یانہیں خداہی جانے۔ کس کو کتنی تکلیف پہنچی اس سے کیا لینادینا ہمیں لائکس چاہیئیں، کمنٹس کی بھرمار چاہیے۔  دنیاکی واہ واہی مطلوب ہے بھلے سے کسی کی عزت کامذاق کیوں نہ ہوجائےـ

ہم نےنیکی کا محاورہ بدل دیاہے،”نیکی کردریامیں ڈال” یہ گزرےدنوں کی بات ہے…احترامِ ذات اور احترامِ نفس کی چادر ہم نے تارتارکردی ہے۔

کیونکہ ہم اس پاکیزہ ماحول سے بہت دور ہوچکےہیں جہاں ہرشخص مساوی طورپر احترام کی نظرسےدیکھاجاتاتھا… ہم نیکیاں کمانےچاہتےہیں مگرنمائش کےساتھ ۔

سچ تویہی ہےکہ ہم زبانِ حال سےکہتےہیں: ” نیکی کرسوشیل میڈیامیں ڈال”

الله ہمیں حسنِ توفیق سے نوازے۔ آمین

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close