معاشرہ اور ثقافت

ہم جنس پرستی۔ایک قابل نفرت اور قابل لعنت فعل

جس کی سزا اسلام میں زناکاری سے بھی سخت اور سنگین ہے

ترتیب: عبد العزیز

ہم جنس پرستی قابل نفرت اور خلافِ فطرت فعل ہے جسے مغربی تہذیب نے قریب قریب گلے لگالیا ہے اس تہذیب مغرب نے ہم جنسی پرستی جیسی خلاف فطرت فعل کے حق میں زبردست پروپیگنڈا کیا، اسے جائز قرار دینے کیلئے قانون سازی کی ، بلکہ انسانی حقوق، آزادی اور جدیدیت کے نام پر اس کے فروغ کیلئے مکروہ کوششیں کیں۔
مادی مکتب کے بعض پیروکار جو اس قسم کی آلودگیوں میں مبتلا ہیں، اپنے عمل کی توجیہ کیلئے کہتے ہیں کہ یہ ایک فطری عمل ہے، حالانکہ یہ ایک غیر فطری عمل ہے۔ انسان نہ توہم جنس پرست پیدا ہوتا ہے اور نہ ہم جنس پرستی کے سبب دنیا میں آتا ہے، یہ علّت خراب ماحول اور تربیت کے فقدان کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ انسان فطری اور طبعی طور پر اپنے صِنفِ مخالف کی طرف میلان رکھتا ہے اور یہ میلان ہی انسانی نسل کی بقا کا ضامن ہے۔ اس میلان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان وجود میں آئے اور اس سے تمدّن کی بنیاد پڑے، اسی لئے مرد و عورت کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی ترکیب مقاصد زوجیت کے عین مطابق بنائی گئی ہے، تاکہ فطرت کا منشاء پورا ہو جو افراد فطرت کے اس نظام و منشاء کے خلاف عمل کرتے ہیں، وہ نہ صرف فطرت سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں، بلکہ انحراف کے سبب متعدد جسمانی اور نفسیاتی مفاسد کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ہم جنس پرست مرد و خواتین نہ مکمل مرد رہتے ہیں اور نہ مکمل عورت، ان کے اندر جنس کے احساسات ختم ہوجاتے ہیں اور ایک مدّت کے بعد وہ اس قدر ضعفِ جنسی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ پھر فطری و طبعی ملاپ کے قابل نہیں رہتے، ایسے افراد قوّت ارادی کھو بیٹھتے ہیں، یہ اپنی ذات سے بیگانگی جیسے نفسیاتی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں، ساری زندگی سرگردانی اور پریشانی میں گزارتے ہیں، ایسے افراد نہ صرف طرح طرح کی جسمانی ناہمواریوں کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ وہ اپنے آپ کونسل اور خاندان کی خدمت کیلئے نااہل بنالیتے ہیں۔ وہ نہ صرف خود پر ظلم کرتے ہیں، بلکہ معاشرے میں صنفی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کا قرار دیاکہ اس جرم سے معاشرے کو پاک رکھنے کی کوشش کرے اور اس جرم کے مرتکب کو سخت سزا دی جائے۔ اسلام کے نزیک ہم جنسی پرستی زنا کی طرح گناہ کبیرہ ہے۔ فاعل اور مفعول ، دونوں چاہے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، قتل کردینے کا حکم دیا۔ (تفہیم القرآن )
سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: ’’جب قوم لوط ؑ نے یہ قبیح عمل انجام دیا، زمین و آسمان نے اس قدر گریہ کیا کہ ان کے آنسو عرش تک پہنچے۔ اس وقت اللہ نے آسمان کو وحی کی کہ ان پر پتھر برسا اور زمین پر وحی کی کہانہیں نیچے کی طرف لا۔‘‘ (تفسیر برہان)
نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہم جنس پرست قیامت کے دن ناپاک محشور ہوگا، یہاں تک کہ دنیا کے تمام پانی اسے پاک نہیں کرسکیں گے، خدا اس پر غضب ناک ہوگا اور اسے اپنی رحمت سے دور کرے گا، اس پر لعنت کرے گا، جہنم اس کیلئے تیار رکھی گئی ہے اور جہنم کس قدر بری جگہ ہے۔‘‘
ایک اور جگہ فرمایا: ’’اللہ کی لعنت ہو ان مردوں پر جو اپنے آپ کو عورتوں سے مشابہ کرتے ہیں اور اللہ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو اپنے آپ کو مردو ں سے مشابہ کرتی ہیں۔‘‘
ہم جنس پرستی کی طرف میلان کے بہت سے اسباب و علل ہیں، جن میں بعض اوقات ماں باپ کا اپنی اولاد سے سلوک، ان کی تربیت اور نگرانی سے غفلت، طرز معاشرت، کچی عمر کے بچوں کا ایک بستر پر سونا اس آلودگی کا عامل بن سکتا ہے۔ اسی طرح فضول قسم کے مذاق جو ہم جنسوں کے بارے میں ہوتا ہے اور ایسی بے ہودہ محفلیں اس طرف کھینچ لے جانے کا سبب بنتی ہیں۔ قوم لوط ؑ کے بارے میں روایت ہے: ’’ان کی مجالس اور بیٹھکیں طرح طرح کے منکرات اور برے اعمال سے آلودہ تھیں، وہ آپس میں رکیک جملوں ، فحش کلامی اور پھبتیوں کا تبادلہ کرتے تھے، ایک دوسرے کی پشت پر مکّے مارتے، قمار بازی کرتے، بچوں والے کھیل کھیلتے تھے، گزرنے والوں کو کنکریاں مارتے تھے، طرح طرح کے آلاتِ موسیقی استعمال کرتے اور لوگوں کے سامنے برہنہ ہوجاتے ۔ (سفینہ البحار) اس قسم کے گندے ماحول میں ہر روز انحراف اور بدی کی شکل میں رونما ہوتا ہے، ایسے ماحول میں اصولی طور پر برائی کا تصور ختم ہوجاتا ہے اور لوگ اس طرح اس راہ پر چلتے ہیں کہ کوئی کام ان کی نظر میں برا اور قبیح نہیں رہتا۔ اس علّت میں مبتلا افراد اگر اللہ کے قہر اور لعنت سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں سچے دل سے اللہ کے حضور توبہ کرنی چاہئے اور آئندہ کیلئے اس عمل سے دور رہنے کا عہد کرنا چاہئے۔ اس ماحول سے بچیں جو اس عمل کی رغبت کا باعث بن سکتا ہے، تنہائی سے گریز کریں اور اپنے آپ کو مثبت سرگرمیوں میں ہمیشہ مصروف رکھیں۔ ان افراد سے قطع تعلق کریں جو ہم جنس پرستی کے خیالات کے حامل ہیں، غیر فطری خیالات کو ذہن سے جھٹک دیں، اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں اور ان سے محبت کریں ، نماز پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں تو انشاء اللہ رحمت الٰہی شامل حال ہوگی اور اس علّت سے دور ہوجائیں گے۔
ہم جنس پرستی کے حامی افراد کیلئے قرآن نے بڑی صراحت سے قوم لوط ؑ کے عبرت ناک انجام کو بیان فرمایا ہے۔ اس بے راہ اور منحرف قوم نے اپنے اوپر بھی ظلم کیا اور اپنے معاشرے پر بھی۔ وہ اپنی قوم کی تقدیرسے بھی کھیلے اور ایمان و اخلاق کا بھی مذاق اڑایا۔ حضرت لوط ؑ 30 سال تک اس پست خصلت قوم میں تبلیغ کرتے رہے مگر ان کے گھر والوں کے سوا (ان میں بیوی مستثنیٰ تھی) کوئی ایمان نہ لایا، حضرت لوط ؑ کی استقامت تھی کہ وہ 30 سال تک انہیں سمجھاتے رہے، مگر انہوں نے کان دھرے اور ان کا تمسخر اڑایا۔ حضرت لوط ؑ کی ہر نصیحت کا جواب ان کے پاس صرف ایک تھا: ’’لوط اور ان کے پیروؤں کو اپنے شہر سے باہر نکال دو، ان کا قصور یہ ہے کہ یہ پاک لوگ ہیں اور گناہ نہیں کرتے۔‘‘ (سورۃ الاعراف)۔
وہ برائی میں یہاں تک غرق ہوچکے تھے کہ اصلاح کی آواز کو بھی برداشت نہ کرسکے اور نیکی کے اس تھوڑے سے عنصر کو بھی نکال دینا چاہتے تھے جو ان کی گھناؤنی فضا میں باقی رہ گیا تھا، ان کی ڈھٹائی، بے شرمی اور بے حیائی یہاں تک آپہنچی کہ وہ اپنے نبی کے مہمانوں کی حرمت و عزت پر تجاوز کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس حد تک پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے استیصال کا فیصلہ صادر ہوا، کیوں کہ جس قوم کی اجتماعی زنگی میں پاکیزگی کا ذرا سا عنصر باقی نہ رہے ، پھر اسے زمین پر زندہ رکھنے کا کوئی وجہ نہیں رہتی، سڑے ہوئے پھلوں کے ٹوکرے میں جب تک چند اچھے پھل موجود رہیں، ٹوکرے کی حفاظت کی جاتی ہے، مگر جب اچھے پھل نکل جائیں تو اس ٹوکرے کو کوڑے دان پر الٹ دیا جاتا ہے۔ قوم لوط ؑ نے کیوں کہ فطرت کے اصول کو الٹ دیا تھا، اس لئے ان کے شہروں کو الٹ دیا گیا۔ فقط یہ ہی نہیں بلکہ ان پر پتھروں کی بارش بھی کی گئی تاکہ ان کے آخری آثار حیات بھی درہم برہم ہوجائیں اور ان میں وہ ناسور جو عذاب کے وقت شہر میں نہیں تھا، دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو، اس کے حصے کا پتھر اسے عذاب الٰہی کا مزا چکھا دے اور وہ ہمیشہ کیلئے فطرت کے غداروں کیلئے عبرت کی مثال بن جائیں۔ نہایت بد بخت ہیں وہ قومیں جو علم و تحقیق کے اس دور میں بھی قوم لوط ؑ کے نقشِ قدم پر گامزن ہیں اور ان کے اعمال بے شرمی وبے حیائی کی اس انتہا پر ہیں کہ قوم لوط ؑ بھی ان کے آگے طفلِ مکتب لگتی ہے۔ کیا ہم جنس پرستی کی سزاصرف قوم لوط ؑ کو ملنی چاہئے؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ بلکہ فطرت کے باغی افراد کیلئے ایسا ہی انجام انتظام میں ہے، کل قوم لوط ؑ سنگ باری کا شکار ہوئی تو آج قوم لوط ؑ کے اعمال کے وارث ایڈز کا عذاب ، نت نئی بیماریاں، معاشرے کی اخلاقی اقدار کی تباہی، خاندانی نظام کا خاتمہ اور رشتوں کے تقدس کی پامالی کے عذاب سے دوچار ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close