معاشرہ اور ثقافت

گھریلو تشدد کی روک تھام کی تدابیر – (قسط آخری) 

مسلم دانش وروں کی سوچ
اسلام کی ان تعلیمات میں غیر معمولی اعتدال اورتوازن پایا جاتا ہے۔ اس نے عورت پر بے ظلم ڈھانے اورتشدد کرنے کیاجازت دی ہے نہ اسے کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ شوہر کی جتنی چاہے نافرمانی کرے مگرشوہر اس سے کچھ نہ کہے۔ اس نے ایک طرف شوہر کو حکم دیا کہ بیوی کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آئے اور اچھا سلوک کرے ، دوسری طرف اس کو اس بات کی بھی اجازت دی کہ اگر بیوی کی طرف سے سرکشی کا مظاہرہ دیکھے تو اس کی تادیب اور سرزنش کرے۔ لیکن بعض مسلم دانش وروں کو مذکورہ آیت کی اس تاویل و تفسیر سے اتفاق نہیں ۔ وہ غیروں کے اس اعتراض سے بچنا چاہتے ہیں کہ اسلام نے شوہر کو اپنی بیوی کو زدو کوب کرنے کا اختیار دیا ہے، چنانچہ وہ اس آیت کی دور از کار تاویل کرتے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ سطور میں ان کی تاویلات کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔
(1) پاکستان کے کوئی صاحب احمد علی ہیں جنھوں نے Al-Quran A Contemporary Translation کے نام سے قرآن کریم کا ترجمہ کیا ہے۔ زیرِ بحث آیت کا انھوں نے یہ ترجمہ کیا ہے:
"As for women you feel are averse, talk to them suasively; then leave them alone in bed (without molesting them) and go to bed with them (when they are willing).”
’’اور جو عورتیں تمھیں بے زار اور متنفر محسوس ہوں ، تم ان سے سمجھانے بجھانے کے انداز میں گفتگو کرو ، پھر انھیں بستر میں تنہا چھوڑ دو (بغیر انہیں ستائے) اور ان کے ساتھ بستر پر جاؤ (جب وہ چاہیں)۔‘‘
ترجمہ میں جو ابہام تھا اسے موصوف نے حاشیہ میں کھول دیا ہے : have intercourse (یعنی ان سے مجامعت کرو) پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ تینوں الفاظ کے جو معانی انھوں نے بتائے ہیں وہی راغب اصفہانی ، ابن منظور اور زمخشری کے نزدیک بھی مراد ہیں، خاص طور سے ’ضرب‘ کے معنی مجامعت کے راغب اور ابن منظور دونوں نے بیان کیے ہیں۔ آخر میں فرماتے ہیں:
’’یہاں ’اضربوھن‘ کے معنی اُن کو یعنی عورتوں کو مارو، لیے ہی نہیں جاسکتے ۔ اس نقطۂ نظر کی تائید پیغمبر کی مستند احادیث سے ہوتی ہے، جو حدیث کی معتبر کتابوں بہ شمول بخاری و مسلم میں موجود ہیں، مثلاً ’’تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارے جس طرح غلام کو مارتا ہے کہ پھر شام کو اس کے ساتھ مجامعت کرے گا ‘‘ اس مضمون کی دیگر احادیث ابوداؤد، نسائی ، ابن ماجہ، احمد اور دیگر کتب میں مروی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کسی بھی عورت کو مارنے سے منع کیا ہے ’’اللہ کی باندیوں کو نہ مارو‘‘۔ 60؂
واقعہ یہ ہے کہ خود ساختہ معانی کی نسبت زمخشری، راغب اصفہانی اور ابن منظور کی طرف کرنا ان پر اتہام ہے۔ اگر بالفرض تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ’ضرب‘ کے بہت سے معانی میں سے ایک معنیٰ مجامعت کے آتے ہیں ، تو کیا اس آیت میں بھی یہ معنیٰ مراد لیا جاسکتا ہے؟ آیت میں بیوی کے نشوز یعنی سرکشی پر تادیبی تدابیر کا بیان ہورہا ہے اور ’واضربوھن‘ کا ترجمہ یہ کیا جارہا ہے کہ ان سے مجامعت کرو جب وہ چاہیں ۔ موصوف کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس میں کون سی تادیب ہوئی؟!
(2) قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ ترکی سے شائع ہوا ہے۔ اسے Quran A Reformist Translation کا نام دیا گیا ہے۔ مترجمین کی حیثیت سے اس پر تین حضرات کا نام درج ہے: Edip Yuksel, Layth Saleh al-Shaiban, Martha Schulte-Nateh اس میں ’واضربوھن‘ کا ترجمہ and Seprate them (اور انھیں علیٰحدہ کردو) کیاگیاہے۔ 61؂
(3) ایک اور انگریزی مترجم ہیں جنھوں نے اس آیت کا ترجمہ and threaten them (اور انھیں دھمکی دو) کیا ہے62؂
کسی لفظ میں جو بھی دل میں آئے معنی لے لیا جائے ، خواہ لغت اور کلام عرب میں کبھی اس کے وہ معنیٰ لیے گئے ہوں یا نہ لیے گئے ہوں ، یہ قرآن کے ساتھ کھلا ہوا مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی رویّے پر علامہ اقبال نے مرثیہ خوانی کی تھی:
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
(4) بعض حضرات زیر بحث آیت میں لفظ ’ضرب‘ کو اس کے معروف معنٰی سے پھیر کر اسے دوسرا مفہوم پہناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ’ضرب‘ سے مراد ’ضرب مثل‘ ہے، یعنی مثالیں بیان کرنا، جناب غلام احمد پرویز نے اس خود ساختہ مفہوم کی طرف اشادہ کرتے ہوئے اس کی کم زوری واضح کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ضَرَبَ مَثَلاً کے معنٰی ہیں مثال کے ذریعے بات کو واضح کردینا، لیکن بعض مقامات پر صرف ضَرَبَ کے بھی یہی معنٰی آتے ہیں، مثلاً کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ (اس طرح اللہ تعالیٰ حق و باطل کی وضاحت کرتا ہے یا بات کو سمجھاتا ہے) اگرچہ (جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے) اس کے معنٰی حق و باطل کی کش مکش کے بھی ہیں۔ اسی طرح سورۂ زخرف میں ہے: مَاضَرَبُوْہُ لَکَ اِلاَّ جَدْلاً (یہ لوگ تجھے بات نہیں سمجھاتے (مثال پیش نہیں کرتے) بلکہ محض جھگڑا کرتے ہیں) اس سے (بعض لوگوں کا خیا ل ہے کہ ) سورۂ نساء میں جو عورتوں سے متعلق ہے کہ وَاضْرِبُوْہُنَّ تو اس کے معنٰی ہیں مختلف طریقوں سے مثالیں دے کر انھیں سمجھاؤ یعنی واضربوا لہن مثلاً، لیکن یہ معنٰی اس لیے کم زور ہیں کہ سمجھانے کے اس سے پہلے فَعِظُوْہُنَّ آچکا ہے ۔‘‘63؂
(5) مولانا عمر احمد عثمانی فرماتے ہیں:
’’اس آیت میں دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ یہاں خطاب میاں بیوی کو نہیں ہے، بلکہ جماعت کو ہے … لہٰذا گھر کا بڑا بزرگ ، خاندان کا سربراہ، حاکمِ مجاز، باپ بھائی سب اس خطاب میں آجاتے ہیں کہ وہ اول عورت کو نصیحت کریں، اسے اس کے سونے کے کمرہ میں تنہا چھوڑ دیں، ان باتوں سے اصلاح نہ ہو تو جسمانی سزا دیں جو اذیّت رساں نہ ہو، بہ شرطے کہ معاملہ کھلی بے حیائی اور بے راہ روی کا نہ ہو‘‘۔ 64؂
کوئی مولانا سے پوچھے کہ شوہر تنہائی میں بیوی کی سرزنش کرے اور ہلکی سی جسمانی سزا دے، یہ بات عورت کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہوگی یا باپ بھائی اس کی سسرال میں آکر اس کی پٹائی کریں یا حاکم مجاز علی الاعلان اسے جسمانی سزا دے، اس میں اسے اپنی خفّت اور توہین زیادہ محسوس ہوگی ؟! مولانا سے یہ بھی پوچھنے کا جی چاہتا ہے کہ گھر کا کوئی بزرگ یا شوہر کے علاوہ کوئی دوسرا شخص عورت کو اس کے سونے کے کمرے میں تنہا چھوڑدے، اس میں عورت کی تادیب کا کون سا پہلو ہوا؟ تادیب تو اس صورت میں ہوگی جب شوہر اس سے اپنی نگاہِ التفاف پھیرلے اور قریب میں رہتے ہوئے اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔ شیخ رشید رضا نے اس پہلو پر بہت اچھی روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے آیت کے ٹکڑے ’وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ‘ کی تاویل میں مفسرین کے بعض اقوال پر نقد کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’قرآن کہتا ہے ’’خواب گاہوں میں ان سے ترکِ تعلق رکھو‘‘ یہ چیز نہ بستر چھوڑدینے سے حاصل ہوگی اور نہ کمرہ، بلکہ یہ چیز اس وقت حاصل ہوگی جب بستر میں ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان سے ترکِ تعلق کیا جائے۔ بستر یا کمرہ چھوڑنا سزا میں زیادتی ہے، جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا ہے۔ بلکہ بسا اوقات یہ چیز بے رخی اور تنفّر میں زیادتی کا سبب بنے گی۔ بستر میں رہتے ہوئے ترکِ تعلق سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ بستر یا گھر چھوڑ دینے سے حاصل نہیں ہوگا۔ بستر میں یکجائی سے ازدواجی احساسات برانگیختہ ہوتے ہیں۔ زوجین میں سے ہر ایک کو دوسرے سے سکون ملتا اور حادثات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اضطراب دور ہوتا ہے، اگر اس حال میں مرد عورت سے ترک تعلق اور اس سے اعراض کرے گا تو امید ہے کہ ازدواجی احساس اور نفسیاتی سکون عورت کو مرد سے اس کا سبب معلوم کرنے پر آمادہ کرے گا اور وہ مخالفت کی بلند زمین سے اتر کر موافقت کی ہموار زمین پر آجائے گی‘‘۔65؂
(6) جناب غلام احمد پرویز بھی شوہر کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ اپنی بیوی کو بدنی سزا دے سکے، بلکہ اسے وہ عدالت کا کام قرار دیتے ہیں۔ اپنی کتاب ’لغات القرآن‘ میں انھوں نے لفظ ’ضرب‘ کے مختلف استعمالات اور ان کے معانی بتائے ہیں، اس ذیل میں زیربحث آیت کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’فَاضْرِبُوْہُنَّ سے مراد وہ وہ بدنی سزا (corporal Punishment) ہے جو عدالت کی طرف سے بعض جرائم کی سزا میں دی جاتی ہے۔ عورتوں کا بلا عذر اپنے فطری وظائفِ زندگی (اولاد پیدا کرنے) سے سرکشی برتنا اور مرد بننے کی خواہش کرنا (جیسا کہ یورپ میں ہورہا ہے) ایک معاشرتی جرم ہے، جس کا بذریعۂ عدالت روکاجانا ضروری ہے‘‘۔66؂
اس سلسلے میں بھی یہی بات کہی جائے گی کہ شوہر بیوی کی کسی حکم عدولی یا سرکشی پر بہ طور تنبیہ و تادیب اسے اکیلے میں ہلکے ہاتھ سے ایک دو ضرب لگادے، یہ اس کے مقابلے میں کہیں ہلکی سزا ہے کہ وہ اس کا کیس عدالت میں لے جائے، وہاں اس کی نافرمانی و سرکشی کے واقعات بیان کرے اور ان کے ثبوت و شواہد پیش کرکے کھلے عام اس کی رسوائی کا سامان فراہم کرے۔ جو حضرات شوہر کے ہاتھوں عورت کو ہلکی سے ہلکی سزا بھی دینے کے قائل نہیں ہیں وہ انجانے میں اس سے کہیں زیادہ بھاری سزا دینے کی وکالت کرنے لگتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ اسلام نے اگرچہ مردوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ ناگزیر صورت میں اپنی بیویوں کی تنبیہ اور سرزنش کرسکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ان پر اتنی پابندیاں بھی عائد کردی ہیں کہ ظلم و زیادتی اور تشدّد کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔
***
حواشی و مراجع
1؂ http://www.usdoj.gov/ovw/domviolence.htm
2؂ http://www.cafcass.gov.uk/English/publications/ consultations/ 04 Dec DV%20 policy.pdf
3؂ Foreword on WHO Multi-Country study on women’s health and domestic violence against women
4؂ Foreword on WHO Multi-Country study on women’s health and domestic violence against women
5؂ National violance against women survay (2000) available at http://www.ojp.usdoj.gov/nij/pubs-sum/183781.htm
6؂ US Deptt. of Justice NCJ 207846, Bureau of Justice statisties, Family Violence Statistics: including statistics on strangers and Acquaintance, at 31-32 (2005) available at: http://www.ojp.usdoj.gov/bjs/pub/pdf/fvs.pdf
7؂ Women’s Aid Federation [England] Report, 1992
8؂ Domestic Violence-Action for Change, G.H- ague & E. Malos 1993
9؂ Crime in England and Wales 2006/2007 report
10؂ اس قانون کے غلط استعمال سے مردوں کی ایک بڑی تعداد پریشان ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شوہروں کے حقوق کی حفاظت کرنے اور انھیں گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے بعض تحریکات، جن میں Save Faimly Foundation اور My Nation قابلِ ذکر ہیں، سرگرم ہوگئی ہیں۔ شوہروں کے خلاف تشدد کے موضوع پر ایک سروے بھی کرایا گیا ہے جسسے کھل کر یہ بات سامنے آتی ہے کہ 20 سے 32 فی صد شوہر اپنی بیویوں کی جانب سے ہرطرح کے تشدد کاشکار ہیں ۔ اس سروے کی تفصیلات کے لیے رجوع کیجیے:
http://498a.wordpress.com, http://victims-of-law.blogspot.com
11؂ UN Report, 13th Oct.2009 (Press Trust of India)
12؂ صحیح بخاری، کتاب الاحکام، باب قول اللہ اطیعواللہ ، 7137، و دیگر مقامات، صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، 1829
13؂ مولانا سید ابوالاعلی مودودی، تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی ، 2000ء، 1/349۔ اس موضوع پر تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے راقم کا مقالہ ’’مرد کی قوامیت ۔ مفہوم اور ذمہ داریاں‘‘ شائع شدہ سہ ماہی تحقیقات اسلامی، علی گڑھ، اکتوبر۔دسمبر 2009ء
14؂ فخرالدین الرازی، مفاتیح الغیب المعروف بالتفسیر الکبیر، تحقیق: عماد زکی البارودی، المکتبۃ التوفیقیۃ القاہرۃ مصر، 10/80
15؂ سنن نسائی، کتاب النکاح، باب أیّ النساء خیر، 3231، مسند احمد، 2/251
16؂ صحیح بخاری، کتاب النکاح ، باب اذا باتت المرأۃ مہاجرۃ فراش زوجہا، 5193، صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب تحریم امتناعہا من فراش زوجہا، 1436
17؂ جامع الترمذی، ابواب الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ ، 1159، صحّحہ الألبانی
18؂ صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب المداراۃ مع النساء،5186، اور دیگرمقامات ، صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء، 1468
19؂ صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصیۃ بالنسا، 1469
20؂ جامع الترمذی، ابواب المناقب، باب فضل ازواج النبی، 3895 ورواہ ابن ماجہ فی کتاب النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء عن ابن عباس
21؂ جامع الترمذی، ابواب الرضاع، باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجہا، 1162
22؂ صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب مایکرہ من ضرب النساء، 5204، صحیح مسلم، کتاب الجنۃ، 2855
23؂ ابوداؤد، کتاب الطہارۃ، باب فی الاستنثار، 142
24؂ السید محمد رشید رضا، تفسیر المنار، مطبعۃ المنار، مصر، 1328ھ، 5/75۔76
25؂ سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب فی ضرب النساء، 2146، سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب ضرب النساء، 1985، سنن الدارمی، کتاب النکاح، باب فی النہی عن ضرب النساء، 2219
26؂ الموسوعۃ الفقہیۃ، وزارۃ الاوقاف والشؤن الاسلامیۃ،کویت، 2001ء، 40/305۔306
27؂ ابوجعفر محمد بن جریر الطبری، جامع البیان عن تاویل آی القرآن المعروف بتفسیر الطبری، تحقیق محمود محمد شاکر، احمد محمد شاکر، دار المعارف مصر، 8/299، مزید ملاحظہ کیجیے ابن منظور، لسان العرب، دار صادر بیروت، 5/418، مجدالدین الفیروز آبادی، القاموس المحیط، دار الفکر بیروت، 1995ء، ص474، ابن درید الازدی، جمہرۃ اللغۃ، دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد، 1345ھ، 3/2، رازی، 10/82، ابوعبداللہ القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، الہیءۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، 1987ء، 5/170، علاؤ الدین علی بن محمد الخازن، لباب التاویل فی معانی التنزیل المعروف بتفسیر الخازن ، مطبعۃ التقدم العلمیہ مصر، 1/433، ابن تیمیہ، فتاویٰ شیخ الاسلام ، طبع سعودی عرب،14/211
28؂ نشز بعلہا علیہا اذا ضربہا وجفاہا۔ ابونصر اسماعیل بن حماد الجوہری، تاج اللغۃ وصحاح العربیۃ، مطبع و سنہ طباعت درج نہیں (طبع قدیم) 1/438
29؂ الجوہری، 1/438، مزید ملاحظہ کیجیے فیروز آبادی /474
30؂ ابوالحسین احمد بن فارس بن زکریا، معجم مقاییس اللغۃ، تحقیق وضبط: عبدالسلام ہارون، دار احیاء الکتب العربیۃ، القاہرۃ، 1369ھ، ص430۔ 431
31؂ ابن منظور، 5/418
32؂ ابوالقاسم الحسین بن محمد بن الفضل الراغب الاصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، تحقیق و ضبط: محمد سید کیلانی، دارالمعرفۃ بیروت، 495
33؂ قرطبی، 5/170۔171
34؂ خازن، 1/433
35؂ ابوحیان الاندلسی، البحر المحیط، تحقیق: د. عبدالرزاق المہدی، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 2002ء، ، 3/340
36؂ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، دارالاشاعت دیوبند، 2002ء، 1/642
37؂ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، تاج کمپنی دہلی، 1989ء، 2/292۔ 293
38؂ رازی، 10/82، خازن، 1/433، بقاعی نے اس قول کو امام شافعی کی طرف منسوب کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے برہان الدین ابراہیم بن عمر البقاعی، نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور، دائرۃ المعارف العثمانیۃ حیدرآباد، 1972ء، 5/271
39؂ وقیل منعہا نفسہا من الاستمتاع بہا اذا طلبہا لذلک، ابوحیان ، 3/340
40؂ رشید رضا، 5/76
41؂ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبیؐ، 1218
42؂ جامع ترمذی، ابواب الرضاع، باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجہا، 1163، ابواب تفسیر القرآن، سورۂ توبہ، 3087، حسنّہ الالبانی
43؂ ابن الاثیر الجزری، النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، المطبعۃ العثمانیۃ مصر، 1311ھ، 1/70
44؂ ابوحیان، 3/341
45؂ طبری، 8/314
46؂ رازی، 10/83
47؂ مودودی، 1/350
48؂ شبیر احمد عثمانی، القرآن الکریم، مع ترجمہ شیخ الہند محمود حسن، شاہ فہد پرنٹنگ کمپلکس، سعودی عرب، ص109
49؂ اصلاحی، 2/293
50؂ رازی، 10/83
51؂ ابن عطیہ، المحرر الوجیز، 20/48، بہ حوالہ ابوحیان، 3/342
52؂ ناصر الدین عبداللہ بن عمر البیضاوی، انوار التنزیل و اسرار التاویل المعروف بتفسیر البیضاوی، مطبع احمدی دہلی، 1268ھ، 1/182
53؂ شہاب الدین السید محمود الآلوسی البغدادی، روح المعانی فی تفسیر القرآن والسبع المثانی، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر، 5/25
54؂ ابوالفرج جمال الدین عبدالرحمن بن علی ابن الجوزی، زاد المسیر فی علم التفسیر، المکتب الاسلامی بیروت، 2/79
55؂ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی الاشبیلی المالکی، احکام القرآن، مطبعۃ السعادۃ مصر، 1331ھ، 1/175۔ آیت میں ترتیب مقصود ہونے کی بات دیگر مفسرین نے بھی کہی ہے۔ ملاحظہ کیجیے : ابوالحسن علی بن حبیب الماوردی، النکت والعیون المعروف بتفسیر الماوردی، مطابع المقہوی الکویت، 1982ء، 1/387، ابوالقاسم جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری، الکشاف عن حقائق التنزیل وعیون الاقاویل فی وجوہ التاویل، شرکۃ مکتبۃ و مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی واولادہ مصر، ، 1/524، ابوالبرکات عبداللہ بن احمد النسفی، مدارکالتنزیل المطبوع علی الاکلیل علی مدارک التنزیل للشیخ عبدالحق، مطبع اکلیل المطابع بہرائچ (یوپی) ، 1/129، شوکانی، محمد بن علی بن محمد ، فتح القدیر الجامع بین فنی الروایۃ والدرایۃ من علم التفسیر، دارالفکر بیروت، 1983ء، 1/461
56؂ رازی، 10/83، ابن المنیر الاسکندری، الانصاف فیما تضمّنہ الکشاف من الاعتزال ، برحاشیہ الکشاف، 1/524، رشید رضا، 5/76۔77
57؂ عبدالماجد دریابادی، تفسیر ماجدی، مجلسِ تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ، 2008ء، طبع چہارم، 1/733۔ مولانا نے اپنی انگریزی تفسیر میں معتبر حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ یورپ کے تمام ممالک اور تمام طبقات میں بیویوں کی مارپیٹ کا دستور رہا ہے۔ ملاحظہ کیجیے: Holy Quran, Translation and Commentary, by M.Abdul Majid Daryabadi, Lucknow, 1981, vol:1, pp.327-328
58؂ رشید رضا، 5/75
59؂ ایضاً، 5/74۔75
60؂ Al-Qur’an A Contemporary Translation by Ahmad Ali, Princeton University Press, Princeton, New Jersey
61؂ Quran A Reformist Translation, Brainbow Press United States of America

62؂The Meaning of The Quran, Meaning Translated by M.A.K. Pathan, Crescent Publication, Pune, India
63؂؂ پرویز، حوالہ سابق
64؂ مولانا عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن، 3/81۔82
65؂ رشید رضا، 5/73
66؂ غلام احمد پرویز، لغات القرآن، 3/1064

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close