معاشرہ اور ثقافت

ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح

عبیدالکبیر

کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ دنیا میں قدرتی حادثات سے لوگوں  کو  کبھی اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا غلط مشوروں اور غلط انداز فکر کی بنا پر انسانوں کو جھیلنا پڑا ہے۔ اگر انسان کی داخلی اور خارجی دنیا میں غور کیا جائے تو صاف طور پر محسوس ہوگا کہ ہمارے ارد گرد  جتنے بھی موجودات ہیں ان میں سے اکثر  تو ایسے ہیں جو  محض مادہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ہمارے اندر کچھ ایسی قوتیں  موجود  ہیں جو عالم مادہ کی تسخیر کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ اس کائنات میں جو مادی اشیا موجود ہیں جنھیں انسان قدیم زمانے سے لے کر اب تک اپنی قوت ایجاد سے استعمال کر تا رہا ہے وقتاً فوقتاً جب کبھی ان کے نظام میں کوئی  غیر معمولی بات پیش آجاتی ہے تو اس کے نقصان کا دائرہ نسبتاً محدود ہوتا ہے۔ مگر جب ان مادی اشیا کو تسخیر کرنے والی قوتوں میں کسی قسم کی برہمی یا فتور  پیدا ہو جائے تو اس کے نتائج بہت تلخ اور ناقابل تلافی ثابت ہوتے ہیں۔ الغرض انسان کی عقل وفہم  اور فکر ونظر جب  کسی معاملے میں درست رویہ اختیار کرنے میں ناکام ہوجائے تو انجام کے لحاظ سے یہ چیز بہت زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہے۔ گذشتہ کئی صدیوں سے دنیا میں جو آزادی افکار کا غلغلہ بلند ہوا جس کی بنا پر انسانی دنیا زندگی کے ہمہ گیر اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے صرف عقل وخرد کی دست نگر بن کر رہ گئی اس کے نتائج اس امر کا واضح ثبوت ہیں۔ مغربی دنیا کی اس آزادی اور  مذہب بیزاری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ انسان وحی کی روشنی سے بالکلیہ محروم  ہو گیا اور زندگی کے نوع بنوع مسائل میں صرف اپنی عقل خام کی پرستش شروع ہو گئی۔ اس غلط طرز فکر کا انجام بد  سب سے زیادہ آج کے انسانی معاشرہ میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ کہنے کو تو روشن خیالی کی یہ روش  انسانوں کی بھلائی کا پروانہ تھی جس کی بڑے پیمانے پر تشہیر بھی کی گئی مگر اس مادی دنیا میں ایسی بے ہنگم اور غیر معتدل روش  کا جو منطقی انجام ہو نا چاہئے تھا آخر وہی انجام اس کا بھی  ہوا۔ یہ  ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آزادی کی یہ تحریک کسی درست غور وفکر اور مثبت عوامل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ مسیحی یورپ کی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایک باغیانہ رد عمل تھا۔ اس انقلابی تحریک کا سب سے الم ناک اور کمزور پہلو یہ ہے کہ اس کو اختیا ر کرنے کے لئے  مغربی مفکرین کے پاس خواہشات کی پیروی کے سوا کوئی پائیدار اساس موجود نہ تھی۔ احوال وظروف اور کائنات کے طبعی تقاضوں کو نظر انداز کرکے جس تحریک کی بنا استوار کی گئی اس نے  انسان کو گویا اپنے گرد و پیش کا معمول بنا کر رکھ دیا۔ ظاہر ہے کہ جب آدمی کو کسی قسم کی بندش ہی ناگوار ہو تو اس کا کم سے کم انجام یہ ہوگا  کہ وہ کائنات میں موجود چیزوں میں حسن وقبح کو مد نظر رکھ کر ترک و اختیار کا کوئی مناسب لائحہ عمل تجویز کرنے میں سخت ٹھوکریں کھاتا پھرے گا۔ ممکن ہے اس آزمائش میں کبھی کوئی مفید چیز بھی ہاتھ لگ جائے مگر مجموعی طور پر وہ افراط وتفریط کا شکار ہوگا اور اس کی متنوع طبیعت   نقطہ عدل کے حصول میں رکاوٹ بن جائے  گی۔ منجملہ ان اغراض ومقاصد کے جو اس طرز فکر کو اپنانے والوں کے پیش نظر تھے ایک بنیادی مقصد نوع انسانی میں بلا لحاظ مرد وزن کلی  مساوات قائم کرنابھی تھا۔ مرد وزن میں مساوات ہی گویا اس تہذیب کی حصولیابیوں میں سب سے اہم ہے جس کا پرچار آج بھی دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔ مگر چونکہ یہ مساوات کسی بھی قسم کے اخلاقی قید سے بے گانہ تھی اور اگر غور کیا جائے تو عقل سلیم کے بھی خلاف تھی اس لئے یہ مساوات عالم انسانیت کےلئے  بڑی ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔ عورت کی آزدی کاخواب آج بھی تشنہ تعبیر ہے جبکہ اس مہم کو سر کرنے کے لئے عورت نے اپنی نسوانیت تک کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ  عورت کی آزادی نے آج عورتوں کو جن حالات سے دوچار کر دیا ہے اس کا مداوا کرنے میں آزادی پسندروشن خیال  حضرات نہ تو سنجیدہ نظر آتے ہیں اور نہ ہی مخلص۔ ویسے تو میڈیا میں جنسی تشدد کے خبریں  کثرت سے گردش کرتی رہتی  ہیں اور لطف یہ کہ جن ممالک میں خواتین کو جتنی زیادہ  آزادی میسر ہے انہی ممالک میں وہ سب سے زیادہ ہراساں کی جاتی ہیں مگر جنسی تشدد کے بہیمانہ واقعات کے علاوہ بھی آزادی نسواں کے تخیل نے عورت کو گویا مستقل طور پر عمر قید میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پوری دنیا سے قطع نظر اگر صرف امریکہ کے اعداد وشمار پر نظر کیا  جائے تو اندازہ ہوگا کہ آزادی کی تحریک آج عورتوں کے لئے غلامی کی زنجیر بن چکی ہے۔ اس سلسلہ میں پچھلے دنوں دو ایسی خبریں سامنے آئیں جنھیں دیکھ کر  محسوس ہوا کہ خواتین کے مسائل جس طرح قدیم تہذیبوں میں پائے جاتے تھے ٹھیک اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ مسائل آج کی جدید تہذیب میں موجود ہیں۔ ان واقعات میں اگر کوئی قابل لحاظ فرق ہے تو صرف یہ کہ کل تک جن مظالم کے لئے دنیا کے پاس کوئی فلسفہ موجود  نہیں تھا آج ان کو علم وتحقیق اور پروپیگنڈا  کی بہتات سے مقبول عام بنادیا گیا ہے۔ مورخہ دس اگست کو انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں یہ خبر شائع ہوئی کہ دہلی ہائی  کورٹ نے ملک کے نشریاتی ادارہ پرسار بھارتی اور آل انڈیا ریڈیو کے ڈائرکٹر جنرل کے  نام ایک نوٹس جاری کی ہے۔ اخبار کے بقول  مبینہ نوٹس آل انڈیا ریڈیو کی خواتین ریڈیو جوکیز کو ہراساں کئے جانے کے سلسلہ میں جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اہل کارشکایت کنندہ خواتین  کے الزامات پر کوئی ایکشن لینے میں ناکام رہے ہیں۔ خبر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ  اے آئی آر کی بہت سی ریڈیو جوکیز نے ان واقعات کے تئیں پرسار بھرتی کی بے توجہی پر  اپنا  رد عمل ظاہر کرتے ہوئے  یکم اگست سے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال بھی کر رکھی ہے۔ ایڈووکیٹ سگریوا  دوبے کے ذریعے داخل کی گئی عرضی میں یہ دعوی کیا  گیا ہے کہ جنسی زیادتی کی شکایت کرنے والی ایک متاثرہ کو ملازمت سے برطرف بھی کردیا گیا ہے۔ اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ آل انڈیا ریڈیو کے اہل کاروں نے متاثرہ کو آگاہ کیا کہ جنسی زیادتی کی شکایت کرنے کی پاداش میں اس کی بکنگ رد کر دی گئی ہے۔ معاملہ کی سماعت کے دوران وکلاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بھارت میں جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی پانچ سو (500) سے زائد شکایات موصول ہوئی  ہیں جو زیر التوا ہیں اور تاحال ان پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق سن 2012 میں بھی اے آئی آر کے اعلی اہل کاروں کے خلاف جنسی زیادتی اور خواتین کے ساتھ بد سلوکی کے معاملات سامنے آئے تھے۔ یہ صورت حال ہے کرہ زمین کے اس خطے کی جہاں ناری کے سمّان کو ایمان کا حصہ بتا یا جاتا ہے۔ مگر اس سے بھی کہیں زیادہ چوکانے والی  صورت حال وہاں پیش آئی جو آج کی دنیا کا ایک متمدن مہذب اور ترقی یافتہ ملک کہلاتا ہے۔ مشہور خبر رساں ایجنسی بی بی سی لندن سے یہ خبر موصول ہوئی کہ وہاں ملازمت پیشہ خواتین کو اکثر اپنے باس اور دیگر رفقائے کار کی طرف سے جنسی زیادتی کا سامنا  ہے۔ خبر  کے مطابق ان  میں 18 سے 24 سال کی  خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ برطانوی ٹریڈ  یونین  کارپوریشن کے سروے میں اس بات کا  انکشاف کیا گیا ہے کہ 1500 خواتین میں سے ایک تہائی کو نامناسب لطیفے سنائے گئے جبکہ 4 میں سے 1 خاتون کو اس کے لباس یا جسم کے بارےمیں جنسی فقروں کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے بعض خواتین کو لمس، معانقہ اور بعض اوقات بوس  وکنار پر بھی مجبور کیا گیا۔ جنسی زیادتی کی شکار یہ خواتین ان معاملات میں اکثر اپنی پیشہ ورانہ مجبوریوں کی وجہ سے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں۔ مذکورہ سروے کے بقول  اس معاملہ کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کے ساتھ  چھیڑ چھاڑ کرنے والے اکثر ان کے باس ہی ہوا کرتے ہیں جو بسا اوقات  اپنی ماتحت خواتین کوجنسی عمل پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ ٹی یو سی کےجنرل سیکریٹری کے  بقول جنسی زیادتی  کے یہ واقعات جو سننے میں آتے  ہیں اپنی اصل کے لحاظ سے  بہت کم ہیں۔ مذکورہ دونوں واقعات سے  آج کی دنیا میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے روز افزوں واقعات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تصویر  کسی ایسے ملک کی نہیں  ہے جہاں پردہ، حیا اور حجاب کی فرسودہ روایات کو اپنانے کا رجحان پایا جاتا ہو بلکہ یہ آزادیٔ نسواں کے علم  بردار اس معاشرے کی داستان عبرت ہے جس نے عورت کی ترقی کے لئے بقول خود سارے جتن کرڈالے ہیں اور اس راہ میں مزید قربانیاں دینے کو ہنوز  تیار ہے۔ انسانی سماج میں صنف نازک کے طویل مدتی استحصال کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی آزادی کا نعرہ ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں ۔ عورت کی بے بسی کی داستان آج بھی عنوان بدل بدل کر سامنے آتی رہتی  ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے کہ مغربی معاشرہ میں عورت کو اس کے واجبی حقوق دے دئے گئے بلکہ اس تمدن کا تجزیہ کرنے پر یہ حقیقت بالکل بے غبار ہوجاتی ہے کہ آزادی نسواں کا سارا فلسفہ جس ہدف کے گرد گھومتا ہے وہ عورت کی ترقی یا خوشحالی نہیں ہے، بلکہ وہ  سرمایہ دارانہ نظام کے اہداف ومقاصد کاتحفظ ہے۔ نظام سرمایہ داری نےجن بنیادوں پر اپنا قلع تعمیر کیا ہے اس کے پائے انسانی معاشرہ کے جنازے پہ رکھے ہیں۔ اس نظام میں چند اہل ثروت کے لئے تو بلا بشہ مفادات کی ضمانت موجود ہے مگر حالات کا مطالعہ بتاتا ہے  کہ اس میں عدل اجتماعی اور عمومی فلاح کے  سارے امکانات مفقود ہیں۔ آج جو یہ دنیا زیر دست اور زبردست کی باہمی کشمکش کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے وہ آخر کن اسباب کا نتیجہ ہے۔ اقبال مرحوم نے بجا فرمایا تھا۔

تدّبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا

جہاں میں جس تمدّن کی بنا سرمایہ داری ہے

صنعتی انقلاب  کی پرورش اور پرداخت میں جن اسباب کا بھرپور استعمال کیا گیا ان میں بطور خاص صنف نازک کی خدمات بھی شامل ہیں ۔ صارفین کو متوجہ کرنے کے لئے ہر قسم کی تدبیریں اپنائی  گئیں۔ اب ظاہر ہے کہ عورت جو تمام مرغوبات میں سر فہرست ہے اس سے زیادہ مفید حربہ اور کون سا ہو سکتا تھا چنانچہ صنف نازک کی عریاں تصاویر پر مشتمل اشتہارات نے سرمایہ دارانہ نظام کے لئے آب حیات کا کام کیا۔ حتی کہ  آج تجارتی دنیا کا کوئی شعبہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس میں عورت کا بیجا استعمال نہ کیا جاتا  ہو۔ ان حالات کو دیکھ کر ہمیں یہ بات  تسلیم کرنے میں آخر کیا تامل ہے کہ عورت کی آزادی نے عورت کو متاع کوچہ وبازار بنا ڈالا ہے جس کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ ایک خریدارکی نگاہ بن چکی ہے۔ جب تک عورت ایک پر امن ماحول میں رہ کر  خانہ داری کے فرائض  انجام دے رہی تھی اور افراد سازی کی عظیم الشان  خدمت میں مصروف تھی تو کہا جاتا تھا کہ عورت کی ترقی کے لئے اسے چہار دیواری کی قید سے آزاد کر کے مردوں کے شانہ بہ شانہ کر دیا جائے۔ مگر اب تو بیچاری نے ترقی کے لئے اپنا گھر بار سبھی  کچھ تج دیا ہے اور انجام  یہ ہے کہ  آزادی نسواں کے فریب نے اسے نہ گھر کا رکھا نہ گھاٹ کا تو اب آخر یہ ہوا کی بیٹی جائے تو جائے کہاں ؟آخر کب تک عورت انسانی دنیا کے شوق نا ہنجار کی بھیٹ چڑھتی رہے گی۔ اس قسم کے سوالات ہماری ترجیحات میں شامل ہونے چاہئیں ورنہ

جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ سمجھا

اس  قوم  کا  خورشید  بہت  جلد  ہوا  زرد

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close