معاشرہ اور ثقافت

کرپشن کی دہشت گری

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام ِ شر کے تحت بدعنوانی کے کینسر کا شافی و وافی  علاج ممکن ہے وہ یا تو احمق ہیں یا پھر منافق۔

عالم نقوی

کرپشن بذات ِ خود سب سے بڑی دہشت گردی ہے بلکہ تمام دہشت گردیوں کی ماں  کہیں تو غلط نہ ہوگا لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ’اُمُّ المظالم  کر‘پشن  ہی  کے خلاف دنیا میں کہیں بھی کوئی جہاد، کوئی دھرم یدھ نہیں چل رہا ہے۔ بے گناہ انسانوں کو مارتے رہنا ہی آج کم و بیش پوری دنیا میں چھڑی ہوئی مختلف جنگوں کا واحد مقصد ہے۔ دہشت گردانہ وارداتوں اور جھوٹ اور ظلم پر قائم بے جواز جنگوں پر جو بلین اور ٹریلین ڈالر   خرچ   ہورہے ہیں وہ بھی بدترین خود غرضی، منافقت اور کرپشن کے بغیر ممکن نہیں۔

کسی جائز سبب اور انصاف کے بغیر افغانستان و عراق، یمن و سیریا، لیبیا و الجیریا، سوڈان و نائجیریا  اور غزہ و کشمیر تک خرچ کیا جانے والا اربوں، کھربوں ڈالر کا یہ  ناجائز خرچ ہی دنیا کی موجودہ بھکمری، بے روزگاری اور بنیادی انسانی ضرورتوں کے عمومی فقدان اور فساد فی لا رض کا سبب ہے۔

 ارون دھتی رائے کے لفظوں میں یہ کوئی اتفاق  نہیں ہے کہ دنیا کے پانچ سو اَسّی ارب پتیوں کی آمدنی ایک سو پینتیس غریب ترین ملکوں کے اجتماعی جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تفریق صرف امیر اور غریب ملکوں ہی میں نہیں بلکہ امیر اور غریب عوام اور امیر اور غریب اقوام میں بھی ہے اور اس دہشت گردی کا متبادل ’انصاف‘ اور مکمل انصاف کے قیام کے سوا اور کچھ نہیں (درندے کی پہچان ص ۵۱اور ۷۷)

سؤئس اور دیگر بینکوں میں صرف ہندستانیوں کی کالی دولت پندرہ سو بلین ڈالر یا اُس سے بھی زیادہ ہے۔ اپنی حرام کی کمائی غیر ملکی بینکوں میں جمع کرانے والوں میں بدعنوان سیاستداں اور الکشن لڑنے کے لیے چندے میں انہیں اور انکی پارٹیوں کو اپنا کالا دھن دینے والے کارپوریٹ گھرانے اور بڑے تاجر ہی سر فہرست ہیں۔ ملک اور دنیا سے دہشت گردی ختم نہ ہونے اور دہشت گردانہ جنگوں کے جاری رہنے کا سب سے بڑا سبب یہی ہے۔

پوری غریب، پسماندہ ترقی پذیر تیسری دنیا کرپشن کے معاملے میں پہلی اور دوسری دنیاؤں سے آگے ہے۔ لیکن اس کے ذمہ دار خود ترقی یافتہ امیر مغربی ممالک ہیں جو تیسری دنیا کے تیل وَغیرہ، قدرتی وسائل اور خام مال کے ذخائر پر قبضہ کرنے اور پھر اس ناجائز غاصبانہ قبضے کو تا دیر باقی رکھنے کے لیے وہاں کے اندرونی معاملات میں مداخلت  کرتے ہیں اور کرپشن کی سرپرستی   کرتے  ہیں تاکہ اُن بدعنوان خود غرض اور بےضمیر حکمرانوں  کو پوری طرح اپنے قابو میں رکھ سکیں۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام ِ شر کے تحت بدعنوانی کے کینسر کا شافی و وافی  علاج ممکن ہے وہ یا تو احمق ہیں یا پھر منافق۔

اس ’مابعد جدید‘ دنیا نے مسائل کو اور زیادہ الجھا دیا ہے۔ مثلاً، بقول ارون دھتی رائے، آج ’جمہوریت‘ کا مطلب ہے ایک نئی وضع کی آزاد خیالی ( نیو لبرل ازم )۔ ’اصلاحات ‘ کا مطلب ہے ’جبر اور ظلم‘۔ آزادی کے معنی ہیں ’ قتل عام‘۔ لبریشن کا مطلب ہے ’ جا رحانہ حملہ یا غاصبانہ قبضہ۔ ’انسانی امداد ‘ کا مطلب ہے فاقہ کشی اور بھکمری پیدا کرنے والے حالات کی نت نئی پیداوار!

 جب امریکہ نے ویت نام پر یلغار کی، بمباری کی، ہزاروں لوگوں کو ہلاک کیا، ہزاروں کو دیہات چھوڑ کر شہروں میں جانے پر مجبور کیا جہاں انہیں ’مہاجرین کے خیموں ‘ میں رکھا گیا، تب سیمو ئل ہنٹنگٹن (کلیش آف سویلائزیشن کے بد نام زمانہ مصنف ) نے اسے شہری آبادکاری (اَربنائزیشن ) کا عمل کہا تھا ! (درندے کی پہچان ص ۸۵)

پھر عراق و افغانستان، لیبیا و سیریا، یمن و الجیریا، غزہ و نائجیریا میں قتل و غارتگری، تباہی و بربادی کا جو سلسلہ شروع کیاگیا وہ آج بھی جاری ہے بلکہ کسی نہ کسی شکل میں  رام اللہ، رخائن اور سری لنکا، بھارت  اور پاکستان تک وسیع ہے بس نام الگ الگ ہیں، کام اور  مقصد  سب  کا ا یک ہے مظلوم، محروم اور کمزور  انسانوں کی بربادی  اور اُن کے وسائل پر بنام ِجمہوریت و اصلاحات، غاصبانہ قبضہ!

ہمارا ’قومی حال‘، ماضی سے خراب ہے۔ ہمارا’قومی  مستقبل‘، حال سے اچھا ہواس کے لیے کوئی  درست ، مبنی بر انصاف  اور نتیجہ خیز کارروائی، کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close