معاشرہ اور ثقافت

پانی پلانا: عظیم خدمت اور باعث اجر و ثواب 

 مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری

موسم ِ گرما کی آمد ہوچکی ہے ،مارچ کے مہینہ کی شروعات کے ساتھ ہی گرمی اور تلخی کے دور کا آغاز ہوجاتا ہے ،کہیں زیادہ اور کہیں کم لیکن دھوپ کی شدت اور تمازت لوگوں کو بے قرار کردیتی ہے۔بندگان ِ خدا کی مختلف خدمت انجام دینے والی تنظیمیں اور بہت سے افراداپنی خدمات میں اضافہ کرتے ہوئے موسم ِ گرما میں پانی پلانے کی خدمت کا بھی آغاز کردیتے ہیں ۔تاکہ اس کے ذریعہ دھوپ اور گرمی میں بے حال ہوجانے والے اور پیاس کی شدت سے بے چین ہوجانے والے افراد کو بروقت پانی پلاکر راحت پہنچائی جاسکے۔پانی پلانا ایک بہت بڑی خدمت اور حصول ِثواب کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

عام طور پر لوگ اس کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دیتے یا اس خدمت کو کوئی بڑی اور عظیم خدمت نہیں سمجھتے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پیاسوں کو پانی پلانا بھی بڑا کارِ ثواب ہے ۔اور اس پر بھی اللہ تعالی نے بہت سے اجر وثواب کے وعدے فرمائے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے پانی پلانے کی اہمیت اور ضرورت کو اپنے مختلف ارشادات میں بیان کیا ہے ،پانی پلانے کی ترغیب دی اور انسانوں کو راحت پہنچانے کی تلقین فرمائی ہے۔دھوپ سے انسان جب بے قابو ہوجائے اور حلق پانی سے تڑپنے لگے اس وقت چند بوند قطرے کتنی راحت پہنچاتے ہیں اس کا اندازہ وہی انسان کرسکتا ہے جو اس کیفیت سے دوچار ہوا ہو ،اور پھر اس کی نگاہوں میں پانی پلانے والے کی جو قدر ومنزلت ہوتی ہے کوئی اس کا اندازہ نہیں کرسکتا۔کیوں کہ پانی ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کا گزارہ ممکن نہیں ،اگر کسی وقت آدمی کو کھانانہ ملے وہ برداشت کرلے گا ،بھوکا رہنا پڑے وہ رہ جائے گا لیکن پانی نہ ملے توماہی ِ بے آب کی طرح بے چین ہوجائے گا اور کسی نہ کسی طرح پانی کے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا ،پانی دراصل انسانی حیات کے لئے ناگزیر نعمت ہے۔تو آئیے بہت اختصار کے ساتھ پانی پلانے کی اہمیت اور اس کے اجر و ثواب کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔

پانی پلانے کی اہمیت:

 پانی چوں کہ انسان کے لئے ایک ضرور ت ہے اس کی حاجت خود اس کو بھی پیش آئے گی اور دوسرے انسان بھی اس کی ضرورت کو محسوس کریں گے ،اسی لئے اللہ تعالی نے پانی پلانے کو بڑے اجر وثواب کاکام قرار دیا ۔زمانہ جاہلیت میں بھی پانی پلانے کو نیک اور اچھا کام تصور کیا جاتا تھا اور پانی پلانے والوں کو اس دور میں بھی عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ،اور لوگ چاہتے کہ حجاج کو پانی پلانے کی سعادت ان کے حصے میں آئے ۔حضرت موسی ؑ کے واقعہ کو بھی قرآن کریم میں ذکر کیا گیا کہ جب آپ مدین آئے اور ایک مقام پر آرام کیا اسی سے قریب ایک کنویں پر لڑکیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے جانور وں کو پلانے نہیں پلا پارہی ہیں تو آپ آگے بڑھے ان کے جانوروں کے لئے پانی کا انتظام فرمایا:چناں چہ فرمایا:فسقی لھما ثم تولی الی الظل فقال رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر ۔( القصص:24)’’اس پر موسی نے ان کی خاطر ان کے جانوروں کو پانی پلادیا ،پھر مڑکر ایک سائے کی جگہ گئے ،اور کہنے لگے:میرے پروردگار !جو کوئی بہتری تو مجھ پر نازل کردے میں اس کا محتاج ہوں ۔‘‘

پانی پلانے کی فضیلت:

دنیا میں کسی پیاسے انسان کو پانی پلانا کتنا عظیم اجر کا باعث ہوگا ملاحظہ فرمائیے ،نبی کریمﷺ نے فرمایا:ایما مؤمن اطعم مؤمناعلی جوع اطعمہ اللہ یوم القیامۃمن ثمار الجنۃ وایما مؤمن سقی مؤمنا علی ظماء سقاہ اللہ یوم القیامۃ من الرحیق المختوم وایما مؤمن کسا مؤمنا علی عری کساہ اللہ من خضرالجنۃ ۔(ابوداؤد:1434)کہ جو کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے اللہ تعالی اس کو جنت کے پھل اور میوے کھلائے گا ،اور جو مسلمان کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی ( یا کوئی مشروب) پلائے اللہ تعالی ا سکو نہایت نفیس( جنت کی ) شراب ِ طہور پلائے گاجس پر غیبی مہر لگی ہوگی اورجو مسلمان کسی مسلمان کو عریانی کی حالت میں کپڑے پہنائے اللہ تعالی اس کو جنت کے سبزجوڑے عطا فرمائے گا ،۔ایک طویل حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی چند باتوں کے بارے میں بندے سے سوال فرمائے گا جن میں ایک یہ ہوگا کہ:یاابن ادم !استسقیتک فلم تسقنی ،قال یارب !کیف اسقیک وانت رب العالمین؟قال !استسقاک عبدی فلان ،فلم تسقہ ،اَمَا!انک لوسقیتہ وجدت ذلک عندی۔( مسلم :4667) اے ابن آدم !میں نے تجھے پینے کے لئے پانی مانگا تھا ،تونے مجھے پلایا نہیں ،بندہ عرض کرے گا !میں تجھے پانی کیسے پلاتا تو تو رب العالمین ہے ،تجھے پینے سے کیا واسطہ ؟اللہ تعالی فرمائے گا!میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی پینے کے لئے مانگا تھا تونے اس کو نہیں پلایا ،سن !اگر تو اس کو پانی پلاتا تو اس کو میرے پاس پالیتا۔اس حدیث میں پانی پلانے کو کس درجہ اہم ترین عمل بتایا گیا اور یہاں تک اللہ تعالی نے فرمایا کہ کسی پیاسے بندے کو پانی پلانا یہ اللہ تعالی کے قرب خاص حاصل کرنے کا سبب ہوگا۔

 حضرت حسن ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادۃ  ؓ کی والدہ فوت ہوگئی تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہے ،کیامیں ان کی طرف سے کوئی صدقہ کروں ،آپﷺ نے فرمایا:نعم قال : فای الصدقۃ افضل ؟قال سقی الماء فتلک سقایۃ سعد بالمدینۃ ۔(سنن نسائی:3625)ہاں صدقہ کرو،انھوں نے پھر پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟آپ ﷺ نے فرمایاـ:پانی پلانا!پس مدینہ میں یہ سعد کی سبیل ہے۔ایک حدیث میں نبی کریمﷺ نے پانی کے ضرورت سے زائد موجود ہونے کے باوجود کسی پیاسے کو پانی نہ پلانے پر سخت وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا:ثلاثۃ لاینظر الیھم یوم القیامۃ ولایزکیھم ولھم عذاب الیم رجل کان لہ فضل ماء بالطریق فمنعہ من ابن سبیل ۔(بخاری:6699)کہ تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالی قیامت کے دن نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔( ان میں سے ) ایک وہ آدمی ہے جوراستہ پر رہتا ہو ،اس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی موجود ہو ،اور وہ مسافر کو اس کے استعمال سے روک دے۔

پانی پلانے مغفرت کا ذریعہ بن گیا:

 انسان کو پانی پلانا تو بہت اجر وثواب کا باعث ہے ہی ،اسی طرح جانوروں کو بھی پانی پلانا اتنا بڑاکارِ ثواب ہے کہ یہ عمل انسان کے لئے نجات وبخشش کا ذریعہ و سبب بن جاتا ہے ،چناں چہ حضرت ابوہریرۃ  ؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس اثناء میں کہ ایک آدمی راستہ سے جارہا تھا ،اسے سخت پیاس لگی ،چلتے چلتے اسے ایک کنواں ملا،وہ اس کے اندر اترا،اور پانی پی کر باہر نکل آیا ،کنویں کے اندرسے نکل اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہے جس کی زبان باہر نکلی ہوئی ہے اور پیاس کی شدت سے وہ کیچڑکھارہا ہے ،اس آدمی نے دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی پیاس کی ایسی تکلیف ہے جیسے کہ مجھے تھی ،اور وہ اس کتے پر رحم کھاکرپھر اس کنویں میں اترا،اور اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھرکر اس نے اس کو اپنے منہ سے تھا ما،اور کنویں سے نکل آیا،اور اس کتے کو وہ پانی اس نے پلادیا،اللہ تعالی نے اس کی اس رحم دلی اور اس محنت کی قدر فرمائی اور اسی عمل پر اس کی بخشش کا فیصلہ فرمادیا۔بعض صحابہ ؓ نے حضور ﷺ سے یہ واقعہ سن کر دریافت کیا کہ :یارسول اللہ!کیا جانوروں کی تکلیف دورکرنے میں ہمارے لئے اجر وثواب ہے؟آپﷺ نے فرمایا: ہاں !ہر زندہ اور ترجگر رکھنے والے جانورکی تکلیف دورکرنے پراجر ہے۔(بخاری :2201)مولانا منظور نعمانی  ؒ حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں :بعض اوقات ایک معمولی عمل دل کی خاص کیفیت یا خاص حالات کی وجہ سے اللہ تعالی کے یہاں بڑی قبولیت حاصل کرلیتا ہے اور اس کا کرنے والا اسی پر بخش دیا جاتا ہے ،اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کی نوعیت بھی یہی ہے۔( معارف الحدیث :2/174)

مسلمانوں کے لئے پانی کی ضرورت کو پوراکرنا:

 جس وقت رسول اللہ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے وہاں میٹھے پانی کی بڑی قلت تھی ،بئر رومہ کے علاوہ کوئی کنواں نہ تھا جس سے میٹھا پانی حاصل کیا جاتا ،اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جوکوئی بئر رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لئے عام کردے اس کو جنت میں اس سے بہتر ملے گا۔جب یہ بات حضرت عثمان ؓ کو پہنچی تو انہوں ۳۵ ہزار درہم میں اس کو خرید لیا ،پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا مجھے بھی وہی ملے گا جو آپ نے اس شخص کے لئے فرمایا تھا ؟آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں ، عثمانؓ نے عرض کیا: میں نے اس کو مسلمانوں کے لئے عام کردیا۔( حضرت عثمان:شخصیت اور کارنامے:73)

نبی کریمﷺ ٹھنڈا پانی پسندفرماتے:

 صاف،میٹھااور ٹھنڈاپانی پلانے سے پیاسے انسان کو بہت راحت ملتی ہے ،اور یہی پانی تلخی اور پیاس میں بہت عمدہ بھی لگتا ہے ۔اس لئے پانی پلانے میں اس کا بھی اہتمام کرنا چاہیے کہ جس سے پینے والوں کو راحت بھی ملے اور سخت گرمی میں سکون بھی حاصل ہو۔نبی کریمﷺ کوٹھنڈا پانی پسند تھا،حضرت عائشہ ؓ فرماتے ہیں :کان احب الشراب النبی ﷺ الحلوالبارد۔( ترمذی:1813) کہ آپ ﷺ کو پینے میں ٹھنڈا اورمیٹھا پانی محبوب تھا۔اسی لئے آپ ﷺ کے لئے اس کا اہتمام بھی کیاجاتا تھا۔چناں چہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں :یستعذب لہ الماء من بیوت السقیا۔( ابوداؤد:3248) کہ آپﷺ کے لئے بیوت ِ سقیا سے میٹھا پانی لایاجاتا تھا۔

آخری بات:

 اسلام نے بہت سے اعمال کو انسان کے لئے سعادت ونجات ،بخشش ومعافی کا ذریعہ بنایا ہے ،چناں چہ ان ہی میں سے ایک ’’پانی پلانا‘‘بھی ہے ،جس کے چند فضائل ذکر کئے گئے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ پانی پلانا جہاں ایک انسانی خدمت ہے وہیں انسان کے لئے اجرو ثواب کے حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے ،ناجانے کتنے پیاسے انسان اپنی تشنگی کو بجھاکر اور پیاس کو مٹاکر اس خدمت کرنے والے کو دعائیں دیتے ہیں اور وہ جن سے متعلق ہوکر اس خدمت کو انجام دیتا ہے اس کی بھلائی کے لئے رب سے التجائیں کرتے ہیں ۔انسانوں کی خدمت کرکے ہی انسان قرب ِ خدا وندی کو حاصل کرسکتا ہے اسی لئے ایک مومن کو بالخصوص ایسے موقعوں کو نہیں چھوڑنا چاہیے جن کے ذریعہ وہ اللہ کا قرب حاصل کرسکے ،اگر وہ براہ ِ راست پیاسوں کو پلاسکتا ہے تو بہت اچھا ہے لیکن اگر اس سے یہ ممکن نہ ہوتو وہ ان لوگوں کا ساتھ دے ،ان کی مددکرے جو اس کارِ خیر کو انجام دیتے ہیں ،اپنے مال کو اس خدمت کے لئے پیش کرے تو اللہ تعالی اس کے حصے میں وہ تمام اجر وثواب عطافرمائیں گے۔چوں کہ بہت سے کام انسان اپنی خواہش کے باوجود بھی نہیں کرسکتا اپنی دیگر ذمہ داریوں کی وجہ سے ، اس لئے نیکیوں کے انجام دینے میں کم از کم اپنے مال کے ذریعہ اسے اس میں شریک ہونا چاہیے اور کسی بھی کارِ خیر کو انجام دینے میں اس کا حصہ بننا چاہیے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close