معاشرہ اور ثقافت

ہو فکر اگر خام۔۔۔

سفینہ عرفات فاطمہ

ڈھائی سالہ دانش اپنے گھر کے دریچے سے گائے بکریوں کو دیکھ کر خوشی سے اپنی مما سے کہنے لگا:’’مماگائے گائے‘‘
مما کہنے لگیں :’’گائے نہیں بیٹے ’’کاؤ‘ کاؤ کہو۔‘‘
پھروہ کہنے لگا :’’مما بکلی(بکری)‘‘
مما اس پر خفا ہونے لگیں :’’بکری نہیں گوٹ کہتے ہیں گوٹ‘‘
ڈرائنگ روم سے پانچ سالہ درخشاں بھاگتی ہوئی آئی‘ اور اپنی مما سے شکایت کرنے لگی:
’’مما‘ آفاق نے میری دستی چھین لی‘‘
مما اب شدیدغصہ سے کہنے لگیں :
’’کتنی بار کہا ہے‘ دستی نہ کہو ہینڈ کرچیف کہو‘کیسی لینگویج بولنے لگے ہو تم لوگ ‘‘
آفاق فریج کے پاس کھڑا پھلوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
’’مما مجھے آم کھانا ہے‘‘
مما کہنے لگیں:’’اف ‘تم لوگ جنگلی ہی رہوگے ‘ آم نہیں مینگو کہو۔‘‘
آفاق ‘دانش اوردرخشاں کی مماچاہتی ہیں کہ ان کے بچے انگریزی بولیں ‘ زمانے کے ساتھ چلیں‘ اپ ٹو ڈیٹ رہیں‘ وہ کیلے کو کیلا نہ کہیں بلکہ ’’بنانا‘‘ کہیں‘شیر کو’’ٹائگر‘‘ کہیں ‘ وہ جب شیر کو شیر اور کیلے کو کیلا کہتے ہیں تو مما سخت کوفت کا شکار ہوجاتی ہیں‘ انہیں اپنے بچے ’’ جنگلی ‘‘ ’’گنوار ‘‘ اور اِل مینرڈ لگتے ہیں۔
آج کے اس تیز رفتار دور میں انگریزی کی اہمیت سے انکار کسے ہے؟بلکہ اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو مسلم بچوں کو اپنی مادری زبان کے علاوہ دیگر زبانوں پر عبور حاصل ہونا چاہیے ‘ اگر وہ مختلف زبانیں نہ بھی سیکھیں تو کم از کم انہیں مادری زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی پر مکمل دسترس حاصل کرنی چاہیے‘ تاکہ وہ اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد معاشی تگ ودو کے علاوہ اپنے دین کی تبلیغ کیلئے اپنی انگریزی میں مہارت سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔ اگروالدین یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی میں ماسٹر ہوں تو اس میں قباحت کوئی نہیں لیکن‘وہ اگر آم کو آم کہیں تو ان پر چیخنا چلانا چہ معنی دارد ؟ والدین کے اس رویہ سے ان کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے ۔ انہیں اپنے بچوں کا مادری زبان میں بات کرنا معیوب لگتا ہے ؟ وہ اپنے کلچر ‘ اپنی تہذیب سے جڑے رہیں تو کیا یہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی بات ہے؟ کیا انگریزی میں عبور حاصل کرنے کیلئے اپنی مادری زبان کو فراموش کرنا یا بالکل مسترد کرنا ضروری ہے؟ کیا نئی نسل اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی نہیں سیکھ سکتی ؟ اسکول اور کالج میں جو ٹی وی کلچرفروغ پارہا ہے کیا وہ ان ننھے فرشتوں کیلئے سود مند ہے جنہیں کل اپنے دین ‘ اپنی تہذیب اور اپنے کلچر کی نمائندگی کرنی ہے ؟
والدین اپنے بچوں کو انگریزی ضرور سیکھائیں‘انہیں زمانے کے تقاضوں سے ضرور ہم آہنگ کریں ‘ لیکن ان کی بنیادوں کو اپنی تہذیب اور کلچر سے سینچیں‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ زمانے کے ساتھ قدم ملانے کی خواہش میں ان اقدار ہی سے کٹ جائیں جو ہمارا ورثہ اور اثاثہ ٹھہریں‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا تشخص اورہماری شناخت ہی مجروح ہوجائے۔
آزادئ افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادئ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close