معاشرہ اور ثقافت

چلو اک بار پھر سے بچپنے میں لوٹ جائيں ہم

ثناءاللہ صادق تیمی، مکہ مکرمہ

میری آغوش میں ایک پیارا سا بچہ تھا ، بے انتہا خوب صورت ، صحت مند اور کافی جاذب لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔ میں اس کوشش میں کہ وہ مسکرائے اپنے کئی نسخے آزما چکا تھا لیکن اس بچے کے چہرے پر تجسس کی لکیریں تھیں جو گھٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔ میرے ساتھ میں کھڑے میرے دوست بے نام خاں نے ایک قدرے نحیف قہقہہ لگایا اور کہا: بیٹے! اگر تم نے چائلڈ سیکولوجی ( بچوں کی نفسیات ) پڑھی ہوتی تو تمہیں  معلوم ہوتا کہ یہ بچہ ابھی تمہیں پہچاننے کے پہلے مرحلے سے ہوکر دوسرے مرحلے میں آیا ہے، پہلے خوف کی کیفیت تھی، اب دیکھو تجسس کی کیفیت بن گئی ہے اور دوچار ملاقات ہوگی تو ہوتے ہوتے مانوسیت اورمحبت کی کیفیت پیدا ہوجائے گی جب بچہ تمہیں اپنا سمجھنے لگے گا اور اس کے بعد ہمارے دوست کی چائلڈ اور ایجوکیشن سیکولوجی پہ زبردست تقریر چل نکلی ، بی۔ ایڈ کے زمانے کی ساری محنت انہوں نے ہم پر انڈیل دیا اور ہم استفادے کے بغیر رہ بھی نہ سکے!!!

انسانی زندگی میں بچپن سے جڑی یادیں بہت معنی رکھتی ہیں۔ ناسٹلجیا میں بچپن کا حصہ زيادہ ہی ہوتا ہے۔ بچپن کو ہم معصومیت، الھڑپن، لاپروائی، بے ریائی، صدق،  فطرت اورچھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے  یاد کرتے ہیں۔ شعراء، ادباء اور مفکرین کے یہاں بچپن کی طرف پھر سے لوٹ چلنے کی حسرت مختلف اندازميں جلوہ گر ہوتی ہے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کی آپ بیتی میں جگہ جگہ جب یہ مصرعہ آتا تھا تو ہم کب سمجھتے تھے کہ مولانا کے یہاں یہ شدت کیوں ہے ؟

جوانی لے کے لوٹا دے میرا بچپن مجھے کوئی

بچپن بالعموم خوب صورت ہی ہوتا ہے ، اس محدود دنیا کی دانائیاں اور نادانیاں بڑی پر لطف ہوتی ہیں ، خواہشیں بنا پر کے اڑتی ہیں ، امنگوں کاشاہین پرواز بھرتا رہتا ہے، مصلحتیں ، حکمتیں، سمجھوتے راستے میں نہیں آتے لیکن دیکھتے دیکھتے یہ کب گزر جاتا ہے اور ہم کب بڑے ہوجاتے ہیں، پتہ ہی نہیں چلتا اور پھر بہت جلد بڑے ہونے کی حسرت پھر سے بچہ ہوجانے کی حسرت میں بدل جاتی ہے۔ منور رانا کا شعر ہے۔

میری خواہش کہ میں پھر فرشتہ ہو جاؤں

ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں

لیکن عربی اخبار میں چھپی ایک چھوٹی سی تحریر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا، مضمون نگار کا ماننا تھا کہ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتےہیں ہمارا تجسس، سوال کرنے کی للک، سب کچھ جان لینے کی دھن ، سب کچھ اپنا لینے کی خواہش مدھم پڑتی جاتی ہے اور ہم تخلیقی قوت سے انجماد کی طرف بڑھنے لگتے ہیں، ان کے حساب سے بچپنہ صرف معصومیت سے عبارت نہیں ہوتا، بچپنہ تو امنگ، تخلیقیت، لگن اور رکنے کا نام نہ لینے والے سوالات سے عبارت  ہوتا ہے اور یہی اوصاف در حقیقت زندہ قوموں کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں، مضمون نگار نے پوری عرب قوم سے گزارش کی تھی کہ چلیے ہم پھر سے بچے ہو جاتے ہیں، جستجو کی طرف لوٹ چلتے ہیں، سوالات کرتے ہیں ، جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر پھر سوالات کرتے ہیں، ساری بلندیاں حاصل کرلینے کی کوشش کرتے ہیں، جھوٹ سچ کے چکر میں پڑے بغیر اپنے ہاتھوں سے اپنی کائنات بنانے کی کوشش کرتے ہیں، کئی گھروندوں میں کوئی نہ کوئی گھر نکل آئے گا۔

مضمون کو پڑھتے ہوئے کئی سالوں پہلے کا اپنا ایک واقعہ ہمیں شدت سے ياد آیا، ہوا یوں کہ ہمیں اپنے ایک بھتیجے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا تھا، اب جو راستے بھر اس نے سوالات پوچھے ہیں تو جوابات تھک گئے ہیں اورکئی بار جھنجھلا گیا ہوں، لیکن اسے لے بھی جانا ہے سو ناراض نہیں کرسکتا اوریوں برداشت کرنا پڑا ہے۔

ابو!

ہاں بیٹے!

یہ گھر ہے؟

 ہاں بیٹے!

اور اس کے آگے وہ کالا کالا کیا ہے؟

بھینس ہے بیٹا!

بھینس ایسا ہوتا ہے؟

ہاں بیٹے!

اچھا اوروہ سفید والا کیا ہے؟

وہ گدھا ہے بیٹا!

ابو وہ کالا کیوں نہیں ہے؟

بیٹے! وہ اس لیے کہ وہ بھینس نہیں ہے!

اچھا تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔ چچا بھینس ہیں وہ تو کالے ہیں

نہیں بیٹا! وہ تو آپ کے انکل ہیں۔

پر ہیں تو وہ کالے!

  اور سوالوں کی کوئی انتہا نہیں، وہ تو کہیے کہ وہ جگہ آگئی اور ہم بچ گئے۔

رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے ” انما شفاء العی السوال ” نہ آئے تو پوچھنا چاہیے، بہت سارے معاملوں میں شریعت کا بھی مطالبہ ہم سے یہی ہے کہ ہم پھر سے بچپن والی صفتیں اپنے اندر پیدا کرلیں جیسے نہ جانیں تو پوچھیں، جیسے کسی کے لیے کینہ کپٹ نہ رکھیں جیسے بچپن میں نہ رکھتے تھے، جیسے کبھی ان بن ہوجائے تو معاف کردیں، جلد بھول جائيں جیسے بچپن میں کرتے تھے کہ ابھی لڑائی کی اور ابھی پھر مل گئے، لا یحل لامری مسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث ( مسلمان کےلیے جائزنہیں کہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے ) جو کام کریں دل سے کریں، بے ریائی سے کریں جیسے بچپن میں کوئی دکھلاوا نہ تھا۔ اپنی سلیم فطرت پر جئیں جیسے بچپن میں تھے "کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ”  کائنات کو خوب صورت کرنے کی کوشش کریں، دوسروں کو گرائے بغیر خود آگے بڑھنے کے جتن کریں جیسے بچپن میں کرتے تھے۔ سچ پوچھیے تو ہمیں اس بچپنے کی آج بہت ضرورت ہے جب دنیا شیطنت کے چنگل میں ہے، تخلیقیت پر انجماد کے بادل ہیں، امنگوں کے پر ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں اور خواہشوں میں بلندی کی بجائے پستی آگئی ہے۔ جب شاعر یہ تک کہنے لگا ہے!

مرے دل کے کسی کونےمیں اک معصوم سا بچہ

بڑوں کی دیکھ کر دینا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے

راجیش ریڈی

اس بچپنے کی طرف آئیے لوٹ چلیں جس میں تخلیقیت تھی، امنگوں کے پرندے تھے، سب کچھ حاصل کرلینے کاجذبہ تھا، کائنات کو خوب صورت دیکھنے اور کرنے کی تمنا تھی، ہمیں اس تخلیقیت کی آج بہت ضرورت ہے۔ فرحت احساس کا بڑا پیارا شعر ہے

بچا کے لائیں کسی بھی یتیم بچے کو

اور اس کے ہاتھ سے تخلیق کائنات کریں

چھل کپٹ کی اس ماری دنیا میں اگر ہمارے اندر بچوں کی معصومیت اور تخلیقیت کے عناصر عود کر آئیں تو ہماری زندگی میں ایک بار پھر سے محبت کے گلاب کھل سکتے ہيں، حسن کی کلیاں چٹک سکتی ہیں، مسرت کی نسیم چل سکتی ہے، ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں اور دینا اور بھی زيادہ حسین ہو سکتی ہے۔ ندا فاضلی کا شعر ہے۔

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو

چار کتابیں پڑھ کر یہ  بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

آئیے خود کو ہم بچپنے کے حوالے کردیتے ہیں، مرنے سے پہلے پہلے تک اس بچپنے کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور زندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والی فرحت کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ثناءاللہ صادق تیمی

اسسٹنٹ پروفیسر ، محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی ، ریاض

متعلقہ

Close