…. یہ کہیں گمراہ نہ کردے !!!

174

الطاف الرحمن ابوالکلام سلفی

آج شوسل میڈیا پر جہاں قرآن و سنت سے ماخوذ صحیح منہج کی باتیں عام کی جاتی ہیں وہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد بدعت وخرافات کو دین کی طرف منسوب کرکے اپنے ناپاک ارادے کی تکمیل بھی کرتے نظر آتا ہے، یہ بات شوسل میڈیا تک ہی نہیں بلکہ منبر ومحراب اور دینی اسٹیج بھی اس طرح کی سوچ کو فروغ دینے کے لئے زیر استعمال لائے جاتے ہیں۔
بے بنیاد باتوں کو دین سے جوڑ کر نشر کیا جاتا ہے، موضوع اور منگھڑت حدیثوں کا سہارا لے کر لوگوں کے جذبہء عبادت سے کھلواڑ کیا جاتا ہے، حتی کہ بسا اوقات حدیث گھڑنے اور شریعت سازی جیسے ناقابل معاف جرم کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو نہ تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، اور نہ ہی اللہ کے یہاں جواب دہی کا جیسے کوئی احساس !!
آپ نے بہت سارے میسیج ایسے پڑھے ہوں گے یا سنیں ہوں گے جس میں مخصوص انداز میں متعین تعداد کے ساتھ خاص عمل یا ذکر پر بے شمار ثواب کی بشارت بیان کی گئی ہوگی، مثلا: آپ فلاں دعا پڑھیں گے تو آپ کو رات میں اچھے خواب آئیں گے، فلاں دعا پڑھیں گے تو آپ کی ہر مصیبت ٹل جائے گی، رزق میں کشادگی ہوگی، فلاں عبادت کریں گے تو جنت کا ٹکٹ مل جائے گا وغیرہ ہفوات۔
اور ان سب میسیج کے نیچے یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ جو اس طرح کے میسیج کو عام کرے گا اس کی ساری پریشانیاں خوشیوں میں بدل جائیں گی، اور جو شئر نہیں گرے گا وہ شیطان ہوگا، اس کا سب کچھ برباد ہوجائے گا وغیرہ ناجانے کیا کیا بکواس مزید لکھے ہوتے ہیں۔
اور حد تو یہ ہے کہ اس طرح کی موضوع، منگھڑت، خود ساز اور بے بنیاد باتیں نشر کرتے وقت اللہ کی قسم کھا کر یہ کہا جاتا ہے کہ حدیث میں ہے : جو اسے نہیں پڑھے گا یا پڑھ کر دوسروں کو شئر کرنے کے بجائے ڈلیٹ کردے گا اللہ اسے فلاں فلاں عذاب سے دوچار کرے گا۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ کی قسم یہ بات صحیح ہے میں نے ایسا کیا جیسا کہ اس میسیج میں ہے تو میری مراد پوری ہوگئی، میری ساری پریشانی حل ہوگی، مجھے اتنے روپئے پیسے ملے۔ جبکہ بسا اوقات میسیج سے شرک کی واضح بو بھی پائی جاتی ہے، کہا جاتا کہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اس میسیج کو ضرور پڑھنا، میں نے محمد کی قسم کا واسطہ دیا ہے سو اسے ضرور پڑھنا، لیکن شیطان تمہیں پڑھنے سے روگے گا لیکن شیطان کی بات نہیں ماننا۔ ۔ وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس طرح کے میسج کو خاطر میں لاکر بہت سارے لوگ بدعت وخرافات کے دلدادے بن جاتے ہیں، اور بہتوں کا تو یہی عقیدہ ومنہج قرار پاتا ہے، جسے اپنا دین سمجھ کر جنت کی آرزوئیں لیے پھرتے رہتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک۔

اس طرح کی نشریات اور اس سے پیش آنے والے خطرات کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس سے کیسے نجات پایا جائے، اہل علم طبقہ تو صحیح اور غلط کی تمیز کرتے ہوئے اپنا منزل بہت حد تک طے کرلے گا، مگر جاہل عوام کیا کرے ؟ کیسے اس مصیبت سے نجات پائے؟ اس سے پچنے کی کیا تدبیر ہوسکتی ہے؟
تو آئیے شریعت سے اس کا مناسب حل تلاش کرتے ہیں :
سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ اس طرح کے میسیج کی حقیقت کیا ہے ؟
تو در اصل اس طرح کے میسیج لکھنے والے صوفی ذہن کے نرے جاہل لوگ ہوتے ہیں جو دین کے نام پر دنیا بھر کے بدعت و خرافات کو گلے لگانے کے لئے صف اول میں پائے جاتے ہیں ..
لہذا ہر مسلمان کو جاننا چاہئے کہ کوئی بھی عمل اس وقت تک اللہ کے یہاں قابل قبول ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس میں دو شرطیں نا پائی جائیں :
1. خالص اللہ رب العالمین کی رضا کے لئے وہ عبادت کی گئی ہو.
2. اور وہ عبادت یا عمل ثابت شدہ صحیح سنت رسول کے مطابق ہو.
اس کی دلیل : {وما أمروا الا ليعبدوا الله مخلصین له الدين} [البينة: 5] لوگوں کو صرف اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد ” [ متفق عليه] جو کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس پر میرا کوئی حکم نہیں ہے تو وہ عمل مردود ہے.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف کیا گیا نیک عمل اللہ کے یہاں کیسے مرود قرار پاسکتا ہے ؟
جواب : وہ اس طرح جیسے اللہ ستر سال تک نماز پڑھنے والے کی ایک نماز بھی قبول نہیں کرتا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک آدمی ستر سال تک نماز پڑھتا ہے لیکن اللہ اس کی ایک بھی نماز قبول نہیں فرماتا، اس لئے کہ جب وہ رکوع مکمل طور کرتا ہے تو سجدہ اچھے سے نہیں کرتا، اور جب سجدہ اطمنان سے کرتا تو رکوع اچھے سے نہیں کرتا ( یعنی سنت رسول کے مطابق نماز نہیں پڑھتا)۔ [السلسلۃ الصحیۃ: 2535 علامہ البانی نے حسن کہا ہے]
اسی طرح مشہور صحابی رسول حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو
نماز میں جلد بازی مچاتے ہوئے دیکھا تو پوچھا: ” اس انداز میں کتنے سالوں سے نماز پڑھ رہے ہو؟ کہا: چالیس سال سے۔ (صحابی رسول کہتے ہیں ): ” گویا تونے چالیس سال سے کوئی نماز نہیں پڑھی، اگر تھجے اسی حالت میں موت آجاتی تو تیری موت فطرۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاہ پر ہوتی "۔ [صحیح سنن نسائی : 1311، علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے]
اس کی واضح دلیل اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے: (( قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا )) [الکھف: 103، 104] اے نبی ! کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ عمل کرنے کے باوجود سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے کون ہیں ؟ وہ ہیں جن کی دنیوی زندگی کی تمام تر کوششیں بے کار ہوگئیں حالانکہ وہ اسی گمان میں رہے کہ وہ بہت اچھے اور نیک کام کر رہے ہیں۔ (یعنی ان کے اعمال اللہ کے بیجھے ہوئے شریعت کے مطابق نہیں ہیں، اس لئے سب کے سب اللہ کے یہاں بے وقعت قرار پائے۔ )
معلوم ہوا اگر کسی کے عمل میں یہ دونوں شرطیں ناپائی جائیں اور اس نے زندگی بھر عبادت میں ہی گذارا کیوں نا ہو، پھر بھی اس کی ساری عبادتیں بے کار قرار پائیں گیں، مزید وہ شخص بدعات وخرافات کا مرتکب ہونے کے جرم میں اللہ کے سامنے مجرم بنا کھڑا ہوگا. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وشر الامور محدثاتھا وکل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار ” [ سنن نسائی : 1578 علامہ البانی نے صحیح کہا ہے ] دین کے نام پر ہر نئی چیز جو سنت رسول کے مخالف ہو بد ترین بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے.
پیارے قارئین !! ہم مسلمان ہیں اور دین اسلام: قرآن اور صحیح حدیث پر قائم ہے، لہذا اگر ہم کوئی دینی بات کریں تو قرآن و حدیث کے مطابق معتبر حوالہ کے ساتھ کریں، اگر کوئی پوسٹ آپ کے پاس آئے جو قرآن اور صحیح حدیث کے حوالہ سے خالی ہو تو آپ ایسے پوسٹ کو ڈلٹ کردیں، اسے دینی پوسٹ سمجھ کرکے غلطی سے بھی دوسروں کو شیئر نا کریں، مبادا آپ مفت میں اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لیں گے. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” من يقل علي ما لم أقل فاليتبوأ مقعده من النار” [بخاري: 109] جس کسی نے میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جو میرا کہا ہوا نہیں ہے تو وہ اہنا ٹھکانا جہنم بنا لے.
نیز صحابہ کرام کا عالم یہ تھا کہ وہ حدیث کو بلا تحقیق بیان کرنے سے ڈرتے تھے کہ کہیں ہم بھی جہنم کی اس وعید شدید کا مستحق نا قرار پا جا ئیں . [ بخاری : 107]
حتی کہ وہ فتنہ مقتل عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد بلا سند بیان کی گئی حدیث اس وقت تک نہیں مانتے تھے جب تک کہ بیان کرنے والا معتبر سند نہیں بیان کردیتا.
ابن سیریں رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : ” صحابہ کرام (حدیث بیان کرنے والے سے ) اسناد پوچھے بغیر حدیث لے لیا کرتے تھے، لیکن فتنہ ( مقتل عثمان ) کے واقع ہونے کے بعد کہنے لگے : تم نے یہ حدیث جس سے سنی ہے ان کے نام بتاؤ ! تو جو حدیثیں اہل سنت بیان کئے ہوتے اسے لے لیتے اور جو احادیث اہل بدعت نے بیان کی ہوتی اسے چھوڑ دیتے "۔ [مقدمۃ صحیح مسلم]
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : ایک دفعہ بشیر العدوی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور حدیث رسول بیان کرنا شروع کردئے، وہ حدیثیں بیان کرتے جارہے ہیں جب کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نہ تو اس کی بیان کردہ حدیثوں کو سنتے ہیں اور نہ ہی ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، پھر وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متوجہ ہوکر کہنے لگے: کیا بات ہے میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان کئے جا رہا ہوں اور آپ ہیں کہ سن ہی نہیں رہے؟ ابن عباس کہتے ہیں : ” ایک وقت تھا کہ ہم کسی کو حدیث رسول بیان کرتے سنتے تو ہماری آنکھیں چوکنا ہوجاتیں اور ہمارے کان پوری طرح متوجہ ہوتے۔ بعد ازاں لوگ جب مختلف فکر اور منہج کو اپنانے لگے تو اب ہم لوگوں سے وہی حدیثیں لیتے ہیں جس کے (صحیح ) ہونے کے بارے میں جانتے ہیں۔ [مقدمۃ صحیح مسلم]
جب صحابہء رسول رضوان اللہ علیھم اجمعین کا خیر القرون میں یہ عمل تھا تو ذرا سوچیں ہمیں اس پرفتن دور میں کس قدر دینی معاملات میں محتاط رہنا چاہئے.
امام ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : ” ان ھذا العلم دین فانظروا عمن تاخذون دینکم ” [مقدمۃ صحیح مسلم ] یہ علم ( یعنی علم حدیث ) دین ہے، لہذا جس سے تم اپنا دین (علم کی شکل میں ) حاصل کر رہے ہو اس کو پرکھ لو ( کہ وہ کیسے ہیں )۔
عبداللہ ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں : ” الاسناد من الدین لو لا الاسناد لقال من شاء ماشاء ” [مقدمۃ صحیح مسلم ] اسناد ( یعنی جس سے حدیث سنی ہے اس کا نام بتانا یا جہاں سے حدیث لی یے اس کا حوالہ دینا) دین کا ایک حصہ ہے، اگر اسناد نہ ہوتا تو جس کی جو مرضی ہوتی دین کے بارے میں کہتا پھرتا.
آج الحمد للہ احادیث کی سندیں موجود ہیں اور تقریبا ہر حدیث پر محقیقن اور ماہرین فی الحدیث کا حکم بھی موجود ہے اس کے باوجود جس کی جو مرضی کہتا پھر رہا ہے، اس امت پر اللہ کی یہ عظیم نعمت نا ہوتی تو پھر کیا حشر ہوتا۔
ایسے موقع پر شیطان خوب فائدہ اٹھا کر اگثر لوگوں کو گمراہی کے دلدل میں پھنسا لیتا۔ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” شیطان انسان کی صورت اختیار کرکے لوگوں کے پاس آتا ہے اور انہیں جھوٹی حدیثیں سناتا ہے، اس طرح لوگ فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ( جب حدیث کی حقیقت معلوم کی جاتی ہے تو ) ان میں سے ایک کہتا ہے : یہ حدیث ایک ایسے آدمی نے بیان کی ہے جس کا چہرہ پہچانا سا لگ رہا ہے لیکن نام نہیں جانتا "۔ [مقدمۃ صحیح مسلم]
یاد رہے شیطان کا یہ حربہ بہت پرانا ہے۔ قوم نوح کو بھی اسی طرح شرک میں مبتلا کیا تھا۔ کہا: یہ مجسمے اور مورتیاں جو تمہارے سامنے ہیں تمہارے آباء واجداد ان کی پوچا کرتے تھے سو تمہیں بھی ان کی عبادت کرنی چاہئے۔ [صحیح بخاری: 4636]
لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین : اسلام کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کی ضمانت لی ہے اس لئے اس نے اس دین کے حفاظت کے لئے مختلف ادوار میں بہت سے محدثین ومحققین کو جنم دیا، جنہوں نے شیطان صفت انسانوں کی گھڑی ہوئی موضوع، منگھڑت احادیث کو ایک ایک کرکے الگ کیا، اور یوں امت کو: دین کے نام پر بدعت وخرافات کو شہ دینے والی روایات سے محفوظ رکھا۔
⏰ عزیز قارئین!! آج کے اس پرفتن دور میں ہر مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم جہاں قرآن اور صحیح حدیث کے حوالہ سے گفتگو کریں وہیں کتاب اور صحیح سنت رسول کے حوالہ سے خالی دین کے نام پر کی گئی باتوں پر اس وقت تک دھیان نہ دیں اور نا ہی اسے دوسروں تک عام کریں، جب تک اس کی صحت واضح نہ کردی جائے، . اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: 6] اے مسلمانوں ! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہونچا دو پھر اپنے کئے پر شرمندگی اٹھاؤ۔
اسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک عمدہ اصول سکھایا: ” کفی بالمرء کذبا أن یحدث بکل ما سمع ” [صحیح مسلم: 5] آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات ( بلا تحقیق) بیان کرتا پھرے۔

اگر ہمیں دین میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو مذکورہ دلائل سے ماخوذ درج ذیل اصول اپنانا لازم ہے:
1. ہم صرف قرآن اور صحیح حدیث کے حوالہ سے مزین بات کو مانیں گے , اور اسی کوشیئر کریں گے.
2. ہمارے سامنے پیش کی جارہی احادیث اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک اس کی صحت وضعف کی طرف واضح نشاندہی نہ کردی گئی ہو۔ حدیث پیش کرنے والا کوئی بھی ہو۔
3۔ اگر آپ کے سامنے کوئی حدیث بیان کی جائے اور اس کا صحیح اور ضعیف ہونا واضح نہ کیا گیا ہو تو آپ اس وقت تک اس پر عمل نہ کریں جب تک کہ بیان کرنے والے سے حدیث : صحیح یا ضعیف ؟ معلوم نہ لیں۔
4۔ اہل علم اور عوام الناس تک دینی میسج پہونچانے والے کی ذمہ داری ہے کہ حدیث ذکر کرنے کے بعد معتبر محققین نے: پیش کی جارہی حدیث پر جو حکم لگایا ہے اسے پوری امانت کے ساتھ ذکر کریں۔
5۔ جب اس طرح کا کوئی میسیج اہل علم کو موصول ہو تو فی الفور اس کی نکیر کریں تاکہ حق واضح ہوسکے۔
6۔ یوں ایک ایسا بہترین ماحول تشکیل دیں کہ جس میں صحیح دینی پیغام نشر کرنے کا رواج ہو، اہل باطل اپنا سر اٹھانے سے ہر طرح ڈر محسوس کریں۔
ان اصول کو اپنا کر ہی موجودہ صورت حال اور دین کے نام پر دئے جارہے زہریلے بدعات وخرافات سے بچا جا سکتا ہے۔ ان اصول کی روشنی میں اگر ہم کام کریں گے تو ضرور اللہ رب العالمین بے شمار دنیاوی اور اخروی نعمتوں سے نوازے گا۔
لیکن ان اصول کو نظر انداز کرکے دینی مسائل پر عمل کریں گے تو بسا اوقات ثواب تو دور گمراہی ہمارا مقدر بن جائے گی..
نوٹ: ان اصول کو بروئے کار لا کر اگر کوئی موضوع اور منگھڑت احادیث کو معتبر محققین کے حوالہ سے صحیح قرار دے کر پیش کرے تو ان شاء عوام طبقہ معذور قرار پائے گا۔
اللہ ہم سب کو قرآن اور صحیح حدیث کی روشنی میں زندگی گذارنے کی توفیق دے آمین.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے