معاشرہ اور ثقافت

کس کس کو قید کرو گے!

عالم نقوی

یہ عنوان ہے اُس اِحتجاجی پروگرام کا جو، ۳ اگست، جمعہ کو سنسد مارگ (پارلیمنٹ اسٹریٹ، نئی دلی )پر ہو رہاہے، بے بس و بے کس عوام کو یہ احساس دلانے کے لیے کہ وہ، ان بد ترین حالات میں بھی تنہا نہیں ہیں ! بقول مجاہد سید:

اُدھر اندھیروں کی یلغار بھی مسلسل ہے

اِدھر چراغ بھی ہے بحر و بر پہ رکھا ہوا

گھروں میں  یہ سوچ کر بیٹھے رہ جانے  والے  کہ  شاید اُن کا نمبر نہ  آئے جبکہ اس کی کوئی یقین دہانی ممکن نہیں، لیکن وہ، یہ نہیں سمجھتے کہ:

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں اچھا ہے۔ ۔اپنےحصے کی شمع ایک جلا دی جائے !

  کامیابی اور ناکامی تو اُس خالق و مالک پالنہار کے قبضئہ قدرت میں ہے جوہمارے دلوں کے حال سے بھی واقف ہے اور جب ہم سب، چاروناچار، ایک نہ ایک دن پلٹ کے اُس کے سامنے حاضر ہوں گے تو وہ ہمیں وہ سب دکھا دے گا جس پر ہم دنیا میں دھمال مچایا کیےتھے، جبکہ ہمارا بہ حیثیت انسان، فرض منصبی یہی ہے کہ جسے نعیم صدیقی نے اس طرح شعر کا جامہ پہنا دیا ہے کہ :

دانش کے پجاری کو، خواہش کے جواری کو۔ ۔دولت کے شکاری کو انسان بنانا ہے!

لوگ مجھ سے شکایت کرتے ہیں کہ آج کل آپ نہ صرف پہلے کی طرح روز نہیں لکھتے بلکہ ’حالات حاضرہ ‘ کو تو بالکل ہی  موضوع ِسخن نہیں بناتے حالانکہ حالات حاضرہ تو روز مرہ سے بھی کچھ آگے جا چکے ہیں راشد جمال فاروقی (۹۸۹۱۵۵۲۰۴۴)کی دو نظمیں  نیا دور (مئی ۲۰۱۸) میں پڑھیں تو میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے، ملاحظہ ہو :

’’باخبر با علم رہنے کا جنوں۔ کن حدوں تک جا چکا ہے۔ ہر گھڑی ہر آن بس خبروں کے حملے بڑھ رہے ہیں۔ واقعہ یا حادثہ یا سانحہ، جو کچھ بھی ہے۔ وہ آپ کے پردے پہ آویزاں ہے۔ اپنی پوری ہیبت ناک صورت میں۔ ابھی تو آپ، پچھلے حادثوں پر ہی یقیں کرنے کی تیاری میں تھے۔ یہ کیا ہوا ؟َاگر اقدار کے کچے گھروندے بہہ بھی جائیں تو تعجب کیا۔ یقیں کی سب فصیلیں کانپ کر گر جائیں ایسے زلزلے میں۔ تو بھی کم ہے۔ پھٹی آنکھوں سے یہ دلدوز منظر دیکھتا ہوں۔ سوچتا ہوں۔ متاع اعتبار آدمیت لُٹ رہی ہے۔ جو اک مانوس دنیا تھی وہ پیچھے چُھٹ رہی ہے۔ ۔ ایک بیمار صبح۔ اگر معذور ہو چستی سے پُر لوگوں کو دیکھو۔ اندھیرے منہ وہ اک اخبار والا۔ گزشتہ روز کی سب لعنتوں کو رول کر کے۔ تمہارے بند دروازے پہ، کب کا پھینک کر۔ جا بھی چکا ہے۔ اگر معذور ہو، کھڑکی سے چپک کر بیٹھ جاؤأ۔ اور دیکھو۔ کہ یہ اسکول جاتے حور و غلماں۔ کتنے بھاری بیگ تھامے ہنستے گاتے جا رہے ہیں۔ ان کے سر کے ٹھیک اوپر چہچہاتے غول چڑیوں کے۔ تلاش رزق میں جاتے ہوئے دیکھو۔ اگر معذور ہو، شامل نہیں ہو گہما گہمی میں تو کیا ! کھڑکی شیشوں سے چپک کر بیٹھ جاؤ‘‘

سلام بن رزاق نے اپنی کہانی ’نارَد نے کہا ‘(نیا دور، مئی ۲۰۱۸)میں لکھا ہے :

’’اور پھر نارَد  نے والیا سے پوچھا :’’تو یہ ’کوکرم ‘(برے کام ) کیوں کرتا ہے؟والیا نے نیزے کو اپنے ہاتھوں پر تولتے ہوئے جواب دیا۔ ’’اپنے بیوی بچوں کے لیے ‘‘

نارد مضحکہ اُڑانے والے انداز میں ہنسے، والیا انہیں سرخ آمکھوں سے گھورتا ہوا بولا :’کیوں تو کیوں ہنستا ہے ؟‘’تیری مورکھتا پر ‘۔ والیا نے نیزہ فضا میں بلند کرتے ہوئے گرج کر کہا۔ ’بتا کیوں ہنسا ورنہ بیندھ کر رکھ دوں گا۔ ‘

نارد اسی پر سکون انداز میں بولے۔ ’سچ میں تیری مورکھتا پر ہنس رہا ہوں، کیونکہ تیرے چاروں طرف گھور اندھکار پھیلا ہے۔ اور تو نہیں جانتا کہ تجھے کدھر جانا ہے، تو جن لوگوں کے لیے یہ’ کو کرم ‘کر رہا ہے وہ سب اپنے اپنے’ سوارتھ ‘کے لیے تجھ سے بندھے ہوئے ہیں۔ ‘‘

’’جب تجھ سے ان پاپوں کا حساب مانگا جائے گا، اس وقت نہ تیری بیوی تیرے کام آئے گی نہ تیرے بچے ‘‘!

ایسا کیونکر ہو سکتا ہے۔ میں جو کچھ کر رہا ہوں، اُن کے سکھ اور آرام ہی کے لیے تو کر رہا ہوں۔ جب اس کا بھگتان ہوگا تو وہ سب بھی میرے ساتھ ہوں گے۔ ‘‘جا جا کر اپنی بیوی  بچوں سے پوچھ کر آکہ وہ لوگ تیرے کرموں کے ساجھی دار ہیں یا نہیں ‘‘

والیا اپنی گپھا میں لوٹ گیا، بیوی، بچوں اور دوسرے گھر والوں سے باری باری پوچھا کہ کیا وہ لوگ اس کے کرموں کے ساجھی دار ہیں ؟ ‘‘

جیسا کہ’ رامائن‘ میں لکھا  ہے کہ اُن سبھی لوگوں کا جواب نفی میں تھا کہ ’’تیرے کرم کے ساتھ ؟ ہم تو  کیول تیرے دھن، سادھن کے بھوکتا ہیں۔ ‘‘

اِن حالات میں کہوطن عزیز میں  لوگ، کیا راجہ کیا رنک، سب جانور بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہو چکے ہیں۔ کَا لاَ نعَام بَل ھُم اَضَلّ۔ ہم تو اب زہرہ نگاہ کی طرح ’جنگل راج ‘ کی دعا کرنے لگے ہیں۔

اس لیے کہ :

’’سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے۔ تو وہ حملہ نہیں کرتا۔ سنا ہے جب۔ کسی ندی کے پانی میں۔ بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے۔ تو ندی کی رہ پہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں۔ ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں۔ تو مینا اپنے گھر کو بھول کر۔ کوّے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے۔ سنا ہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گرے تو۔ سارا جنگل جاگ جاتا ہے۔ ندی میں باڑھ آجائے۔ کوئی پُل ٹوٹ جائے تو۔ کسی لکڑی کے تختے پر۔ گلہری سانپ چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں۔ سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ خداوند جلیل و معتبر دانا وبینا منصف و اکبر۔ ہمارے ملک میں اب۔ جنگلوں ہی کا کوئی دستور نافذ کر ! ‘‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close