کھیل

بہترین حل کیا ہے؟

شیخ خالد زاہد، نیو کراچی

الیکشن کا دور دورہ ہے۔ تمام سیاسی کھلاڑی اپنے اپنے میدان میں تیار ہیں۔ سب کے منشور ہماری نظروں سے گزرے ہیں۔ ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کہیں مفت تعلیم کی باتیں گونج رہی ہیں۔ انصاف کی فراہمی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کہیں کوئی خارجہ پالیسی میں اصلاحات کی باتیں کر رہا ہے۔ کون کیا دیتا ہے۔ ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیجئے آپ کو پتہ چل جائے گا کس نے کب کیا کہا اور وہ اپنے کہے پر کتنا کاربند رہا۔ ان باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آنے والے دو سے تین سال پیوندکاری میں لگینگے۔ باقی وقت شاید کام کرنے میں گزرے (اللہ کرے ایسا بھی ہوجائے تو بڑی بات ہوگی ہم پاکستانیوں کے لئے)۔ کسی نے کوئی ایسا حل نہیں دیا جس سے عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔ جیسے ہمارے یہاں موبائل کی کمپنیاں دیتی ہیں۔

مجھے یہ لکھتے ہوئے بہت تکلیف محسوس ہو رہی ہے کہ پاکستان کی حیثیت اس وقت ساری دنیا میں دہشت گردوں کے کیمپ سے زیادہ نہیں ہے۔ دنیا میں کہیں کچھ ہوجائے ساری دنیا کی زبانیں کچھ دیر خاموش رہتی ہیں مگر نظر کا زاویہ یہ بتا دیتا ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی تعلق پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ اس میں ملوث فرد پاکستان میں پیدا ہوا تھا یا وہاں کچھ ماہ پہلے ہو کر آیا ہے۔ آپ سب لوگ بغیر کسی حیل و حجت کے مجھ سے اتفاق کرینگے۔ نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پیارے سبز پاسپورٹ کو ممنوعہ اشیاء میں شامل کر دیا جائے گا۔ ۔ یہ ہمارابین الاقوامی خاکہ ہے۔ دوسری طرف ہمارے داخلی حالات کا اندازہ میں اور میرے ساتھ رہنے والے ہم وطن ہی جانتے ہیں۔ خواہ وہ پاکستان کے کسی کونے میں کیوں نہ ہو۔ ہم ان تمام مشکلات کے باوجود ایک ایسے مستحکم پاکستان کا خواہ ہیں۔ جس میں نشو نما پانے والا بچہ ذہنی طور پرمضبوط ہو۔ دنیا ہم پرہر طرح سے قد غن لگانے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہے۔ ہم اپنی آنے والی نسل کی پرورش ایسی کریں کے یہ مسائل یہ قدغن ان کے لئے بے معنی ہو جائیں۔ وہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے بے جا سوالوں کے منہ توڑ جواب دے سکیں۔ انشاء اللہ۔ میرا مقصد پاکستان کی خارجہ یا داخلہ پالیسیوں پر بحث کرنا نہیں ہے۔ میں اپنے موضوع کی طرف چلتا ہوں۔ میں اس مضمون کے توسط سے پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے سیاست دانوں کی توجہ ایسے حل کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ جو موئثر بھی ہے اور دیر پہ بھی۔

دنیا جہان میں نوجوانوں کو مستقبل کا معمار کہا جاتا ہے اور وہ اپنے معاشرے کے اس طبقے پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور انکی صلاحیتوں کو پنپنے کے بھرپور مواقع میسر کرتے ہیں۔ دنیا جہان میں بچوں کی تعلیم کی ابتداء ایسی تعلیم سے کی جاتی ہے جس سے بچہ اپنے اندر موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان سکے اور آگے کی جانب پیش قدمی کر سکے۔ اس نظامِ تعلیم سے جہاں طالبِ علموں کو بہت فائدہ پہنچتا ہے وہیں اساتذہ بھی اپنے لئے راہ ہموار کر لیتے ہیں۔

ابھی یہ مضمون لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ میری نظر اس خبر پر پڑھی کہ لندن میں اسکولوں کے ذریعے بچوں کو اسپورٹس مین اسپرٹ (Sportsmen Sprit) کی باقاعدہ تعلیم دی جائے گی۔ یہ خبر پڑھنے کے بعد میری سوچ کو بہت تقویت ملی۔ ہم لوگ کم ہی کسی ایک نقطے پر متفق ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی سے کھیل ایک ایسا موضوع یا نقطہ ہے جس پرسب ایک ہو جاتے ہیں۔ شاید ایسے کچھ اور بھی نقاط ہوں مگر میرے مشاہدے کے مطابق کھیلوں میں کرکٹ خصوصی طور پرایک ایسا موضوع ہے جس پر اس ملک کا ہر فرد چاہے کسی صنف سے ہو۔ کسی مذہب سے ہو۔ کسی علاقے سے ہو۔ کسی عمر سے ہو۔ کرکٹ کے لئے سب ایک ساتھ جڑ کے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک ساتھ خوشیاں مناتے ہی ہیں ایک ساتھ روتے ہیں۔ ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وہ تمام ممالک جو بین الاقوامی کرکٹ کونسل (International Cricket Counci ICC) کے رکن ہیں۔ کرکٹ کے فروغ کے لئے نچلی سطح جسے ہم انگریزی میں Grass Root Levelکہتے ہیں ، سے کام شروع کردیتے ہیں۔ وہ کیسا کھلاڑی پیدا کرتے ہیں یہ ہمارہ موضوع نہیں ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے رکن کچھ ممالک ایسے بھی ہاں جہاں کرکٹ کی نچلی سطح پر بھی اتنی بلندی پر ہے کہ کسی بچے کے لئے یہ بھی اعزاز سمجھا جاتاہے کہ وہ اپنے علاقے کی ٹیم کی نمائندگی کر چکا ہے۔ کرکٹ کی ٹیم گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اب کسی ملک کی آبادی سوا ارب ہو یا اٹھارہ کروڑ۔ وہ میدان میں اپنی نمائندگی کرنے کے لئے گیارہ کھلاڑی ہی بھیجنگے۔

 والدین اپنے بچے میں جو بنیادی چیزیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان میں نظم و ضبط، با آدب، وقت کی قدر، انہماک، ا ور سب سے بڑھ کران کی جسمانی تندرستی قابلِ ذکر ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس ایک نقطے پر ایک ہونا چاہئے کے وہ اسکولوں میں ایسے یقینی اقدامات کرائیں جس کی بدولت ایک منظم و مضبوط پاکستانی وجود میں آئے۔ اسکے لئے ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے۔

1۔    محنت کا جذبہ، سچی لگن، اور نظم و ضبط پیدا کرنا

2۔    ایک باشعور ، مہذب اور پر اعتماد انسان بنانا

3۔    ایک بہترین ٹیم پلئیر (ٹیم کا کھلاڑی) بنانا ہے

4۔    حق اور سچ بات کرنے کا حوصلہ پیدا کرناہے

5۔    عزت و تعظیم کرناسیکھانا

6۔    ہمارہ مقصد اسٹار کھلاڑی تیار کرنا ہر گزنہیں (مگر تربیت کسی اسٹار کھلاڑی سے کم نہیں ہونی چاہئے)

مندرجہ بالا سطور پر تربیت کا پلان تیار کیا جائے تو بچے کو کسی ایسے اسکول جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو جہاں ہر بچے کا پہنچنا ممکن نہیں۔ جب کسی کھلاڑی کی تربیت کی جاتی ہے تو اس کے لئے ان تمام عادتوں پر بھرپور طریقے سے عمل کرایا جاتا ہے۔ ہر انسان کو کسی نہ کسی عمل سے گزر کر بڑھا ہونا ہوتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بچہ بغیر کسی سبق سیکھانے والے مرحلے کے بغیر کسی مقام پر پہنچ جائے۔ اپنے موضوع کی طرف واپس آتا ہوں۔ کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کرنااور خصوصی طور پرطبعی کھیل(کیونکہ آج کل کمروں میں بیٹھ کرکمپیوٹر اور موبائل پر بھی سارے کھیل کھیلے جاتے ہیں ) میرا اصل مقصد ہے۔

اسکول اس مقصد کے لئے سب سے اہم ہیں۔ کیونکہ بچوں کی پہلی کیاری(جس جگہ پودے لگائے جاتے ہیں ) اسکول ہی ہیں۔ ہر اسکول کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ اپنے اسکول میں کھیلوں کا ایک باقاعدہ تربیت دینے والا رکھے۔ جس طرح دیگر علوم کے پیرئڈ ہوتے ہیں بلکل ایسے ہی کھیلوں کے پیرئڈ کو بھی روزانہ لازمی جز بنایا جائے اور اسی طرح امتحان لیا جائے۔ ہم نے تمام کہ تمام اسکولوں کے طالبِ علموں کو سپر اسٹار نہیں بنانا۔ ہاں ! مگر یہ بات ذہن نشین رکھنی اور کروانی ہے کہ ایک سپر انسان بنانا ہے۔ جو معاشرے کی اصلاح اپنے بچپن سے کرنا شروع کرے گا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے انشاء اللہ معاشرے کا نظام بدل دے گا۔ ہو سکتا ہے یہ تبدیلی بہت کم وقت میں آجائے۔ مگر اس کے بھر پور اطلاق کے بغیر ایسا ناممکن ہے۔ سب سے بڑھ کر پڑتال اور توازن کے بغیر کچھ کلیہ کام نہیں کرسکتا۔ نوجوانوں کو اس کام پر معمور کیجئے۔ انکو باور کرائیں کے ان کو اس ملک کی باگ دوڑ سونپ دی گئی ہے۔ تبدیلی کا عمل تمھارے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔ اپنے جوش اور ہوش سے ثابت کردو کہ دنیا اب تمھارے آگے بھیک مانگنے کو تیار ہوجائے۔ تمام نفرتوں کا قلعہ کمہ کردو۔ ان معصوم بچوں کو جنہیں تمھارے حوالے کیا ہے۔ ان بچوں میں سہیل عباس، اعصام الحق، محمد آصف، نسیم حمید اور شاہد آفریدی کا حوصلہ ، لگن اور جذبہ ڈال دو۔ ان بچوں کواقبال کے شاہین کی طاقتِ پرواز دے دو۔ پھر دیکھنا دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنے وطن عزیز کا نام آسمان کی بلندیوں پر پہنچانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ا نہیں ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کا مطلب سمجھا دو۔ یہ برقی قمقمے ہیں۔ انہیں تمازت سے بھرپور سورج بنا دو۔ جو جہالت کے تمام اندھیروں کو مٹا دیں۔ اس پاک سر زمین کی مٹی کی اہمیت بتا دو۔ اس مٹی میں مٹ جانے والے تحریکِ پاکستان کے لوگوں کی طاقت بنا دو۔ کھیل کھیل میں انہیں قائدِ اعظم بنا دو۔ بچوں کے اپنے ہتھیار(کھیلوں کا سامان) سے انہیں زندگی کی حقیقت سمجھا دو۔

میں اپنے اس مضمون کے توسط سے ان تمام حضرات سے جو کسی نہ کسی طرح اس کو پڑھ لیں گے۔ اگر سمجھیں کہ میری اس تجویز کسی بھی طرح کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ تو برائے مہربانی اسے آگے بڑھائیے۔ میری نظر میں یہ ایک اہم قدم ہے اور اگر پہلا قدم صحیح اٹھ جائے تو منزل پھر زیادہ دور نہیں ہوتی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close