معاشرہ اور ثقافت

یا رب مجھے 2017 جیسا سال نہ بنائیو: 2018 کی فریاد

حالات میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انسانوں کی سوچ میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے۔ اس لیے اندیشے تو ہیں۔ لیکن ہمیں قنوطیت پسندی کے بجائے رجائیت پسندی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں پرامید ہونا چاہیے، ناامید نہیں۔ اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے جو اس کائنات کا خالق ہے۔ جس نے ہمیں اور تمھیں بھی بنایا اور جس نے انسانوں کو بھی بنایا ہے۔ میری دعا ہے کہ تمھارا حشر میرے جیسا نہ ہو اور جب تم واپس ہونے لگو تو لوگ یہ نہ کہیں کہ بڑا خراب سال گزرا ہے۔ بڑا برا سال گزرا ہے۔ لوگ یہ کہیں کہ یہ سال بہت اچھا رہا۔ بڑا پرامن رہا۔ بڑا پرسکون رہا۔اچھا خدا حافظ دوست اپنا خیال رکھنا‘‘۔

مزید پڑھیں >>

اپنے بڑھا پے کا انتظام کیجئے!

آج کل ہمارے معاشرہ میں  بوڑھے ماں باپ کے سلسلے میں  جو زیادتیاں  اور حق تلفیاں  ہو رہی ہیں ان کے پیش نظر  یہ چند حدیثیں پیش کی جا رہی ہیں ،  تاکہ ان کی روشنی میں  ہمیں اپنا چہرہ دیکھنے کی  توفیق ہو، اور آئندہ صحیح اسلامی خطوط پر  ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کر نے کا  جذبہ پیدا ہو۔

مزید پڑھیں >>

موبائل فون ضرورت یا عادت

 موبائل فون دور حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے اسکی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن انٹرنیٹ کی دنیا نے جہاں زندگی کو آسان بنایا یے وہیں کچھ منفی اثرات بھی مرتب کئے ہیں ہمیں اپنے اور اپنے بچوں کے تئیں اس منفی اثرات سے محتاط رہنے کی بھی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے!

اس جہان رنگ وبو کا نظام بغیر کسی تعطل کے اپنے مدار پر مسلسل گردش کررہا ہے ۔۲۰۱۷ ؍ کاسورج اپنی تمام تر یقین و گمان کی کشمکش کے ساتھ غروب ہوکر اب ہماری تاریخی باقیات کا ایک حصہ بن چکا ہے ۔اب ایک نئے سال کا آغاز ہوچکاہے۔چونکہ انھیں گردش ایام ماہ و سال کی فطری تدوین اوراس شب وروز کی آمد ورفت سے انسان اپنی زندگی میں واقع ہونے والی تبدیلی اور رونما ہونے والے خوشگوار اور ناخوشگوار واقعات وحادثات سے بہت کچھ حاصل کرتا ہے۔ہم نے اس نئے سال کا خیرمقدم بڑے پُرجوش اندازمیں کیا ۔لوگوں نے ایک دوسرے کو نئے سال کے آمد کی مبارک باد بھی پیش کی۔

مزید پڑھیں >>

 سال 2018ء اور مسلمان!

نئے سال کی آمد پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی ساری طاقت و قوت عالمِ اسلام کے دفاع کے لئے اکٹھا کریں گے، اب آئندہ کی زندگی میں ہم عالمِ اسلام کی بھلائی کے لئے ہر قدم اٹھائیں گے- اور ہندوستان میں موجود مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والی منافق سیاسی پارٹیوں، جھوٹے مفاد پرست مسلم رہنماؤں اور فرقہ پرست طاقتوں کو بهی منہ توڑ جواب دیں گے....ان شاء اللہ

مزید پڑھیں >>

 اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا

 سال ۶2017 کی رخصتی اور سالِ نو ۶2018 کا آغاز۔ کیا یہ وقت خوشیاں منانے کا ہے؟ ملّت کے نوجوان، ہمارے وطنی بھائیوں بہنوں کے ساتھ مل کر نئے سال کے جشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ ۶2018 کا طلوع ہونے والا سورج ہمارے لیے کیا سوغات لائے اس سے ہم ناعلم ہیں لیکن کہیں یہ ہماری زندگی کا آخری سورج نہ ثابت ہو اور یہ سال ہماری سانسوں کے لیے آخری لمحات نہ بن جائے۔

مزید پڑھیں >>

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

یہ سوچتے ہوئے بھی بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ آخر مسلمانوں نے کیوں اپنے گلے میں مغربی تہذیب کا قلادہ ڈال کر، انکے اشاروں پر ناچنے اور انکے فسق آموز و فجور آمیز راستے پر چلنے کو اختیار کر لیا اور کیوں انہیں اسلامی تعلیمات برے معلوم ہونے لگے؟ اور اسی طرح "سیکڑوں باتوں کا رہ رہ کے خیال آتا ہے" جو ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے؛ کیوں کہ میری کوتاہ بیں نگاہوں نے تو کبھی کسی یہودی و عیسائی کو مسلمانوں کے تیوہار و پرب اور کسی مذہبی تقریب و جشن میں شریک ہوتے نہیں دیکھا؛ لیکن افسوس ہے ان کم فہم و نا اندیش مسلمانوں کی مغربی تقلید پر، کہ وہ عیسائیوں کے ہر خرافاتی تیوہار و یہودیوں کے بیہودہ جشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر نہ صرف اپنے وقار کو مجروح کرتے ہیں، بلکہ اپنے دین و مذہب کا مذاق بناکر اسکی شان و شوکت اور جاہ و حشم کو مغرب کے نام پر بھینٹ بھی چڑھاتےہیں اور  ساتھ ہی اپنے مسلمان ہونے پر گویا نا شکری کا کھلا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں ـ

مزید پڑھیں >>

سالِ نو کا جشن اور اسلامی تعلیمات

 ایک سال کا اختتام اور دوسرے سال کا آغاز اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ ہماری زندگی سے ایک سال کم ہو گیا، حیات مستعار کا ایک ورق الٹ گیا اورہم موت کے مزید قریب ہوگئے، اس لحاظ سے ہماری فکر اور ذمہ داری اور بڑھ جانی چاہیے، ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور وقت کو منظم کرکے اچھے اختتام کی کوشش میں لگ جانا چاہیے اوراپنا محاسبہ کرکے کمزوریوں کو دور کرنے اور اچھائیوں کو انجام دینے کی سعی کرنی چاہیے؛مگر افسوس صد افسوس! اس کے برعکس دیکھا یہ جاتا ہے کہ عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پرمغربی ممالک کی طرح ہمارے ملک کے بہت سارے مسلم اور غیر مسلم بالخصوص نوجوان لڑکیاں اور لڑکے،دھوم دھام سے خوشیاں مناتے ہیں،

مزید پڑھیں >>

سالِ نو کی آمد: خوشی ومسرت کی نہیں احتساب کی ضرورت

ضرورت ہے اس بات کی کہ سال ِ نو کا آغاز غیر شرعی طریقہ پر کرنے سے گریز کیا  جائے،اور اس موقع پر جو خلاف ِ شریعت کا م انجام دئے جا تے ہیں،اور فضول و لا یعنی امور اختیا ر کئے جا تے، جو نا شا ئستگی اور بد اخلاقی کے مظاہرے ہو تے ہیں، عیسائیوں کے طریقہ کے مطابق جو نیو ائیر کا استقبال کیا جا تا ہے،کیک کاٹ کر اور مبارک بادیا ں دے کر جو اپنی تہذیب کا مذاق اڑایا جا تا ہے اسی طرح شور و شغب اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والی جو حرکتیں کی جا تی ہیں،ان تمام چیزوں سے مکمل اجتناب، اور اپنے نو نہانوں کو ان تمام سے روکا جا ئے، اسلامی تعلیمات سے اپنی اولادکو آگاہ کریں،اور اسلامی سالِ نو کا تعارف،اور ماہ وسال کی یہ انقلاب انگیز تبدیلی سے حاصل ہو نے پیغامات سے واقف کر ائیں،ورنہ ہماری آنے والی نسلیں دین کی تعلیمات سے بے بہرہ ہو کر، عیسائی تہذیب و کلچر کی دلدادہ بن کر، اور مغربی طریقہ ٔ زندگی ہی میں کامیابی تصور کر کے پروان چڑھے گی۔

مزید پڑھیں >>

اُف یہ مہذب لٹیرے!

گذشتہ دنوں ایسی ہی ایک فیملی سے ملاقات ہوئی جس نے ڈیلیوری کیلئےنرسنگ ہوم میں زچہ کو داخل کیا  وہاں کے منتظمین نے صاف طور پر کہہ دیا کہ یہ آپریشن کا کیس ہے آپ فیس کا انتظا م کریں ورنہ کیس بگڑسکتا ہے اور زچہ بچہ دونوں کی موت ہوسکتی ہے غریب فیملی پیسوں کا فوری انتظام نہ کرسکی مریضہ رات بھرتڑپتی رہی لیکن انتظامیہ نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی بس وہ پیسوں کا مطالبہ کرتی رہی لیکن صبح میں بڑی آسانی سے نارمل ڈیلیوری ہوگئی اوراسپتال انتظامیہ منھ دیکھتا رہ گیا۔

مزید پڑھیں >>