معاشرہ اور ثقافت

کیا اسی کو کہتے ہیں خدمتِ خلق؟

احساس نایاب

اکثر ہم کئی ایسے اداروں کو بنتے انہیں پروان چڑھتے ہوئے دیکھتے اور انکی خدمت کارگذاریون کے بارے میں بہت کچھ سنتے بھی ہیں کہ کیسے چند صاحبِ استطاعت  خدمتِ خلق کے لئے آگے بڑھ چڑھ کر بنا کسی ذاتی مفاد کے  قوم کے لئے اپنی ذمیداریوں کو بخوبی نبھاتے ہیں  اور جب بھی ہم ان کے اس جذبے کے بارے میں سنتے ہیں تو فخر محسوس کرتے  ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سماتے ایک سکون سا محسوس ہوتا ہے , دل کرتا ہے انکے نیک جذبے کو سلام کریں , کیونکہ اس مفاد پرست دنیا میں کوئی تو اللہ کے نیک بندے ہیں جو ہماری قوم کے لئے ہمارے غریب مسلمان بھائی بہنوں  کے لئے مالی , وقتی ہر طرح کا طاعون کر انکے بہتر مستقبل کے لئے جی توڑ محنت کرتے ہوئے  جگہ جگہ بڑی سے بڑی ہاسپٹلس , بینکس , اسکول کالجس کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

 پر ہم ان کے بارے میں بس سنا کرتے تھے کبھی قریب سے انہیں دیکھنے جاننے یا سمجھنے کا موقع نہیں ملا , خواہش تو بہت تھی کے ایسے اللہ کے نیک بندوں سے ملیں ان سے کچھ سیکھ حاصل کریں تاکہ ہم بھی ان سے جڑ کر غریبوں کی مدد کرتے ہوئے دنیا اور آخرت میں فلاح پاسکیں اور ہماری یہ خواہش جلد ہی پوری ہونے والی تھی کیونکہ آج ہم اپنے شہر کے ایسے ہی نامور ادارے سے جڑی کالج کو جانے والے تھے۔

 دراصل ہمیں وہاں کے مینجمینٹ سے کسی سلسلے میں ملاقات کرنی تھی اسلئے ہم صبح صویرے جلدی سے اپنے سارے کام نپٹا کر تیار ہوگئے اور بڑی خوشی و مسرت کے ساتھ رکشا کے ذریعہ کالج پہنچے , جب ہم رکشا سے اُتر کر کالج گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو ہماری نظر عمارت اور آس پاس کے منظر پہ پڑی اُس وقت تو ہماری خوشی اور فخر کی انتہاء نہ تھی ماشاءاللہ کالج کی عمارت سے لیکر گارڈن , کھیل کا میدان سب کچھ عالیشان تھا  ہم دل ہی دل میں ادارے سے جڑے ہر شخص کو دعائیں دے رہے تھے کہ قوم کے غریب بچون کے لئے انہونے اتنا سب کچھ کیا ہوا ہے , ہم یہی سب کچھ سوچتے ہوئے کالج کے اندر داخل ہوئے کہ آگے سے پئیون آکر ہم سے مخاطب ہوکر ہمارے آنے کی وجہ پوچھنے لگے , ہم نے انہیں بتایا کہ ہمیں فلاں سر سے ملاقات کرنی ہے اور ہم پہلے ہی اپائنمنٹ لے چکے ہیں یہ سنتے ہی پئیوں نے کہا کہ فلحال سر ایڈمیشنس میں بیزی ہیں آپ ویٹنگ ہال میں بیٹھ کر انتظار کریں سر فری ہوتے ہی میں آپکو اطلاع کردونگا , پیون کی بات سنکر ہم ویٹنگ ہال میں آکر انتظار کرتے بیٹھ گئے۔

 بیٹھے بیٹھے ایسے ہی کچھ وقت گذر چکا ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے ہم بور ہونے لگے تھے , اسلئے ہم نے سوچا کے انتظار کرتے بیٹھنے سے بہتر ہے کہ کالج کیمپس ہی گھوم پھر کر دیکھ لیں , یہ سوچ کر ہم کیمپس میں ٹہلتے ہوئے آفس روم کے پاس پہنچ گئے جہاں ( ایڈمیشنس ) داخلے چل رہے تھے آفس کے باہر کئی والدین اپنے بچوں کے ساتھ پریشان حال ایک ہی جانب نظرین جمائے کھڑے نظر آئے , انہیں اتنا پریشان دیکھ کر ہمیں کچھ عجیب سا لگا اور آفس کے اندر کا مناظر دیکھنے کے لئے ہمارا تجسس بڑھنے لگا اسلئے ہم آفس کے بلکل قریب آگئے اور دروازے کے پاس کھڑے ہوکر آفس کے اندر دیکھنے لگے , آگے 3 لوگ بیٹھے نظر آئے شاید یہ سیکریٹری اور باقی دو ممبرس تھے ان میں سے ایک کے چہرے پہ صاف تکبر جھلک رہا تھا اور ساتھ میں بیٹھے دو شخص انہیں سر کہہ کر مخاطب ہورہے تھے شاید یہی وہ فلاں سر تھے جن سے آج ہماری ملاقات ہونے والی تھی , اتنے میں ہماری نظر انکے ٹھیک آگے بیٹھے باپ بیٹے پہ پڑی وہ اپنے بیٹے کا ایڈمیشن کروانے کے سلسلے میں بات کررہے تھے پر انکے چہرے پر تو ہمیں پریشانی  کے ساتھ شرمندگی بھی صاف نظر آرہی تھی وہ بہت ہی عاجزگی سے فلاں سر سے بات کررہے تھے , فیز کم کرنے کے لئے انکے آگے گڑگڑاتے ہوئے مِنتیں مانگ رہے تھے اور اپنی غربت کی دہائی دیتے ہوئے اپنے گھریلو حالات بتارہے تھے یہ سب کچھ دیکھ کر ہمیں ان پہ بہت ترس آیا اور برُا بھی لگ رہا تھا , لیکں سیکریٹری کہلانے والے اُس مغرور شخص یعنی فلاں سر کے  سینے میں شاید دل ہی نہیں تھا کیونکہ انہیں اس باپ کی باتوں اور انکی حالت پہ ذرا سا بھی رحم نہیں آیا بلکہ انکے آگے اکڑ کر بڑے ہی غرور و تکبر کے ساتھ اپنا چہرہ جلائے سخت لہجہ سے انکار پہ انکار کئے جارہے تھے اور ساتھ بیٹھے دو ممبرس نے بھی چپی سادھی ہوئی تھی جیسے کوئی شو پیس یعنی مجسم ہوں , وہ بھی فیز کی ایک چھوٹی سی رقم کم کرنے کے لئے جو امیر گھرون کے بچوں کی میٹھائی جتنی ہے اللہ اکبر۔

 لیکن بات صرف منع کرنے پہ ختم نہیں ہوئی بلکہ اس مغرور لالچی انساں نے ان باپ بیٹے کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک ایسی بات کہہ دی جو سننے کے بعد ہماری آنکھوں سے بھی آنسو چھلک پڑے جب لڑکے کے والد نے کہا کے سر میں بہت غریب آدمی ہوں کولی مزدوری کرکے اپنا گھر بڑی مشکل سے چلاپاتا ہوں میرا بیٹا بہت ذہن ہے اور بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوا ہے آپ نے ہم جیسے غریبوں کے بچوں کی مدد کے لئے ہی تو کالج بنائی ہوئی ہے , مہربانی کرکے میرے بیٹے کا داخلہ کردیں بس 2 , 3 ہزار ہی تو کم کرنے کے لئے کہہ رہا ہوں , ہماری اتنی مدد کردیں ہم آپکا احسان ہمیشہ یاد رکھینگے ہم بہت غریب ہیں , جس طرح سے وہ باپ اپنے بیٹے کے آگے اس غریبون کے مسیحا ,مفکر کہلانے والے انسان سے گڑگڑا رہے تھے۔  شاید وہ بیٹا اپنے والد کی بیبسی اور رسوائی کو دیکھ کر خود کو ہی کوس رہا تھا کیونکہ اس لڑکے کے چہرہ پر بھی پریشانی صاف جھلک رہی تھی شرم سے پانی پانی ہورہا تھا اور اشک بار آنکھوں سے اپنے والد کی بیبسی  کو دیکھ کر وہ ٹوٹ کے بکھر گیا ہوگا اور آج تعلیم حاصل کرنے کی جگہ بیٹھ کر زندگی کا ایک نیا سبق سیکھ رہا تھا کہ پیسوں کے آگے انسان کی کوئی اوقات نہیں اور نہ ہی دنیا میں انسانئیت نام کی کوئی چیز ہے۔

 ہم اُن باپ بیٹے کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کررہے تھے کہ اتنے میں سامنے بیٹھے خود کو غریبوں کے ہمدرد ,دانشمند سمجھنے والے انسان کی زبان سے چند ایسے الفاظ نکلے جو انسانئیت کو  شرمسار کرنے کے لئے کافی تھے جب اس مغرور پیسوں سے امیر دل سے فقیر لالچی انسان نے اُس بیٹے کے آگے جو آگے چل کر ہمارے ملک ہماری قوم کا مستقبل ہے اس بچے کے آگے ہی باپ کو کڑواہٹ سے بھرے تنظئہ لہجے سے پوچھا کے کیا جی غریب ہیں تو بھکاریون کی طرح بھیک مانگتے پھروگے؟

اُس وقت اس باپ کے دل پہ پتہ نہیں کیا گذری ہوگی نہ جانے اس بات سے انہیں کتنا درد کتنی تکلیف ہوئی ہوگی جو آنسوؤن کی شکل میں ان باپ بیٹے کی آنکھوں سے بہنے لگی وہ دونوں اپنے آنسو روک نہیں پائے چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا لیکن پاس میں کئی لوگوں کی موجودگی کو دیکھتے ہوئے دونوں باپ بیٹے اپنی رسوائی پہ بیچین ہوکر اپنی نظریں چراتے ہوئے آفس روم سے باہر نکل گئے , آج انکی عزتِ نفس  تار تار جو ہوچکی تھی اور یہ سارا منظر دیکھ کر  ہمارا کلیجہ کٹ کے رہ گیا دل چاہ رہا تھا کہ ایک تماچہ اس فلاں انسان کو کس کے لگائیں اور سبھی کے آگے چلا کر اس لالچی انسان سے کہیں کے بھیگ وہ باپ نہیں بلکہ آپ جیسے لوگ مانگتے ہیں اللہ کا دیا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سب سے بڑے بھکاری آپ لوگ ہیں جو غریبوں کا حق مارتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔

قوم کی مدد کے نام پہ بڑے بڑے ادارے قائم کرکے اسکے آڑ میں اپنا بزنس چلارہے ہیں اپنا کالا پیسہ سفید کرنے کے لئے ان غریبوں کو ذریعہ بنا رکھا ہے جسکے لئے قوم اور غریبوں کی مدد کے نام پہ لوگوں سے چندہ بھی وصولتے ہیں اسلئے سب سے بڑے بھکاری آپ جیسے لوگ ہیں نہ کہ وہ غربت کے مارے بیبس باپ بیٹے۔ ہم اس وقت یہ سب کچھ کہنا چارہے تھے   پر کہہ کچھ نہیں پائے کیونکہ ہماری تربیعت نے ہمیں روک لیا ۔پر اس لالچی انسان سے ملاقات کرنے بات کرنے یہاں تک کے اس انسان کو دیکھنے کے لئے بھی دل راضی نہیں ہورہا تھا اسلئے ہم بنا ملے وہاں سے واپس لوٹ گئے اور سارا راستہ یہان تک کہ آج بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ غریبوں کو رسوا کر  انہیں کے نام پہ بھیک مانگنا کیا اسی کو کہتے ہیں خدمتِ خلق؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

ایک تبصرہ

  1. احساس نایاب! اگر سچ مچ یہ آپ کانام ہے تو آپ کے والدین پریا جن کسی نے آپ کایہ نام رکھا ہے، ان پر صدقے واری جانے کو جی چا ہتاہے۔جیسا نام ویسا ہی کام۔ ماشا ء اللہ۔۔۔احساس کی گرمی نے جس طرح آپ کواپنے خیالات، احساسات اور تجربے کو بیان کرنے کا حو صلہ دیا ہے، وہ خدا کی خا ص عنا ئت ہے، ورنہ آج کے زمانے میں تو ’’ من ترا حاجی بگوئم، تو مرا ملا بگو‘‘والی کیفیت سے دنیا بھری ہے۔آپ نے کرنا ٹک کے کسی اقلیتی تعلیمی یعنی مسلم ہمدرد ادارے کا ذکر کیا ہے، ٹھیک اسی قسم کا مشا ہدہ میرا بھی رانچی کے ایک اقلیتی اسکول اور ایک نا مور مدرسےکے تعلق سے برسوں پرانا ہے۔ ان لٹیروں کا نام زمانے میں بے نقاب ہو نا چاہئیے، لیکن کیا کیجئے گا ، ہماری امت کے جیالے فوراً اُٹھ کھڑے ہو ں گے کہ ہزاروں ناداروں ، یتیموں کی مدد کرنے والے ادارے پر تہمت لگاکر مظلومین کی مدد کے راستے بند کرنے کی سا زش ہو رہی ہے۔اللہ آپ جیسی اور جیسوں کو حق کی آواز اُٹھاتے رہنے کی ہمت اور طا قت کو توانائی بخشے ۔ آمین ثم آمین۔دعا گو : سائرہ۔ رانچی

متعلقہ

Close