معاشرہ اور ثقافت

ویلنٹائن ڈے: یوم عاشقاں کی حقیقت

ریاض الرحمان ندوی

 آج فروری کی14  تاریخ ہے ، یہ دن عالمی سطح پر ’یوم عاشقان ‘یوم محبت، یوم الحب، کے طورپر منایاجاتا ہے۔ جسے ویلنٹائن ڈے بھی کہا جاتا ہے ۔ اِس دن نوجوان لڑکے اورلڑکیاں گلابی پھول،عشقیہ کارڈ،  چاکلیٹ اورمبارکبادی کے کلمات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرتے ہیں۔  انسانیت سے گری ہوئی حرکتیں کی جاتی ہیں۔ عزت و آبرو کو پامال کیا جاتا ہے  ،جنسی تعلقات کا ننگا ناچ رچایا جاتا ہے.

عالمی سطح پر  منایا جانے والا یہ تہوار ہر سال ملک عزیز میں آگ کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ اس دن جو بھی جس کے ساتھ عشق و محبت کا دعوے دار ہو اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔ ایک عقل مند اور باشعور انسان اس تہوار کو منانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کوئی بھی باغیرت اور باحمیت شخص کبھی یہ گوارا نہیں کرے گا کہ کوئی راہ چلتا شخص اس کی بہن بیٹی سے اظہار عشق کرے، یا کوئی بھی باحیا، پاکدامن لڑکی کبھی یہ پسند نہیں کرے گی کہ کوئی بھی راہ چلتا نوجوان اسے پھول پیش کرے،۔ اور محبت کا دعویٰ کرے۔

اس دن کے حوالے سے مختلف روایات بیان کی جاتی جو حقیقت سے دور معلوم ہوتی ہیں ، البتہ ایک خیالی داستان جو اس حوالے سے بہت مشہور ہو چکی ہے، کہ تیسری صدی عیسوی میں روم میں ’’ ویلنٹائن ‘‘ نامی ایک پادری کو ایک راہبہ سے ’’عشق‘‘ ہو گیا تھا۔ عیسائیت میں راہب اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا، اس نے انتہاء عشق کی بنا پر ایک کھیل رچا اور اپنی معشوقہ سے کہا: ’’مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ اگر آج کوئی راہب اور راہبہ (بغیر نکاح کے) تعلقات قائم کرلیں تو اس پر کوئی حد نہیں لگے گی، غرض آتش عشق میں آکر عفت و پاکدامنی کی چادر کو تار تار کردیا ، پھر اس پادری کو سولی پر چڑھایا گیا۔ اسی کا نام ’’ویلنٹائن‘‘ بتایا جاتا ہے جسے بعد میں ہجوم عاشقاں کی طرف سے ’’شہیدِ محبت‘‘ کا لقب دیا گیا۔ اسی عاشق راہب ویلنٹائن کی یاد میں ہر سال 14 فروری کو ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔

یہ وہ داستان عشق ہے جس کی بنیاد پر ایک جنونی گروہ مسلم معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دے رہا ہے۔ باعثِ افسوس کہ ایک مخصوص گروہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کو یوم عاشقاں یومِ تجدید محبت‘‘ کے طور پر پیش کرتا ہے، اور باوجود باعث ننگ و عار سمجھنے کے  باعث افتخار سمجھتا ہے۔ اور میڈیا اس مرض کو ایک ’’مقدس شی ‘‘ کے طور پر پیش کرتا ہے، غیر مسلم این۔ جی۔ اوز کے تحت چلنے والے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں باقاعدہ طور پر اس بے ہودہ تہوار کو منایا جاتا ہے۔

فحاشی و عریانیت کے اس تہوار کو ’’یومِ محبت‘‘ قرار دیے جانے کے بجائے ’’یومِ اوباشی و عیاشی ‘‘ قرار دیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا، اس لیے کہ یہ تہوار مرد اور عورت کے درمیان ناجائز تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔  اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا،اسلام میں میاں بیوی کے درمیان محبت کے اظہار پر کوئی بندش نہیں ہے لیکن اس کے لیے ایک ایسے دن کا انتخاب کرنا جو مغرب کی جنس پرست تہذیب کا علامتی اظہار بن چکا ہے،سراسر غلط ہے۔

بے حیائی پر مبنی یہ تہوار جس تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے وہ بہت تشویشناک ہے۔ اور اس تہوار کو منانے والے اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ ہمارا تعلق ’’محمد رسول اللہﷺ ‘‘ سے نہیں بلکہ جنسی بے راہ روی کے علمبردار مسیحی راہب ’’ویلنٹائن‘‘ سے ہے۔

اگر مغرب سے گہری وابستگی اور قربت کے طوفان کو نہ روکا گیا تو مغربی فضولیات ہماری معاشرتی اقدار کو بہا لے جائیں گی۔ اور مغربی تہذیب ہماری نسل کے کردار کو ملیامیٹ کر دے گی۔

یاد رکھیں ! اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور اس سے صرفِ نظر کیا گیا تو آج مغرب جس صورتِ حال سے دو چار ہے وطنِ عزیز میں اس کے پیدا ہونے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ یورپ حیا سے عاری ان تہواروں کے نتائج دیکھ چکا ہے۔ اگر ان حیا سوز تہواروں کے آگے بند نہ باندھا گیا تو ہم بھی اس عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ ۔ ابھی وقت ہے کہ آگے بڑھ کر چند جھاڑیوں کو لگی آگ کو بجھا دیا جائے، ورنہ یہ آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ریاض الرحمن

جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور

متعلقہ

Close