معاشرہ اور ثقافت

کرسمس ڈے اور ہمارا معاشرہ

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

 اسلام، وہ بے بہا نعمت ہے ؛جس کے ذریعے انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے اور گم راہی کے اندھیروں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آتا ہے، جیساکہ ارشادِ خداوندی ہے ’’ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کا ساتھی اور مددگار ہے جو اہل ایمان ہیں، اُن کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست، شیاطین ہیں جو ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ سب لوگ آگ والے ہیں، وہ اس آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ: 275) اور ایمان، وہ قیمتی جوہرہے ؛ جو ایک مومن کو بلند مقام پر پہنچا کر اسے دوسری مخلوق پر اِمتیازی حیثیت عطا کرتا ہے ؛چناں چہ فرمانِ باری ہے ’’ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے تو یہ لوگ ساری مخلوق سے بہتر ہیں۔ ‘‘ (البینۃ:7) کلمہ توحید، ایک مضبوط جڑ کی مانند ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:‘‘کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال بیان فرما رہے ہیں کہ کلمہ طیبہ کو یوں سمجھو ! جس طرح ایک پاکیزہ درخت ہوا کرتا ہے ؛جس کی جڑیں زمین میں بہت گہری ہیں اور اس کی شاخیں (ٹہنیاں )آسمان تک پہونچتی ہیں ‘‘۔(ابراہیم :24)

 ایک تمثیل :

جس طرح ایک درخت کی نشوونما کا دارومدار اس کی جڑ پر ہوتا ہے، اور جڑ ہی درخت کی زندگی اور تروتازگی کا ذریعہ شمار کی جاتی ہے، اگر جڑ میں نقص واقع ہو جائے تو درخت مرجھانا شروع ہو جاتاہے پھر رفتہ رفتہ اس کے پتے، ٹہنیاں، پھل، پھول سب کے سب بوسیدہ ہو کر زمین پر گر پڑتے ہیں۔ اگر جڑ مضبوط ہوگی تو پودا توانا اور پھل دار ہو گا، اس سے خوراک حاصل کرنا دوسروں کے لئے حیات بخش ثابت ہو گا۔پتہ چلاکہ بات ساری تاثیر کی ہے، جس طرح درخت میں ساری تاثیر جڑ اور تنے کی ہوتی ہے، تاثیر اچھی ہو گی تو درخت، پھل پھول بھی اچھے دے گا اور اگر تاثیر میں نقص واقع ہو جائے تو درخت خشک ہو جائے گا یہاں تک کہ لوگ اس کو کاٹ کر ختم کر دیں گے۔ اسی طرح عقیدہ اورایمان بھی قوموں کے ثقافتی، تہذیبی، مذہبی اور معاشرتی بقا ء اور سلامتی کی علامت ہوتا ہے۔

 خاموش ارتداد کافتنہ:

 اسلامیان عالم کی قوت اور شوکت کا راز اسلام اور مسلم دشمنوں کو اچھی طرح معلوم ہے، اسی لیے آج جتنی زیادہ محنتیں مسلمانوں کے ایمان و یقین کو خراب کرنے، نت نئے ہتھکنڈوں کے ذریعہ ان کے ملی تشخص کو مسخ کرنے نیزمال ودولت اور عزت و شہرت کا جھانسا دے کرانہیں الحاد و ارتداد کی گھاٹ اتارنے کی ہورہی ہیں اور جس اعلی پیمانے پر ہورہی ہیں، ماضی میں اس کی نظیر ملنی نایاب نہ سہی کم یاب ضرور ہے ؛کیونکہ اغیار و کفار کو معلوم ہے کہ قرنِ اول ہو یا بعدکا کوئی زمانہ، ہر دَور میں مسلمانوں نے ایمان ہی کی بہ دولت بڑے بڑے معرکے سر کیے اور دشمنوں کے تمام تر منصوبے اور حربے آن ِواحد میں دھرے کے دھرے رہ گئے ؛اس لیے اس وقت بہت ہی ہنر مندی،زیر کی اور عیاّری کے ساتھ تمام وسائل، مسلمانوں کے عقائد اور ایمان کو خراب کرنے، انھیں ان کی اصل یعنی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)نیز کتاب و سنت اور اسلافِ امت سے بد ظن کرنے اورپھرمرتدوبے راہ کرنے میں صرف کیے جارہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک طرف پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کیا جارہا ہے تو دوسری جانب مختلف ایسے حلقوں کو نمایاں کیا جارہا ہے جو سراسر اسلام کے بنیادی عقائد پرتیشہ زنی کرتے ہیں۔ نئی نسل خاص طور پر ان کا ہدف ہے۔ سرِ دست میراروئے سخن وہ مسلمان ہیں جویاتو جہالت و ناخواندگی کی وجہ سے یااپنے سیا سی مفاد اورجھوٹی شہرت کی خاطریہودونصاری کے تہواروں میں نہ صرف بے دریغ شرکت کررہے ہیں ؛بل کہ ان کے مذہبی رسومات میں حصہ لے کر اپنی متاع دین وایمان کاکھلم کھلا سودا بھی کررہے ہیں۔

اس موقع پر بے ساختہ رسول اکرم ﷺکی وہ پیشین گوئی یاد آجاتی ہے کہ آپﷺنے فرمایا:”تم ضرور پچھلی امتوں کے طریقوں کی پیروی کروگے، بالشت برابر اور ہاتھ برابر، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گو ہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے، تو تُم بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے اس میں داخل ہوگے۔ ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ ﷺ! آپ کی مراد یہودو نصاریٰ ہیں، آپ ﷺنے فرمایا : اور کون؟‘‘ (صحیح بخاری : 7320)

عربی زبان کا محاورہ ہے : فُلانٌ اَحْیَرُ مِنَ الضَّبِّ یعنی فلاں شخص گوہ سے بھی زیادہ حیرت میں ڈالنے والا ہے۔ اہلِ عرب کے ہاں یہ مشہور تھا کہ گوہ کے داخل ہونے والے سوراخ کا تو پتا چل جاتا ہے ؛ لیکن نکلنے والے سوراخ کا پتا نہیں چلتا، لہذا اسے حیرت کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺکے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ جن فتنوں میں اہلِ کتاب مبتلا ہو ئے، ان کے انجام سے باخبر ہونے کے باوجود تم ان فتنوں میں مبتلا ہو گے، کیونکہ انسان بالعموم تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتا،جب تک کہ وہ خود اس تجربے سے نہ گزرے ؛ لیکن اس وقت اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے : اب پچھتائے کیا ہووت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ‘‘۔

چناں چہ ملک و بیرون ملک سے اس قسم کی افسوس ناک اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں کہ مسلمان بھی عیسائیوں کے ہمراہ ان کے مذہبی تہوار میں شریک ہورہے ہیں ؛جس سے ہر دردمند دل اور فکر مندشخص بے چین و بے قرار ہے اور کیوں نہ ہو ؟؟

بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے

اسلام ترا دیس ہے، تو مصطفوی ہے

کرسمس کیا ہے؟

۲۵؍دسمبر کا دن پوری دنیا میں مسیحی امت، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے طور پر ’’کرسمس‘‘ کے نام سے مناتی ہے۔ اسی مناسبت سے سال بھر کے سب دنوں میں سب سے چھوٹا دن ہونے کے باوجود اسے ’’بڑا دن‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے مسیحی دنیا کی عالمی عید اور قومی تہوار کی حیثیت حاصل ہے۔

354ء میں پہلی مرتبہ 25 دسمبر کو عیسیٰ علیہ السلام کا سب سے پہلے یوم ولادت منایا گیا۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے ساڑھے تین سو سال بعد اس بدعت کو رواج عام حاصل ہوا لیکن عیسائیوں کے پیورٹن فرقے نے ہمیشہ اس بدعت کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک کیتھولک عقیدہ ہے جس کی بائبل سے کوئی سند ثابت نہیں ملتی۔

1647ء جب انگلینڈ میں پیورٹن کے ہاتھ حکومت آئی تو انہوں نے کرسمس ڈے منانے کی روایت کو ختم کر دیا، لیکن 13 سال بعد ان کی حکومت کے خاتمے اور چارلس دوئم کے دوبارہ بحال ہونے پر یہ روایت دوبارہ زندہ ہو گئی۔ ایسے ہی بوسٹن(امریکہ)میں پیورٹن کے بائیس سالہ دور (1647ء سے 1669ء) تک کرسمس منانا معطل رہا۔کرسمس کے اس تہوار پر دنیا بھر میں عیسائی اپنے گھروں اور دیگر عمارات میں کرسمس ٹری لگاتے ہیں جسے رنگ برنگے قمقوں اور آرائشی چیزوں سے سجایا جاتا ہے۔ اس تہوار پر ملنے والے تخائف بھی کرسمس ٹری کے نیچے رکھے جاتے ہیں اور انہیں کرسمس کے موقع پر خاندان کے افراد مل کرکھود لتے ہیں۔

کرسمس ٹری کے لیے عموماً صنوبرکا انتخاب کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ہر موسم میں سرسبز رہنے والادرخت ہے۔ صرف امریکہ میں کرسمس ٹری کے 12 ہزار سے زیادہ فارم موجود ہیں اور اس شعبے سے ایک لاکھ سے زیادہ افراد وابستہ ہیں۔ یہ امریکہ میں 50 کروڑ ڈالر سالانہ سے زیادہ کا کاروبار ہے۔ کہاجاتاہے کہ کرسمس ٹری لگانے کی روایت پانچ سول سال سے زیادہ پرانی ہے۔ تاریخی حقائق کے مطابق پہلا کرسمس ٹری لٹویا کے شہر ریگا میں 1510ء میں لگایا گیاتھا۔

’’کرسمس‘‘ کی موجودہ صورتِ حال:

  اس حوالے سے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ یوں فرماتے ہیں کہ : شروع شروع میں تو یہ ہوا کہ جب ۲۵؍دسمبر کی تاریخ آتی تو چرچ میں ایک اجتماع ہوتا، ایک پادری صاحب کھڑے ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور آپ کی سیرت بیان کردیتے، اسکے بعد اجتماع برخواست ہوجاتا۔ گویا کہ بے ضرر اور معصوم طریقے پر یہ سلسلہ شروع ہوا لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے یہ سوچا کہ ہم پادری کی تقریر تو کرادیتے ہیں مگر وہ خشک قسم کی تقریر ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان اور شوقین لوگ تو اس میں شریک نہیں ہوتے اس لئے اس کو ذرا دل چسپ بنانا چاہئے تاکہ لوگوں کے لئے دل کش ہو اور اس کو دل چسپ بنانے کے لئے اس میں موسیقی ہونی چاہئے، چنانچہ اس کے بعد موسیقی پر نظمیں پڑھی جانے لگیں، پھر انہوں نے دیکھا کہ موسیقی سے بھی کام نہیں چل رہا ہے اس لئے اس میں ناچ گانا بھی ہونا چاہئے، چنانچہ پھر ناچ گانا بھی اس میں شامل ہوگیا، پھر سوچا کہ اس میں کچھ تماشے بھی ہونا چاہئیں۔ چنانچہ ہنسی مذاق کے کھیل تماشے اس میں شامل ہوگئے، پھرہوتے ہوتے یہ ہوا کہ وہ کرسمس جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات بیان کرنے کے نام پر شروع ہواتھا، اب وہ عام جشن کی طرح ایک جشن بن گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہواکہ ناچ گانا اس میں، موسیقی اس میں، شراب نوشی اس میں، قمار بازی اور جوا اس میں۔ گویا کہ اب دنیا بھر کی ساری خرافات کرسمس میں شامل ہوگئیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پیچھے رہ گئیں۔ اب حال یہ ہے کہ مغربی ممالک میں جب کرسمس کا دن آتا ہے تو اس میں ایک طوفان برپا ہوتا ہے، اس ایک دن میں اتنی شراب پی جاتی ہے کہ پورے سال اتنی شراب نہیں پی جاتی، اس ایک دن میں اتنے حادثات ہوتے ہیں کہ پورے سال اتنے حادثات نہیں ہوتے، اسی ایک دن میں عورتوں کی عصمت دری اتنی ہوتی ہے کہ پورے سال اتنی نہیں ہوتی، اور یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یومِ پیدائش کے نام پر ہورہا ہے۔

اسلامیان عالم سے دردمندانہ گزارش:

۱۔ کرسمس،عیسائیوں کا خالصتاً مذہبی تہوار ہے، یہ اُس کفریہ ملت کی ایک باقاعدہ پہچان اور شعار ہے جو حضرت عیسیٰؑ کو ’خدا کا بیٹا‘ کہہ کر پروردگارِ عالم کے ساتھ شرک کرتی ہے۔ نیز نبی آخر الزمان حضرت محمدٌ رسول اللہﷺکو مسترد کر کے وقت کی آسمانی رسالت کی منکر اور عذابِ الٰہی کی طلبگار ٹھہرتی ہے۔ ’’کرسمس‘‘ کے اِس شرکیہ تہوار کی وجہِ مناسبت ہی یہ ہے کہ ان ظالموں کے بقول اس دن ’خدا کا بیٹا یسوع مسیح پیدا ہوا تھا‘۔

۲۔ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک ایسی قوم کو جو (معاذ اللہ) ’خدا کے ہاں بیٹے کی پیدائش‘ پر جشن منا رہی ہو مبارکباد پیش کرنے جائے اور اِس ’’خوشی‘‘ میں اُس کے ساتھ کسی بھی انداز اور کسی بھی حیثیت میں شریک ہو۔ یہ عمل بالاتفاق حرام ہے بلکہ توحید کی بنیادوں کو مسمار کر دینے کا موجب ہے۔ ہر مسلمان خبردار ہو، اِس باطل ’’کرسمس‘‘ کی خوشیوں میں کسی بھی طرح کی شمولیت آدمی کے ایمان کے لیے خطرہ ہے۔

۳۔ اِس گناہ کے مرتکب پر واجب ہے کہ وہ اِس سے تائب ہو؛ تاہم اگر وہ اہل اسلام کے کسی حلقہ میں راہبر جانا جاتا ہے تو اس کے حق میں لازم ہے کہ وہ اپنی توبہ کا کچھ چرچا بھی کرے تاکہ روزِ قیامت اُس کو دوسروں کا بارِگناہ نہ سمیٹنا پڑے۔

۴۔ ’’کرسمس‘‘ جیسے معلوم شعائرِ کفر سے دور رہنا تو فرض ہے ہی، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان اس ملتِ کفر سے کامل بیزاری کا اظہار کرے۔

۵۔ ’’کرسمس‘‘ جیسے معروف نصرانی تہوار کو محض ایک ’سماجی تہوار‘ کہہ کر اس کے لیے جواز پیدا کرنا گمراہ کن عمل ہے۔

۶۔ ہمارے اسلامی تصورات اور اصطلاحات کو مسخ کرنے کی جو سرتوڑ کوششیں اس وقت ہورہی ہیں، اہل اسلام پر ان سے خبردار رہنا واجب ہے۔ ذمیوں کے ساتھ حسن سلوک سب سے بڑھ کر صحابہؓ کے عہد میں ہوا ہے۔ مگر ان کے دین اور دینی شعائر سے بیزاری بھی سب سے بڑھ کر صحابہؓ کے ہاں پائی گئی ہے۔ یقیناًیہ حسن سلوک آج بھی ہم پر واجب ہے، مگر اس کے جو انداز اور طریقے، حدود و قیودسے بالاترہوکراس وقت رائج کرائے جا رہے ہیں وہ دراصل اسلام کو منہدم کرنیوالے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close