کرکٹ میچ دیش بھکتی کا ثبوت نہیں!

محمد فراز احمد

 ہندوستان پاکستان کے مابین کرکٹ مقابلہ آج ایک جنگ کی شکل لے چکا ہے، جہاں میدان جنگ کرکٹ گراؤنڈ ہے، تلوار اور ڈھال، بلا اور گیند ہیں ، تیر اور نشتر، جملہ بازی اور مغلظات ہیں . فرق صرف اتنا ہے کہ جنگ میں تماشائی نہیں ہوتے اور کرکٹ کی اس جنگ میں 22 کھلاڑیوں کے علاوہ کروڑوں لوگ تماشائی ہوتے ہیں ، نہ صرف تماشائی بلکہ اپنی اپنی ملکی ٹیم کو سپورٹ کرنے میں مبالغہ آرائی اور انسانیت سوز کارنامہ کر گزرتے ہیں .

گزشتہ ایک ہفتے سے بھارت پاکستان کے فائنل مقابلہ کو لے کر سوشل میڈیا پر جنگ جاری ہے، لفاظی کی، اپنے دیش کو بڑا گرداننے میں حدود و قیود کو توڑا جارہا ہے. ایسا محسوس ہوتا ہیکہ بھارت پاکستان کا میچ ہی حقیقی جنگ ہے اور جو اس میں جیتے گا وہی فاتح زمانہ کہہ لائے گا، ادھر میڈیا کا بھی عجب ستم ہے، کھیل جہاں تفریح اور دلچسپی کا ایک ذریعہ تھا میڈیا نے اپنے پیٹ پالنے کے لئے اس کھیل کو بھی نفرت کی جنگ بنا دیا.

حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے عام شہریوں میں اس کھیل کو لیکر ملکی جذبہ و حمیت کے علاوہ کوئی احساس موجود نہیں تھا، لیکن میڈیا نے اس ملکی حمیت کو اپنے زہر سے ایسا زہریلا کردیا کہ عوام بھی کرکٹ میاچ کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھی اور احترام انسانیت کو زہر آلود کریا. ایک طرف ارنب گوسوامی جیسے اینکر ہیں جنھوں نے کشمیریوں کہ پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرنے کو دیش دروہی قرار دے دیا تو دوسری طرف بلوچ نامی اینکر ہیں جنھوں نے ہندوستان کرکٹ ٹیم کو نامردوں کی فوج کہہ دیا، حکومت ہند کی ذیلی تنظیموں کی اگر بات کی جائے تو انھوں نے تو آزادئ رائے حق اور پسند کو بھی زعفران رنگ سے رنگ دیا. اگر کوئی ہندوستانی شہری پاکستانی کھلاڑی یا ٹیم کو پسند کرتا ہے تو وہ ملک کا غدار ہے، مطلب یہ کہ وہ شہری جو ٹیکس ادا کرتے ہوئے ملکی معیشت کو مستحکم کرتا ہے اس کی پسندیدگی اور ناپسندیدگی ملک غداری کی علامت بن گئی ہے اور اس کا ٹیکس ادا کرنا غارت ہوگیا.

یہ معاملہ صرف ہندوستانیوں کا ہی نہیں بلکہ غلطی تو دونوں ملکوں کی ہے، ہندوستان نے ایک قدم آگے بڑھایا تو پاکستان نے بھی اپنی کثر نہیں چھوڑی، ایک سابق کھلاڑی ٹوئیٹ کرتے ہوئے پاکستان کی تضحیک کرتا ہے تو دوسرا فرد ہندوستان کا مذاق اڑاتا یے. ایسے بیانات دینے والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی اپبی دیش بھکتی بارڈر پر خون بہا کر ثابت کریں نا کہ آرام کرسی پہ بیٹھ کر ٹوئیٹ کے ذریعہ.

شکست ملی ہے تو اس کو قبول کربے کی ہمت بھی ہونی چاہیے نا کہ اپنی غلطیوں کو چھپاتے ہوئے ایک دوسرے کا مزاق اڑایا ہے،جب ہندوستانی اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں کوئی دشمنی نہیں تو دونوں ملکوں کے شہریوں میں دشمنی محب وطن کا ثبوت کیسے ہوسکتی ہے، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو گالی گلوج کرنا اور ایک دوسرے کے مذہب کو برا بھلا کہنا وہ بھی محض ایک کرکٹ میاچ کے لئے، یہ کہاں کی عقلمندی ہے، یقیناً کسی ٹیم کو جیت کر خوشی ملے گی اور کسی کو شکست کا غم، لیکن یہی خوشی اور غم حقیقی نہیں ہے، حقیقی خوشی تو وہ ہے جو ایک دوسرے کی عزت سے حاصل ہوتی ہے اس لیے دونوں ملکوں کی عوام کو چاہیے کہ کھیل کو کھیل کے میدان تک ہی محدود رکھیں اور میڈیا کی شر انگیزیوں سے اپنے آپ کی حفاظت کرتے رہیں .



⋆ محمد فرازاحمد

محمد فرازاحمد
محمد فراز احمد رکن ایس آئی او ،نظام آباد. سابق مدیر اعلیٰ ماہنامہ رسالہ "التوحید".

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے