معاشرہ اور ثقافت

گھریلو تشدد کی روک تھام کی تدابیر – قسط 1

عصری قوانین اورقرآنی تعلیمات کا تقابلی مطالعہ

مرد اور عورت کو فطرت نے مخصوص وظائف سونپے ہیں اور ان کی بہتر طریقے پرانجام دہی کے لیے انھیں مخصوص اوصاف و خصائص اور صلاحیتوں کا وافر حصہ عطا کیا ہے۔ عورت کابنیادی کام بچوں کی پیدائش ، پرورش و پرداخت، تعلیم و تربیت اور اندرون خانہ حسن انتظام ہے، اس لیے اس کے اندر محبت و رأفت ، شفقت و رحمت اور حسن و نزاکت کا دریا موجزن کردیا گیا ہے اور اسے خلقی طور پر کم زور بنایا گیا ہے۔ مرد کے ذمہ عورت کی حفاظت و کفالت، ضروریاتِ زندگی کی فراہمی، بھاگ دوڑ، آفات روزگار کا مقابلہ اور بیرون خانہ بہت سے کام رکھے گئے ہیں، اس لیے اسے تنومند بنایا گیا ہے اور جسمانی طاقت سے نوازا گیا ہے۔
مظلومیتِ نسواں عہدِ قدیم میں
اس فرق و امتیاز کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر مردوں نے عام طور سے عورتوں کے بنیادی حقوق پامال کیے ہیں، ان کو دباکر رکھا ہے، ان کا استحصال کیا ہے اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ عورت صدیوں سے مظلوم رہی ہے ، دنیاکی تمام تہذیبوں اور معاشروں میں اسے مرد سے کم تر حیثیت دی گئی ہے۔ یونانی اور رومی تہذیب میں اسے دنیا کی تمام آفات و مصائب کی جڑ سمجھا جاتا تھا، ہندو تہذیب میں وہ مرد کی خادمہ اور ضمیمہ تھی، چنانچہ شوہر کا انتقال ہوجاتا تو وہ خود ہی اپنے آپ کو نذر آتش کردیتی تھی یا اسے زبردستی زندہ جلادیا جاتا تھا، جیتے جی بھی وہ ہر طرح کے ظلم و تعدّی کا شکار رہتی تھی۔ اس کی قابل رحم حالت کا اندازہ درج ذیل شعر سے بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے:
ڈھول گنوار شودر پشوناری یہ سب تاڑن کے ادھیکاری
عہد جاہلیت میں عربوں کے بعض قبیلوں میں لڑکیاں باعثِ ننگ و عار سمجھی جاتی تھیں، چنانچہ پیدا ہوتے ہی انھیں زندہ درگور کردیا جاتا تھا ۔ یہودیت اور عیسائیت عورت کو گناہ کی محرک ، بدی کی جڑ ، تحریکِ معصیت کا سرچشمہ اور جہنم کا دروازہ قرار دیتی تھیں۔ ان کا نظریہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کا آغاز عورت کی ذات سے ہوا ہے اور وہ دنیاوالوں پر لعنت اور مصیبت لے کر آئی ہے۔ چنانچہ اس نقطۂ نظر کی بنا پر عورت یورپی ممالک میں ، جہاں عیسائیت کو بڑے پیمانے پر فروغ حاصل ہوا، طویل عرصہ تک اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہی ہے۔
تحریکِ آزادئ نسواں کے ثمرات
یورپ میں بنیادی حقوق (Fundamental Rights) انسانی حقوق (Human Rights) اور مساوی حقوق (Equal Rights) کی تحریکیں چلائی گئیں تو ان کا دائرہ حقوقِ نسواں تک وسیع ہوا۔ پہلے عورتیں تمام حقوق سے محروم تھیں، انھیں
مردوں کا زیر دست اور محکوم سمجھا جاتا تھا۔ وہ تعلیم سے بے بہرہ رکھی جاتی تھیں، حتی کہ بعض حلقے ان کی انسانیت میں بھی متردّد تھے۔ ان تحریکات کے نتیجے میں انھیں پہلے تعلیم کا حق حاصل ہوا۔ انھوں نے ابتدائی ، ثانوی پھر اعلیٰ اور طبّی و صنعتی تعلیم حاصل کی۔ پھر انھیں دیگر سماجی، قانونی اور سیاسی حقوق حاصل ہوئے۔
تحریکِ آزادئ نسواں کے علم برداروں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عورتیں زندگی کی دوڑ میں مردوں کے مساوی ہیں، لہٰذا انھیں بھی تمام میدانوں میں مردوں کے مساوی حقوق ملنے چاہیے، جوں جوں عورتوں میں خودشناسی کا احساس پیدا ہوا اسی اعتبار سے تحریک نسواں میں شدت پیدا ہوتی گئی اور اس کے مطالبات کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی گئی۔ ہرطرح کی آزادی کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ تعلیم نے انھیں معاشی طور پر خود کفیل بنایا اور انھیں ملازمت کے مواقع حاصل ہوئے۔ کہا گیا کہ ان کا کام محض شوہروں کی خدمت، بچوں کی پرورش اور گھروں کی دیکھ بھال نہیں ہے۔ ملازمتوں نے مردوں پر ان کا انحصار کم سے کم کیا اور ان میں یہ احساس پیدا کیا کہ نظام خاندان میں وہ مجبور محض اور مردوں کی دست نگر نہیں ہیں۔
عورت پھر بھی مظلوم رہی
ان نسائی تحریکات کے نتیجے میں یوں تو عورت کو بہ ظاہر بہت سے حقوق مل گئے، لیکن نظام خاندان بری طرح انتشار و پراگندگی کا شکار ہوا۔ نکاح کے ادارے (Institution) کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں، بدکاری اور آوارگی کو فروغ ملا۔ نسلِ انسانی کے استمرار و دوام کے لیے مرد و عورت کا جنسی تعلق ضروری تھا۔ اسے نکاح کے مقدس رشتہ سے منضبط کیا گیا تھا۔ آزادئ نسواں کے نتیجے میں اب اس کی ضرورت نہ رہی۔ عورت کو اختیار مل گیا کہ وہ کسی بھی مرد کے ساتھ، جب تک چاہے ، بغیر نکاح کے، رہ سکتی ہے، اور جب چاہے اس سے علیٰحدگی حاصل کرسکتی ہے۔ نکاح کا مقصد زوجین کے جنسی جذبہ کی تسکین اور اولاد کا حصول تھا۔ اب عورت اس کی پابند نہ رہی۔ اس کی مرضی کے بغیر اب نہ شوہر اس سے جنسی تلذّذ حاصل کرسکتا تھا اور نہ اولاد کے حصول کی خواہش کرسکتا تھا۔ ولادت و رضاعت اور گھر کی دیکھ بھال میں مصروف رہنے کی وجہ سے اب تک وہ کمانے اور وسائل زندگی فراہم کرنے کی فکر سے آزاد تھی اور اسے تحفظ فراہم کرنے اور اس کے لیے اسبابِ معیشت اکٹھا کرنے کی ذمہ داری مرد پر تھی۔ اب وہ اپنی مالک آپ بن گئی، مرد کا اس پر تسلّط اور اس کا مرد پر انحصار ختم ہوگیا۔ چنانچہ اب مرد کو اتنا بھی حق نہ رہا کہ وہ عورت سے کوئی ایسی بات کہہ سکے جو اس کے طبع نازک پر گراں گزرے۔ عورت میں یہ احساس بیدار ہوگیا کہ جب اس کے اور مرد کے تمام حقوق مساوی اور یکساں ہیں تو وہ مرد کی برتری اور بالادستی کیوں تسلیم کرے۔
تحریک آزادئ نسواں سے عورتوں کو اگرچہ بعض فوائد حاصل ہوئے ہیں، لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس نے مردوں اور عورتوں کو مدّ مقابل لاکھڑا کیا، نظام خاندان میں دونوں کی حیثیت رفیق (Partner) اور حلیف (ally) کی تھی اور دونوں کو مل کر تمدن کی گاڑی کھینچنی تھی۔ اسی بنا پر فطرت کی طرف سے دونوں میں ایک دوسرے سے محبت، ہم دردی، اپنائیت اور غم گساری کے جذبات ودیعت کیے گئے تھے۔ تحریکِ آزادئ نسواں نے دونوں کو فریق (Party) اور حریف (Rival) بنادیا اور اپنے لیے زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کرنا اور دوسرے کے جائز حقوق کو بھی تسلیم نہ کرنا اس تحریک کا مطمح نظر بن گیا۔
پھر جب مرد اور عورت دونوں فریق بن گئے تو مرد اپنے حقوق حاصل کرنے اور عورت پر اپنا تسلّط جمانے میں پیچھے کیوں رہے۔ اس کے لیے اس نے اپنے دست و بازو کو بھی استعمال کیا۔ گھر کی چار دیواری میں یوں بھی باہر کے لوگوں کا زور نہیں چلتا، عملاً اقتدار مرد کو حاصل رہتا ہے، چنانچہ مرد نے اپنے اس اقتدار کا خوب خوب استعمال کیا۔ عورت جب زبانی تنبیہ و سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ
کے ذریعے اس کے قابو میں نہیں آئی تو اس نے زورِ بازو کا استعمال شروع کردیا۔ مارکھانا عورت کا مقدّر ٹھہرا۔ عہد قدیم میں بھی وہ مرد کی جانب سے جسمانی اذیتوں کا شکار تھی اور عہد جدید میں بھی اس کے حقوق کی طویل فہرست بن جانے کے باوجود اسے اذیتوں سے راحت نہ مل سکی۔

گھریلو تشدد: عالمی صورت حال
حقوقِ نسواں کے علم برداروں نے اس صورت حال کا جائزہ لینے، اس میں سدھار پیدا کرنے اور عورت کو اس سے نجات دلانے کے لیے ایک خاص اصطلاح وضع کی ہے۔ اور وہ ہے ’گھریلو تشدّد‘ (Domestic Violence) اس سے وہ کیا مراد لیتے ہیں اس کا اندازہ اس کی تعریف سے کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ کے ایک سرکاری ادارے US Office on Violence against Women نے گھریلو تشدد کی یہ تعریف کی ہے:
"Pattern of abusive behavior in any relationship that is used by one partner to gain or maintain power and control over another intimate partner” 1؂
’’دو قریبی افراد (یعنی مرد و عورت) جو کسی بھی رشتہ میں منسلک ہوں، ان میں سے ایک کی جانب سے بدسلوکی کا رویّہ جو وہ دوسرے کے مقابلے میں طاقت اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے ظاہر کرے‘‘۔
الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہی تعریف برطانیہ کے سرکاری ادارے The Children and Family Court Advisory and Support Service کی دستاویز Domestic Violence Assessment Policy میں بھی ملتی ہے۔ 2؂
اس تعریف کا اطلاق یوں تو ایک ساتھ رہنے والے کسی بھی مرد و عورت پر ہوسکتا ہے، خواہ ان کے مابین کوئی بھی رشتہ ہو، لیکن عموماً اس سے مراد وہ مرد و عورت لیے جاتے ہیں جو رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوکر یا اس کے بغیر میاں بیوی کے طور پر رہتے ہیں۔
گھریلو تشدد کی مختلف صورتیں بتائی گئی ہیں۔ یہ جسمانی (Physical) بھی ہوسکتا ہے کہ فریقین میں سے کوئی دوسرے کو جسمانی طور پر اذیت دے، اسے مارے پیٹے ، جس سے اس کا بدن زخمی ہوجائے، جنسی (Sexual) بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر بہ جبر اس سے جنسی تعلق قائم کرے۔ مالی (Financial) بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جو کچھ کمائے دوسرا فریق اس پر قبضہ کرلے اور اسے اپنی مرضی سے خرچ نہ کرنے دے۔ سماجی (Social) بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اپنے سے حقیر سمجھے اور دوسروں کے سامنے اسے ذلیل کرے ۔ جذباتی (Emotional) بھی ہوسکتا کہ کوئی ایسا کام کرے جس سے دوسرے فریق کے جذبات مشتعل ہوں، اسے غصہ آئے یا وہ رنج و غم میں مبتلا ہو، نفسیاتی (Psychological) بھی ہوسکتا ہے کہ اسے ڈرائے دھمکائے، یا اپنی باتوں سے اسے اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کرے۔ یہ تمام صورتیں گھریلو تشدد کے دائرے میں آتی ہیں۔
سماجی طور پر دیکھیں تو موجودہ دنیاکا سب سے گمبھیر مسئلہ گھریلو تشدد ہے۔ کوئی ملک اس سے محفوظ نہیں۔ تمام سماجوں، نسلوں اور طبقات میں یہ عام ہے۔ 1999ء میں 35 ممالک میں کرائے گئے سروے سے واضح ہوا تھا کہ 52 فی صد عورتیں زندگی میں کبھی نہ کبھی اپنے intimate partners (یعنی شوہر یا جن کے ساتھ وہ بیویوں کی حیثیت سے رہتی ہیں) کی جانب سے تشدد کا شکار ہوئی تھیں۔ مجموعی طور سے دیکھا جائے تو دنیا کی ایک تہائی عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ World HealthOrganisation کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پوری دنیا میں مقتول ہونے والی عورتوں میں سے چالیس فی صد ایسی ہوتی ہیں جن کے قتل کرنے والے ان کے شوہر یا بوائے فرینڈ ہوتے ہیں۔ World Bank کی ایک رپورٹ میں عورتوں کے اسبابِ موت میں گھریلو تشدد کو کینسر کی طرح خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
اس مظہر پر اقوام متحدہ کے ایک نمائندہ Yakin Erturk (Special rapporteur on violence against women) نے یوں روشنی ڈالی ہے:
"Violence against women is a universal phenomenon that persist in all countries of the world, and the perpetrators of that violence are often wellknown to their victims” 3؂
’’عورتوں کے خلاف تشدّد ایک عالمی مظہر ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں پایا جاتا ہے۔ اس تشدّد کا ارتکاب کرنے والے عام طور سے ان مظلومین کے نزدیک معروف ہوتے ہیں‘‘
صورت حال کے جائزے اور تدارک کے لیے عالمی کوششیں
گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی سے نسائی تحریکات کی جانب سے عورتوں کے خلاف گھریلو تشدد کے مسئلے پر توجہ دی گئی اور اسے ایک عالمی مسئلہ کی حیثیت سے ابھارکر پیش کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے اس مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس سے متعلق مختلف قرار دادیں منظور کیں اور ممبر ممالک کو ان کا پابند کرنے کی کوشش کی۔
1992ء میں UN Commission on the Status of Women نے ایک اسپیشل ورکنگ گروپ بنایا اور اسے اختیار دیا کہ وہ ’عورتوں کے خلاف تشدّد پر اعلامیہ‘ (Decleration on Violence against Women) کا ایک ڈرافٹ تیار کرے۔
1993ء میں UN Commission for Human Rights نے ایک قرار داد منظور کی جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تشدد کی تمام شکلوں، خاص طور پر خواتین کے خلاف تشدّد کی مذمت کی گئی تھی۔
اسی سال ویانا میں حقوق انسانی پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں عورتوں کے خلاف تشدد کاخاتمہ کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی گئی۔ اس موقع پر ایک اعلامیہ منظور کیا گیا جسے ’عورتوں کے خلاف تشدّد کے خاتمہ کا اعلامیہ‘ (Decleration on the Elimination of Violence against Women) نام دیا گیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ اور اس کے ممبر مالک پبلک لائف اور پرائیوٹ لائف دونوں سے عورتوں کے خلاف تشدّد ، جنسی ایذا رسانی اور نظام عدل میں صنفی تفریق کے خاتمہ کے لیے کام کریں گے۔ یہ اعلامیہ بین الاقوامی سطح پر حقوق انسانی کی پہلی دستاویز تھا جس میں گھریلو تشدّد کو موضوع بنایا گیا تھا۔ اس میں زور دے کر یہ بات کہی گئی تھی کہ گھریلو تشدّد عورت کے انسانی حقوق اور اس کو حاصل بنیادی آزادی کے خلاف ہے۔
1994ء میں UN Commission for Human Rights نے ایک قرار داد منظور کی کہ ایک اسپیشل rapporteur کاتقرر کیا جائے جو گھریلو تشدّد کے اسباب و عواقب کا جائزہ لے۔ اس کا کام یہ طے کیا گیا کہ وہ جامع طور سے بین الاقوامی سطح پر عورتوں کے خلاف تشدد کے اعداد و شمار جمع کرکے ان کا تجزیہ کرے اور تشدّد روکنے کی تدابیر بتائے۔
1995ء میں بیجنگ (چین) میں 4th World Conference on Women منعقد ہوئی۔ اس میں عورتوں کے خلاف تشدّد کو ایک نازک اور سنگین مسئلہ قرار دیا گیا جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اس وقت کے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل پطرس غالی (Boutros-Ghali) نے صورت حال کی سنگینی کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’عورتوں کے خلاف تشدّد ایک عالمی مسئلہ ہیجو مسلسل بڑھ رہا ہے‘‘۔ اس موقع پر تشدد روکنے کے لیے platform for action تجویز کیا گیا۔
1996ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے UN Trust Fund قائم کیا ، جس کا مقصد عورتوں کے خلاف تشدد روکنے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کرنا تھا۔
دس ممالک میں اقوام متحدہ کا سروے
1997ء میں اقوام متحدہ نے عورتوں کے خلاف تشدد کے سلسلے میں دنیا کے دس ممالک کا سروے کرایا۔ اس سروے کی رپورٹ The WHO Multi-country Study on Women’s Health and Domestic Violence against Women کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔ اس رپورٹ نے عالمی سطح پر عورتوں کے خلاف گھریلو تشدد کو نمایاں کرکے پیش کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کا خلاصہ بیان کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
اس سروے کا مقصد یہ جائزہ لینا تھا کہ عورتوں پر ان کے Intimate Partner کی جانب سے کتنا تشدد ہوتا ہے اور اس کا ان کی صحت پر کتنا اثر پڑتا ہے؟ سروے میں جن ممالک کو شامل کیا گیا ان کے نام یہ ہیں: (1) بنگلا دیش (2) برازیل (3) ایتھوپیا (4) جاپان (5) نامیبیا (6) پیرو (7) سموا (8) سربیا و مونٹے نیگرو (9)تھائی لینڈ (10) تنزانیا۔ سروے کے لیے انہی ممالک کو کیوں منتخب کیا گیا اس کی وجہ رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ وہاں عورتوں کے خلاف تشدد کے اعداد و شمار پہلے موجود نہیں تھے اور مقامی طور پر وہاں ایسے تشدد مخالف گروپ (Anti-Violence groups) سرگرم تھے جو یہ اعداد و شمار صورت حال کی بہتری اور تشدد کی روک تھام کے لیے استعمال کرسکتے تھے، نیز وہاں ایسا سیاسی ماحول بھی پایا جاتا تھا جو اس مسئلہ سے بہ خوبی نمٹ سکتا تھا۔
ان دس ممالک کے پندرہ مقامات پر چوبیس ہزار عورتوں سے تشدد کی مختلف صورتوں (جسمانی، جنسی، نفسیاتی وغیرہ) سے متعلق سوالات کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ زیر سروے تمام ممالک میں گھریلو تشدد وسیع پیمانے پر ہورہا ہے۔ اس کا تناسب سب سے کم (22215) جاپان میں اور سب سے زیادہ (22271) بنگلادیش، ایتھوپیا، پیرو اور تنزانیا میں ہے۔ زیادہ ترعلاقوں میں تشدد کا تناسب 29 سے 62 فی صد کے درمیان تھا۔ جسمانی تشدد میں تھپڑمارنا، کوئی چیز پھینک کرزخمی کردینا، لات گھونسہ مارنا، ڈنڈے سے پٹائی کرنا اور بندوق یا کسی دوسرے ہتھیار سے نقصان پہنچانا، جنسی تشدد میں عورت کی مرضی کے علی الرغم یا اسے خوف زدہ کرکے جنسی تعلق قائم کرنا، نفسیاتی تشدّد میں تذلیل و تحقیر کرنا اور ڈرانا دھمکانا شامل ہے۔ سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عموماً 15 سے 19 سال کی عورتیں جسمانی اور جنسی تشدد کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ تشدد سے عورتوں کی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے اعضائے بدن پر خراشیں اور چوٹیں آتی ہیں، آنکھ ، ناک، کان زخمی ہوجاتے ہیں، ہڈی ٹوٹ جاتی ہے اور وہ بے ہوش ہوجاتی ہیں۔ زیادہ تر عورتوں کو دوران حمل بھی پیٹا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی دماغی صحت بھی متاثر ہوئی ، چنانچہ ان میں سے بہت سوں نے مارکھانے کے بعد خودکشی کا ارادہ کیا۔
اس سروے کا خلاصہ عورتوں کے خلاف تشدد کے اسپیشل رپورٹر Yakin Ertusk کے الفاظ میں یہ ہے:
"This study challenges the perception that home in a safe haven for women by showing that women are more at risk of experiencing violence in intimate relationship than any where else.” 4؂
’’یہ مطالعہ اس گمان کو چیلنج کرتا ہے کہ گھر عورتوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ اس لیے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کے لیے دوسروں کی بہ نسبت اپنے قریب ترین رشتہ داروں کی جانب سے تشدد کا زیادہ خطرہ رہتا ہے‘‘۔
دیگر ممالک کا جائزہ
یہ محض گنتی کے چند ملکوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ دنیاکے تمام ممالک اس تشویش ناک صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ ان میں وہ ممالک بھی ہیں جن کے باشندوں کاتہذیبی و سماجی شعور زیادہ بلند نہیں ہے اور وہ ممالک بھی ہیں جنھیں عصر حاضر میں تہذیب و تمدن کا امام سمجھا جاتا ہے۔ ہرجگہ عورتیں بری طرح ظلم و تشدد کا شکار ہیں اور ان پر ظلم ڈھانے والے کوئی اور نہیں ان کے شوہر، سابق شوہر، بوائے فرینڈ یا دیگر قریبی افراد ہیں۔
2002ء میں WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا، کینیڈا، اسرائیل، جنوبی افریقہ اور امریکہ میں کیے گئے مطالعات سے معلوم ہوا کہ مقتول عورتوں کی 40 سے 70 فی صد تعداد ان عورتوں کی تھی جو اپنے intimate partners کے ذریعے قتل کی گئیں۔
بعض سروے رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو عورتیں اپنے گھروں میں قریبی افراد، مثلاً شوہروں کے ذریعہ تشدد کا شکار ہوتی ہیں ان کا تناسب سویڈن میں 70 فی صد ، جارجیا میں 50 فی صد، ڈومینیکین ریپبلک (Dominican) میں 48 فی صد، بوٹسوانا (Botswana) میں 60 فی صد، باربڈوس (Barbados) میں 30 فی صد، مصر میں 34 فی صد اور نیوزی لینڈ میں 35 فی صد ہے۔
یورپی ممالک میں گھریلو تشدد کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر 2002ء میں کونسل آف یورپ نے گھریلو تشدد کو پبلک ہیلتھ ایمرجنسی ڈکلیر کردیا۔
پوری دنیا میں گھریلو تشدد کے جتنے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، ان میں سے ایک تہائی تعداد امریکہ اور برطانیہ کی ہوتی ہے۔ 2000ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں ہر سال تقریباً 13 لاکھ عورتیں اپنے قریبی رفقا intimate partners کے ذریعے جسمانی تشدد اور ایذا رسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ 5؂ 2000ء میں جتنی عورتیں اسلحہ کے ذریعے قتل کی گئیں ان کی دو تہائی تعداد ان عورتوں کی تھی جنھیں قتل کرنے والے ان کے intimate partners تھے۔ U.S. Department of Justice کے مطابق 1998ء سے 2002ء کے درمیان فیملی ممبرس کے خلاف تشدد کے 35 لاکھ واقعات رپورٹ کیے گئے۔ ان میں سے 49 فی صد واقعات زوجین (Spouses) کے خلاف تشدّد کے تھے اور ان میں بھی 84 فی صد تعداد عورتوں کی تھی جو مردوں کے ہاتھوں تشدد اور بدسلوکی کا شکار ہوئی تھیں۔ اپنے جوڑے کے ساتھ بدسلوکی کے الزام میں جو لوگ جیل میں بند تھے ان میں سے 50 فی صد وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے جوڑے کو قتل کردیا تھا اور مقتول ہونے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں کی تھی۔6؂
1992ء کی ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی عورتوں کا تناسب 25 فی صد تھا۔ 7؂ پولیس کو رپورٹ ہونے والے Violence Crimes میں سے 25 فی صد سے زائد گھریلو تشدد سے متعلق ہوتے ہیں۔ مقتول ہونے والی عورتوں میں سے 40 سے 45 فی صد وہ عورتیں ہوتی ہیں جنھیں قتل کرنے والے ان کے Male partners ہوتے ہیں۔ 8؂ ماضی قریب کی ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور Wales میں ہر ہفتہ دو عورتیں موجودہ یا سابق Male Partners کے ذریعے ہلاک کردی جاتی ہیں۔ اور ہر منٹ میں گھریلو تشدد کا ایک کیس رپورٹ کیا جاتاہے۔9؂ اسکاٹ لینڈ میں 2007۔2006ء میں گھریلو تشدد کے تقریباً 49 ہزار کیس درج کیے گئے۔ ان میں سے 87 فی صد کیس ایسے تھے جن میں عورتیں ظلم و تشدد کا شکار بنی تھیں اور ان میں بھی 90 فی صد واقعات متأثرہ عورتوں کے گھر میں پیش آتے تھے۔
برّصغیر کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ Human Rights Watch کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 90 فی صد عورتیں اپنے گھروں میں جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کا شکار بنتی ہیں۔ Human Rights Commission of Pakistan کی ایک رپورٹ کے مطابق 1993ء میں صوبۂ پنجاب میں گھریلو تشدد کے 400 کیس ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے نصف بیویوں کے قتل کے تھے۔
UN Population Fund کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 70 فی صد شادی شدہ عورتیں 15سے 49 سال کی عمر میں گھریلو تشدد کاشکار بنتی ہیں، ان کی پٹائی کی جاتی ہے اور ان کے ساتھ بہ جبر جنسی تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں روزانہ 14 عورتیں اپنے شوہروں کے ہاتھوں موت کا شکار ہوتی ہیں۔ ہندوستان کے National Crime Record Bureau سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق ہر تین منٹ میں ایک عورت سے ارتکابِ جرم ہوتا ہے اور ہر چھ گھنٹے میں ایک شادی شدہ عورت کی، پٹائی سے موت ہوجاتی ہے ، یا اسے زندہ جلادیا جاتا یاخود کشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے عصری قوانین
گھریلو تشدد کی اس انتہائی سنگین صورت حال نے سماجی مصلحین، سیاسی زعماء، قانون بنانے والی شخصیات اور اسے نافذ کرنے والے اداروں، سب کو پریشان کررکھا ہے اور وہ اس کے تدارک کے لیے جی جان سے لگے ہوئے ہیں۔
1999ء سے ہر سال اقوام متحدہ کی جانب سے 25؍ نومبر کو عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمہ کے بین الاقوامی دن کی حیثیت سے منایا جاتا ہے، جس میں اس معاملے میں بیداری لانے اور گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے اس موضوع پر عالمی سطح کی کئی کانفرنسیں منعقد ہوئی ہیں، متعدد اعلامیے منظور کیے گئے ہیں اور ممبر ممالک کو عورتوں کے خلاف تشدد روکنے کے لیے قوانین بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس میدان میں اب تک کتنی پیش رفت ہوئی ہے اس کا اندازہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی ایک رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جو انھوں نے 2006ء میں In-Depth Study on All Forms of Violence against Women کے عنوان سے پیش کی تھی۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ 89 ممالک نے عورتوں کے خلاف تشدد کے سلسلے میں Lagislative Provisions بنائے ہیں، ان میں سے 60 ممالک ایسے ہیں جنھو ں نے Special Domestic violence Laws وضع کیے ہیں، اس کے علاوہ بہت سے ممالک نے گھریلو تشدد ختم کرنے کے لیے National Plan of Action تیار کیے ہیں۔ یہ صورت حال 2003ء کے مقابلے میں بہتر ہے، جب UNIFEM نے Anti-Violence Lagislation کا ایک Scan تیار کیا تھا تو اس سے معلوم ہواتھا کہ صرف 45 ملکوں نے گھریلو تشدد کے سلسلے میں خصوصی قوانین بنائے ہیں۔
حالیہ برسوں میں گھریلو تشدد روکنے کے لیے ہندوستان میں ایک قانون منظور کیا گیا ہے۔ اس کا نام ہے : The Protection of Women from Domestic Violence Act 2005 ۔ یوں تو ایک دہائی قبل سے اس پر کام ہورہا تھا ۔ 1992ء میں ہندوستانی وکلاء نے گھریلو تشدد کے موضوع پر ایک ابتدائی ڈرافٹ تیار کیا تھا، پھر 1994ء میں National Commission for Women (NCW) نے ایک بل تیار کیا۔ بعد میں ہندوستانی وکلاء نے نسائی تحریکات کے رہ نماؤں کی مشاورت سے 1999ء میں ایک دوسرا بل تیار کیا۔ حکومت ہند نے 2001ء میں پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا جس کا نام The Protection from Domestic Violence Bill 2001 تھا۔ کئی بار کی بحث و تمحیص او رنظر ثانی کے بعد اگست 2005ء میں اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا، ستمبر 2005ء میں صدر جمہوریہ نے اس پر دستخط کیے اور 26 ؍ اکتوبر 2006ء سے ایکٹ کی صورت میں اس کا نفاذ ہوا۔
اس قانون کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
1۔ اس کے دائرہ میں تشدد کی تمام صورتوں (زبانی، جسمانی، جنسی، نفسیاتی، معاشی وغیرہ) کو شامل کیا گیا ہے۔ تشدد کی ہر وہ صورت ، جس سے عورت کو جسمانی یا نفسیاتی طور پر اذیت پہنچے یا اس کی صحت یا زندگی کو خطرہ لاحق ہو، اس میں شامل ہے۔
2۔ اس سے فائدہ اٹھانے کا حق صر ف بیوی ہی کو نہیں ، بلکہ اس عورت کو بھی ہوگا جو غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی مرد کیساتھ رہتی ہو اور اس سے اس کا جنسی تعلق ہو۔
3۔ نہ صرف شوہر یا Male Partner بلکہ اس کے قریبی رشتہ داروں: ماں، بہن وغیرہ کے خلاف بھی کیس فائل کیا جاسکتا ہے۔
4۔ صرف مظلومہ ہی نہیں، بلکہ اس کا پڑوسی، رشتہ دار یا کوئی بھی سماجی کارکن اس کی طرف سے کیس درج کراسکتا ہے ۔
5۔ مظلومہ اپنے Partner کے جس گھر میں رہتی ہے، عدالت اس کا ایک حصہ اس کے استعمال کے لیے خاص کردے گی اور ملزم کو نہ صرف یہ کہ اس الاٹ شدہ حصہ میں جانے کی اجازت نہ ہوگی، بلکہ مظلومہ سے زبانی، تحریری، فون یا ای میل سے کسی طرح کا رابطہ کرنا اس کے لیے ممنوع ہوگا۔
6۔ مجسٹریٹ نہ صرف یہ کہ مظلومہ کے گزارہ کے لیے ماہانہ ایک رقم متعین کردے گا، جس کی ادائیگی ملزم کے ذمے ہوگی، بلکہ تشدد کے نتیجے میں مظلومہ کو پہنچنے والی جراحت ، خواہ وہ جسمانی ہو یا نفسیاتی، اس کاہرجانہ بھی ملزم پر عائد کرے گا۔
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی
مذکورہ قانون کی تفصیلات سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے اس میں کتنی سختی رکھی گئی ہے۔ لیکن کیا یہ عورت کے درد کا درماں بن سکا۔ اس سے پراپرٹی کی مالک upper class کی بعض عورتوں کا تو فائدہ اٹھانا ممکن ہوا کہ وہ اپنے شوہروں پر جھوٹے سچے الزامات لگاکر انھیں پریشان کرتی رہیں ۔ 10؂ اورنسائی تحریکات کے ان علم برداروں کی بھی باچھیں کھل گئیں جو عورت کی مظلومیت کا تمام تر ذمہ دار مرد اور اس کے خاندان والوں کو سمجھتے ہیں، لیکن عام عورتوں کی غالب اکثریت کو اس سے کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ وہ اب بھی تشدّد کا شکار ہیں۔ یہی حال دوسرے ممالک کا بھی ہے، کہ وہاں تشدّد روکنے کی ہزارہا کوششوں کے باوجود اس میں کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ 13؍ اکتوبر 2009ء کو پیش کی گئی اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ سے بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے:
"Despite efforts by governments and compaigns carried out by international organizations, violence against women continued on a wide scale in both developed and developing countries” 11؂
’’حکومتوں کی کوششوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی مہمات کے باوجود عورتوں کے خلاف تشدد ترقی یافتہ اورترقی پذیر دونوں طرح کے ملکوں میں بڑے پیمانے پر برابر جاری ہے‘‘۔
غلط تشخیص، غلط علاج
گھریلو تشدد روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں، حکومتوں کی مساعی اور نسائی تحریکات کی مہمّات کے باوجود اس میں کمی نہ آنے کا سبب یہ ہے کہ مسئلہ کی غلط تشخیص کی گئی اور مرض کا غلط طریقے سے علاج کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ خیال کیا گیا کہ عورتوں کی مظلومیت کا سبب انھیں مردوں کے مساوی اور ان کے جیسے حقوق حاصل نہ ہوناہے، چنانچہ تحریکیں چلاکر انھیں بھی وہ تمام حقوق دلایے گئے جن سے مرد بہرہ ور تھے۔ یہ خیال کیا گیا کہ ان کی مظلومیت کا سبب ان پر بے جا پابندیاں اور آزادی سے محرومی ہے، چنانچہ ان کے لیے ہر طرح کی آزادی کی وکالت کی گئی اور انھیں یہ حق دلایا گیا کہ وہ اپنی مرضی کی آپ مالک ہیں، کوئی، حتّٰی کہ ان کے شوہر بھی ان پر اپنی مرضی نہیں تھوپ سکتے۔ یہ خیال کیا گیا کہ ان کی مظلومیت کا سبب مالی اعتبار سے مردوں پر ان کا انحصار ہے، چنانچہ ملازمتوں کے دروازے ان پر کھول دیے گئے اور انھیں خود کفیل بنادیا گیا۔ حالاں کہ یہ تمام خیالات بے بنیاد اور غلط تجزیہ پر مبنی تھے۔ چنانچہ صحیح تشخیص اور صحیح علاج نہ ہونے کی بنا پر مرض میں نہ صرف یہ کہ کوئی افاقہ نہیں ہے، بلکہ اس کی شدّت اور خطرناکی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close