معاشرہ اور ثقافت

یا رب مجھے 2017 جیسا سال نہ بنائیو: 2018 کی فریاد

سہیل انجم

31 دسمبر کی نصف شب میں نئے اور پرانے سال کی ملاقات ہو جاتی ہے۔ نیا سال سامنے سے انتہائی تزک و احتشام اور شان و شوکت کے ساتھ آرہا ہے۔ پرانا سال خون آلود دامن، پراگندہ حلیہ اور نحیف و نزار جسم کے ساتھ لڑکھڑاتے ہوئے جا رہا ہے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے اور دونوں علیک سلیک کرتے ہیں۔ نیا سال پوچھتا ہے کہ ’’کیا بات ہے تم اتنے پریشان حال اور زخم خوردہ نظر آرہے ہو، کہاں سے آرہے ہو‘‘۔

’’میں ہندوستان سمیت پوری دنیا کا چکر لگا کے آرہا ہوں‘‘۔

’’لیکن تم نے کیا حلیہ بنا رکھا ہے۔ تم کن حالات سے دوچار ہوئے ہو، مجھے تمھاری حالت کچھ اچھی نہیں لگ رہی ہے‘‘۔

’’کیا بتاؤں دوست! میں جن حالات سے گزرا ہوں وہ ناقابل بیان ہیں۔ خدا کرے کہ کوئی ان حالات سے نہ گزرے۔ پوری دنیا میں تباہی و بربادی مچی ہوئی ہے۔ انسان انسانوں کے خون کے پیاسے ہیں۔ انسانیت کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے۔ کہیں اپنی سیاسی بالادستی کے لیے تو کہیں اپنی علاقائی توسیع پسندی کے لیے۔ کہیں اپنی مذہبی جارحیت کا ڈنکا بجانے کے لیے تو کہیں اپنی ذات برادری کی ناک اونچی رکھنے کے لیے۔ کوئی دنیا پر عالمی جنگ تھوپنے کی دھمکی دے رہا ہے تو کوئی اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ دنیا میں ایسی خوفناک جنگیں چھڑی ہوئی ہیں کہ لاکھوں افراد کو اپنا وطن اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔ انھیں اپنی سرزمین سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ خطہ خلیج ہو، یا یوروپ، افریقہ ہو یا ایشیا۔ ہر جگہ تباہی و بربادی اور نفرت و عصبیت کے مناظر ہیں۔ کچھ سرکاری افواج غضب ڈھا رہی ہیں تو کچھ غیر سرکاری عسکری تنظیمیں معرض وجود میں آگئی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ ایسی تنظیمیں بھی اب دنیا میں پیدا ہو گئی ہیں جو صرف قتل و خون ہی کو اپنا مذہب سمجھتی ہیں۔ حالانکہ کسی بھی مذہب میں ایسی مذموم حرکتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اور مقام افسوس یہ ہے کہ اس بے نتیجہ اور انسانیت دشمن لڑائی میں ہر جگہ صرف اور صرف کمزور ہی مارا جا رہا ہے، صرف وہی پیسا جا رہا ہے، اسی کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے‘‘۔

’’کچھ ہندوستان کا حال بتاؤ، وہاں کے لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، مجھے وہاں بھی جانا ہے، وہاں کے لوگوں سے بھی ملنا ہے، وہ لوگ کیسے ہیں‘‘۔

’’وہاں کے لوگ یوں تو بہت اچھے ہیں، ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے انسانی، سماجی، مذہبی اور لسانی و علاقائی جذبات کا احترام بھی کرتے ہیں۔ لیکن کچھ مٹھی بھر شرپسند ہیں جو ماحول کو خراب کرتے رہتے ہیں۔ کچھ ان کے اپنے مفادات ہیں اور کچھ ان کے سیاسی آقاؤں کے۔ وہ اپنے اور اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔ بس ایک طرح کی اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ اسی درمیان صدیوں سے کچلی ہوئی کچھ خوابیدہ قومیں بیدار بھی ہو گئی ہیں۔ وہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ لیکن بہر حال کیا بتاؤں مجھے کیسے کیسے مناظر دیکھنے پڑے ہیں۔ بس رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن میں کیا کر سکتا تھا، سب کچھ تو انھی انسانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ چاہیں تو دنیا کو جنت کا نمونہ بنا دیں اور چاہیں تو جہنم کو بھی مات دے دیں‘‘۔

’’ذرا کچھ تفصیلات مجھے بھی بتاؤ‘‘۔

’’میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا، تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا۔ مگروہ تو تمھیں معلوم ہی ہوگا کہ کس طرح اترپردیش میں دادری کے محمد اخلاق کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا تھا۔ وہ بڑا دلدوز سانحہ تھا۔ لیکن اِس بار تو اُس سے بھی بھیانک سانحات ہوئے۔ مجھے اس بزرگ پر بڑا ترس آیا تھا جس کا نام پہلو خاں تھا اور جو راجستھان سے گائیں لے کر جا رہا تھا۔ اسے الور میں گائے کا اسمگلر بتا کر کچھ شرپسندوں نے گھیر لیا۔ دوڑا دوڑا کر مارا۔ بیچارہ کبھی ادھر بھاگتا کبھی ادھر۔ مگر کسی کو ترس نہیں آیا۔ بالآخر وہ اسپتال میں دم توڑ گیا۔ میں سمجھ نہیں پایا کہ اس کا قصور کیا تھا۔ وہ تو گائیں پالتا تھا اور ان کا دودھ بیچ کر اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھرتا تھا۔ مجھے ہریانہ کے اس نوجوان پر بھی بڑا ترس آیا تھا جو حافظ قرآن تھا، جس کا نام محمد جنید تھا، جو عید کے کپڑے خریدنے دہلی گیا ہوا تھا۔ اس نے جب جامع مسجد کے زینوں پر کھڑے ہو کر اپنی فوٹوں کھنچوائی تھی تو اس کے چہرے کی خوشی دیکھنے لائق تھی۔ اسی رمضان میں اس نے محلے کی مسجد میں پورا قرآن سنایا تھا۔ وہ عید کی خوشیاں منانے والا تھا۔ جامع مسجد سے واپسی پر اپنے بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ ٹرین سے گھر جا رہا تھا کہ اس کے بھائیوں کے سر پر ٹوپی دیکھ کر کچھ لوگ برافروختہ ہو گئے۔ ان لوگوں کو مارنے پیٹنے لگے۔ وہ بیچارے اسٹیشن پر اترنا چاتے تھے لیکن ان کو اترنے نہیں دیا گیا۔ ان پر کیسے کیسے فقرے نہیں کسے گئے۔ بالآخر کسی شرپسند نے جنید پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ یکے بعد دیگرے کئی وار کیے۔  وہ وہیں دم توڑ گیا۔ اس کے گھر والوں کی عید کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔ اس کا کیا قصور تھا میں یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہوں‘‘۔

’’سنا ہے کہ ایسے اور بھی واقعات ہوئے ہیں‘‘۔

’’ایسے کئی واقعات ہوئے۔ جانوروں کی حفاظت کے نام پر انسانوں کو مارا گیا۔ ان کے خون سے ہاتھ رنگے گئے۔ کسی کو قتل کرکے ریل کی پٹری پر پھینک دیا گیا۔ کسی کو درخت سے لٹکا دیا گیا۔ انسانوں ہی نے انسانیت کی دھجیاں اڑا دیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا ایسے لوگوں کو انسان کہنا مناسب ہے‘‘۔

’’اچھا یہ بتاؤ کہ کس واقعہ نے تمھارے ذہن کو سب سے زیادہ جھنجھوڑا، سب سے زیادہ پریشان کیا؟‘‘

’’یوں تو ایسے کئی واقعات و سانحات ہیں جو بڑے تکلیف دہ تھے، لیکن جاتے جاتے مجھے ایک ایسا زخم دے دیا گیا جو کبھی نہیں بھر سکتا‘‘۔

’’کون سا زخم؟‘‘

’’افراز الاسلام کا زخم۔ مجھے جب بھی اس واقعہ کی یاد آتی ہے میں تڑپ کر رہ جاتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے۔ اپنے ہی جیسے ایک انسان کو دھوکے سے بلائے یہ کہہ کر تمھیں کام دوں گا اور پھر پیچھے سے کلہاڑی سے وار کردے۔ میں راج سمند کے شمبھو ریگر کو انسان نہیں کہہ سکتا، وہ انسان کے بھیس میں بھیڑیا ہے۔ اس نے نہ صرف افرازالاسلام کو کلہاڑی سے ہلاک کیا بلکہ اپنے ایک کمسن بھتیجے سے اس کا ویڈیو بھی بنوایا۔ اس ویڈیو کو پوری دنیا نے دیکھا۔ کیسا دلدوز منظر تھا جب افراز زمین پر گرا تھا اور جان بچا لو بابو، جان بچا لو بابو کہہ کر چلا رہا تھا۔ شمبھو نے تو شیطانیت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ اس نے افراز کو قتل کرنے کے بعد اس کے مردہ جسم پر پیٹرول چھڑکا اور آگ لگا دی۔ کیا قصور تھا اس بیچارے کا۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ میں یہ بھی ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ شمبھو کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ کوئی بھی مذہب ایسی حوانیت کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن سنا ہے کہ اس نے دھرم کے نام پر ہی یہ سب کیا تھا۔ خیر جو بھی ہو یہ واقعہ انسانیت کی پیشانی پر کلنک کا ایک ایسا ٹیکہ ہے جو شاید ہی کبھی مٹ سکے۔ اور مجھے افسوس ہے کہ اس خوں ریز واقعہ کی چھینٹیں میرے دامن پر آکر پڑیں۔ اس واقعہ نے میرے ضمیر کو بری طرح جھنجھوڑ دیا۔ لیکن شاید وہ ان انسانوں کا ضمیر نہیں جھنجھوڑ سکا جو اس پاپ کی حمایت کر رہے ہیں اور شمبھو کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ وہ انسان جسے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے، جو پوری کائنات کی مخلوقات میں سب سے افضل اور برتر ہے، اتناگر جائے گا مجھے اندازہ نہیں تھا‘‘۔

’’بھائی میں نے سنا ہے کہ جب تم آئے تھے تو تمھارا بھی اسی طرح بہت شاندار استقبال ہوا تھا جیسا کہ میرا ہو رہا ہے‘‘۔

’’ہاں ہوا تھا اور میں بہت خوش تھا اپنے استقبال پر۔ وہ میرا آغاز تھا اور یہ دیکھ رہے ہو یہ میرا انجام ہے۔ انسانوں نے مجھے کیا سے کیا بنا دیا۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے گناہوں اور اپنی غلط کاریوں کو میرے سر منڈھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سال بہت خراب تھا۔ اس میں بڑے مظالم ہوئے۔ بڑی ناانصافیاں ہوئیں۔ ارے خراب بھی تو تم ہی لوگوں نے کیا۔ ناانصافی بھی تو تمھی لوگوں نے کی۔ تم ہی لوگوں نے تو اپنے بھائیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے۔ تم ہی لوگوں نے تو انسانیت کو شرمسار کرنے والے کارنامے انجام دیے۔ لیکن اب تم ہی لوگ خود کو پارسا بنا کر پیش کر رہے ہو اور مجھے ویلن بنا رہے ہو، یہ کیسی ناانصافی ہے‘‘۔

’’بھائی میرا استقبال بھی بڑا شاندار ہو رہا ہے۔ لیکن مجھے خوف ہے کہ میرا بھی انجام تمھارے جیسا نہ ہو‘‘۔

’’عزیز دوست! حالات میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انسانوں کی سوچ میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے۔ اس لیے اندیشے تو ہیں۔ لیکن ہمیں قنوطیت پسندی کے بجائے رجائیت پسندی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں پرامید ہونا چاہیے، ناامید نہیں۔ اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے جو اس کائنات کا خالق ہے۔ جس نے ہمیں اور تمھیں بھی بنایا اور جس نے انسانوں کو بھی بنایا ہے۔ میری دعا ہے کہ تمھارا حشر میرے جیسا نہ ہو اور جب تم واپس ہونے لگو تو لوگ یہ نہ کہیں کہ بڑا خراب سال گزرا ہے۔ بڑا برا سال گزرا ہے۔ لوگ یہ کہیں کہ یہ سال بہت اچھا رہا۔ بڑا پرامن رہا۔ بڑا پرسکون رہا۔اچھا خدا حافظ دوست اپنا خیال رکھنا‘‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close