معاشرہ اور ثقافت

کربناک چیخ

 محمدجمیل اخترجلیلی

راجیش ایک غریب مزدورتھا، دن بھرلوکے تھپیڑے کھانے اوردھوپ کی تمازت سہنے کے بعدبہ مشکل ڈیڑھ سوروپے کماپاتاتھا، شادی کے دوسال بعدراجیش کے گھرایک بیٹے نے جنم لیا، بیٹے کے جنم پرراجیش بہت خوش تھا اوراکثراپنی بیوی سے کہاکرتاتھا:

 ’’اب ہمارے دن پھرنے والے ہیں ، میرابیٹا کمانے میں میری خوب مددکرے گااورمجھ سے زیادہ دولت کمائے گا‘‘، اِسی لئے راجیش نے اُس کا نام بھی دولت رام رکھا۔

 دولت رام کے بعدراجیش کے یہاں یکے بعددیگرے تین بیٹیوں کی پیدائش ہوئی، تین تین بیٹیوں کی پیدائش پرراجیش کچھ بجھ ساگیا، دراصل وہ اپنی بیٹیوں کے مستقبل بارے میں فکرمندتھا، وہ جانتاتھاکہ بیٹی اصلاً پرائے گھرکی ہوتی ہے؛ لیکن اُس کورخصت کرنے میں جس قدراخراجات ہوتے ہیں ، وہ ایک ڈیڑھ سوروپے ماہانہ کمانے والے کی طاقت سے بہت باہرکی چیز ہے، راجیش کبھی کبھی لال پری سے بھی محظوظ ہوجایا کرتاتھا؛ لیکن بیٹیوں کے جنم کے بعداُس نے اپنے اوپراِسے حرام کرلیا۔

 راجیش اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے بھی متفکرتھاکہ آج کے تاجرانہ ذہن رکھنے والے اچھی تعلیم گاہوں میں اُنھیں داخل نہیں کرسکتاتھا؛ چنانچہ اُس نے گاؤں کے ہی سرکاری اسکول میں تمام بچوں کا داخلہ دلادیا، جہاں سے بچوں کے نام پرکچھ راشن پانی بھی آجایاکرتاتھا اوراِس طرح راجیش اپنی کمائی سے تھوڑابہت اپنی بیٹیوں کے نام پرکٹوتی کرنے میں کامیاب ہوجایاکرتاتھا۔

وقت گویاہواؤں کے دوش پراُڑتاہواگزرگیااورراجیش کومحسوس بھی نہ ہوسکا کہ اُس کی بڑی بیٹی شویتا ایسا پھول بن چکی ہے، جس کی خوشبواب پھیلتی ہی جائے گی اوراگرگلدستۂ عروسی میں جلدنہ سجایاگیاتوزمانہ کے زہرآلودگیس کاشکارہوکراُس کاپتہ پتہ بکھرجائے گا۔

ایک رات جب راجیش رات کاکھاناکھارہاتھا، اُس کی بیوی نے فکرمندی کے ساتھ اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہا:

’’اجی! بیٹی جوان ہوچکی ہے، کچھ فکروکرہے یانہیں ؟‘‘۔

 ’’اِسی فکرمیں تولگاہواہوں ، میں نے رنبیرچاچاسے رشتہ ڈھونڈھنے کے لئے کہاہے‘‘، راجیش اپنی بیوی کی فکرمندی کودورکرتے ہوئے جواب دیا۔

 ہفتہ بھربعدہی رنبیرچاچاراجیش کے یہاں ایک رشتہ لے کرآئے، لڑکالدھیانہ کے کسی کارخانہ میں ملازم تھااورصرف بیس ہزارروپے کی مانگ! آج کے اِس جفاکیش دورمیں ، جہاں روزمانگ بھری ہوئی دلہنوں کوبیش قیمت مانگ نہ ملنے کی بناپرآتشِ نمرودمیں جھونک دیاجاتاہے، وہاں راجیش سے صرف بیس ہزارکامطالبہ! اِس لئے اُس نے رشتہ کے لئے فوراًصاد کردیا۔

 ابھی راجیش کے پاس کئی سالوں کی کٹوتی کے پیسے کافی تھے؛ اِس لئے’’نیک کام میں تاخیرکیسی؟‘‘ کومدنظررکھتے ہوئے اُس نے اپنے ہونے والے سمدھی کوبیس ہزار تھمادئے، راجیش کی اِس عجلت پسندی نے ہونے والے سمدھی کی آنکھوں میں حرص کی جالی تان دی، جہاں سے اُسے لاکھوں روپے کے کرارے نوٹ برستے ہوئے نظرآرہے تھے۔

   شادی کے لئے دوماہ بعد کی تاریخ طے کی گئی؛ اِس لئے راجیش شادی کی تیاریوں میں پورے جوش وخروش کے ساتھ ہمہ تن مصروف ہوگیا، وسعت کے مطابق اُس نے اپنی بیٹی کو جہیز دینے کی بھی کوشش کی، بھاگ دوڑ میں وقت کا پتہ ہی نہ چل سکا اورطے شدہ وقت آگیا، بارات آئی اورشویتااپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے خوابوں کی تعبیر تلاش کرتے ہوئے سسرال چلی گئی۔

 ابتدائً شویتاکوسسرال ایک نامانوس جگہ لگی، پھررفتہ رفتہ شوہر کے پیارنے سب کچھ بدل دیا اورشویتاکویہ گھرمکمل طورپراپناہی گھرلگنے لگا، سسرجی ہمیشہ اُس کی خیریت پوچھتے رہتے، اِس دوران اُن کی مسکراہٹ دیدنی ہواکرتی تھی، سسرجی کی یہ مسکراہٹ شویتاکے لئے نہیں ہواکرتی تھی؛ بل کہ شویتاکے روپ میں ہرچہارسمت اُڑتے ہوئے اُن کرارے نوٹوں کے لئے ہواکرتی تھی، جووہ اپنے سمدھی سے سمیٹنے والے تھے، اِس کے لئے اُسے اپنے بیٹے کوبھی ہموارکرناپڑا۔

ایک دن کی بات ہے، شویتاکاپتی چھٹی پرگھرآیاہواتھا، رات جب شویتاکام کاج ختم کرکے سونے گئی تواپنے پتی کوپریشان حال دیکھ کرخود بھی بے چین ہوگئی، اپنے پتی سے پوچھا:

 ’’کیاہواجی! کیوں اتناپریشان ہو؟‘‘۔

پہلے تو شویتاکے پتی نے ٹالنے کی کوشش کی؛ لیکن جب بیوی کا اصرار بڑھاتوغم انگیز لہجہ میں کہا:

 ’’شادی کے موقع سے منجوناتھ ساہوکار سے دس ہزارروپے قرض لئے تھے، اب اُس کی ادائے گی کا وقت آگیاہے اورمیرے پاس اُسے دینے کے لئے کچھ نہیں ہے، منجوناتھ ساہوکارپیسے نہ دینے کی صورت میں پچھواڑے کی زمین اپنے نام کروالے گا‘‘، یہ کہتے ہوئے شویتا کے شوہر کی آواز بھی رندھ گئی، شویتا پر اِس کابہت گہرااثرہوا، اورکیوں نہ ہوتا؟ اُس کے مجازی خداپریشان جو تھے!

   اُس نے اپنے پتی کوتسلی دیتے ہوئے کہا:

’’پریشان کیوں ہوتے ہیں ؟ میں بابوجی سے بات کرتی ہوں ، کچھ نہ کچھ توحل نکلے گاہی‘‘، پھرشویتانے اپنے بابوجی سے بات کی، بابوجی پہلے تو سوچ میں پڑ گئے، پھربیٹی کی خوشی کی خاطردوسری بیٹی کے بیاہ کے لئے جمع کئے ہوئے روپوں میں سے دس ہزاردل پر پتھررکھ کردیدئے، شویتاوہ پیسے لے کراپنے سسرال آئی اوراپنے پتی کے ہاتھ پردس ہزارکی گڈی رکھ دی، شویتا کے پتی نے اِس پربہت زیادہ خوشی کااظہارکیااوراُس سے کہا:

 ’’تم تواِس گھرکے لئے فرشتہ ثابت ہوئیں ، اگرتم یہ دس ہزارلے کرنہ آتیں تومنجوناتھ توہماری زمین کا مالک ہوہی جاتا‘‘۔

 شویتااوراُس کے بابوجی جس چیزکوپریشانی سمجھ رہے تھے، وہ پریشانی کی شکل میں ایک پلانگ تھی، جس کی تکمیل کے لئے’’سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘‘والے مثل کوسامنے رکھتے ہوئے شویتاکے سسرجی تدریجاًآگے بڑھ رہے تھے؛ اِس لئے دس ہزارسمیٹنے کے بعدچپی سادھ لی، جیسے اب کبھی روپے نہ مانگنے کے لئے اُس نے کان پکڑلیاہواوراِس طرح سال گزرگیا، شویتابھی دس ہزارکوبھول چکی تھی اوراُس کے بابوجی نے توشایددان ہی کی نیت کرلی ہو، بہرحال!

 ایک دن موقع کوغنیمت سمجھتے ہوئے شویتاکے سسرجی نے اپنے بیٹے سے کہا:

 ’’بیٹا! وہ جوسڑک کے کنارے بھندوابڑھئی کی زمین ہے، وہ بکری ہورہی ہے، میں چاہتاہوں کہ اُسے خریدلیاجائے، اگرابھی خریدیں گے توسستی ملئے گی؛ کیوں کہ بھندواکی بیٹی کا بیاہ ہے اوراُسے جلدی پیسوں کی ضرورت ہے‘‘۔

 ’’ وہ توٹھیک ہے، پراتنے پیسے آئیں گے کہاں سے؟‘‘، بیٹے نے فکرمندی کے ساتھ اپنے پتاجی سے سوال کیا۔

’’کچھ پیسے توہمارے پاس ہیں اورکچھ اپنے سمدھی جی سے اُدھارلے لیں گے، یہ زمین اُن کے ناتی پوتوں کے بھی توکام آئے گی‘‘، پتاجی نے پوری حکمت کے ساتھ اپنے بیٹے کوجواب دیا، جب بیٹے نے اورکچھ نہیں پوچھاتوپتاجی کوقلبی سکون ملا کہ ’’چلو، تیرصحیح نشانہ پرلگاہے‘‘۔

 ایک صبح شویتاسسرجی کوناشتہ دے کرلوٹ رہی تھی تو سسرجی نے اُس سے دریافت ِحال کرنے کے بعدپیاربھرے اندازمیں محاطب کیا:

 ’’بیٹا! تم سے ایک صلاح لیناہے‘‘، یہ سنتے ہی شویتاحیرت کے دریامیں اوبنے ڈوبنے لگی؛ لیکن نگاہیں نیچی کرکے مہربہ لب ہوکرگوش برآواز رہی، سسرجی نے گفتگوجاری رکھتے ہوئے کہا:

’’بھندوابڑھئی کوتوتم جانتی ہونا، اُس کی بیٹی کی شادی ہورہی، اُسے کچھ پیسوں کی سخت ضرورت ہے، وہ اپنی سڑک والی زمین کی بکری کررہاہے، میں سوچ رہاہوں اُسے لے لوں ، ابھی کچھ سستے داموں میں مل جائے گی، کچھ پیسے تومیرے پاس جمع ہیں ، کچھ اورچاہئیں ، میں چاہتاہوں کہ تم اپنے بابوجی سے بات کرو، بعدمیں حساب چکتا کردیں گے‘‘۔

 ’’اپنے بابوجی سے بات کرو‘‘پرشویتاچوں کی؛ لیکن ’’بعدمیں حساب چکتاکردیں گے‘‘ سے نارمل ہوگئی، وہ بھی سوچنے لگی کہ بہن کی شادی میں ابھی تین سال تولگ ہی جائیں گے، تب تک کے لئے جمع شدہ پیسے سے اگرکام نکل آئے توحرج ہی کیاہے؟ شویتاکی سادہ لوحی تویہ سوچ رہی تھی؛ لیکن ماسٹرمائنڈ کاپلان کچھ اورہی تھا، جس سے شویتاناواقف تھی، اورواقف ہوبھی کیسے سکتی تھی؟ وہ توسسرجی کی شہدمیں ڈوبی ہوئی باتوں کی مٹھاس اب بھی محسوس کررہی تھی اوراُن کے دل کی کڑواہٹ کے بارے سوچ بھی نہیں پارہی تھی۔

  شویتااپنے گھرگئی اوربابوجی سے بات کی، بابوجی توپہلے گھبرائے، پھربیٹی کی خوشی اوراُس کی خوداعتمادی کودیکھتے ہوئے پندرہ ہزارروپے دئے، شویتاجب یہ روپے لے کرسسرال آئی، وہ دل ہی دل میں خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھی کہ آج سسرال میں اُس کی قدردوگناہوجائے گی؛ لیکن جیسے ہی اُس نے اپنے سسرجی کے حوالے یہ روپے کئے، وہ ایسی ہنسی ہنسے، جس میں استہزاکی شمولیت کے ساتھ ساتھ خوف کی جھلک بھی دکھائی دے رہی تھی، تاہم سسرجی نے اپنے آپ کوکنٹرول میں رکھتے ہوئے بہوسے کہا:

 ’’وہ زمین ڈھائی لاکھ کی ہے، ڈیڑھ لاکھ کابندوبست تومیں نے کرلیاہے، اب ایک لاکھ چاہئیں ، یہ پندرہ ہزارتو’’اونٹ کے منھ میں زیرہ‘‘ کی مثال ہوئی، اِس لئے تم دوبارہ گھرجاؤاوربابوجی سے ایک لاکھ مانگ کرلاؤ‘‘، اِس آخری جملہ میں شویتاکے لئے دھمکی چھپی ہوئی تھی، بے چاری مرتی کیانہ کرتی، پھرگھرآئی اورپوری بات اپنے بابوجی کے سامنے رکھی، بابوجی اَن پڑھ ضرورتھے؛ لیکن اتنے بھی نہیں کہ اپنے سمدھی کی بات سمجھ نہ پاتے، اُس نے اپنی ایک زمین بیچ دی؛ مگرایک لاکھ مکمل نہیں ہو سکا؛ لیکن جوکچھ بھی ہوا، وہ سب اپنی بیٹی کے حوالہ کرتے ہوئے صرف اتناکہا:

 ’’بھگوان تیری رکشاکرے، میں کوشش کرکے بھی ایک لاکھ نہیں دے سکا‘‘۔

شویتا وہ سارے پیسے سمیٹ کر اندرہی اندرخوف محسوس کرتے ہوئے اپنے سسرال پہنچی، سسرجی دروازے پرہی مل گئے، پوچھا:

 ’’لے آئیں پیسے؟‘‘۔

 ’’ہاں ! پراتنے نہیں ہوسکے، بابوجی نے ایک زمین بھی بکری کردی؛ لیکن اُس کا بھی دام ٹھیک ٹھیک نہیں لگ سکا‘‘، شویتانے خوف سے کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا۔

 ’’میں کچھ نہیں جانتا، مجھے توبس ایک لاکھ روپے چاہئیں اورجب تک وہ نہیں ملیں گے، میرے گھرکادروازہ تم پربندرہے گا‘‘، سسرجی نے اپناماسٹرپلان فیل ہوتے دیکھ کرنادرشاہی فرمان جاری کردیااوریہ سوچے بنادروازے کے پٹ بندکردئے کہ بے چاری شویتا کہاں ڈھپلاکھاتی پھرے گی؟ شویتانے پھراپنے بابوجی کے گھرکارخ کیا؛ لیکن اب بابوجی کے پاس دینے کے لئے کچھ بھی تو نہیں بچاتھا، چاروناچارپھرسسرال آئی کہ اب یہی تواُس کا اپناگھرتھااورگڑگڑاتے ہوئے سسرجی کے پاؤں پڑگئی:

  ’’آپ مجھ پردیاکریں ، مجھے گھرمیں آنے دیں ، بابوجی کے پاس جوکچھ تھا، وہ توآپ کو دے دیا‘‘۔

  سسرجی نے شویتاکا راستہ چھوڑدیا، وہ سمجھی کہ سسرجی مان گئے ہیں ؛ لیکن دومنٹ کے بعدہی سسرجی واپس آئے، اُن کے ہاتھ میں کروسین کا ڈباتھا، پھرپڑوسی ایک کربناک چیخ سن کردوڑے، مگراُن کے گھرمیں داخل ہونے تک شویتاایک لاکھ پرقربان ہوچکی تھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close