عالم اسلام

اتحاد اپیلوں سے نہیں، قربانیوں سے ہوتا ہے

وصیل خان

ہم مسلسل یہی سنتے آرہے ہیں کہ امت مسلمہ میں اتحاد کی ضرورت ہے مختلف جلسوں، تقریروں یہاں تک کہ اخبارات میں آئے دن یہ اپیلیں کی جاتی ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اتحاد کے تعلق سے اب سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئےمگر عملی طور پر ان اعلانات کی حقیقت محض زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس بات پر کبھی غور نہیں کیا کہ صرف خالی خولی اپیلوں سے اتحادنہیں ہوتا  اگر ایسا ہوتا تو اتنا انتشارکب کا فنا ہوجاتا  اور مسلمان باہم شیروشکر ہوگئے ہوتے۔ حضرت علی ؓ کےزمانہ ٔ خلافت میں باہمی خلفشار کافی بڑھ چکا تھااس دوران کچھ لوگوں نے آپ سے یہ سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں صورتحال ہیجان انگیز ہے جبکہ آپ سے پہلے کے خلفاء کےدور میں ایسا نہیں تھا آپ نے مختصر لیکن انتہائی جامع جواب دیا کہ سابقہ خلفاء کے ساتھیوں میںہم جیسے لوگ تھے اور ہمارے ساتھی آپ جیسے لوگ ہیں۔ مشہور مورخ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں یہی نکتہ بیا ن کیا ہے کہ کسی مضبوط سرکاری یا سیاسی اسٹرکچر قائم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے لوگوں کے اند راس کی قبولیت کا مزاج پیدا کیا جائے،ان پر اس کی اچھائی یا برائی واضح کی جائے اوریہ باور کرایا جائےکہ اچھے اعمال معاشرے کیلئے کتنے ضروری اور مفید ہوتے ہیں،اس کے برعکس برے اعمال سے معاشرہ بدنظمی کا شکار ہوتا ہے اور یہی بدنظمی سارے فساد کی جڑبن جاتی ہے،اس کے بغیر یہ ممکن نہیں کہ وہ اسٹرکچر قائم کیا جاسکے اگرچہ اس کے تعلق سے کیسی بھی قانون سازی کرلی جائےاس کے قواعد و ضوابط کتنے ہی پرکشش اور خوبصورت کیوں نہ ہوں۔

معلوم ہوا کہ تمام تر کامیابی کیلئےاسی مثبت رجحان کی ضرورت ہے جس کے قیام کیلئے خود اللہ کے رسولؐ اور ان کے اصحاب نے زبردست مجاہدہ کیا اوربے مثال قربانیاں پیش کیں۔ حضرت علی ؓ کےجواب میں یہی فلسفہ ابھر کر سامنے آتاہے کہ ہم نے اپنےسابقین کا بھر پور تعاون کیا اور آئین و قوانین کے نفاذ میں ان کی مدد کی اور وہ کامیاب ہوئے،ان کا دور مثالی ثابت ہوا۔ خلفائے راشدین کا زمانہ اسی لئے بہتر تھا کہ اس دور میں لوگوں کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ان کے نزدیک اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات ہی آئیڈیل تھے اس سے انحراف ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ بعد کے ادواربتدریج زوال پذیر ہوتے گئے یہاں تک حضرت معاویہؓ کے دور حکومت میں ملوکیت اور گروہی رجحانات میں زبردست اضافہ ہوگیا جس سے آپسی انتشار کے دروازے کھلتے چلے گئے۔ جسے مزید سمجھنے کیلئے عباسی خلیفہ المامون کے دورخلافت کی یہ اہم ترین مثال ہمارے لئے انتہائی سبق آموز اور قابل تقلیدہے،مامون نے خیرالقرون کے اس ماحول کو واپس لانے کی غرض سے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئےاپنے خاندان کے بجائے بنو ہاشم سے علی بن موسی ٰبن جعفرالصادق ؒکو اپنا ولی عہد مقرر کیا اور اپنے اس اقدام کو مزید مستند کرنے کیلئے اپنی بیٹی سے ان کا نکاح بھی کردیا لیکن مامون کےاس اقدام کو عباسیوں نے آخری حد تک مسترد کردیا اور ان کے اندر اشتعال یہاں تک بڑھ گیا کہ انہوں نے مامون کے چچا ابراہیم بن المہدی کو نہ صرف اپنا امیر بنالیا بلکہ اس کے ہاتھ پر بیعت بھی کرلی اس وقت مامون خراسان میں تھا اسے خبر ملی تو اس نے انتہائی برق رفتاری سے بغداد کا رخ کیا اور آتے ہی علی بن موسیٰ کو ولی عہدی سے برطرف کردیا اور اپنے خاندان کے کسی فرد کو ولی عہد مقرر کیا تب کہیں جاکے انتشار کی وہ آگ سرد ہوئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی تحریک یا نظریئے کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ لوگوں کے اند ر اس کے قبول کرنے کا مزاج بنایا جائے یہی صورتحال قانون و آئین سازی کی بھی ہوتی ہے پارلیمنٹ میں خواہ کیسی بھی قانون سازی کرلی جائے اگر لوگوں کے ذہنوں کو تبدیل نہیں کیا گیا تو وہ قانون و اصول صرف کتابوں اور رجسٹروں کی زینت بن کے رہ جاتے ہیں اور اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا جس کے لئے اسے وضع کیا گیا تھا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق نے اسلامی طرز حکومت کو رائج کرنے میں کافی پیش قدمی دکھائی اور اس کے قیام کیلئے کوششیں بھی کیں لیکن وہ آخری حد تک ناکام ثابت ہوئےکیونکہ وہاںبھی عوام کی ذہن سازی کا کام نہیں ہوسکا۔

اتحاد ملت کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اصلاح امت کا کام کیا جائے۔ معلوم ہوا کہ اتحاد ملت کا نتیجہ اصلاح امت میں مضمر ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ عوامی ذہنوں کو جذبہ مسئولیت سے معمور کیا جائے یعنی ان کے اندر یہ احساس بیدار کیا جائے کہ ہمارے کسی بھی فعل اور عمل کا نگراں اللہ ہے وہ سب دیکھ رہا ہے اور انجام کار اسی کے سامنے جواب دہ ہونا ہے، آخرت پسندی کا یہی احساس اسے اس بات پر رضا مندکرے گا کہ وہ اللہ کی خوشنودی کے حصول کیلئے بڑے سے بڑا نقصان برداشت کرلے اور اس بات پر تیار ہوجائے کہ جب اللہ اور اس کے رسول ؐکا کوئی حکم سامنے آجائے تو ان کی گردنیں جھک جائیں اور وہ سرتابی کی جرأت نہ کرسکے۔ محض اتحاد کی اپیلوں سے اتحاد قائم نہیں ہوسکتا اس کے لئے ہم چاہے جتنی کوششیں کرلیں ناکام ثابت ہوں گے۔آج اخبارات اس طرح کی اپیلوں سے بھرے نظر آتے ہیں بڑے بڑے جلسے کئے جاتے ہیں دھواں دھار تقریریںہوتی   ہیںاور بڑے بڑے منصوبے بنائے جاتے ہیں لیکن آج تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا۔ماضی کے مقابلے میں آج بیشمار تنظیمیں اور این جی اوز اس کا م میں مصروف ہیں جسے دیکھو بس اسی کام میں سرگرم ہےاور مسلمانوں کے مسائل لے کر دوڑرہا ہے لیکن مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔

حضرت معاویہ ؓاو ر حضرت علی ؓ کے درمیان جب تنازعا ت بڑھے اس دوران حضرت علی ؓنےاپنے ساتھیو ں سے کہا تھا کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ جنگ کیلئے اٹھ کھڑے ہو لیکن تم کہتے ہوکہ اتنی کڑاکے کی سردی میں ہم کیسے جنگ کریں میں کہتا ہوں کہ باطل کے سامنے ڈٹ جاؤ تو تم کہتے ہو کہ بھلا اتنی سخت گرمی کے موسم میں ہم کس طرح مقابلہ کرسکتے ہیں اس وقت انہوں نے وہ جملہ کہا تھا جو تاریخ کے صفحات میں آج بھی محفوظ ہے کہ اگر معاویہ سوداگر ہوتے تو میں ان سے  ایک شامی کے بدلے دس عراقی بدل لیتا۔ اتحاد امت کوئی سادہ چیز نہیں کہ وہ محض اپیل سے حاصل کرلی جائے اتحاد کیلئے بے شمار قربانیوں کی ضرورت  ہوتی ہے۔ مثلا ً رائے کی قربانی یعنی اگر آپ کی رائے مجموعی رائے سے الگ پڑجائے تو انتہائی خوشدلی سے پیچھے ہٹ جانا نہ کہ ضد او ر ہٹ دھری کے ذریعے اپنی رائے اوپر کرنا، اسی طرح حصولیابیوں کی دوڑ میں خود کو پیچھے کرلینے کی قربانی، دوسروں کے مشوروں کو قبول کرلینے کی قربانی۔ جس کی مثال اسوہ ٔ رسول اور سلف صالحین کے طرز عمل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اصلاح امت کا کام انتہائی مشکل ہے لیکن کسی مفید نتیجے کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں۔

مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close