معاشرہ اور ثقافت

پڑوسیوں کے حقوق اور اسلامی تعلیمات

خواجہ فرقان علی قاسمی
اسلام ایک کامل اور مکمل مذہب ہے،جس میں فطری زندگی میں پیش آنے والے تمام امور سے متعلق احکامات موجود ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں ایک چوتھائی حصہ عقائد اور عبادات کا ہے توباقی تین چوتھائی اسلامی تعلیمات، معاملات، اخلاق اور معاشرت سے متعلق ہیں، حسن معاشرت کی تعلیم کا ایک اہم حصہ وہ ہے جو پڑوسیوں کے ساتھ سلوک و برتاؤ کے متعلق ہے۔ یہ ایک معاشرتی رشتہ ہے ایک شخص کا دوسرے شخص سے، اور مذہب اسلام نے اس رشتہ کو بڑی اہمیت دی اور اس سے متعلق ایسے احکامات امت کے سپرد کئے ہیں کہ دنیا کے سارے مذاہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی، رحمۃ للعالمین سیدنا و سندنا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں ان کے حقوق کی ادائیگی کی اتنی تعلیم دی کہ پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی پر ایمان کے کامل ہونے اور عدم ادائیگی پر ایمان کے نا مکمل ہونے کو بتلایا ہے۔
پڑوسی کے حقوق سے متعلق قرآنی پیغام:
قرآن مجید میں ہے کہ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبیٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ۔(سورۃ النساء : 36) اور اچھا سلوک کرو قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی،اور ساتھ بیٹھے (ساتھ کھڑے)ہوئے شخص کے ساتھ۔ اس آیت میں پڑوسیوں کے تین درجے بیان کئے گئے ہیں، پہلے درجے کو جار ذی القربی یعنی قریب والا پڑوسی،اور دوسرے کو الجارالجنب کہا گیاہے جس کا ترجمہ دور والے پڑوسی سے کیا گیا ہے۔ پہلے سے وہ پڑوسی ہے جس کا گھراپنے گھر سے بلکل ملا ہوا ہو، اور دوسرے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اتنا ملا ہوا نہ ہو،بعض حضرات نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جو رشتہ دار بھی ہو، اور دوسرے سے مراد وہ جو صرف پڑوسی ہو،نیز بعض مفسرین نے پہلے کا مطلب مسلمان پڑوسی اور دوسرے کامطلب غیر مسلم پڑوسی بتایا ہے، قرآن کریم کے الفاظ میں ان سب معانی کی گنجائش ہے،خلاصہ یہ کہ پڑوسی چاہے رشتہ دار ہویا اجنبی، مسلمان ہو یا غیر مسلم ،اس کا گھر بلکل ملا ہوا ہو یا ایک دو گھر چھوڑ کر ہو، ان سب کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ صاحب بالجنب یہ پڑوسی کی تیسری قسم ہے ، اس سے مراد وہ شخص ہے جو عارضی طور پرتھوڑی دیر کے لئے ساتھی بن گیا ہو، مثلاً سفر کے دوران ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہو، یا کسی مجلس یا کسی لائن میں لگے ہوئے اپنے پاس ہو، وہ بھی ایک طرح کا پڑوسی ہے، اور اس کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔(توضیح القرآن :266)
پڑوسیوں کے حقوق سے متعلق نبوی تعلیمات :
پڑوسیوں کے حقوق سے متعلق احادیث میں نہایت سخت تاکیدی احکامات آئے ہیں،۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھا، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَا زَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ ، حَتّیٰ ظَنَنْتُ اَنَّہ سَیُوَرِّثُہُ (صحیح بخاری :6015) حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسیوں کے بارے میں برابر وصیت و نصیحت فرماتے رہے حتی کہ میں نے یہ خیال کیا کہ شاید پڑوسی کو پڑوسی کاوارث قرار دیا جائیگا۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ مَنْ کَانَ یُوْمِنُ باِللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُحْسِنْ اِلیٰ جَارِہِ (صحیح مسلم : 84) جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور دوسری روایت میں الفاظ ہیں کہ جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ خدا کی قسم وہ مومن نہیں۔ خدا کی قسم وہ مومن نہیں۔آپؐ سے پوچھا گیاکون یا رسول اللہﷺ؟فرمایا کہ وہ جس کی ایذاؤں اور تکلیفوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں ہے۔ (صحیح بخاری : 2/889)
پڑوسی کی مدد و نصرت کا حکم :
نبی اکرم ﷺ نے پڑوسی کی خبر گیری کرنے اور اس کا تعاون کرنے کا حکم دیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ مومن (کامل) نہیں ہوسکتا جو خود پیٹ بھر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔ (المعجم الکبیر للطبرانی : 12747) مطلب یہ ہے کہ پڑوسی کی خبر گیری کرنا چاہئیے اور اگر وہ بھوکا ہو تو اپنے کھانے میں سے اس کو بھی دینا چاہئیے،اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا اور خود سیراب ہوتا ہے تو فرمایا کہ وہ کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے آپ ﷺ نے صحابہ کو تعلیم دی کہ اپنے سالن میں ذرا پانی زیادہ کرو اور اپنے پڑوسیوں کو اس میں سے حصہ دو۔ چنانچہ حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : یَا ابَا ذَرٍ اِذَا طَبَخْتَ مَرَقَۃً فَاَکْثِرْ مَاءَ الْمَرَقَۃِ۔وَ تَعَاھَدْجِیْرَانَکَ ( اَوْ قال)اَقْسِمْ فِیْ جِیْرَانِکَ۔ (صحیح مسلم : 2625) اے ابو ذر ! جب تو سالن پکائے تو اس کا پانی زیادہ کرلیا کر اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھ،۔ یا آپؐ نے فرمایا اپنے پڑوسیوں میں تقسیم کر۔ان تمام احادیث سے واضح ہوا کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسن معاشرت کا تاکیدی حکم شریعت نے دیا ہے کہ ان سے سلوک اچھا ہو،ایذا و تکلیف نہ پہنچائی جائے،ان کی خبر گیری کی جائے،اپنے کھانے میں سے ان کا بھی حصہ نکالا جائے،اور ضرورت پڑنے پر اپنا دروازہ ان کے لئے کھولا جائے یعنی امان دی جائے۔
پڑوسی پر دروازہ بند کرنا :
سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم پر ایک زمانہ یا ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کوئی بھی آدمی اپنے مسلمان بھائی سے درہم و دینار کا (خود کو) زیادہ مستحق نہیں سمجھتا تھا، جب کہ آج صورت حال یہ ہے کہ درہم و دینار ہمیں اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : کَمْ مِنْ جَارٍمُتَعَلِّقٍ بِجَارِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَقُوْلُ : یَا رَبِّ ھٰذَا اَغْلَقَ بَابَہُ دُوْنِیْ، فَمَنَعَ مَعْرُوْفَہُ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ : 26705) قیامت کے دن کتنے ہی پڑوسی ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنے پڑوسیوں کو پکڑا ہوا ہوگااور کہہ رہے ہوں گے: اے رب ! اس نے مجھ سے اپنا دروازہ بند کر لیا اور (مجھے) خیر سے محروم رکھا۔
پڑوسی کی ایذا رسانی پر عہد رسالت کا ایک واقعہ:
پڑوسی کی ایذا رسانی پر رسالت ماٰب سرور دو عالم ﷺ کے عہد کا ایک عجیب واقعہ ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک شخص آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے پڑوسی سے مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے، پہلے آپ ؐ نے صبر کی تلقین فرمائی،مگر جب وہ پھر شکایت لے کر آئے تو فرمایا کہ اپنے گھر کا سامان باہر سڑک پر ڈالکر وہاں بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا توآنے جانے والے پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے؟تو انہوں نے لوگوں سے بتایا کہ میرا پڑوسی مجھے تکلیف دیتا ہے، میں نے اللہ کے بنی ﷺ سے شکایت کی تو مجھے اس طرح کرنے کا حکم دیا، یہ بات سن کرلوگ اس پڑوسی پر لعنت کرنے لگے اور یہ بات اس کو پہنچی کہ میری اس طرح رسوائی ہوگئی تو آکراس نے اس سے معافی مانگی اور مکان پر لے گیا اور وعدہ کیا کہ پھر ایسا نہیں کروں گا۔ (شعب الایمان للبیھقی : 9547)
بہترین پڑوسی :
یقیناًپڑوسی کا نیک صالح ہونا یہ دنیا کی اہم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خَیْرُ الْاَصْحَابِ عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالیٰ خَیْرُھُمْ لِصَاحِبِہِ وَ خَیْرُ الْجِیْرَانِ عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالیٰ خَیْرُھُم لِجَارِہِ(ترمذی : 1944)۔ اللہ تعالی کے یہاں بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لئے بہتر ہو اوراللہ تعالی کے یہاں بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لئے بہتر ہو۔ایک اور روایت میں حضرت نافع بن عبد الحارثؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : مِنْ سَعَادَۃِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ الْمَسْکَنُ الْوَاسِعُ، وَالْجَارُ الصَالِحُ وَ الْمَرْکَبُ الْھَنِیْءُ۔(مسند احمد : 3/407) مسلمان آدمی کی خوش بختی میں سے ہے کہ اسے وسیع رہائش گاہ، نیک پڑوسی، اور آرام دہ سواری مل جائے۔
خلاصہ :
شریعت مطہرہ کی پڑوسی سے متعلق ان پاکیزہ تعلیمات کو اگر اپنالیں اور عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو دنیا کی زندگی بڑی آرام و سکون سے گذرے گی نیز ایک اچھے پڑوسی کی طلب و تلاش سے پہلے خود ایک اچھا پڑوسی بننا ہوگااوراگرہمارا پڑوسی بھلا آدمی نہیں تب بھی ہم اس کی ایذاؤں پر صبر کی بنا پر ثواب کے مستحق ہوں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close