معاشرہ اور ثقافت

Sorry کے نام پریہ کیسا دھوکہ۔۔۔!

ابراہیم جمال بٹ
دنیا بھر میں ایک لفظ جس کو بار بار ایک انسان اپنی زبان سے دہرارہا ہے ۔یہ لفظ کوئی ایسا لفظ نہیں جسے سمجھنے کے لیے کسی اُستاد یا ڈکشنری کی ضرورت ہو، بلکہ یہ ایک ایسا لفظ ہے جسے ہر ایک سمجھ کر بآسانی دن میں بلا جھجک دُہرا رہا ہے، چاہے وہ پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ۔ اس ایک لفظ کو دُہرانے اور سمجھنے کے لیے کسی پڑھائی لکھائی کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک ایسا معروف لفظ ہے جس کی شہرت ہر جگہ عام ہے، کسی بھی زبان کا رکھنے والا کم از کم اس لفظ کا اپنی زبان میں ترجمہ کرنا ضروری نہیں سمجھتا، کیوں کہ یہ لفظ دنیا بھر کے لوگوں میں چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں، بچے ہوں یا بوڑھے اتنا عام چکا ہے کہ نہیں لگتا کہ اس لفظ سے زیادہ کوئی اور لفظ اس قدر دُہرایا جاتا ہو گا۔ آپ پریشان نہ ہوں، یہ بار بار دہراہا جانے والے لفظ کوئی اور نہیں، انگریزی زبان کا مشہور لفظِ Sorry ہے۔ اس لفظ کو دن میں کم و بیش ایک انسان ایک دو مرتبہ تودہراتا ہی ہے۔
انسان بحیثیت انسان دن میں کئی مرتبہ غلطیوں کا مرتکب ہو جاتا ہے، غلطی کرنے پر جب اُس سے کوئی پوچھتا ہے یا اسے احساس ہو تا ہے تو مختصراً اس لفظ sorryکا سہارا لے کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ غلط فہمیوں کی وجہ سے دو دوست، رشتہ دار، پڑوسی و ہمسایہ جب کبھی آپس میں اُلجھ جاتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ ’’تو تو، میں میں‘‘ پر اُتر آتے ہیں، بعد میں جب ان کی غلط فہمیوں سے پردہ اُٹھ جاتا ہے تو وہ پہلے اسی لفظِ sorryکا سہارا لے کر ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ غرض یہ لفظ sorryاب ہماری زندگی کا ایک ایسا حصہ بن چکا ہے جسے بلایا بھی نہیں جاسکتا۔ یہ تو اس لفظِ sorryکا ایک تعارف تھا۔ تعارف اس لحاظ سے کہ یہ لفظ دکھنے میں اگرچہ چھوٹا سا ہے لیکن کام کے اعتبار سے یہ بڑے بڑے کارنامے انجام دیتا ہے۔ پہلے گناہ کرو پھر پکڑنے پر sorryکہہ ڈالو، بہت حدتک کام ہو ہی جائے گا۔ آپس میں دو بھائیوں کو لڑاؤ، جب حقیقت واضح ہو جائے تو لفظِ sorryکااستعمال کر کے اپنا پلو جاڑ لو۔ کسی کے پیٹ میں چُھری گھونپ دو، کسی کے ساتھ غلط طریقے سے پیش آؤ ، کسی کے اُوپر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دو، کسی کو جا ن بوجھ کر یا انجانے میں ہی سہی قتل کر دو۔ کوئی بات نہیں لیکن جونہی حقیقت سے پردہ فاش ہو جائے، جوں ہی انجانے میں کی ہوئی غلطی سے پردہ اُٹھ جائے، تو لفظِ sorryکا سہارا لو اور اپنی جان، اپنی شان اور اپنی آن بچا لو۔ لفظِ sorryصرف ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں مشہور و معروف لفظ بن چکا ہے۔ ٹھیک ہے یہ لفظ اب مشہور ہو چکا ہے اسے دُہرانے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔ یہ تو انسانی فطرت ہے کہ جب وہ غلطی کرے تو معافی مانگے، غلطیوں پر نادم ہو کر اس کی معافی مانگنا انسانی اخلاق کی ایک اہم صفت ہے۔ کم از کم یہ صفت ہر اس انسان میں ہونی ہی چاہیے، جس کے جسم میں دل اور ضمیر ہو اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ کہ جس کے اندر ایمان ہو۔ اس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے۔ اسلام کا مطالعہ کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب جب کسی سلف سے کوئی چھوٹی سی چھوٹی یا بڑی خطا ہوئی تو پہلے اس نے اُس سے معافی مانگی جس کے ساتھ اس گناہ کا معاملہ تھااور پھر خدائے ذوالجلال سے معافی مانگ کر آخرت کی رسوائی سے بچنے کا سامان کیا۔ یہ صفت تو مسلمانوں کا ایک اہم صفت ہے۔ یہ تو عام انسانوں کے حوالے سے اس لفظِ sorryکا استعمال ہوا۔ جو کہ مثبت کے ساتھ ساتھ منفی پہلو سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن عام انسان کی وجہ سے اکثر وبیشتر ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں جن کا sorry کہہ کر معاف کرنا بہرحال کسی حد تک قابل قبول ہوتا ہے۔ لیکن یہی لفظ جب عوام کے بجائے خواص کہنے لگے، یعنی وہ جو ہم سے بڑے ہیں، جن کے ذریعے سے قوم و ملک کا راج چلتا ہو۔ جن کی ایک خطا سے امن کا ماحول بدامنی میں تبدیل ہوتا ہو۔ اُن کی غلطیاں چھوٹی موٹی نہیں ہوتی ، اُن کی زبان سے نکلی ہوئی بات ایک عام انسان کی بتائی ہوئی بات سے الگ معانی اور الگ مقام رکھتی ہے۔ لہٰذا ان کا لفظِ sorryکہنے کا مطلب ہے ایک بہت بڑی خطا سے معافی مانگنا۔ یہ لفظ کوئی افسانوی لفظ نہیں بلکہ یہ لفظ عصر حاضر میں ہونے والے کارناموں کی داستان ہے۔ پوری دنیا میں عموماً اور ہمارے ہاں خصوصاً اس لفظ کو عوام کے ساتھ ساتھ خواص بھی عمومی طور سے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ پاکستانی فوجیوں کو عالمی دہشت گرد امریکہ نے ڈرون حملے کی زد میں لاکر دو درجن سے زائد فوجی اہلکاروں کوموت کے منہ تک پہنچا ڈالا، جب پاکستانی حکمرانوں نے اس پر احتجاج کیا تو پہلے پہل لیت ولعل کیا اور بعد میں یہ کہہ کر خود کو بچانے کی کوشش کی کہ پاکستانی فوجیوں نے ہی نیٹو فوجیوں پر پہلے حملہ کیا جس پر جوابی کاروائی ہوئی اور اس دوران پاکستانی فوجیوں کی جانیں چلی گئیں، جب اس پر بھی بات نہ بنی تو آخر ہیلری کلنٹن کے ساتھ ساتھ امریکی صدر باراک اوبامہ نے اسی لفظِ Sorryکا استعمال یہ کہہ کر کیا کہ ’’یہ سب کچھ انجانے میں ہوا، جان بوجھ کر نہیں‘‘ ۔ غرض اس لفظ Sorryکا استعمال اس قدر اب ہو رہا ہے کہ چاہے جان کر کرو یا انجانے میں کچھ ہو جائے، لفظِ Sorryکا استعمال کرو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔ لیکن کیا اس جیسے واقعات کے ہونے کے بعد اس کا علاج یہی ہے کہ sorry کہہ کر اپنا دامن بچا لیں۔۔۔؟کیا اس لفظِ sorryکا استعمال اسی قدر ہمیشہ ہونا چاہیے۔۔۔؟ قانون قدرت ہے جو جس قدر غلطی میں پایا جائے گا اسے اسی قدر سزا بھی دی جانی چاہیے۔ اس لحاظ سے کیا ہر کسی کا لفظِ sorryکہنے کا یہی مطلب لیا جائے کہ اسے معاف کرو۔۔۔؟ کہیں یہ لفظِ sorryکا غلط استعمال تو نہیں ۔۔۔؟ اسلام کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو ہر وقت غلطیوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کرنی چاہیے اور جب انسان ہونے کے ناطے کبھی کوئی غلطی ہو ہی جائے تو انسانیت کے ناطے پہلے معافی طلب کرے اور جس سے معافی مانگی جائے اس نے اگر معاف نہ کیا تو قانون کے مطابق سزا کے لیے تیار رہے۔ اگرچہ کسی کی غلطی کو معاف کرنا ہی بہتر ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ معاف کیا جائے، اور اگر معاف کیا بھی جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کسی قسم کا قانون کے مطابق ہرجانہ لیا جائے۔ بہر حال غلطی ہو گی، اس پر معافی مانگنی چاہیے لیکن معافی کا جو لفظ آج کی دنیا میں مشہور ہو چکا ہے اس کا استعمال غلط ہو رہا ہے۔ لفظِ Sorryٹھیک ہے لیکن اس لفظ کا استعمال صرف اس لحاظ سے کیا جائے تاکہ آخرت کی بازپرس سے بچا جائے نہ کہ اس نیت سے کہ جس پر ظلم ہوا، اس کو Sorryکہہ کر اپنے آپ کو چھٹکارا دلائے۔ یہ صریح طور پر اس لفظ کا غلط استعمال ہوہے۔ اس طریقہ کو کم از کم مسلم نوجوان استعمال نہ کرے ۔
گر جو خطا ہوئی تو کوئی فکر نہیں
افرنگ نے تو چھوڑ ی ہے Sorryکی روایت

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close