ہمیں کیا چاہئے؟

155

شیخ خالد زاہد، نیو کراچی

بعض جگہوں پر وقت فیصلہ کروا دیتا ہے کہ آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ بعض جگہوں پر آپ ذہنی طور پر تیار ہو کر جاتے ہیں کہ آپ کو کیا چاہئے۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہم سے یہ حس ہی چھین لی گئی ہے کہ کیا چاہئے اور کیا نہیں چاہئے۔ چیزیں ہم پر مسلط کر دی گئیں ہے۔ عزتِ نفس دائو پر لگی ہے۔ تو اب چاہے کچھ بھی ہو ہماری صحت پر فرق نہیں پڑھنے والا۔ محترم قارئین! ہم جیتے جاگتے اور ذی شعور انسان ہیں۔ اگرہم سے کوئی پوچھے گاہی نہیں، کہ آپ کو کیا چاہئے۔ ہم خود سے تو بتانے سے رہے۔ ایک نہ ایک دن ہماری یہ خاموشی۔ ہم سب کو نگل جائے گی۔ اورآنے والی نسلوں کو یہ پتہ بھی نہیں چل سکے گا کہ ہمارا کوئی وجود تھابھی یا نہیں۔ انسان ہونے کہ کچھ تقاضے ہیں۔ یقینا ہم ان میں سے انگنت پورے کرتے جارہے ہیں۔ منہ پہ کچھ اور پیٹھ پیچھے کچھ کہنا۔ لگائی بجھائی کرنا۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے بے تحاشہ انسانی تقا ضے ہم بہت احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے۔

جب میں اپنے خالق و مالک پر ہی بھروسہ کرنے سے قاصر ہوں تو پھر کسی اور پر کیابھروسہ کروں۔ ہمارے جسموں کے اندر خلاء پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ خلاء بھروسہ اور اعتماد نہ ہونے سے پیدا ہوا ہے۔ دل گردے پھیپھڑے کام کر رہے ہیں۔ وہ سب ایک مادی جسم کو چلانے کے لئے ضروری ہیں۔ ہمارے اندر خلاء ہے۔ کہیں یہ خلاء مادی چیزوں سے محبت اور دائمی وروحانی چیزوں سے دوری کے طفیل تو پیدا نہیں ہوا۔ ہمیں پتہ ہی نہیں یہ خلاء کیسے پر ہوگا۔ اور پیدا کیسے ہوگیا۔ روح اور جسم تو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دونوں کی بہت کم نبھتی ہے۔ روح کی طلب و غذا کچھ اور ہے۔ جسم مٹی سے بنا ہے کچھ اور تکاضے کرتا ہے۔ ہم جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مر مٹتے ہیں۔ خوب سے خوب تر بنانے کیلئے۔ تزئین و آرائش کیلئے سر ڈھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ بلا آخر یہ جسم کمزور ہوجاتا ہے۔ اسکو تو کمزور ہونا ہی ہے۔ آہستہ آہستہ تمام انسانی اعضاء ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ چہرہ جسے ہم حسن و جمال کا عکاس بنانے میں بے تھکان لگے رہے۔ خشک سالی سے جگہ جگہ سے چٹخی ہوئی بنجر زمین کی مانند دکھائی دینے لگتا ہے۔ اب کوئی دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ روح جو زخم خوردہ توبہت ہوتی ہے مگر رہتی تروتازہ ہے۔ زخموں سے رسنے والا لہواسی تازگی سے بہتا ہے۔ اسکا چہرہ ویسا ہی ہشاش بشاش ہوتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے اپنے روبرو پیش ہونے کیلئے جسموں کے بجائے روحوں کو ترجیح دی ہے۔ مگر یہ سب ہماری بصیرت سے بجا ہے۔ کسے ان باتوں کی فکر ہے۔ سب اپنی اپنی خود ساختہ سمت متعین کئے دوڑے جا رہے ہیں۔ بس ایک لمحہ میں ساراکھیل ختم ہوجاتا ہے۔ کوئی پوچھتا بھی نہیں کہ کوئی پیغام گھر والوں کو دینا ہے۔ کوئی کام باقی ہے یا سمیٹنا ہے۔ بس چلو۔ وقت ختم۔ اور ختم کا مطلب ختم۔ مجھے تو یہ بھی علم نہیں کہ میں اپنا یہ مضمون مکمل کرسکوں گا یا نہیں۔

یوں تو یہاں بات کو سمیٹا جا سکتا ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ محترم و عالی مرتبت اشفاق احمد صاحب کہتے رہے ہیں۔ کہ تم بندوں کیلئے آسانیاں پیدا کرو اللہ تمھارے لئے آسانیاں پیدا کرے گا۔ پھریہ بھی کہا گیا کہ تم کرم کرو اہلِ زمیں پر، خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر۔ چلیں تو پھر اسطرح کرتے ہیں۔ اپنی ڈگر بدلتے ہیں کچھ مختلف کرتے ہیں۔ ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ اایک دوسرے کی بھوک وپیاس کو سمجھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو عزت دیں، عزتِ نفس کا احترام کریں۔ اپنے آس پاس اپنے سے کم پیشے میں ملوث آفراد کا خیال رکھیں۔ کسی صفائی کرنے والے کی ہر ممکن جو مدد آپ کرسکتے ہیں وہ کیجئے کچھ نہیں تو اسے شاباش دیجئے۔ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے قابلِ تحسین نظروں سے دیکھئے۔ اسے کسی بھی طرح یہ احساس دلائیے کہ اگر وہ یہ کام نہیں کرے گا تو ہمارہ معاشرہ طبعی طور پر بیمار ہوجائے گا۔ اور ایسا ہے۔ معاشرے کو صحیح معنوں میں فلاحی معاشرہ بنائیں۔ ہم ایک دوسرے سے ایسا برتائو کریں کہ ہمیں ایک دوسرے سے ڈر نہ لگے۔ ایک دوسرے سے چھپنا نہ پڑے۔

ایک تھکا دینے والا سفر اپنی تکمیل کو پہنچنے والا ہے۔ فیصلے کی گھڑی آنے والی ہے۔ جب تک آپ کو اپنی منزل کا پتہ نہیں ہوگا۔ سفر صرف تھکانے کے لئے ہوگا۔ اور اس سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ منزل کا تعین لازمی ہے۔ پھر سفر کی تمام صعوبتیں آپ کو تجربہ دیں گی تکلیف نہیں۔ سفرکی طوالت سے آپ گھبرائیں گے نہیں۔ کوئی اتار چڑھائو آپ کو تنگ نہیں کرے گا۔ آپ کا دھیان اپنی منزل پر ہوگا۔ یہاں میں اپنے مضمون کا اختتام کرتا ہوں کہ در حقیقت ہمیں یہ سوچ اور سمجھ لینا چاہئے کہ۔ ہمیں چاہئے کیا۔ ہماری منزل کیا ہے۔ بات سمجھ کی ہے اور آپ بہت سمجھدار ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے