معاشرہ اور ثقافت

کیا واقعی ’جہیز ایک لعنت‘ ہے؟

مسعود جاوید

جہیز کی لعنت کے موضوع پر بے شمار مضامین اور سوشل میڈیا پر پوسٹ پڑھنے کو ملتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلم سماج میں  اس کے خلاف خاطر خواہ بیداری نظر نہیں آتی  بیٹیوں کے جہیز کے لئے ایک باپ جتنی کوشش کرتا ہے اگر وہی کوشش ان کی تعلیم کے سلسلے میں کردے تو جہیز کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی’ ۔۔ اس طرح کے انقلابی جملے وہی لوگ لکھتے ہیں جو زمینی حقیقت سے شاید واقف نہیں ہیں۔

جہیز کا مطالبہ کوئی رسم نہیں ہے بلکہ یہ ایک منافقت بهری سوچ اور ایک حرص بهری ہوس ہے۔ اس کا تعلق لڑکی کی سیرت صورت تعلیم اور خاندان سے نہیں ہے۔  اس کا تعلق لڑکا والوں کی غربت ضرورت اور اخراجات سے بھی نہیں ہے۔  اس کا تعلق لڑکا والوں – خواہ کتنے ہی امیر کبیر ہوں – کے مائنڈ سیٹ  لالچی مزاج سے ہے۔  اس کا تعلق اس سماج کے منافق طبیعت لوگوں سے ہے ہاں وہی سماج جو جہیز نہ لینے پر لڑکا والوں کو طعنے دیتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے اسی محلے میں پان فروش کے بیٹے کو فور وہیلر ملی لیکن اس متوسط گھرانے کے پڑهے لکهے لڑکے کو ٹو وہیلر بائیک تک نہیں ملی۔ ۔۔ لڑکے میں ضرور کوئ عیب ہوگا۔۔۔۔ گهر میں پہلے سے ہی دو کاریں اور آسائش کے سارے سامان موجود ہیں پهر بھی بیٹے کے لئے فور وہیلر چاہئے اس لئے نہیں کہ ضرورت ہے بلکہ اس لئے کہ اپنے خاندان اور پڑوسیوں میں نمائش کرنی ہے اپنے بیٹے اور خاندان کی وقعت اور ‘قیمت’ کا مظاہرہ کرنا ہے۔

جہاں تک لڑکیوں کی تعلیم کا تعلق ہے تو بسا اوقات اس کی وجہ سے جہیز کی رقم اور بڑھ جاتی ہے اس لئے کہ اس کی تعلیم کے ہم پلہ لڑکوں کی "قیمت ” زیادہ ہوتی ہے۔  میں نے کئی ایسے والدین کو دیکها جنہوں نے بڑے شوق سے بیٹیوں کو پی ایچ ڈی / ایم ایس سی /ایم فل / ایم اے کرایا مگر بغیر جہیز کے پڑهے لکهے لڑکوں کے ساتھ رشتے کے لئے  در در کی ٹھوکریں کهاتے رہے۔۔ ظاہر ہے اعلی تعلیم اٹهارہ بیس برس کی عمر میں حاصل نہیں ہوتی اس لئے کہ ڈاکٹریٹ کم و بیش 28 سال  ایم فل اور پوسٹ گریجویشن 24 سال۔ لڑکے والوں کی منافقانہ رویے میں جوڑ بیٹهانا مشکل ہوجاتا ہے ایک طرف مطالبہ یہ کہ لڑکی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اور دوسری طرف مرد فطرت کی خواہش کہ لڑکی کمسن ہو خواہ لڑکے کی عمر پینتیس چالیس ہو۔ اسی لئے تعلیم یافتہ لڑکیوں کے والدین ان کی تعلیم کے فورا بعد مناسب رشتہ کے لئے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں مبادا ان کی لڑکی کو ‘ عمر رسیدہ ہے’  ‘عمر کچھ زیادہ ہے’،  چہرے پہ نمک نہیں ہے’ وغیرہ کہ کر ناپسند نہ کردیں۔ کچھ ایسے بهی والدین ہوتے ہیں جو فجر بعد لڑکی والوں کے گهر جو کسی دوسرے شہر میں ہے وہاں کسی بہانے بغیر اطلاع پہنچ جاتے ہیں تاکہ دوبارہ بغیر میک اپ کے دیکھ سکیں۔ ‘ جی  وہ جام میں پهنس گئے تھے ادهر سے گزرنا ہوا تو سوچا آپ کے یہاں فجر کی نماز ادا کر لیں’ !

۔دوسری بات یہ کہ پوسٹ گریجویٹ لڑکی کی شادی میٹرک پاس سے کرنے سے ذہنی ہم آہنگی کی کمی ہوگی۔ ایسی شادی اگر ہو بهی گئی تو لڑکا کے گهر والے بہت خوش ہوں گے  ہر طرف اسی کا چرچا ہوگا کہ پڑهی لکهی بہو لائے ہیں۔ ۔۔ مگر بیڈ روم میں کسی روز شوہر بیوی کے درمیان تو تو میں میں ہو اور بیوی کی زبان سے غصہ میں ہی سہی اگر یہ جملہ نکل گیا کہ ” میرے تو نصیب پهوٹے تهے کہ میرے ماں باپ نے تم جیسے جاہل میٹرک پاس سے شادی کرادی” ۔۔ اس دن کے بعد سے شوہر نہ صرف احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے گا بلکہ بیوی سے کسی نہ کسی طرح انتقام لینا چاہے گا اور اس کی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا سبق سکهانا چاہے گا۔

جہیز کی لعنت ختم کرنے کے لئے سماج کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔  نوجوانوں کو اپبے گهر والوں کے سامنے اڑنے کی ضرورت ہے وہ اپنے والدین سے صاف صاف کہ دیں کہ جہیز لیں گے تو نکاح نہیں پڑهیں گے۔ قاضی صاحبان نکاح خواں حضرات  کو اعلان کرنے کی ضرورت ہے کہ جس عقد میں جہیز سامان یا نقد یا فلیٹ یا بیٹے کو ڈاکٹر انجنیئر بنانے پر جو خرچ ہوا وہ  رقم لی جائے گی تو اس کا نکاح ہم نہیں پڑهائیں گے۔ علماء اور شرفاء کو اعلان کرنے کی ضرورت ہے کہ جہیز والی شادی کی دعوت ولیمہ میں وہ شریک نہیں ہوں گے۔

معاشرے کا مزاج ایسا بگڑ گیا ہے کہ میرے دوست اور ان کے لڑکے نے سختی سے منع کردیا کہ وہ جہیز نہیں لیں گے۔ پهر بهی لڑکی والوں نے یہ کہ کر  فور وہیل ڈرائیو پہونچا دیا کہ لڑکی کی والدہ کی بہت خواہش تهی کہ فور وہیل اپنی بیٹی کو ضرور دیں گے اور یہ بهی کہ ہم نے جب بڑی بیٹی کو لڑکا والوں کے ڈیمانڈ پر کار دی تهی تو اس بیٹی کے ساتھ ناانصافی کیوں۔ جو کچھ ہم نے بڑی کو دیا وہی سب اس چهوٹی کو بهی دے رہا ہوں۔ ان باتوں کا عینی و سمعی شاہد میں ہوں۔

عموماً یہ بات کہی جاتی ہے کہ علماء بهی اس سماجی برائی میں ملوث ہوتے ہیں۔ ہاں ملوث  ہوتے ہیں اس لئے نہیں کہ اس جہیز کی لعنت کو نعمت سمجهتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ بهی اسی سماج کا حصہ ہیں۔ تاہم  اس سے انکار نہیں کہ دیندار طبقے میں بهی اس ذہنیت کے لوگ پائے جاتے ہیں جو بیٹیوں کی شادی میں فضول خرچی سے بچنے کی بات کرتے  ہیں اور کہتے ہیں کہ اسراف سے اللہ نے منع کیا ہے ، رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیٹیوں کو جہیز میں  چٹائی اور دو تین خانہ داری کے دو تین سامان  اور بستر دیا تها کا حوالہ دیتے ہیں مگر بیٹوں کے رشتے ایسے گھرانوں میں چاہتے ہیں جہاں بغیر مطالبہ وہ سب کچھ جہیز میں مل جائے جو رائج ہے۔

یہ کہنا بہت آسان ہے کہ علماء طبقہ بهی اس میں ملوث ہے۔ مگر کبهی آپ نے یہ سوچا کہ اس دیندار کی بیٹی بهی دن بہ دن عمر کی اس دہلیز کی طرف بڑھ رہی ہے کہ اگر بر وقت اس کے ہاتھ پیلے نہیں ہوئے تو عمر رسیدہ کہ کر کوئی لڑکا اس سے نکاح کرنے کے لیے راضی نہیں ہوگا۔۔۔ جب بگاڑ پورے معاشرے میں ہو تو دیندار غیر دیندار امیر غریب ہر ایک کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ معاشرے میں جو رواج سوشل  پریسٹج social prestige کا حصہ بن جائے تو اس کی بیخ کنی کی ذمہ داری معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ جہیز کا مقاطعہ کرکے دیندار طبقہ اپنی بیٹیوں کو گهر نہیں بٹها سکتا۔ صورتحال یہ ہے کہ  شرفاء لڑکی والوں کے یہاں پیغام کرنے سے قبل ان کی مالی حالت کا جائزہ لیتے ہیں کہ بغیر ڈیمانڈ کتنا دے سکتا ہے۔ غیر شرفاء طاضابطہ ڈیمانڈ کرتے ہیں کبهی خود اور کبهی یہ کہ کر کہ لڑکے کا چچا یا ماموں یا بہنوئی چاہتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں کمپنی کے یہ یہ سامان لڑکے کو جہیز میں دیا جائے ۔ لڑکوں کی غیر معلنہ درجہ بندی ہے : ڈاکٹر ، انجنئیر ،کمپیوٹر سائنٹسٹ ، بیرون ملک فیملی اسٹیٹس کے ساتھ اچهے عہدے پر فائز یا سرکاری ملازمت  SDO SDM BDO CO وغیرہ کے لئے ایک فرنشڈ تمام اسباب راحت سے آراستہ  3BHK فلیٹ مع دس پندرہ لاکھ روپے کی کار مع  سونے ہیرے جواہرات کے زیورات۔ بعض لوگوں کی طرف سے ولیمے کا خرچ اور بارات پارٹی کے لئے گاڑیوں کا کرایہ بھی لیا جاتا ہے۔ اسی درجہ بندی کے تحت اوپر آئی اے ایس آئی ایف ایس آئی آر ایس جج اور نچلے سرکاری درجے میں ہیڈ کلرک اور کلرک تاجروں میں بھی کارپوریٹ سے لے کر محلے کے چھوٹے دکاندار تک کی قیمت سے ہر برادری کے لوگ کم و بیش واقف ہوتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close