عالم اسلام

آئینِ جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

احادیث کے روشن ذخیرہ سے یہ بات عالم آشکارا ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالٰی کی زمین حق و صداقت کی آواز سے کبھی خالی نہیں رہے گی،سخت سے سخت دورِ طغیان و فساد میں بھی صالحین امت کی ایک جماعت ضرور ایسی موجود رہےگی جس کی راست گوئی و بے باکی  دجل وفریب کے دبیزپردوں کو چاک کرےگی ،دین حنیف کوہر مکر وکید سے محفوظ رکھے گی اور امت مرحومہ پر عائدفریضۂ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  کا حق اداکرے گی۔

اس جماعت کا ہر فرد سربکف مجاہد اورجاں بازمومن ہوگا جو اپنی شمشیر صاف گوئی سے فواحش ومنکرات کے فلک بوس مجسموں کو چکناچور کردے گا،شیطانی تلبیسات  کا اس پر کوئی زور نہیں چل سکے گا،وہ ہر باطل کے مقابلے میں سینہ سپر ہوکر ہولناک طوفانوں کی بے پناہ موجوں سے کھیلتے ہوئے چراغ ہدایت کو فروزاں اور شمعِ اسلام کو روشن رکھے گااور نصرت الہی کی کامرانیوں اور اعانت خداوندی کی فتح مندیوں کے ساتھ احقاق حق اور ابطال باطل کے لئے جان عزیز کو ہتھیلی پر رکھ کر جام شہادت کامتلاشی ہو گا۔ان ہی اصحاب دعوت و عزیمت اور مردان علم و معرفت  میں سعودی عرب کے ممتاز و معروف عالم دین،مکہ مکرمہ کے مایہ ناز قاضی و فقیہ ،مسجدحرام کے باوقار امام و خطیب ڈاکٹر شیخ صالح آل طالب بھی ہیں؛جنہیں اپنی جرئت مندی اور صاف گوئی کے سبب اس مبارک ومحترم  سرزمین میں  پس دیوار زنداں کردیاگیا جہاں سےعلم وفضل کی روشنی پھوٹی ،ظلم و جہالت کا خاتمہ ہوا ،صالح وپاکیزہ معاشرے کو وجود بخشا گیا اورفواحش و منکرات کے خلاف علم بغاوت بلندہوا؛مگر حرم کے رہنے والے نامحرموں نے اس ارض مقدس کی حرمت کوحکمرانی کی ہوس ،جہاں بانی کے جنون ، ذاتی اغراض و مفادات، سیاسی مکر و فریب،اور راحت وعیش و کوشی کی خاطر اس طرح پامال کیا کہ بہ قول شاعر

گوشۂ امن نہیں آج بھی بلبل کو نصیب

چشم صیاد بہر سو نگراں آج بھی ہے

آج بھی زخم رگ گل سے ٹپکتا ہے لہو

خوں میں ڈوبی ہوئی کانٹوں کی زباں آج بھی ہے

ذرائع ابلاغ کے مطابق امامِ کعبہ کی حراست کی تصدیق کے لئے سعودی عرب میں قیدیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ایک گروپ کے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے بیان کا حوالہ دیا گیا،پریزنر آف کنسائینس نامی یہ گروپ سعودی عرب میں مذہبی شخصیات، علما اور مبلغین کی گرفتاری کی نگرانی کرتا ہے اور اس حوالے سے دستاویزات مرتب کرتا ہے۔ مذکورہ گروپ نے امامِ کعبہ کی حراست کے پیچھے موجود وجوہات کے بارے میں بتایا کہ انہیں عام طور پر رائج برائیوں کے خلاف عوامی سطح پر آواز بلند کرنے کی اسلامی ذمہ داری کے حوالے سے دیے گئے ایک وعظ کے باعث گرفتار کیا گیا انہوں نے اپنی تقریر میں حفظ قرآن کے حلقوں کو قائم کرنے پر زور دیا اور تفریحاتی تقریبات میں نامحرم مرد و خواتین کے گھلنے ملنے کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔تاہم براہِ راست سعودی حکام پر کوئی تنقید نہیں کی ،آپ نے خطبہ  میں اپنا فرض منصبی اداکرتے ہوئے فرمایا”عورتیں بےپردہ ہوچکی ہیں، مسجدیں خالی ہوگئی ہیں، اللہ تعالی کے احکامات سےبغاوت ہورہی ہے،چوروں کے پاس دلائل ہیں اور مجاہدں کو ہتھکڑیا لگا کر پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ زنا کو حلال قرار دیا جارہاہے، نکاح کو مشکل بنا دیا گیاہے،عورتیں مردوں پر حکمرانی کررہی ہیں، مسلمانوں کی زمین دشمنوں کے قبضہ میں ہےاور فقراء و مساکین کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں،قیامت کی بڑی بڑی تمام نشانیاں پوری ہوچکی ہیں سوائے چند ایک کے۔پس توبہ کو لازم پکڑو ! توبہ کو لازم پکڑو!”

 یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دانشوروں کے بہ قول سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں سعودی عرب کے قدامت پسند معاشرے میں کئی جدید اصلاحات متعارف کروائی گئیں ہیں، جس کے تحت خواتین کو عوامی اجتماعات میں تنہا شرکت کی اجازت کیلئے قوانین میں نرمی بھی کی گئی۔ سعودی فرماں رواں شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر ہونے کے بعد ( جون 2017 )سے اب تک درجنوں مساجد کے اماموں، منکرات پر علی  الاعلان روک ٹوک کرنے والوں اور اپنی قوت کردار وجرئت گفتار سے صالح انقلاب لانے والوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔امام حرم کی گرفتاری کے سلسلہ  میں ایک طرف مختلف تنظیموں کے صدور بالخصوص مولانا رابع حسنی ندوی ،مولانا ولی  رحمانی اور مولانا ا سرار الحق قاسمی وغیرہم کا اظہار تشویش ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کےمطلب پرست حمایتی ہیں جو اپنےمضامین میں راہ اعتدال سے ہٹے ہوئے نظر آرہے ہیں۔لمبی لمبی تحریریں ، اگلے پچھلے سب تعلقات کا ذکر؛لیکن کوئی دو لفظ کی یہ بات نہیں لکھ پائےکہ شیخ صالح آل طالب واقعتا فلاں جگہ پر موجود ہیں، فلاں کے ذریعے ان سے بات ہوئی ہے،فلاں وقت نماز کی انہوں نے امامت فرمائی ہے۔

شیخ صالح کون ؟:

علم دوست خانوادے سے تعلق رکھنے والےڈاکٹر صالح بن محمد بن إبراهيم بن محمد بن ناصر آل طالب کی عمر چوالیس برس ہے ۔ آپ کی تاریخ ولادت30جولائی 1974 ہے،آپ کا تعلق سخاوت و دریادلی میں ضرب المثل حاتم طائی کے خاندان بنو طی سے ہے۔ آپ انتہائی کم عمری میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایک مدرسہ سےحفظ قرآن کریم  کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے؛ جبکہ اسی شہر سے ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرأت اور سبعہ عشرہ کے علوم میں بھی خاصی دسترس حاصل کی۔ آپ نے ریاض کے شریعہ کالج سے گریجوایشن کرنے کے بعد ہائر انسٹیٹیوٹ آف جسٹس سے ماسٹرز کی ڈگری امتیازی نمبرات سے مکمل فرمائی۔ آپ نے آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے بین الاقوامی دستور میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی بھی حاصل کی۔آپ نے انفرادی طور پر سعودی عرب میں تحفیظ القرآن کے درجنوں تعلیمی ادارے قائم کیے؛جن کا انتظام و انصرام آپ خود ذاتی دل چسپی کرتے ہیں، جبکہ دیارِ عرب سے باہر بھی متعدد ادارے ایسے ہیں جن کی سرپرستی فرماتے ہیں۔ 1423ھجری کو آپ نے عصر کی نماز پڑھا کر مسجد حرام میں اپنے فرض منصبی کا آغاز کیااورگزشتہ سترہ برس سے مسجد الحرام سے وابستہ ہیں اور آپ کی خوش الحانی کروڑوں مسلمانوں کو اپناگرویدہ بنا چکی ہے۔ ان سب ذمہ داریوں  کے ساتھ ساتھ  آپ ایک مایہ ناز مصنف و ادیب بھی ہیں، اصلاح و تربیت، اجتہادو تقلید اور نفاق کے موضوعات پر کئی معرکۃ الآراء کتابیں بھی تصنیف فرمائی  ہیں؛ جنہیں عرب و عجم میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کی عربی زبان میں لکھی جانے والی ایک کتاب ”تہذیب و ثقافت کی اشاعت میں مسجد الحرام کا کردار‘‘ نے عالم عرب میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ آپ سعودی عرب میں تمباکو نوشی کے خلاف قائم تنظیم کے بھی رئیس رہے۔ اب تک آپ برصغیر پاک وہند سمیت امریکہ، ہالینڈ، مصر، مراکش سمیت مختلف ممالک میں دعوت و تبلیغ کے حوالےسے بڑے بڑے پروگراموں میں شرکت فرماچکے ہیں۔

اعلائے کلمۂحق کا تاریخی تسلسل:

اہل حق نے ہر دور اور ہر ظالم جابر بادشاہ کے سامنے استقامت اور جرات کا وہ مظاہرہ کیا کہ تاریخ کے اوراق ایسے عظیم انسانوں پر آج بھی فخر کرتے ہیں، امام ابو حنیفہ، امام مالک ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام اِبن تیمیہ، سعید بن جبیر، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، نظام الدین اولیا، حضرت علی ہجویری، بابا فرید گنج شکروغیرہم نے شہادت حق کا لازوال فریضہ ہر نازک موقع پر بڑی جرات سے ادا کیااِن کا کردار اور زبان ہر قسم کے خوف اور لالچ سے آزاد رہی۔دنیا نے حیرت سے دیکھا جب سعید بن جبیر کو زنجیروں میں باندھ کر وقت کے ظالم ترین شخص حجاج بن یوسف کے سامنے لایا گیا تو حجاج بن یوسف نے فرعونیت سے پو چھاتمھارا نام کیا ہے آپ نے فرمایا سعید بن جبیر ظالم دھاڑ کر بولا نہیں تم شفی بن کسیر ہو، آپ نے نہایت بردباری اور شان بے بیازی سے فرمایا تمھارے مقابلے میں میرے نام کا میری ماں کو زیادہ علم ہے حجاج برہم ہو کر دھاڑا تم بھی بدبخت ہو اور تمھاری ماں بھی، آپ نے طمانیت اورٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا خوش بختی اور بد بختی کا علم صرف اﷲ کو ہے ظالم کا پیمانہ پندار جھلک پڑا اور کہا میں تمھاری زندگی نشان عبرت اور جہنم میں بدل ڈالوں گا، آپ نے پھر فرمایا اگر یہ اختیار میں تمھارے ہاتھ میں سمجھتا تو تمھیں خدا مان لیتا۔آپ کی حق گوئی اور جرات تاریخ کے سینے پر ثبت ہوگئی جو قیامت تک آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔

اسی طرح  علامہ محمد بن احمد بن ابی سہل جوشمس الائمہ سرخسی کے نام سے مشہور ہیں،بڑے حق گو اور حریت پسندشخص تھے، کلمہ حق کہنے میں کسی کا خوف نہ کرتے تھے، بادشاہ کو اس کے بعض نقائص سے آگاہ کیا، اسے بتایا کہ رعب اور طاقت کے زور سے رعایا خاموش تو ہوجاتی ہے، مگر مطیع نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے دلوں پر حکومت ہوسکتی ہے، رعایا کا دل صرف اسی طریق سے قابو کیا جاسکتا ہے کہ سختیاں دور کی جائیں، ان کی فریاد اور چیخ و پکار سنی جائے اور ہر طرح افراد رعایا کی دلجوئی کی جائے۔بادشاہ ایسی آزادانہ گفتگو سننے کے بہت کم عادی ہوتے ہیں، اس نے ناراض ہوکر شہر روز جند میں ایک پرانے کنویں کے اندر قید کردیا، آپ عرصہ تک وہاں قید رہے، آپ کے شاگرد کنویں پر آکر آپ سے سبق پڑھتے رہے اور آپ جو کچھ کنویں کے اندر سے کہتے وہ اسے لکھتے جاتے، قید کی حالت میں ہی درجنوں ضخیم کتابیں تیار ہوگئیں۔آخر رہا ہوئے اور فرغانہ پہنچے، امیر فرغانہ نے بڑی عزت کی ، آپ کے تمام شاگرد بھی اسی جگہ آگئے اور یہاں بھی فقہ و حدیث کا درس جاری ہوگیا۔

کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے اصحاب دعوت و عزیمت کی ہزارہا داستانیں صفحات سیر و تاریخ میں بکھری پڑی ہیں ؛جن کا مطالعہ زندگیوں میں انقلاب کا پیش خیمہ  ثابت ہوگااور  حرکت فکر و عمل کے لیے مہمیز کاکام دے گا۔

داعیانِ حق کے لیے اسلامی ہدایات:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں داخل ہوئی وہ یہ تھی کہ ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا کہ اے شخص اللہ سے ڈر اور جو کچھ تو کرتا ہے اس کو چھوڑ دے اس لئے کہ وہ تیرے لئے حلال نہیں ہے پھر جب اس سے دوسرے روز ملتا تو اسے منع نہیں کرتا تھا؛کیونکہ وہ اس کا ہم مطعم وہم مشرب ہوجاتا اور ہم مجلس ہو جاتا جب انہوں نے اس طرح کیا تو اللہ نے بھی بعض کے قلوب کو بعض سے ملادیا پھر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی تو وہ حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی زبان سے لعنت کئے گئے آخر آیت فاسقون تک تلاوت کی۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم تم لوگ ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو گے اور تم ضرور ظالم کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ لوگےاور اسے حق کی طرف مائل کرو گے اور تم اسے حق پر روکے رکھو گے؛ جیسا کہ حق پر روکنے کا حق ہے۔(ابو داؤد)

یہ اور اس جیسی بیشتر روایات سے ہمیں دعوت دین کا صحیح نہج اور کام کرنے کے تعلق سے اہم نکات معلوم ہوتے ہیں ۔مثلاً

۱)داعی کو دینی منہج اور موقف پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔

۲)حق و صداقت کے سامنے کسی سے خوف کرنا یاکسی ملامت گر کی ملامت کو خاطر میں لانا جائز نہیں۔

۳)کتاب الٰہی اورکلام محمد عربیﷺ کے سامنے کسی کے کلام کی کوئی حیثیت نہیں۔

۴)صریح نصوص کے مقابلے میں کسی کی فکری یا عقلی دلیل کی کوئی اہمیت نہیں۔

۵)داعی کو میدان دعوت میں بلندہمت و باغیرت ہونا چاہئے اور بلا کسی کی پرواہ کئے حق اور صحیح بات کو مناسب موقع سے پیش کرنا چاہئے۔

افسوس صد افسوس کہ آج امت کی صفوں میں داعیان دین کی جرأتمندی و بیباکی مفقود ہوتی جارہی ہے۔معمولی عہدوں ،جھوٹی شہرتوں اور نام نہاد منصبوں کی خاطرمنافقت،مداہنت،دورخی، دھاندلی، راہ دعوت میں اس طرح حائل ہوچکا ہےکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اسلامی تصوربھی خطرے میں نظر آرہاہے۔اس کا واحد سبب یہ ہے کہ آج داعیوں نےدین کی دعوت کے مقابلہ میں اپنے اپنے مفادات کو عزیز سمجھ رکھا ہے، قرآن و حدیث کی صحیح تعبیر و تشریح سےنمائندگان دین و دعوت کو عار محسوس ہورہی ہے۔

 ضرورت ہے کہ اسلاف و اکابر کی طرح جرأتمندانہ و بیباکانہ اقدامات کیے جائیں ،موثرلب و لہجہ اختیار کیا جائے اور حق کی راہ میں کسی مداہنت اور سیاست کو گوارہ نہ کیا جائے۔

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close