معاشرہ اور ثقافتہندوستان

ہندوستانی سماج کی تصویر کا ایک خطرناک پہلو

محمد شاہ نواز عالم ندوی

خواتین کی بے بسی، خواتین پر ظلم وبربریت، تحفظ خواتین، خواتین کے حقوق جیسے عنوانات پر ہمیشہ بحث ومباحثے ہوتے رہتے ہیں ۔ اس ضمن میں حکومتی اور عدالتی سطح پر بہت کچھ کام ہوتا رہاہے ۔ کئی مرتبہ قانونی شق میں تبدیلی وترمیم کی گئی ہے۔ عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کئی نئے قوانین مرتب ہوئے ہیں ۔ لیکن اکثر یوں محسوس ہوتاہے کہ ساری تگ ودو اور جدوجہد رائیگاں ہی رہی ہیں ۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت اور عدالت دونوں خواتین کے تعلق سے کبھی مخلص نہیں رہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مردو خواتین کے حقوق کی پاسداری اور تحفظ کے لئے ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جو یکساں ہو اور پوری دنیائے انسانی پر یکساں نافذ العمل ہو جس میں کسی کی کوئی رعایت نہ ہو اور ایسا قانون صرف اسی کا قانون ہوسکتاہے جو خود مردوزن کا خالق اور اس کا نگراں ہے۔ کیوں کہ انسان کا بنایا ہوا قانون ایسا ہوہی نہیں سکتا جس میں بنانے والا اپنے لئے کوئی رعایت نہ رکھے اور اس لئے بھی کہ عمومی طورپر کسی بھی ملک میں قانون ساز کونسل، قانون ساز اسمبلیاں مردوں کی نگرانی میں چلتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اسمبلیاں عورت کے تحفظ وحقوق کے لئے ایک دلچسپ قانون تو بناسکتی ہیں ۔ لیکن رعایت کے لئے کوئی نہ کوئی شق اس میں ضرور باقی رکھتی ہیں ۔

خواتین کے تحفظ کی کوششیں ناکام ہونے کی وجوہات میں ایک اور بڑی وجہ سیاست یا مذہب کا رخ اختیار کرلینا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے اپنے وطن عزیز ہندوستان میں ہورہی سرگرمیوں کا آپ جائزہ لےں تو اس تعلق سے مسلسل بحث ومباحثے ہورہے ہیں ۔ کبھی لو جہاد تو کبھی طلاق سے پیدا شدہ مسائل اور عورتوں پر ہورہے نام نہاد مظالم کے خلاف صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔ لیکن یہ صدائیں ایک سوچی سمجھی سازش کے طورپر بلند کی جاتی ہیں اور اس سازش کا ایک منصوبہ بند طریقہ سے ایک خاص طبقہ اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو شکار بنایا جاتاہے۔ سابقہ حکومتوں نے بھی یہی کچھ کیا ہے اور موجودہ مرکزی اور خصوصاً یوپی کی حکومت بھی اسی صدا کو دہرارہی ہے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ کیا مسلم خواتین واقعی مظلوم ہیں ، ان پر مسلم سماج میں ظلم ہورہاہے؟ گزشتہ مضمون میں ہم نے وضاحت کی تھی۔ دوبارہ ان چیزوں کوبیان کرکے آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ فی الوقت ہم آپ کے سامنے تصویر ایک دوسرا رخ پیش کرنے کی جسارت کررہے ہیں جو قابل توجہ بھی اور قابل رحم بھی ہے-

میڈیا کا پروپیگینڈہ:

عالمی میڈیا عموماً اور قومی میڈیا خصوصاً اس وقت ایک خاص نہج اور خاص مقصد کے تحت سرگرم عمل ہے اور مقصد براری کے لئے وہ جوکچھ بھی کرسکتاہے کررہا ہے۔ جس حد تک گرسکتا ہے وہ گررہاہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانا تو بائیں ہاتھ کھیل بن چکاہے۔ اگر عالمی سطح پر میڈیا میں جھوٹ کی نشرواشاعت کا جائزہ لیا جائے تو ہم یہ سمجھتے ہیں ہمارے ملک کا ایک نامور میڈیا زی نیوز سرفہرست ہوگا۔ ایک مثال سے بات واضح کردوں ۔ گزشتہ 2015ءمیں امریکی تحقیقاتی ایجنسی کی مذہنی منافرت وہم آہنگی (intolerance اور Tolerance ) پر رپورٹ شائع ہوئی جس میں درج اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان منافرت کے معاملہ میں چوتھے نمبر پر ہے۔ لیکن اس نیوز چینل کے ایک اینکر نے اس ڈیٹا کو یکسر ہی بدل کر کچھ اس طرح بیان کیاکہ امریکی ایجنسی نے ہندوستان کے تعلق سے رپورٹ میں لکھا ہے اور اندازہ بیان کیا ہے کہ یہاں مذہبی منافرت بالکل نہیں ہے۔ بہرحال اسی نیوز چینل نے مسلم معاشرہ کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہے اور طلاق جیسے موضوع پر بحث ومباحثے کا سلسلہ شروع کرکے پورے ملک میں بے چینی کی فضاءقائم رکھی ہے۔ اس کی بات میں کتنی سچائی ہے یہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ مسلم خواتین کی مظلومی کی جو داستان سنائی جارہی ہے وہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ ہم آپ کو بتا نا چاہتے ہیں کہ مسلم خواتین کے مقابلہ میں ہندوسماج میں ہندو خواتین پر کس طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں اس کا اندازہ درج ذیل چند نکات سے بہ آسانی ہوسکتاہے۔

ہندوخواتین کی حالت زار:

مغربی یوپی کا مقبول مذہبی شہر، کبھی مہابھارت کے عظیم کردار شری کرشن کے عہد طفولیت کا وطن متھرا سے 10کلومیٹر دور ورنداون ہے۔ وہ آج ہندوستان کی مظلوم ہندوبیوہ عورتوں ، اپنوں سے دھتکاری ہوئی ابھاگنوں کی آہ وفغاں کا شہر بناہوا ہے۔2012-13ء میں حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق وہاں 4000ہندو خواتین ایسی رہتی ہیں جنہوں نے اپنے شوہروں سے علاحدگی اختیار کرلی ہے خود ان کے خاندان کے افراد نے انہیں برداشت نہیں کیا اور برنداون کا سنہرا خواب دکھاکر وہاں پھینک دیاہے۔ جی ہاں یہ خواتین اسی معاشرہ کا حصہ ہیں جہاں عورت کو کالی، درگا، لکشمی کی شکل میں پوجاجاتاہے۔ جہاں ماں کی مختلف شکلوں میں دیوی ماں کر پرستش ہوتی ہے، جس کی تہذیب وتمدن پر ہندوستانیوں کو فخر ہے۔یہ وہی طبقہ ہے جو بھارت ماتا، گﺅ ماتا کے تقدس کی بات تو خوب زور وشور سے کرتاہے مگر جب اپنی اصل ماں کا معاملہ آتا ہے، اپنی بیوہ بہن اور رشتہ دار کا معاملہ آتا ہے تو احترام کی بات تو کجا انہیں جینے کے لئے گھر میں جگہ بھی نہیں دیتے۔ مذہب کے نام پر ان پر مظالم کو روا رکھتا ہے اور جب انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے تو اس کے علم برداروں کو مذہب کی توہین کرنے والا قراردے کر زندان میں چنوانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یادرہے کہ برہمن سماج میں نوجوان سے جوان لڑکی جب بیوہ ہوجاتی ہے تو دوسری شادی ممنوع ہونے کی وجہ سے وہ ایک لاچار عورت بن کر رہ جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں سوشیل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ میں یہ دکھایا گیا کہ ایک ٹی وی چینل کا رپورٹر ورنداون اولڈ ہاؤز کے ذمہ دار سے باتیں کررہاہے ایک سوال کے جواب میں اس ذمہ دار نے دل دہلانے والی بات کہی ”ان خواتین کو جب بیماری لگ جاتی ہے (بیماری سے مراد مہلک مرض ایڈز وغیرہ ہے) تو ہم ان کو کاٹ کر بوری میں بند کرکے پھینک دیتے ہیں ۔“

یہی نہیں ورنداون میں قائم اولڈ ہاؤز میں خواتین کے لئے معقول رہائش وطعام کا انتظام یکسر معدوم ہے۔ وہاں پناہ گزین خواتین روزی روٹی کے لئے گلیوں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہوتی ہیں ۔ اسی ویڈیو کلپ میں جب رپورٹر نے سوال کیا کہ مجھے معلوم ہواکہ ان خواتین سے جسم فروشی کا دھندہ کروایا جاتا ہے تو اس ذمہ دار نے بلاجھجھک کہاکہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے وہ تو ہوتا ہی ہے۔ یہ وہ اعلیٰ خاندان کی خواتین ہیں جن کو اپنے معاشرتی نظام پر فخر ہے۔ ایک اور رپورٹر نے بتایاکہ ورنداون کا علاقہ اب ایسی خواتین سے بھر چکا ہے یہاں نووارد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہی نہیں ذرا یہ بھی دیکھیں ہندوسماج میں ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعہ عورتوں ، لڑکیوں کو مندر میں بھگوان کی خدمت کے لئے چھوڑا جاتاہے جن کو دیوداسی کہا جاتاہے۔ دیو داسی کا مطلب ہے بھگوان کی رکھیل۔ دسمبر2015ءاور جنوری 2016ءمیں سپریم کورٹ نے اس نظام پر قدغن لگانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ وزارت خارجہ کی جانب سے شائع رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ مندروں میں اب بھی دیوداسیاں موجود ہیں اور کئی ریاستوں میں طاقتور پنڈتوں اور پجاریوں کی سرپرستی میں یہ گھناؤنا نظام پھل پھول رہاہے۔

ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے کئی علاقوں ، بالخصوص جنوبی ہند کی بعض ریاستوں کے مندروں میں 50 ہزار سے زائد بھگوان کی دلہنیں موجود ہیں ،جن کی تعداد میں ہر سال کم از کم ایک ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔یہ ایک احتیاطی اعدادوشمار ہیں ۔ ورنہ حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق دھرم کے نام پر دیوداسی بنائی جانے والی کمسن لڑکیوں کو پجاری اور بااثر شخصیات زیادتی کا نشانہ بناتی ہیں ۔ یہ سلسلہ برسوں جاری رہتا ہے اور جب پجاریوں کا دل کسی بھگوان کی دلہن سے بھر جاتا ہے تو اسے دیوداسی کے منصب سے ریٹائرڈ کرکے ممبئی، کولکتہ اور دہلی سمیت دیگر شہروں کے قحبہ خانوں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ہندوستانی محقق اشیتا گپتا نے ایک ریسرچ پیپر میں بتایا ہے کہ جنوبی ہند کے مندروں اور فحاشی کے اڈوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ریسرچر کے مطابق اس نے جنوبی ریاستوں میں گھناونے دھندے سے منسلک عورتوں کے انٹرویوز میں یہ حقیقت معلوم کی کہ ان میں سے 20 فیصد عورتیں ماضی میں دیوداسی رہ چکی ہیں ۔ ان ہندوخواتین پرہورہے مظالم کیا مظالم نہیں ہیں ؟ اس طرف قومی میڈیا اور خاص طورپر طلاق پر بحث کررہے زی نیوز کی توجہ کیوں نہیں جاتی ہے؟ ذیل میں ایک خاتون لیڈر کی تجزیاتی تحریر بھی مشاہدہ کرلیں ۔

ایک ہندوخاتون کا تجزیہ:

ہندوومسلم سماج کا تجزیہ کرتے ہوئے پرینکا چترویدی نے اپنے فیس بک وال پر کچھ اس طرح لکھا ہے کہ انڈیا میں 17کروڑ مسلمان ہیں جن میں نصف یعنی 8.5کروڑ عورتیں ہیں ۔ 43فیصد مسلم عورتیں یعنی 3.6کروڑ شادی شدہ ہیں ۔ طلاق کی شرح 1000شادیوں پر 5 ہے۔ یعنی 2لاکھ مطلقہ مسلم عورتوں میں سے تمام مسلمان تین طلاق پر یقین نہیں رکھتے۔ تمام طلاق مردوں کی جانب سے نہیں ہوئے ہیں ۔ بلکہ خود عورتیں خلع بھی لیتی ہیں ۔ تمام طلاق فوری طورپر نہیں دیئے جاتے ہیں ۔ فرض کیجئے ان میں سے آدھی یعنی 1لاکھ فوری تین طلاق ہوئے ہیں ۔ اس کے باوجود بھی مسلم سماج میں ان خواتین کے لئے ایک متبادل راستہ موجود ہے کہ وہ دوسری شادی کرکے بہتر مرد کے ساتھ زندگی بسر کرسکتی ہیں ۔ اب ذرا ہندو سماج کا تجزیہ کریں ۔ ملک میں 100کروڑ ہندو ہیں جن میں آدھی یعنی 50 کروڑ ہندو عورتیں ہیں ۔ 43فیصد یعنی 21.5کروڑ ہندو خواتین شادی شدہ ہیں ۔ علاحدگی (کیوں کہ ہندو 1956ءمیں ہندو ایکٹ بل برائے شادی وطلاق میں اس کی گنجائش نہیں ہے کہ کوئی طلاق دے سکے۔ لہٰذا وہاں طلاق نہیں ہوتی ۔ مجبوراً ناچاقی اور نااتفاقی کی وجہ سے علاحدگی اختیار کرنی پڑتی ہے) تو علاحدگی کی شرح ہر 1000 شادیوں میں 5.5فیصد ہے۔ یعنی 12لاکھ غیرتصفیہ شدہ علاحدگی کی شرح پر 1000 شادیوں پر 3.7فیصد ہے۔ یعنی 8لاکھ ہندو عورتوں کے غیر تصفیہ شدہ علاحدگی کے ساتھ 8لاکھ معاملات ایسے ہیں جو طلاق کے لئے زیر التوا ہیں ۔ علاحدگی کی ابتدا عورتوں کی جانب سے بھی ہوسکتی ہے۔ تمام غیر تصفیہ شدہ علاحدگی میں بیوی سے کنارہ کشی نہیں ہوئی ہے۔ پھر بھی فرض کیجئے ان میں سے آدھے معاملات میں بیوی سے کنارہ کشی ہوئی ہے (جیسا کہ مودی کا معاملہ) یعنی 4لاکھ معاملات ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد محترمہ لکھتی ہیں کہ اگر 1مسلم عورت تین طلاق سے متاثر ہوتی ہے تو کم ازکم 4ہندو عورتیں جسودابین جیسے نصیب سے دوچار ہوتی ہیں ۔ بلکہ ہندو عورتوں کی حالت ان سے زیادہ بری ہوتی ہے، کیوں کہ ایک مسلمان عورت تو دوسری شادی کرکے بہتر شوہر پاسکتی ہے۔ لیکن ایک ہندو عورت منجدھار میں پھنس جاتی ہے۔ وہ دوسری شادی کرسکتی ہے اور نہ ہی نارمل زندگی گزار سکتی ہے۔ بلکہ وہ بیوہ عورت جیسی ہوجاتی ہے۔ آپ اس کو سمجھیں ۔ ہندوستان کے موجودہ دستور اور موجودہ عدالتی نظام میں عورتوں کو کس طرح کے حالات سے جوجھنا پڑتاہے۔ لیکن آپ کو ان عورتوں کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ شاید اس سے آپ کو یہ احساس ہوجائے گا کہ واقعی میڈیا عورتوں کی فلاح وبہبود کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے یا وہ محض ایک سیاسی ایجنڈہ کو آگے بڑھارہاہے۔ یعنی سماجی اصلاح کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کاایجنڈہ۔

آخری بات:

ہم مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے معاشرتی نظام کاایک غائرانہ جائزہ لے کر طلاق سے جڑے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں مطلقہ بیوہ خواتین کے نکاح ثانی اور ان کی زندگی کو از سر نو مرتب کرنے کے لئے ایک پروگرام اور لائحہ عمل تیار کریں – یہ کام محلہ وار مسجد کی جماعت کے ذریعہ بآسانی ہوسکتاہے- علماء، دانشور اور مفکرین مصلحین اس کاز کے لئے آگے آئیں – اس کے علاوہ بڑی تعداد میں مسلم رہنما، دانشور، مفکرین اور مقالہ نگار آگے آکر ہندو خواتین کے حقوق کی جنگ چھیڑیں اور ہندو سماج میں ہورہے مظالم کو منظر عام پر لاکر ان لاکھوں بے سہارا خواتین کی بازآبادکاری، ان کے حقوق کا بیڑا اٹھائیں -یہ عمل خلوص وللہیت اور انسانیت کی خدمت سمجھ کر کریں – اگرچہ کہ یہ ایک رد عمل ہوگا- لیکن شر کا رد عمل خیر سے ہوگا، اور اگر ایسا ہوا تو شر خود بخود اپنے انجام کو پہنچ جائے گا- اللہ توفیق سے نوازے- آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں
Close