یکم اپریل‘اپریل فول (April Fools’ Day)

محمد عظیم

 مسلم معاشرے میں چندایسے تہوار فروغ پا چکے ہیں جو غیر اسلامی ہونے کے ساتھ ساتھ سچائی کے منافی بھی ہیں، اپریل فول(April Fools’ Day)بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ اس تہوار کی شرعی حیثیت بیان کرنے سے قبل اس کا معنی بیان کرنا اور تاریخی جائزہ لینا مناسب حال ہے۔اپریل انگریزی سال کا چوتھا مہینہ ہے، رومن میں اس ماہ کو اپریلس(APRILIS) کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔ یہ لفظ ‘APERIRE’ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ”کھلنا” ہے۔ اس ماہ کی اپنے نام سے مناسبت یہ ہے کہ اس ماہ میں پھول اور کلیاں کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
(CHAMBERS’S ENCYCLOPAEDIA, Vol:1, P:353)
فول نادان، سادہ لوح اور بیوقوف جیسے معانی میں مستعمل ہے۔
(CONCISE OXFORD DICTIONARY, P:318)
بطور تہوار اپریل فول سے مراد جھوٹ بول کر ایک دوسرے سے مذاق کرنا اور بیوقوف بنانا ہے۔
(فیروز اللغات اردو جامع)
تاریخی پس منظر
اپریل فول کی مستند تاریخی حقیقت کسی کتاب میں مذکور نہیں ، البتہ چند وجوہات یا واقعات زبان زد عام ہیں اور ان میں بھی مؤرخین کا خاصا اختلاف ہے، جن میں سے صرف دو کا ذکر بالاختصار کیاجارہا ہے:
(۱)……۱۵۶۴ ء تک نئے سال کا آغاز مارچ کے آخر میں ہوتا تھا اور سال کا افتتاحی جشن ۲۱ یا ۲۵ مارچ سے یکم اپریل تک منایا جاتا تھا۔ پوپ گریگوری ۸(Pope Gregory XIII) نے ایک نیا کیلنڈر متعارف کروایا جس میں سال کا آغاز جنوری سے ہوتا تھا، چنانچہ چارلس ۹(Charles IX) نے اس کیلنڈر کو رائج کر دیا۔ غیر ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ کے باعث بہت سے لوگ اتنی بڑی تبدیلی سے لاعلم رہے اور بدستور نئے سال کی تقاریب پہلے کی طرح ہی مناتے رہے۔ جن لوگوں کو اس تبدیلی کا علم ہو چکا تھا انہوں نے اس تبدیلی سے ناواقف لوگوں کو مذاق کا نشانہ بنایا اور ان کو اپریل فول کے طنزیہ نام سے پکارنے لگے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ لوگوں میں عام ہوتا گیاحتی کہ اسے باقاعدگی سے منایا جانے لگا۔
(۲)……اندلس پر تقریبا آٹھ سو (۸۰۰) سال مسلمانوں کی حکو مت رہی ہے۔ مسلم حکومت پر جب وقت زوال آیا تو عیسائی دوبارہ ان علاقوں میں قابض ہوگئے حتی کہ سپین (اندلس کا علاقہ) پر بھی قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہوئے خون کی ندیاں بہادیں۔ان حالات کو دیکھ کر بعض مسلمانوں نے اپنا روپ عیسائیوں جیسا بنا لیا ۔عیسائیوں نے جاسوس چھوڑے تاکہ بچے ہوئے مسلمانوں کی نشاندہی کرکے انہیں قتل کیا جائے ،لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔چنانچہ عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ۲ (Ferdinand II) نے ایک منصوبہ تشکیل دیا اور اس منصوبے کے تحت ملک بھرمیں ایک مہینہ اعلان عام کروایا کہ تمام مسلمان غرناطہ میں جمع ہو جائیں تاکہ انہیں بحری جہازکے ذریعے دوسرے علاقے میں لے جاکر مسلمانوں کا الگ ملک آباد کیا جائے، اعلان میں اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ انہیں امن وامان سے لے جایا جائے گا اور دھوکہ دہی نہیں کی جائے گی۔ اعلان سن کر تمام مسلمان غرناطہ میں الحمرا کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں جمع ہو گئے جہاں ان کے لیے خیمے لگائے گئے تھے۔مسلمانوں کو بحری جہاز پر سوار کیا گیا جس میں بچے ،بوڑھے ،مرد وخواتین سب موجود تھے اور جہاز وہاں سے روانہ ہوا ۔ جب گہرا سمندر آیا تو ان بد بخت عیسائیوں نے اپنے منصوبے کے تحت اس جہاز کو غرق کردیا اور تمام مسلمانوں کو ابدی نیند سولا دیا۔ یہ سانحہ قریبا پانچ سو (۵۰۰) سال قبل یکم اپریل کو وقوع پذیر ہوا۔
اس واقعہ کے بعد سپین میں خوب جشن منایا گیاکہ دیکھو ہم نے مسلمانوں کو کیسے بیوقوف بنایا……؟ پھر یہ سانحہ یا جشن سپین سے تجاوز کرتا ہوا پورے یورپ میں فتح عظیم کی شکل اختیار کر گیا جسے اپریل کے بے وقوف (First april fool) کا نام دیا گیا ۔
[Calender of state papers Spain by G.A.Bergenroth,Vol 1 p 40.43] ۳……برِ صغیر میں اپریل فول :کہا جاتا ہے کہ بر صغیر میں پہلی بار اپریل فول انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر سے منایا جب وہ رنگون جیل میں تھے ۔انگریزوں نے صبح کے وقت بہادر شاہ ظفر سے کہا کہ یہ لو تمہار ا ناشتہ آگیا ہے ۔جب بہادر شاہ نے پلیٹ پر سے کپڑا اٹھایا تو پلیٹ میں اس کے بیٹے کا کٹا ہو ا سر تھا ۔جس سے بہادر شاہ ظفر کو صدمہ پہنچا جس پر انگریزوں نے ان کا خوب مذاق اڑایا ۔
بحوالہ اپریل فول ازعبدالوارث ساجد(ص؍۳۱)
مسلمانوں میں اپریل فول
یہ تہوار صرف غیر مسلموں میں ہی معروف تھا، کچھ عرصہ قبل اس تہوار کو مسلمانوں میں عام کرنے کے لیے اس کی حقیقت کو پس پردہ رکھتے ہوئے مسلمانوں میں متعارف کروایا گیا جس میں مغربی معاشرے سے متاثر لوگوں نے شمولیت اختیار کرکے انگریزوں کی اتباع کی، حتی کہ دور حاضر میں ہر مسلم اس تہوار کو منانے میں مشغول نظر آتا ہے حالانکہ صادق ومصدوق’’محمد رسول اﷲe‘‘ نے بطور تنبیہ مسلمانوں کو خبردار کردیا تھا کہ ایک وقت تم پر ایسا آئے گا کہ تم یہود ونصاری کی اتباع اس طرح کرو گے جیسے بالشت برابر بالشت اور بازو برابر بازو ہے، حتی کہ اگر کوئی یہودی کسی گوہ (ایک جنگلی جانور جو زمین میں بل بنا کر رہتا ہے) کے سوراخ میں گھسا ہوگا تو تم بھی ویسا ہی کرو گے۔ (بخاري:۳۴۵۶)
اپریل فول پر ابھارنے والے امور
ہر انسان کی کمزوری ہے کہ وہ دوسروں پر اپنی بالا دستی ثابت کرنا چاہتا ہے اور اس کا آسان طریقہ یہ نکلا لا گیا کہ لوگوں کو بیوقوف بنا یا جائے ۔خواہ جھوٹ بول کر ہی بنایا جائے ۔اپنی بالا دستی ثا بت کرنے کا لازمی مطلب اپنے مدِ مقابل کو حقیرجاننا ہے ۔آپﷺکا فرمان :تکبر یہ ہے کہ حق بات کو جھٹلا نا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔(المسلم:131)چونکہ ہماری نئی نسل مغربی طرز ِمعاشر تہی کو زیادہ دل دادہ ہے ۔اور اسے مغربی معاشرہ کے رسم و رواج ہی ترقی کے روشن مینار نظر آتے ہیں خاص طور پر نوجوان طبقہ خو ش طبعی کو زیادہ پسند کرتا ہے ۔اس کیلئے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔خواہ اس میں اپنا یا دوسروں کا کتنا بھی نقصان کیوں نہ ہو ۔اسلام میں خوش طبعی ممنوع نہیں ہے۔بلکہ آپ ﷺنے کئی مواقع پر صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین سے خوش طبعی کی مگر تفریح میں حدود اﷲ سے تجاوز کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی ۔
اپریل فول کے نقصانات
اپریل فول کے متعلق جتنے بھی تاریخی شواہد ہیں ان تمام شواہد کو اکٹھا کرنے کے بعد یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اپریل فول منانا مسلمان کے لیے دنیا وآخرت کے خسارے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
(۱) ……جھوٹ
جھوٹ سے مراد ہر وہ خبر جو حقیقت حال کے برعکس ہو شرع میں جھوٹ ہی شمار ہوتی ہے خواہ اس خبر کا تعلق قول، فعل، اشارہ یا سکوت سے ہی کیوں نہ ہو۔ جھوٹ انسان کے لیے سراسر ہلاکت کا سامان ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے ۔
’’بلاشبہ اﷲ تعالیٰ اس کو(سیدھی )راہ نہیں دکھاتاجوجھوٹاہے ‘‘۔ الزمر(۳۹؍۳)
اسلام سے قبل بھی جھوٹ کی مذمت کی گئی ہے، شاہ روم ’’ہرقل‘‘ نے جب نبی علیe کے متعلق سوالات کے۔ تو ابو سفیان tنے کہا تھا:
اﷲ کی قسم !اگرمجھے اس بات کاخوف نہ ہوکہ میری طرف جھوٹ کی نسبت کی جائے گی تومیں ضرور(آپe کے متعلق)جھوٹ بولتا۔‘‘ (بخاري:۷)
اسلام میں بھی جھوٹ سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔
نبی اکرمe کا فرمان ہے:
’’جھوٹ سے بچواس لیے کہ جھوٹ برائیوں کی طرف لے جاتاہے اوربرائیاں انسان کوجہنم تک لے جاتی ہیں اورانسان جھوٹ بولتارہتاہے اورجھوٹ تلاش کرتارہتاہے حتیٰ کہ وہ اﷲ کے ہاں جھوٹالکھ دیاجاتاہے ‘‘۔ مسلم،البروالصلۃ (۲۶۰۷)(۶۶۳۷) بخاری(۶۰۹۴)
نیز آپ ؐ نے فرمایا:
’’منافق کی تین نشانیاں ہیں :جب بات کرتاہے جھوٹ بولتاہے……‘‘(بخاری)
یعنی جھوٹ منافقین کی خصلت ہے جسے اختیار کرنا کسی مسلمان کے شایان شان نہیں۔
حتی کہ اسلام نے بطور مذاق بھی جھوٹ بولنے کی مذمت کی ہے اور اس کو مسلمان کی ہلاکت کہا ہے:
’’بربادی ہے اس شخص کے لیے جوجھوٹی بات اس لیے کرتاہے کہ لوگوں کوہنسائے ،اس کے لیے بربادی ہے،اس کے لیے بربادی ہے۔‘‘ سنن ابی داؤد،الادب (۴۹۹۰) وحسنہ الألبانيؒ)
اور جو مذاق میں بھی جھوٹ چھوڑ دیتا ہے اسے جنت کی گارنٹی دی ہے:
حضرت ابوامامہ tسے مروی ہے کہ رسول اﷲ eنے فرمایا:
’’میں ضمانت دیتاہوں جوشخص حق پرہونے کے باوجودجھگڑاچھوڑدے اسے جنت کے گردونواح میں گھرملے گا‘اورمیں(ضمانت دیتاہوں)جومذاق کرتے وقت بھی جھوٹ کوچھوڑدے اس کوجنت کے وسط میں گھرملے گا‘اور(میں ضمانت دیتاہوں)جس شخص کااخلاق اچھاہواسے جنت کے اوپروالے حصے میں گھرملے گا‘‘۔ ابوداؤد،الادب (۴۸۰۰)،صحیح الترغیب والترھیب(۱۳۹)
جھوٹ کی جائز صورت،سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط rفرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ eسے سنا:’’وہ شخص جھوٹانہیں جولوگوں کے درمیان صلح کروائے اوراچھی بات کہے اوراچھی بات پہنچائے ‘‘۔
مسلم،البروالصلۃ ،باب تحریم الکذب وبیان مایباح منہ (۶۶۳۳)
یعنی لوگوں کے درمیان صلح اورامن وامان قائم رکھنے کے لیے جھوٹ کاسہارالیاجاسکتاہے ۔
جھوٹ کی بدترین قسم،رسول اﷲeنے فرمایا:
’’جس نے جان بوجھ کرمجھ پرجھوٹ باندھاوہ اپناٹھکانہ جہنم بنالے ‘‘۔ بخاری،العلم (۱۰۷)
(۲)……اﷲ کے دشمنوں کی خوشی میں شرکت:
غیر مسلموں کے تہوار میں شرکت سے اسلام نے سرزنش کی ہے، حتی کہ ان کی کسی بھی خاص عادت یا مذہبی شعار کو اپنانے سے بھی شرع نے منع کیا ہے۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ﴾
امام مجاھد، طاؤوس، أبوالعالیۃ، ابن سیرین ،ضحاک، ربیع بن انس رحمھم اﷲ اور دیگر مفسرین اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ الزور سے مراد مشرکین کے تہوار(أعیاد المشرکین) ہیں۔
نبی eکافرمان:((مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ)) (مسند احمد:۵۱۱۵)
’’جوکسی قوم کی مشابہت اختیارکرتاہے وہ انہیں میں سے ہے۔‘‘
حضرت عمربن خطاب tنے فرمایا:
’’اِجْتَنِبُوا أعْدَاءَ اللّٰہِ فِي أَعْیَادِھِمْ‘‘ (رواہ البیھقي بسند صحیح)
’’اﷲ کے دشمنوں کی عیدوں میں (ان کی موافقت سے )بچو۔‘‘
(۳)……اﷲ کی ناراضی
اﷲ کی ناراضی صرف فعلا ہی نہیں ہوتی بلکہ اکثر انسان اپنے قول کے باعث اﷲ کی ناراضی کا مستحق بن جاتا ہے، نبی اکرم eکی حدیث ہے:
’’ انسان لاپرواہی برتتے ہوئے اﷲ کی ناراضی والاکلمہ کہہ دیتا ہے جس کے سبب وہ جھنم میں جاگرتا ہے۔‘‘(بخاري:۶۴۷۸)
(۴)……مسلمان بھائی سے دھوکا دہی کا ارتکاب
دھوکے باز جس طرح معاشرہ میں اپنا اخلاق کھو بیٹھتا ہے اسی طرح روز قیامت بھی ذلت ورسوائی اس کا مقدر ٹھہرے گی، نبی اکرم e کا فرمان ہے:
’’ روز قیامت بطور علامت ہر دھوکے باز پشت پرایک جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جو اس کے دھوکے کی علامت ہوگا اور اسکے دھوکے کی نوعیت کے مطابق اونچا کر دیا جائے گا۔‘‘(بخاري:۶۱۷۷ )
اپریل فول کی حقیقت، اس کا پس منظر اور اس کے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات کہنا برحق ہے کہ غیر مسلموں کے تمام تہوار کا شمار اخلاق رذیلہ میں ہی ہوتا ہے حالانکہ دین حنیف ہمیں اخلاق حسنہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے کیونکہ اخلاق حسنہ ہی مافی الضمیر کے تزکیہ کی بنیاد ہے جو مسلمان کی زینت، سلف صالحین کا زیور اور زندگی کا بہترین ساتھی بھی ہے۔ اخلاق حسنہ کا ایک کامل جزء ’سچائی‘ ہے جس سے متصف ہونے کا حکم اﷲ جل شانہ اور اس کے محبوب محمد رسول اﷲ eنے دیا ہے۔ اﷲ تعالی کا فرمان ہے:
’’اے ایمان والو!اﷲ تعالیٰ سے ڈرواورسچے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ۔‘‘ (التوبۃ:۱۱۹)
نبی کریمe کا فرمان ہے:
’’سچ کولازم پکڑوکیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتاہے اورنیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اورآدمی ہمیشہ سچ کہتارہتاہے اورسچ کہنے کی پوری کوشش کرتاہے یہاں تک اسے اﷲ کے ہاں سچالکھ دیاجاتاہے ‘‘۔صحیح مسلم (۲۶۰۷)،بخاری (۶۰۹۴)
اپریل فول نے گھر تباہ کئے
سرگودھا کے علاقے کلیارٹاؤں کا رہائشی محمد خان گزشتہ بارہ سال سے کویت میں مقیم تھا ۔اس کی بیٹی شازیہ نے اپنی سہیلی کے ذریعے اپنے گھر ماں کو فون کروایا ،سہیلی نے فون کیا ،بیٹی ساتھ کھڑی تھی ۔اس نے پہلے پوچھا ’’فاطمہ بی بی!آپ ہی کا نام ہے ۔‘‘جواب ہاں میں ملا ۔اس نے کہا کہ آپ کے لیے ایک بُری خبر ہے کہ ’’آپ کے شوہر کویت میں ایک میزائل حملے میں فوت ہو گئے ہیں ۔‘‘بیوی نے خبر سنی تو وہیں غش کھا کر فرش پر گر پڑی اور موقع پر ہی جا ن دے دی ۔(روزنامہ خبریں لاہور ،۲ اپریل ۲۰۰۷ء)
بوڑھا نواب دین صدمے سے چل بسا
سال ۲۰۰۸ء کے یکم اپریل کو پاکستان میں کئی انسان ’’اپریل فول ‘‘کے ہاتھوں جان سے گئے اور ان کے سینکڑوں رشتہ دار غم و دکھ کا شکار بنے رہے ۔اوکاڑہ کے علاقے رینالہ خورد میں ستر سالہ بوڑھے نواب دین کو کسی منچلے نے یہ خبر دی کہ اس کے بھائی انور کا اوکاڑہ میں ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے ۔بوڑھا نواب دین اسی لمحے اوکاڑہ ہسپتال چل دیا پریشانی کے عالم میں راستے میں اسے دل کا دورہ پڑا اور وہی ترپ کر اس نے جان دے دی ۔بعد از پتہ چلا کہ انور تو صحیح سلامت ہے اور نواب دین سے کسی نے مذاق کیا ہے اور اسے ’’اپریل فول ‘‘بنایا ہے ۔
بیٹے کی جھوٹی خبر ،باپ چل بسا
یزمان کے نواحی علاقے چک نمبر ۱۹ کے اﷲ بچایا کا بیٹا لقمان کراچی کی پیپر ملز میں عرصہ دو سال سے ملازمت کر رہا تھا جو گھر کا واحد کفیل ہے ۔کسی نامعلوم شخص نے اپریل فول مناتے ہوئے اﷲ بچایا کو فون کیا کہ اس کا بیٹا کراچی میں حادثہ کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے ۔باپ نے بیٹے کی موت کی خبر سنی تو اسے سکتہ ہو گیا جو ایک گھنٹہ بعد ہی جہان فانی سے کوچ کر گیا ۔اس دوران لوگ اس کے بیٹے سے رابطہ کرتے رہے جس میں تاخیر ہو گئی جونہی لقمان سے رابطہ ہوا تو اس نے اپنی زندگی کی تصدیق کر دی مگر اس سے قبل اس کا باپ وفات پا چکا تھا ۔(روزنامہ نوائے وقت ،لاہور ۔۲اپریل ۲۰۰۸)
آخری بات
افسوس صد افسوس:آج ہم کہاں کھڑے ہیں آج ہم نے تھوڑی سی لذت ِ نفس کی خاطر کیا کچھ جائز قرار دے دیا ہے ۔جھوٹ جو فقط جہنم کا راستہ ہے اس کو جائز سمجھ رکھا ہے اگر چہ زبان حال سے اس کا کوئی بھی اقرار نہیں کرتا کہ یہ سب جائز ہے مگر یکم اپریل کو ہمار اطرز عمل اس بات کی مکمل گواہی دیتا ہے کہ یم ان تما م امور کو چند لمحات کی ہنسی مذاق کو جھوٹ جیسے فریب میں رنگ کر جائز قرار دے چکے ہیں ۔اسلام ایسے تہوار وں ،رسم و رواجوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور آ ج کا مسلمان بھی ایسے تہواروں کی حوصلہ افزائی کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں بدعات ،خرافات ،رسم و رواج اور ایسے تہواروں سے محفوظ فرمائے جو اسلام کے خلاف ہوں ۔



⋆ محمد عظیم

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔