معاشرہ اور ثقافت

کرب ایک حقیقت کا!

عالم نقوی

ہم آج کل بظاہر  ایک نامعلوم  کرب میں مبتلا ہیں۔ اور ساری آئی گئی لکھنے ہی پر ہے۔ یقین جانیے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کبھی  کچھ لکھا ہی نہ ہو۔ جیسے  لکھنا جانتے ہی نہ ہوں ! لیکن کیا کریں کہ لکھے بغیر کام بھی تو نہیں چلتا!کبھی کبھی پورا  دن گزر جاتا ہے اور یہی طے نہیں ہو پاتا کہ لکھیں تو کیا لکھیں ؟ کس موضوع پر  قلم اٹھائیں ؟ کس کو تختہ مشق بنائیں ؟ تکلیف دہ، ہمت شکن  اور دل خراش حالات کی یکسانیت اور اوپر سے یہ کرب ناک احساس کہ اپنے بس میں کچھ بھی تو نہیں !ان حالات میں کیا کرنا چاہیے اور کیا ہونا چاہیے، اس تعلق سے شاید ہی کوئی ضروری بات ایسی ہو جو  پچھلے چند برسوں کے دوران، صفحہ کمپیوٹر پر قلمِ اَنگشت سے منتقل ہونے سے رہ گئی ہو۔ اب ایک ہی بات کتنی بار دہرائیں ؟ہمارے کچھ بے تکلف احباب کا کہنا ہے کہ آج کل ہماری تحریریں ’’ ایک موضوع سے دوسرے موضوع  پر چھلانگ لگانے جیسی ‘‘ نظر آتی ہیں ! کچھ لوگ فون کر کے بر ملا اختلاف کا اظہار بھی کرنے لگے ہیں جو بسا اوقات غلط بھی نہیں ہوتا بلکہ، بیشتر درست ہوتا ہے !بہر حال، ہمیشہ کی طرح اپنے قارئین سے استدعا ہے کہ اس  ہیچ مداں ناچیز  کو اپنی دعائے خیر میں ضرور یاد کرتے رہیں۔ جو تھوڑی یا بہت تھوڑی سی زندگی بچی ہے وہ بھی ہمیشہ کی طرح  عزت اور عافیت سے گزر جائے!

آج بھی ہم آپ کو بیس سال پرانی ایک کہانی سنانے جا رہے ہیں جو معروف قلم کار سلمیٰ یاسمین نجمی نے لندن کے پس منظر میں لکھی تھی اور دسمبر 1997 کے  ماہنامہ پیش رفت (دہلی)میں شایع ہوئی تھی لیکن آج بھی بہ ہر اعتبار تازہ معلوم ہوتی ہے ! پرانے رسائل کی ورق گردانی کرتے ہوئے آج جب اسے دوبارہ پڑھا تو کئی مقامات پر ہم اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکے۔ ہم اسی کے کچھ حصے آج آپ سے شئیر کرتے ہیں ۔ کہانی لندن کے ایک مضافاتی علاقے ’اِرلز کورٹ ‘ کے ٹیوب اسٹیشن سے شروع ہوتی ہے۔ لفٹ سے زیر زمین پلیٹ فارم پر جانے کے لیے وہ اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھیں کہ انہوں نے دیکھا کہ ٹکٹ چیکر خاتون انہیں اشارے سے بلا رہی تھی۔ وہ سمجھیں کسی اور کو بلا رہی ہوگی۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا۔ مگر وہ انہی کو قریب آنے کا اشارہ کر رہی تھی۔ وہ  کسی قدر حیرانی کے ساتھ اس کے قریب گئیں تو وہ خلاف توقع ٹوٹی پھوٹی اردو میں بولی ’’تم مسلم ہے ؟‘‘جی ہاں۔ ’’پاکستانی ہے کہ ہندستانی ؟ ‘‘ جی میں پاکستانی ہوں۔ ’’تم نے یہ جو ٹراؤزر پہنا ہوا ہے اس کو کیا بولتے ہیں ‘‘ شلوار۔ ’’سلوار ! یہ ہم کو بہت اچھا لگتا ہے۔ ہمارا بہت دل کرتا ہے کہ ہم یہ ڈریس پہنیں۔ کبھی ہمارا دادی یہ پہنتا تھا۔ ۔تم چادر بھی لیتا ہے نا۔ ہم کو یقین تھا کہ تم مسلم ہے۔ تم کو کلمہ آتا ہے ؟‘‘ہر مسلمان کو آتا ہے۔ وہ حیران تھیں اس عیسائی عورت کو ان کے کلمے سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔

’’تو ہم کو کلمہ سناؤ ! ‘‘کیوں ؟ انہوں نے قدرے ناگواری سے پوچھا تو وہ بولی کہ ’’ہم بھی مسلم ہے ! ‘‘ آُ پ؟ ’’ہاں ہم۔ تم کو یقین نہیں آتا ؟ ہمارا دل کلمہ سننے کو کرتا ہے ! ‘‘ انہوں نے اسے کلمہ سنایا تو انہیں لگا جیسے اس کی آنکھیں بھیگ گئی ہیں۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے بالوں میں انگلیاں پھیریں ’’سارا زندگی ادھر گزر گیا۔ ہم کو کلمہ بھول گیا ہے مگر، ہم ہے مسلم ‘‘کیا آپ پاکستانی ہیں ؟ ’’نہیں نہیں ہم ایسٹ افریقہ سے ادھر مائگریٹ کیا ہے۔ ادھر کے کالے لوگوں نے ایشین کمیونٹی کو نکال دیا تھا  ۔ ‘‘پھر آپ کو اردو کیسے آتی ہے ؟ ’’تم ٹھیک بولتا۔ پر ہمارا دادا تو گجرات کاٹھیا واڑ کا تھا نا۔ ہمارا باپ اپنی ویڈو (بیوہ)ماں کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ مولوی تھا۔ لوگوں کو دین کا بات بتاتا تھا۔ ایسٹ افریقہ کی مسلم کمیونٹی نے اس کو تبلیغ کے لیے بلایا تھا۔ بہت نیک تھا ہمارا باپ۔ اسی نے ہم کو کلمہ سکھا یا۔ اور بھی بہت کچھ سکھا یا۔ ابھی تو ہم سب کچھ بھول گیا ہے۔ ‘‘ان کے دل کو ایک چرکہ سا لگا۔ پھر کیا ہوا ؟ آآپھر کیا ہونا تھا۔ ہمارا باپ اور دادی ادھر ہی فوت ہوگیا۔ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ ادھر آگیا۔ یہاں ہمارا شادی ایک عربی سے ہو گیا۔ بہت ظالم تھا وہ۔ ہم کو مارتا تھا۔ کھانے کو بھی پیٹ بھر نہیں دیتا تھا۔ ہم سے نوکری کراتا اور ہماری ساری پے لے لیتا تھا۔ ‘‘یہاں لندن میں بھی ایسا ہوتا ہے ؟ ان کا سوال فطری تھا۔ ’’کیوں کیا لندن میں آدمی نہیں رہتا ؟ ادھر بھی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس سے ہمارا دو بیٹا ہوا۔ شکر ہے وہ دونوں مسلم ہے۔ پھر اس نے ہم کو ڈائی وُورس ( طلاق ) دے دیا۔اور خود نیا شادی کر لیا۔ ہم اک دم اکیلا رہ گیا۔ نہ کوئی گھر تھا نہ کام۔ ہم  برٹش گورنمنٹ کے وِلفئیر پر زندہ تھا۔ ہمارا بھائی لوگ بھی اپنی زندگی میں مست تھا۔۔ کسی نے ہمارا خیال نہیں کیا۔ عورت آخر کو  عورت ہوتا ہے۔ اس کو آدمی کا سہارا چاہیے۔ حفاظت چاہیے نا ! ‘‘

وہ خاموش ہوکر کچھ دیر جیسے خلا میں کچھ دیکھتی رہی پھر بولی۔ ’’تم ہم کو بہت اچھا لگا۔ مسلم لوگ ہم کو بہت اچھا لگتا ہے۔ آخر ہمارا پیارا باپ بھی تو مسلم ہی تھا نا۔ ہم کو یہ سلوار اور شرٹ بھی اچھا لگتا ہے۔ مگر ہم اِس کو اِدھر پہن نہیں سکتا۔ اور پھر اِس نوکری میں یہ ڈریس کیسے چلے گا ؟ ‘‘

تو پھر کیا آپ اکیلی رہتی ہیں ؟۔ ۔’’جب ہم بہت دکھی اور اکیلا تھا، تب، ایک آدمی نے ہمارا بہت خیال کیا۔ ہمارا دکھ بانٹ لیا۔ ہمارا آنسو صاف کیا۔ ہم بہت سیریس بیمار ہوگیا  تو ہماری دن رات خدمت کیا۔ آخر ہم نے اس سے شادی کر لیا۔ وہ مسلم نہیں تھا۔ ہندو تھا۔ مگر اُس نے ہم سے یہ نہیں کہا کہ تم اپنا مذہب بدل لو۔ ہم اب بھی زینب ہی ہے۔ وہ ہمیں اپنے لوگوں میں لے گیا۔ مگر کسی نے ہمیں نہیں کہا کہ ہم ان کے بتوں کی پوجا کرے۔ یا ماتھے پر بندیا لگائے۔ ہمارے گھر میں دیوی کا اسٹیچو (بُت۔ مجسمہ ) ہے مگر ہم نے کبھی اس کے آگے ماتھا نہیں ٹیکا۔ اُن کے بہت سارے تہوار آتے ہیں۔ ہم اُن میں شریک ہو جاتا ہے۔ مگر بس۔ ہم کو پوری آزادی ہے۔ ہم جو چاہے کرے۔ ہم گھر سے باہر ہوٹل میں  بیف بھی کھاتا ہے۔ ہماری ہزبینڈ ہم کو بہت پیار کرتا ہے۔ آخر ہم کیا کرتا ؟ گاڈ ہماری مجبوری جانتا ہے۔ وہ ہم سے ناراض نہیں ہوگا۔ ہم خود تو مسلم ہے نا ! ہم تو بیف بھی کھاتا ہے نا ! ‘‘

بچے ہیں آپ کے اس دوسرے شوہر سے ؟۔ ۔’’ ہان ہمارا دو بیٹا  اور ایک بیٹی ہے۔ اب ‘‘

وہ مسلمان ہیں ؟۔ ۔’’ نہیں نہیں وہ مسلمان کیسے ہوگا۔ جو ریلیجن (مذہب ) ان کے باپ کا ہے وہی ان کا ہے۔ اولاد تو باپ کی مرضی پر چلتا ہے نا ! ہم بہت مجبور تھا اُس ٹائم۔ اُس ظالم عربی ہزبینڈ سے یہ محبت کرنے والا ہندو اچھا ہے نا۔ ہم کو سہارا چاہیے تھا اُس ٹائم اور وہ اُس نے ہم کو دیا۔ اللہ سب جانتا ہے۔ وہ ہم کو کچھ نہیں کہے گا۔ ۔ لیکن ۔ ۔تم  بھی یہ سن کر خوش نہیں ہے۔ تمہارے چہرے سے لگتا ہے۔ ہمارا مسلم بیٹا بھی بہت ناراض تھا۔ کہتا تھا۔ تم کافر ہو گیا ہے۔ ہم تم سے اب نہیں ملے گا۔ تمہارا انجام بھی کافرکی طرح ہوگا۔ دیکھنا  وہ مرنے کے بعد تم کو جلا دےگا۔ تم ہمیشہ جلتا رہے گا۔ ہم بہت ڈرگیا تھا۔ ہم بہت روتا تھا۔ لیکن ہمارا ہزبینڈ کو ہم پر ترس آگیا۔ اُس نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ مرنے کے بعد ہم کو جلائے گا نہیں۔ ہمارا ڈیڈ باڈی ہمارے بھائی لوگ  کو دے دیگا۔ تاکہ وہ اسے دفنا دے۔ تب جاکر ہمیں چین آیا۔ ورنہ ہم اپنے باپ کو کیا منھ دکھاتا۔ اب ہمارا بھائی لوگ بھی خوش ہے۔ تم بھی فکر نہ کرو۔ ہماری یہ ہزبینڈ زبان کا پکا ہے۔ وہ ضرور ہماری ڈیڈ باڈی ہمارے بھائی کو دے دیگا۔ ہم کو کافر کی طرح جلائے گا نہیں۔ ‘‘

اتنے میں ایک نوجوان آگیا۔ ۔ ’’ یہ ہمارا بیٹا ہے۔ مول چند۔ اس کا اپنا اپارٹمنٹ ہے۔ یہ اسٹوڈنٹس کو کرائے پر دیتا ہے۔ اچھی کمائی ہے اس کی۔ ‘‘ لڑکے ہاتھ جوڑ کرانہیں نمستے کہا۔ ’’ ڈونٹ سے نمستے۔ شی از اے مسلم ڈارلنگ ! ‘‘

سلمیٰ یاسمین نجمی کی  لکھی ہوئی اس بیس برس پرانی کہانی کی  آخری سطریں ہم مِن وَ عَن نقل کیے دے رہے ہیں کہ۔ ۔’’ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں کہیں بہت دور بھاگ جاؤں۔ انسانوں کی اس دَلدَل سے  بہت دور۔ ۔میرا دم گُھٹ رہا تھا۔ ۔!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close