معاشرہ اور ثقافت

ویلن ٹائن ڈے، میڈیا اور ہم

ام ہشام نوریہ

ہر سال ۱۴؍ فروری ویلن ٹائن ڈے (یوم عاشقاں )کے دن مغرب زدہ، ہپ ہاپ کلچر سے شدید ترین متاثر لوگ سرخ گلاب لیے، شکاری کتوں کی مانند، اپنے شکار کے اردگرد جس طرح آوارہ گردی کرتے نظر آتے ہیں ان کے بالمقابل دوسرا طبقہ بھی اتنی ہی شدت سے دوسرے محاذ پر ان کی مخالفت میں ڈٹانظر آتا ہے اور پھر نصیحتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ناصحین زبانی طور پر اپنی اپنی نصیحتوں کا انبار لگاکر یوں سر جھٹک لیتے ہیں مانو مکتب کے بچے نے حروف تہجی رٹ کر سنادی ہو اور اب اس بچے میں مزید نہ کچھ سیکھنے کی خواہش ہے نہ مزید وہ کسی کوکچھ سنانا چاہتے ہیں ۔ یہی حال ہمارا بھی ہے، کسی بھی معاشرتی، قومی برائی یا فتنے کے سدھار کے متعلق اچانک ہی ہم بہت پرجوش ہوجاتے ہیں پھر اپنے ان فرسودہ طریقوں سے احتجاج اور مذمت کرتے ہیں جوآج کی ہپ ہاپ جنریشن کے لیے نقار خانے میں طوطی کی صدا کی مانند ہے، ہماری ساری نصیحتیں ان کے سر سے گزر جاتی ہیں، گزرتے ہر سال میں برائیوں کی تعداد مزید بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس لیے کہ ایسی بیماریوں کے اسباب و علل کو ہم بالکل نہیں سمجھتے، اور اصلاح کے تعلق سے بھی ہمارا طریقہ کار کچھ خاص اثر انداز نہیں ہوتا۔ مصلحین کو یہ اچھے سے سمجھنا ہوگا کہ صرف دلائل سے لوگوں کے دل ودماغ کو قائل نہیں کیا جاسکتا، اصلاحی وتحریکی سطح پر معاشرتی رویہ انتہائی مایوس کن ہے، زبانی جمع خرچیوں اور دلائل کا انبار لگا ہوا ہے جبکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ رویوں کے سامنے دلائل کی حیثیت صفر ہوتی ہے۔

جو لوگ ہماری نسل، ہماری سوچ، ہماری تہذیب اور ہمارے رویوں پر پوری طرح غالب ہیں ایک بار ان کے رویوں کا بھی مشاہدہ کرلیں کہ دفاعی لوگوں کے دلائل سے کہیں زیادہ مضبوط منطبق اور مسلسل ان کے رویے ہیں ، تو اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ علمی، عملی سماجی، اقتداری تمام رویوں پر ناقدانہ نظر بنائے رکھنی ہوگی۔ آج اصلاح امت کے نام سے ہماری کمر دوہری ہوئی جارہی ہے اور ہم بری طرح تھکے چلے جارہے ہیں لیکن ایک اعدائے اسلام ہیں کہ وہ ہم میں تخریب کاری کے لیے فحاشی اور بے حیائی کے فروغ پر اپنی جان، مال، پیسہ سب کچھ لٹانے کو بس ایک ایک پیر پر کھڑے ہیں ۔

 یوم محبت کے نام سے موسوم اس دن ویلنٹائن ڈے Velentine day  کو اگر فحاشی، عریانیت، کیف وسرور کی رنگین پناہ گاہوں کو مختص کرلیا گیاہو، بچوں سے لے کرنوجوانوں اور بوڑھوں تک کو اگراپنے ویلنٹائن کی تلاش ہو تواس اجتماعی تلاش کو ہم کیاکہیں گے…..اخلاقی اور ذہنی دیوالیہ پن یا پھر؟

 وہ جو میڈیا ہمیں سمجھانا چاہتاہے وہی میڈیا جس کی رسائی ہماری جیب سے لے کر دل ودماغ اور ہماری خوشی اور غم تک پہنچی ہوئی ہے۔ لوگوں کے جذبات کا خریدار ہے۔ یہ دوغلا اور بے حس میڈیا…دیکھیے تو سہی!!!  ’’ وہ جب چاہتا ہے ہم ایک عدد پانچ روپے کی چاکلیٹ کھاکر ہنس لیتے ہیں جب وہ چاہتا ہے تو ہمیں اپنی اچھی خاصی حالیہ زندگی آوٹ ڈیٹڈ لگنے لگتی ہے، کبھی دو روپے کا گٹکا یا پان سپاری کھانے سے ایک عام سابندہ ریاست کا راجا بن جاتا ہے، داغ اچھے بن جاتے ہیں اور دس روپے کی بسلیری بوتل پینے سے انسان غیر ارادی طور پر سچ بولنے لگتا ہے اور جی بھر کر زندگی جینے لگتا ہے‘‘۔ یہ اشتہاری کمپنیوں کے چندمفادپرستانہ نمونے ہیں جن کے ذریعہ وہ معاشرے میں تعفن پھیلارہے ہیں ۔ انہیں اشتہاری کمپنیوں اور میڈیا کے بچھائے ہوئے جال میں ہرخاص وعام پھنستے جارہے ہیں اوربے حیائی وعریانیت بآسانی دروازے تک پہنچ رہی ہے۔

 یہ تو میڈیا کی طلسماتی ہوشربائی ہے کہ وہ جسے چاہے سچا بناکر دیوتا کردے اور جسے چاہے ذلت کی مار‘مار کر زمانے میں رسوا کردے۔ نکاح جیسے بابرکت رشتے اور زوجین کی محبت کو محض ہوس رانی کا ذریعہ ثابت کرنے کی آدھی ادھوری ناکام اور قبیح کوشش بھی اسی میڈیا کی دین ہے۔ شوہر کی حکمرانی اور اس کے حقوق کی ادائیگی کو ’’میریٹل ریپ ‘‘ کا نام دے کر، آزادی فرد کا خوبصورت غلاف چڑھاکر عورتوں کے اندر بغاوت، سرکشی پیدا کرنے کی سعی مذمومہ کا سہرا بھی میڈیا کے سر ہی جاتا ہے۔

 اس ماڈرن دنیا کا معاملہ بھی عجیب وغریب ہے نا!!!   ’’شوہر کے حقوق کی ادائیگی ایک قسم کی سزااور ظلم، من چاہے ساتھی کے ساتھ اپنی مرضی کا تعلق انفرادی آزادی کا پہلا فطری اور بنیادی حق قرار پاتا ہے ‘‘۔ تاریخ عمرانی نے اس دور سے زیادہ ارزاں دور شاید ہی دیکھا ہو جب تحفوں ، لال گلابوں اور چاکلیٹس کے بدلے نسوانیت نے اپنی بے ردائی کے لیے اپنے ہاتھوں اپنی سیج سجائی ہو۔ ’’یہی تو زندگی ہے، یہی اصل محبت ہے، یہی زندگی کی اصل خوبصورتی اور رونق ہے ‘‘

   ہمارا میڈیا ان خوبصورت الفاظ کی شکل میں یہ سب کچھ نوجوان نسل کے سامنے پروس کر ویلنٹائن ڈے پربڑی عیاری  اور خاموشی کے ساتھ اجتماعی طور پر عفت وعصمت کی قبر کھود رہا ہے۔ ان سبھی کارگزاریوں میں متحدہ طور پر کنزیومر ازم اور میڈیا کی اپنی ملی جلی سرکار ہے جن کاواحد مقصد زیادہ سے زیادہ منافع ہے وہ بھی کسی بھی قیمت پر!!

  سوال یہ ہے کہ ان کی یہ بالادستی ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ انسانی ذہن پر نقالی اور عیاشی کی فکری یلغار میں جو کچھ پیچھے چھوٹ رہا ہے اسے وقت رہتے سنبھال لیاجائے خواہ وہ ہمارا انفرادی تشخص ہو یا ملی، عصمت وعفت کا جوہر ہو یا اخلاقی اقدار۔ جو چیزیں اس خسارہ کی نذر ہونے سے بچ گئی ہیں دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر انہیں سنبھال لینے کا وقت اور موقع بڑی تیزی کے ساتھ پھسلتا جارہا ہے اس لیے یہاں یہ عظیم ذمہ داری والدین، سرپرست، علاقائی سربراہوں اور ارباب حل وعقد پر آتی ہے کہ وہ آپسی رنجشیں ، مسلکی منافرت اور باہمی چپقلش کو فراموش کراپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کریں ۔ فعال اور بیدار بنیں ، اپنے آس پاس کے لوگوں کو انسان نما بھیڑیوں کی زد سے بچائیں ۔ جتنی شدت سے میڈیا عریانیت کو فروغ دینے پر تلا ہوا ہے اتنی ہی شدت سے نئی پالیسیوں اور پہلے سے بہترین اور جدید ترین حکمتوں کے ساتھ مسلمانوں میں علمی عملی اور یکجہتی کی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہمارے لوگ اب رٹی رٹائی تقریروں سے بور ہوچکے ہیں ایک ہی قسم کے ناصحانہ انداز ان پر بے اثر ہیں ۔ ضرورت ہے اب کچھ نیا کرنے کی اور اس منہ زور سیلاب پر بند باندھنے کی، ورنہ سلیمہ اور انکت نامی معاشقہ اور ان پر ہونے والی آنر کلنگ سے شاید ہی کوئی مسلمان گھرانہ بچ پائے گا اور ایسے حادثات کے بعد بے قصور لوگوں کی جو شامت اعمال آنی ہے اس کا تو خوب اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

جاتے جاتے میڈیا کی کرم فرمائیوں اور ہماری فرمانبرداریوں پر یہ اشعار یاد آگئے ملاحظہ فرمائیں :

اے ساقی گل فام برا ہو تیرا تو نے

با توں میں لبھا کر ہمیں وہ جام پلایا ہے

یہ حا ل ہے سو سال غلامی میں بسر کی

اور ہوش ہمیں اب بھی مکمل نہیں آیا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close