خصوصیعالم اسلام

اتحاد بین المسلمین کی ضرورت واہمیت

آصف علی

عالم اسلام کو ایک بار پھر اپنی تاریخ کی سنگین تر آزمائشوں کا سامنا ہے۔ دشمنوں کی عیارانہ سازشیں بھی انتہا پر ہیں اور اپنوں کی غلطیاں اور جرائم بھی آخری حدوں کو چھورہے ہیں۔ سامراجی چالیں عالم اسلام کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کررہی ہیں اور کئی مسلم حکمرانوں اور گروہوں کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز بھی بونے نظر آ رہے ہیں۔ رب ذو الجلال کی ذات کا سہارا نہ ہوتا، اس کی طرف سے لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط، وَ لَا تَایْءَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں) جیسی تلقین اور اِِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (یقیناًتنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے) جیسے مسلمہ اصول نہ ہوتے، تو لگتا کہ پانی سر سے گزر چکا، عالم اسلام کا اختتام قریب آن لگا اور اُمت پھر زوال پذیر ہوگئی۔

مسلم ممالک اور اپنے معاشرے پر نگاہ دوڑائیں تو ہم ان سب نافرمانیوں پر تلے ہوئے ہیں جن کے انجام بد سے خالق کائنات نے خبردار کیا تھا۔ واضح طور پر بتادیا گیا تھا کہ:

وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ (الانفال۸: ۴۶)

’’اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمھاری ہوااکھڑ جائے گی‘‘۔
لیکن ہم ایک نہیں کئی کئی اختلافات و تنازعات میں دھنسے ہوئے ہیں۔ ظلم کرنے سے بار بار منع کرتے ہوئے ہمیں خبردار کردیا گیا تھا کہ:

وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّنْکُمْ نُذِقْہُ عَذَابًا کَبِیْرًاo (الفرقان۲۵: ۱۹)

’’اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اُسے ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے‘‘۔

لیکن آج ہم میں سے کسی فرد کا داؤ چلے یا کسی حکومت کے ذاتی مفادات خطرے میں پڑیں، ہم ظلم کے وہ پہاڑ توڑ دیتے ہیں کہ الأمان الحفیظ!ہمیں کسی بھی ظالم کا ساتھ دینے سے خبردار کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں بتا دیا گیا تھا کہ:

وَ لَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ لا وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ o(ھود۱۱: ۱۱۳)

’’اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی‘‘۔

لیکن ہم اپنے عارضی اور محدود مفادات کی خاطر، سفاک ترین ظالم کے حق میں بھی دلیلوں کے انبار لگانے لگتے ہیں۔ ہمیں بدکاری کرنے سے ہی نہیں، بدکاری کے قریب بھی پھٹکنے سے منع کرتے ہوئے بتادیا گیا تھا کہ:

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنآی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً • وَ سَآءَ سَبِیْلًاo(بنی اسرائیل ۱۷:۳۲)

’’اور زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرا فعل ہے اور بڑا ہی بُرا راستہ‘‘۔ ہم ضرورت کی ادنیٰ ترین چیز کو بھی فحش اشتہارات کے بغیر بازار میں نہیں لاتے۔

ایک ایک کرکے خالق کے تمام احکامات کو سامنے رکھ کر دیکھ لیں۔ ہم بحیثیت فرد ہی نہیں بحیثیت اُمت و ملت انہیں پامال کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ ہماری ان تمام نافرمانیوں کو خالق نے ایک لفظ میں سمو کر اور اس سے خبردار کرتے ہوئے، راہ نجات کی طرف بھی نشان دہی کر دی ہے۔ وہ لفظ ہے: ’ظلم‘۔ جو کبھی دشمنوں کی طرف سے ہوتا ہے اور کبھی اپنوں ہی کے ہاتھوں۔ کبھی دوسروں پر کیا جاتا ہے اور کبھی خود اپنی ہی جان پر۔ ظلم کی ان تمام اقسام سے نجات حاصل کرنے کا اولین قدم، ظلم کو ظلم سمجھنا اور اسے ظلم کہنا ہے۔ آدم علیہ السلام کو جیسے ہی احساس ہوا تو وہ فوراً پکار اُٹھے:

رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo(اعراف۷:۲۳)

’’اے ہمارے پروردگار ہم خود پر ظلم کربیٹھے ہیں، آپ نے معاف نہ فرمایا تو خسارہ پانے والوں میں شمار ہوں گے‘‘، جب کہ ابلیس سراسر نافرمانی کے بعد بھی بولا:

رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَo(الحجر۱۵: ۳۹)

’’اے اللہ جیسا تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں بھی (ان بندوں کے سامنے) گناہوں کو خوش نما بناکر پیش کروں گا اور ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا‘‘۔ اسی لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دُعا فرمایا کرتے تھے کہ:
و أرنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ،

’’اور ہمیں باطل کو باطل ہی دکھا‘‘۔

ایمان لانے کا ایک قدرتی نتیجہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے محبت کی صورت میں ظاہر ہو تا ہے۔ آج ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ایسا ہے؟ اور اگر نہیں تو اپنے ایمان کی فکر کریں کہ کہاں کیا نقص رہ گیا ہے۔ آج اُمت اختلاف کا شکارہو گئی ہے اور اس کا ایک بڑا مسئلہ آپس کی مخالفت اور تفرقہ ہے۔ اس کے نتیجے میں اُمت ذہنی اور عملی خلفشار اور معاشرتی انتشار کا شکار ہو گئی ہے۔

اگرچہ اس حالت کی بہت سی وجوہ ہو سکتی ہیں جن میں سے کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی پیدا کردہ ہیں لیکن یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تفرقے کی یہ بیماری اُمت کے وجود کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔

 تفرقہ بازی شیطان کا راستہ ہے اور ہمیں اس راستے کو چھوڑ کر رحمٰن کے بتائے ہوئے اتفاق و اتحاد کے سیدھے راستے کی طرف آنا ہو گا جس کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے سورۂ انعام میں فرمایا:

وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِـیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo  (انعام ۶:۱۵۳)

اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اُس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندا کر دیں گے۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمھارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو۔
بدقسمتی سے آج عملی طور پر مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسولؐ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ہونے کے بجاے ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں۔ نتیجتاً مسلمان پستی، کمزوری اور ذہنی غلامی کا شکار ہوگئے ہیں۔ قرآنِ مجید میں انتہائی سخت الفاظ میں تفرقہ بازی کرنے والوں پر وعید کی گئی ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْ ئٍ ط اِنَّمَآ اَمْرُہُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَo (انعام ۶:۱۵۹)

 جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمھارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انھوں نے کیا کچھ کیا ہے۔

غور فرما ئیں کہ رسولؐ اللہ کو کہا جا رہا ہے کہ تفرقوں میں پڑنے والے ان لوگوں کی مرضی ہے جدھر چاہیں جائیں، ان کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں (استغفراللہ)۔

امت کے اس اختلاف اور جھگڑوں کے اس منطقی نتیجے کو قرآن نے بیان فرما دیا:

وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَo (انفال۸:۴۶) اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی

اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمھارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی، اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو،یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

یہ تو اس دنیا میں اختلافات کا نتیجہ ہے جو ہم بھگت رہے ہیں اور اختلافات اور تفرقے کا جو انجام آخرت میں ہو گا وہ کڑے عذاب کا سامنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ ط وَاُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ o یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج ( ٰالِ  عمرٰن ۳ :۱۰۵-۱۰۶)

کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔ جنھوں نے یہ روش اختیار کی وہ اس روز سخت سزا پائیں گے، جب کہ کچھ لوگ سرخ رُو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہوگا۔
مسلمانوں کا شرف، فضیلت، کرامت،عزت، اخوت اور وحدت کی سند ہے، جس کے زیر سایہ آکر فرزندان توحید سر فرازی کے ساتھ یہ نعرہ بلند کرتے ہیں کہ "ہم مسلمان ہیں "۔یہ نعرہ وہ قرآنی نعرہ ہے جس کی تعلیم خود خدائے منان نے مسلمانوں کو دی ہے،

"وانّ ھذہ امتکم امةًواحدة وانا ربّکم فاتقون”

یہ شعار وہی قرآنی شعار ہے جس کی آغوش عطوفت میں مسلمانوں کی اخوت پروان چڑھی ہے.

” انما المؤمنون اخوة”۔

اگر مسلمانان عالم کے درمیان شمع اخوت و وحدت فروزاں رہے گی، تو یقیناان کے اردگرد پروانہ عزت وکرامت کا طواف ہوگا اور اگر ان کی مختصر سی غفلت کی وجہ سے یہ شمع وحدت بجھی، تو پروانہ عزت بےگانہ چراغ کی طرف رخ کرلے گا۔ اسی وجہ سے قرآن مجید نے مسلمانوں کو صدر اسلام میں ہی ہوشیار کر دیا کہ:

"یا ایھاالذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ ولا تموتنّ الاّوانتم مسلمون واعتصموا بحبل اللہ جمیعاًولا تفرقوا”۔

(اے ایمان والو !خدا کا ایسا تقویٰ اختیار کرو جو اس کے تقوے کا حق ہے اور موت کو گلے نہ لگاؤ مگر یہ کہ حالت اسلام میں اور خدا کی رسّی کو تھام لو اور تفرقہ نہ کرو)

خدائے واحد، قرآن مجید میں مسلمانوں کی وحدت کے علل واسباب کو اپنی طرف منسوب کر رہا ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کررہاہے کہ اے رسول!

اگر صرف اور صرف آپ یہ چاہتے کہ ان لوگوں کے قلوب میں بذر اتحاد بو دیں، تو تمام وسائل و اسباب اور دولت و ثروت کے باوجود بھی یہ کام آپ کے بس میں نہ تھا
"والّف بین قلوبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعاًما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الّف بینھم انّہ عزیز حکیم”

(اور ان کے دلوں میں محبت پیدا کر دی ہے کہ اگر آپ ساری دنیا خرچ کر دیتے تو بھی ان کے دلوں میں باہمی الفت پیدا نہیں کر سکتے تھے لیکن خدا نے یہ الفت اور محبت پیدا کر دی ہے کہ وہ ہر شے پر غالب اور صاحب حکمت ہے)۔

اسی وجہ سے پیغمبر اسلام  نے خداوند عالم کے لطف و کرم کے نتیجہ میں مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت پڑھا اور امت مسلمہ کے ما بین ایک الہی رابطہ قائم کر دیا۔ مسلمان بھی اس گرانقدر رابطہ میں خود کو گرہ لگا کر توحید، نبوت،قرآن اور کعبہ کے مشترک عقیدہ پر گامزن ہو گئے، جس کی وجہ سے ان کی وحدت شہرہ آفاق بن گئی اور ان کی ہیبت سےمرکزکفرکانپ اٹھا.

قرآن میں اتحاد کی قسمیں 

 قرآن مجید نے اتحاد کو چند قسموں میں تقسیم کیا ہے:

1۔امت کا اتحاد:

"انّ ھذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاعبدون”

(بے شک یہ تمہارادین ایک ہی، دین اسلام ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں لہذا میری ہی عبادت کیا کرو)۔

2-آسمانی ادیان کے پیرو کاروں کا اتحاد:

” قل یا اھل الکتاب تعالوا لیٰ کلمة سواء بیننا و بینکم الاّنعبد الاّ اللہ ولا نشرک بہ شیئاً”

(اے پیغمبر! آپ کہہ دیں کہ اہل کتاب  ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کر لیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں )۔

3-تمام ادیان کا اتحاد:

"شرع لکم من الدین ما وصیٰ بہ نوحاً والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراھیم وموسیٰ وعیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتتفرقوافیہ”

(اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی اے پیغمبر تمہاری طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو بھی کی ہے کہ دین کو قائم کرو اور تفرقہ نہ کرو)۔

  1. تمام انسانوں کا اتحاد:

"یا ایھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثیٰ وجعلنا کم شعوباًو قبائل لتعارفوا”

(اے انسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو)۔

ان آیات کے پیش نظر ہمیں یہ یقین کرنا ہو گا کہ سب سے پہلے مرحلہ میں اتحاد بین المسلمین کا فریضہ ہر مسلمان پر واجب ہے یعنی اتحاد اسی وقت مکمل طور پر نمایاں ہو گا جب امت اسلامیہ کی ایک ایک فرد اس فریضہ مفروضہ پر عمل پیرا ہو۔ اس لئے کہ اتحاد بین المسلمین کا فریضہ واجب کفائی نہیں ہے جو کسی ایک خاص فرد یاگروہ کے عمل کرنے کے ذریعہ ادا ہو جائے یا دوسروں کی گردن سے اس کا وجوب ساقط ہو جائے، بلکہ اتحاد ایک ایسی حقیقت واحدہ ہے جس کے وجوب کے گھیرے میں ہر ایک فرزند توحید شامل ہے۔

 اسلامی اتحاد اس عمارت کی مانند ہے جس کی ایک ایک اینٹ اس کے قیام اور ثبات میں حصہ دار ہے اور ہر مخالف اتحاد قول و عمل، اسلامی بنائے اتحاد سے ایک اینٹ کو نابود کرنے کے مساوی ہے جس کی تکرار اس خوب صورت عمارت کو کسی پرانے کھنڈر میں تبدیل کرکے اسے تاریخ کے کسی سسکتے ہوئے گوشے کا نام دے سکتی ہے۔

اتحادکی ضرورت

 اتحاد بین المسلمین کیوں ضروری ہے ؟

یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کے جواب کے لئے نہ کسی دانش ور کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اور نہ ہی کسی کتب خانے میں جاکر کتابوں کی چھان بین

 کرنی ہوگی، بلکہ آج کا بے چارہ مسلمان اگر اپنے ارد گرد ایک نظر ڈالے تو اسے خود بخود اس اہم سوال کا جواب بآسانی حاصل ہو جائے گا۔
مملکت کفر تو بہت دور کی بات ہے حتی کہ اسلامی مملکت کہے جانے والے ملکوں میں بھی مسلمان بے بس نظرآرہا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ؟
کیوں ایک مسلمان اپنی ہی اسلامی مملکت میں لاچار ہے؟

کیوں ایک مسلمان اپنی ہی اسلامی مملکت میں تبعیض، تحقیراور استحصال کا شکار ہے ؟

کیوں ایک مسلمان اپنی ہی اسلامی مملکت میں فقیر ونادارہے جبکہ دوسرے ادیان کے پیرو کاروں کا اقتصاد کافی مضبوط ہے ؟

ان تمام سوالوں کا جواب وہ استکباری نظام ہے جس کے شیطانی شعلوں سے پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام جھلس رہا ہے۔ یہ نظام ایسا ہی ہے جس کا لازمہ مسلمانوں کی تباہی ہے۔ اسلام مخالف عناصر کی مطلق العنان ریشہ دوانیاں دور حاضر میں زندگی بسر کرنے والے کسی شخص سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ استکباری طاقتوں کے پے در پے حملوں کی وجہ سے پیکر اسلام کمزور و ناتواں ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ استکباری نظام جب چاہتا ہے کسی بھی اسلامی ملک پر اقتصادی پابندی عائد کر دیتا ہے، جب چاہتا ہے اسے جنگ کی دھمکی دے دیتا ہے اور دوسری طرف سے اسلامی ممالک پر اس کی ثقافتی یلغاروں کا سلسلہ بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے جس کی طرف نہ صرف یہ کہ بیشتر اسلامی ممالک کی کوئی توجہ نہیں ہے بلکہ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ خود یھی یہ ممالک اس زہریلی یلغار میں دشمنان اسلام کے برابر کے سہیم نظر آتے ہیں لیکن یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دشمنان اسلام کے مذکورہ تمام اسلام مخالف حربے ان کے اس حربے کے سامنے پھیکے دکھائی دیتے ہیں جس کے ذریعہ انہوں نے سالہاسال مختلف ملکوں کو اپنا غلام بنائے رکھاہے اور وہ حربہ یہ نعرہ ہے "پھوٹ ڈالو حکومت کرو”۔

اسی نعرہ اور حربہ پر عمل کرنے کی وجہ سے ہی ان کا استکباری نظام دنیا پر آج تک قائم و دائم ہے۔ اسی نعرہ کے رائج اور نافذ ہونے کی وجہ سے آج کا مسلمان علمی، ثقافتی، اقتصادی اور اجتماعی میدانوں میں کافی پیچھے رہ گیا ہے۔

لہذا اگر مسلمانوں کی پسماندگی کی سب سے اہم وجہ ان کے درمیان پایا جانے والا اختلاف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پسماندگی کو قبر تاریخ میں دفن کرکے ہمہ جہتی ترقیاتی منزلوں تک پہنچنے کا سب سے بہترین اور پر امید راستہ اتحاد ہے۔
عصر حاضر میں اتحاد بین المسلمین کی اہمیت و ضرورت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان خطرات پر مزید نظر ڈالی جائے جو عالم اسلام کو عالم استکبار سے لاحق ہیں۔

 خطرات یا استکباری سازشیں

1۔ ثقافتی یلغار:

گزشتہ سطور میں اس مہلک حرب کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے۔ ثقافتی یلغار کے اہم آلات ووسائل درج ذیل ہیں .

اخبارات، کتابیں، رسالے،ریڈیو، ٹیلیویژن،فلمیں اور انٹرنیٹ وغیرہ۔

 2۔علمی یلغار :

مغربی طاقتیں اپنی اخلاقی پسماندگی کے باوجود علم اور ٹکنولوجیکل لحاظ سے مسلسل ترقیاتی منزلوں کو طے کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے یہ طاقتیں اور حکومتیں دنیائے علم و تمدن کا قبلہ آمال بنی ہوئی ہیں اور اس کے مقابلے میں ہم مسلمانوں کی پسماندگی اس بات کاباعث بنتی ہے کہ گزشتہ کی طرح آئندہ بھی مغربی طاقتوں کا تسلط ہم پر باقی رہے۔

 3-عالم اسلام کے خلاف مغربی طاقتوں کا اتحاد:

مغربی ممالک اپنے ما بین موجود ہ تمام اختلافات کے باوجود، مسلمانوں کی تضعیف اور غارت گری کی خاطر ہم پیمان ہیں اور وہ ہمیں علمی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی لحاظ سے کمزور بنانے پر متحد ہیں۔

 4- زمینوں پر قبضہ:

دشمنان اسلام اور مغربی طاقتوں نے اسلامی سرزمینوں اور ملکوں پر ناجائز طریقہ سے قبضہ کر رکھا ہے اور آج تک ان کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ عراق اور فلسطین کی سلگتی سر زمین اور افغانستان کے مسلمانوں کی بے بسی اسی بات کو واضح کر رہی ہے۔

 5۔اسلام مخالف فرقوں کا ظہور :

ان میں سے بیشتر فرقے دشمنان اسلام کے ناپاک اہداف کے پیدا کردہ ہیں۔ قادیانیت اور بہائیت جیسے دیگر فرقے دشمنان اسلام کی ناپاک اولادیں ہیں جو مسلمانوں کے درمیان گمراہ کنندہ افکار کی سم افشانی کرتے ہیں اور ایسے ایسے حربوں کا استعمال کرتے ہیں جس کا فریب سب سے پہلے ہمارے جوان کھاتے ہیں۔

 6-علماء اور متفکرین اسلام کی غفلت:

غیر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کی اقلیتیں اور بالخصوص ان کے جوان رفتہ رفتہ دینی اقدار اور شریعت و احکام کو فراموشی کے سپرد کرتے جارہے ہیں اور یہ سب کچھ مسلمانوں کی دوسری امتوں کے ساتھ بلا قید وشرط باہمی تعلقات اور علماو متفکرین اسلام کی غفلت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

 7۔اسلام کو دہشت گرد دین کے نام سے مشہور کرنا :

استکباری نظام اور مغربی طاقتیں اسلام کے نام پر دہشت گرد تنظیموں کو وجود میں لاتی ہیں اور ان کو جنگی تربیت دینے کے بعد اسلامی ممالک میں بھیج دیتی ہیں پھر انہیں خود ساختہ تنظیموں سے اپنے ملک پر حملہ کرواتی ہیں تاکہ اسلام اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں اور ساتھ ہی اسلامی ملک پر حملہ آور ہو نے کا بہانہ وجواز تلاش کر سکیں۔

اسلامی ممالک کی اندرونی مشکلات

اسلامی ممالک کی مختلف اندرونی مشکلات کے پیش نظر بھی اس پر آشوب ماحول میں اتحاد بین المسلمین اشد ضروری ہے۔

یہ داخلی مشکلات بھی بظاہر داخلی مشکلات ہیں ورنہ ان کے اصل اسباب کی بازگشت بھی استکباری نظام اور مغربی طاقتوں کی طرف ہوتی ہے۔ وہ مشکلات مندرجہ ذیل ہیں جن سے اکثر و بیشتر اسلامی ممالک روبرو ہیں :

1-مسلمانوں کا مغربی تمدن میں ڈھل جانا اور ان کی جدید ٹیکنالوجی سے مرعوب ہوجانا۔

2- بعض اسلامی ممالک کی حکومتوں کا مستقل نہ ہونا اور استکباری طاقتوں سے ہم پیمانی کو، اسلامی عزت واقتدار پر ترجیح دینا۔

3-فقر و غربت کا رواج اور اقتصادیات کی بدترین حالت جس کی وجہ سے علمی اور ثقافتی پسماندگی مسلمانوں کاجزو لاینفک بن گئی ہے .

4۔اسلامی ممالک کے مابین اختلافات کا وجود اور ایک دوسرے کے لئے ان کی سیاسی قدرت نمائیاں ایک اسلامی ملک کا دوسرے اسلامی ملک کے خلاف اپنا کاندھا اسلام دشمن عناصر کے حوالے کر دینا،تاکہ وہ دشمن اس پر بندوق رکھ کر گولی چلا سکے۔ یہ اسلامی ممالک بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی امداد کرتے ہوئے ظلم و استکبار کا دندان شکن جواب دیتے، اسرائیل، امریکہ، فرانس، بر طانیہ اور روس جیسی اسلام مخالف طاقتوں کے سامنے اسلامی ممالک کے خلاف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیتے ہیں۔

5۔ مسلمانوں کے درمیان مذہبی اختلافات کا وجود جو اکثر اوقات علمی بحث و گفتگو سے باہر نکل کر جنگ کے میدان تک پہنچ جاتا ہے اور ہزاروں بے گناہ جانیں چلی جاتی ہیں، بچے یتیم، عورتیں بےوہ اور مائیں بے اولاد ہوجاتی ہیں۔ ایک دوسرے پر کفر وفسق کا الزام لگایا جاتا ہے حتی یہ نادان مسلمان اس قدر اندھے ہو جاتے ہیں کہ مسجدوں اور زیارت گاہوں کو خون سے رنگین کرنے میں بھی ذرا ساتامل نہیں کرتے۔

بےشک اس طرح کی نادانیاں دشمنان اسلام کی مسرت اور اسلام و مسلمین کی بربادی کا باعث بنتی ہیں۔ اگر مذاہب کے بعض نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو انہیں جدال احسن اور علمی مناظروں اور نشستوں سے برطرف کرنا چاہیے.

"و جدالھم بالتی ھی احسن "

مسجدوں، زیارت گاہوں اور امام باڑوں میں خودکش حملوں اور ایک دوسرے پر لعنت وملامت کرنے سے نہ کوئی سنی، شیعہ ہوجائے گا اور نہ کوئی شیعہ سنی، بلکہ انتقام کی آگ اور بھی زیادہ شعلہ ور ہوتی جائے گی۔ بعض مسلمانوں کی یہ نادانیاں تو بری ہیں ہی لیکن اس سے زیادہ برا کام وہ دانا مگر غافل مسلمان کر رہے ہیں جو قرآن مجید کی اس آیت پر عمل نہیں کرتے:

"وان طائفتان من المومنین اقتتلوافاصلحوابینھمافان بغت احداھما علیٰ الاخریٰ فقاتلوا التی تبغی حتیٰ تفی الیٰ امر اللہ فان فائت فاصلحوا بینھما بالعدل واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین”( سورۂ حجرات/۹)

(اور اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جھگڑا کریں تو تم سب ان کے درمیان صلح کراؤ اور اس کے بعد اگر ایک گروہ دوسرے پر ظلم کرے تو سب مل کر اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرنے والا گروہ ہے یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے پھر اگر پلٹ آئے تو عدل وانصاف کے ساتھ اصلاح کرو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔)

مذکورہ آیت ہر مسلمان کو حکم دے رہی ہے کہ مسلمانوں کے دو مختلف گروہوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں ان کے درمیان صلح برقرار کرو۔

کیا اسلام اور مسلمین کی ٹھیکہ داری کا دم بھرنے والے لوگ اس آیت پر عمل کر رہے ہیں ؟

کیا دو اسلامی ملکوں کے باہمی اختلافات کو ختم کرنے کی غرض سے کوئی تیسرا اسلامی ملک ثالثی کرنے کو تیار ہے ؟

یا یہ کہ ہر مسلمان، ہر اسلامی ملک اور ہر اسلامی گروہ صرف اپنے شخصی و ذاتی مفاد کو مد نظر رکھے ہوئے ہے؟

۶۔اسلام دشمن عناصر کے جانب سے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان قومیت پرستی کی آگ کو شعلہ ور کرنا۔ اس مرحلے میں بھی مسلمان فریب کا شکار ہو چکا ہے جو اپنے آپ میں ایک زہریلی بیماری ہے جب کہ اسلام نے کسی طرح کی برتری کو فضیلت شمار نہیں کیا ہے بلکہ فضیلت اور برتری کا معیار صرف اورصرف تقویٰ الہی کو جانا ہے۔

"ان اکرمکم عنداللہ اتقیٰکم”۔

اے کاش !یہ مسلمان عصر حاضر کے تقاضوں کو درک کرلیتا اور قوم پرستی اور نسلی و نژادی تعصبات سے کنارہ گیری اختیار کرکے اسلامی غیرت کو اپنا سرمایہ حیات بنا لیتا.

۷۔اسلامی معاشروں میں طبقاتی فاصلوں کا وجود اور اسی طرح کی دیگرباتیں .

اتحادامت اورہماری ذمہ داریاں 

آج جب کہ ہر طرف افراتفری اور نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ملک اس وقت جس مذہبی اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی حالات اور وقت اتحاد امت کا تقاضا کر رہے ہیں کہ ہر قسم کے گروہوں کے حصار اور سیاسی و مذہبی منافرت کی دلدل سے چھٹکا رہ پا کر اسلام کے اس عظیم اور وسیع قلعہ میں پناہ گزیں ہوں جو دینی ودنیوی ترقی و خوش حالی کا ضامن ہے اور امن و سلامتی، الفت و مودت کا پیغام دیتا ہے۔ گروہی سوچ اور مختلف تعصبات عظمت و ترقی کی راہ کو مسرور کرتے ہیں، علامہ اقبال صحیح فرما گئے:

فرقہ بندی ہے کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

آج نہ اسلام کی فکر باقی ہے نہ ملک و ملت کی۔ سب ذاتی مفادات کے حصول اور قوم کو تقسیم در تقسیم کر کے اس کی لٹیا ڈبونے میں مصروف ہیں۔ اگر ہم ملک و قوم کی بقا اور استحکام چاہتے ہیں تو ہمیں ان گروہ بندیوں، نسلی و لسانی تعصبات سے پاک ہو کر ملت اسلامیہ کی بالادستی کے لےلیے کام کرنا ہوگا۔ جس طرح علامہ اقبال فرماتے ہیں :

٫٫نہ تورانی ہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی،،

کسی بھی فرقے اور پارٹی میں نہ سب مقدس ہوتے ہیں نہ راندہ درگاہ‘ اصل بات عمل ہے جو اصل پہچان ہوتی ہے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

قرآنی احکامات اور اسلامی تعلیمات پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس نے کس طرح اتحاد کی بنیادیں مقرر کی ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

”اور اس نے ان کے دلوں میں محبت ڈال دی اگر آپ جو کچھ زمین میں ہے سارے کا سارا خرچ کرتے تب بھی آپ ان کے دلوں میں محبت نہیں ڈال سکتے تھے لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی یقینا وہ غالب حکمت والا ہے۔“(سورة انفال:۳۶)

امت کے اندر حقیقی اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں کہ دنیا میں 50 سے زیادہ مسلم ممالک ہیں۔ ۔ ان ممالک یا ان کے حکمرانوں اور عوام کا کوئی وزن نہیں، دنیا میں کوئی ان کی بات توجہ سے سننے کو تیار نہیں۔  فلسطین کامسئلہ ہویاعراق پر جارحیت ہو یا افغانستان پر، ان سب کی تفصیلات سب کے سامنے ہیں . اس کی بڑی وجہ مسلمانوں کا باہمی انتشار اور اتحاد کا فقدان ہے۔
نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتحاد کی صرف زبانی دعوت نہیں دی بلکہ عملاً کر کے دکھایا اور اس معاشرے میں کرکے دکھایا جس میں اتحاد نام کی کوئی چیز نہ تھی، قبائلی آویزش ذرا ذرا سی بات پر جھگڑا، مہینوں اور سالوں طول پکڑتا۔

کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

”اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو (جس کے نتیجے میں ) تم منتشر ہو جاﺅ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“(انفال:۶۴)

اللہ کی خاص توفیق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منتشر اور غیر متحد، آپس میں دست و گریباں رہنے والے، قبائل کے درمیان اتحاد پیدا کر دیا۔ جس پرایک اردوکے ہندو شاعر داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا در یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولیٰ کر دیا
زندہ ہو جاتے ہیں وہ جو مرتے ہیں آپ کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا

آپ جانتے ہیں کہ منتشر اینٹیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ‘ انہیں یکجا کر دیا جائے تو عمارت بنتی ہے‘ بکھرے ہوئے موتی اکٹھے ہو جائیں تو گلے کا ہار بن جاتا ہے۔ امت کے تمام طبقات اس پر متوجہ ہوں پھر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ جس کے لیے چند تجاویز ہیں۔

 عام طور پر اتحاد کی بات کرتے وقت انگلی صرف علماکی طرف اٹھتی ہے کہ وہ اس کام کوانجام دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں میں یہ عرض کروں گا کہ علما مشترکات پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ مشترکات کی تعداد اختلافی امور سے زیادہ ہے۔ مشترکہ اجتماع  میں ہمارا طریقہ، رویہ اور کلام اور ہوتا ہے اور اپنے اجتماعات یا میٹنگز میں اس سے مختلف اگر مشترکہ اجتماع والا رویہ اور طریقہ اختیار کریں تو افراط و تفریط سے دور دل قریب آ سکتے ہیں۔

جس طرح دینی شعائر مقدم و محترم ہیں اسی طرح قومی و ملی شعائر کو بھی محترم سمجھا جائے‘ ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں جلسوں اور خطابات میں بیان کرتے ہیں کہ جھنڈا (پرچم) جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو تھمایا جس کا دائیاں ہاتھ کٹ گیا تو بائیں ہاتھ سے تھام لیا اور جب بایاں کٹ گیا تو دانتوں سے تھام لیا جب تک جان رہی پرچم کی بے حرمتی یا اس کو نیچے نہیں گرنے دیا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ پرچم تھا۔ جو قومی پرچم تھا صحابہ ؓ نے اس کا احترام کر کے ثابت کر دیا کہ اس کی اہمیت ایسی ہے کہ جس کے تلے سب اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

 اتحاد امت کیلئے علماکے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی اتحاد کی بات کی جائے‘ امت میں اتفاق کے لےے سیاستدان اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک عمومی مسئلہ ہے۔ اس کو خاص رنگ دینے کی بجائے ملک و ملت کے خلاف سازش سمجھ کر اس کے خلاف پلاننگ کی جائے کیونکہ اس کو مخصوص فرقہ کے خلاف رنگ دینے سے دشمن کا کھیل آگے بڑھانے کے مترادف ہے کیونکہ دشمن ملک میں مساجد، مدارس اور دوسرے مقدس مقامات پر دہشت گردی کر کے مختلف فرقوں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے۔ اس کے کھیل کو سمجھا جائے اور اس کی منصوبہ بندی کا حصہ بننے سے گریز کیا جائے۔

مذہبی و دینی اختلافات کے ساتھ ساتھ سیاسی اختلافات بھی ہوتے ہیں ان کو اتنی ہوا نہیں دی جاتی، اختلاف اگر ہو بھی تو اس کو جنگ و جدل کی شکل نہ دی جائے۔

اتحاد امت کیلئے سب سے اہم اور ناگزیر حکمران طبقہ ہے۔ عالم اسلام کے حکمرانوں پر بھی اس کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ اگر تمام مسالک اور فرقے اکٹھے ہوں اور حکمران نہ ہوں تو یہ اتحاد کمزور ہو گا۔ حکمرانوں کا اتحاد مذہبی و سیاسی لوگوں سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ امت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ حکومتی سطح پر موثر کیا جا سکتا ہے۔

 اتحاد امت کے لےے عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہر انتشار اور انتشار پسند عناصر کی حوصلہ شکنی کریں۔ یہ نہیں کہ یہ میرے مسلک یا میرے ملک کا ہے غلط بھی ہو یا انتشار پسند ہو اس کے ساتھ چلنا۔ یہ صورت حال نہیں ہونی چاہیے۔ عوام اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے انتشار پسندوں کی حوصلہ شکنی کریں اور واضح کریں کہ ہم ان کے ساتھ چلیں گے جو اتحاد امت کی بات کرتے ہیں اس میں حکمران، علما، سیاستدان عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ا س کے بغیر اتحاد امت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

مسلمانوں کے امور کی طرف توجہ دینا اور اس سلسلہ میں چارہ اندیشی کرنا :پیغمبر اسلام فرماتے ہیں : "من اصبح ولم یھتم بامور المسلمین فلیس منی عنی” جو مسلمان اس حالت میں رات گذار دے کہ مسلمانوں کے امور کے سلسلہ میں چارہ اندیشی نہ کرے تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔

لہذا ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ دوسرے مسلمان کی ہر طرح کے اقتصادی، علمی، ثقافتی اور سیاسی امور میں اپنی توانائی کے مطابق امداد کرے۔ اس سلسلہ میں علما اور دانش وران اسلام کی ذمہ داری عام مسلمان کے وظائف سے کہیں زیادہ ہے۔

بیان شدہ اندرونی اور بیرونی مشکلات سے مقابلے کے لئے علما، دانش وروں اور بارسوخ شخصیتوں کی اپنے بیانات، مضامین، تحریروں اور مختلف تحریکوں کے ذریعہ سعی و کوشش۔

 مسلمانوں کے مثبت نکات، ان کی اسلامی غیرت اور دینی جذبات سے مکمل طور پراستفادہ کرتے ہوئے انہیں اسلام مخالف سیاستوں سے آگاہ کرنا اور قرآن و اسلام کے احکام پر صحیح طریقہ سے عمل کرنے کی دعوت دینا۔

ایک ذمہ داری جو سب سے اہم ہے اور جس کا بیشتر تعلق علما اور بااثر ورسوخ شخصیتوں سے ہے وہ یہ ہے کہ وہ لوگ مسلمانو ں کو اختلافات پر اکسانے کے بجائے ان کے درمیان محبت و دوستی اور اتحاد کا بیج بونے کی مسلسل کوشش کرتے رہیں اس لئے کہ اتحاد ہی ایسی دوا ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کے ہر طرح کے دردوغم کا مداوا ہو سکتا ہے اور وہ اپنی کھوئی ہوئی عزت اور اقتدار کو دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. اختلافات کے باوجود کبھی آپس میں نہیں لڑتے ۔

    ہندو مذہب میں 73 نہیں بلکہ ہزاروں فرقے موجود ہیں مگر مذہب کی بنیاد پر وہ نہیں لڑتے. سکھوں میں اکالی اور نرنكاری ہیں پر ایک دوسرے کے اختلافات کے باوجود کبھی نہیں لڑتے.
    دگمبر جین اور شویتامبر جین دونوں فرقوں میں بہت زبردست اختلاف ہے کہ دگمبر مونی ننگے رہتے ہیں اور شویتامبر سر سے پیر تک سفید لباس پہنتے ہیں، مگر کیا مجال ہے کہ آپ پروچنوں کے دوران ایک دوسرے پر تنقید کریں یا کبھی گالیوں سے نوازیں.

    عیسائیوں میں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان ابتدا میں تلخی رہی مگر جلد ہی دونوں کے لیے عقل آ گئی اور انہوں نے لڑنا بند کر دیا.

    پوری دنیا میں صرف مسلمان ہی ایک ایسی قوم ہے جس نے اپنے دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے تنازعہ کھڑے کئے ہیں اور بےشمار فرقے بنا ڈالے. ہر فرقہ اپنے آپ میں ایک دین بن گیا اور اس نے صرف خود کو مسلمان اور دوسرے فرقوں کو کافر کہنا اور سمجھنا شروع کر دیا.

    جس قوم کا دین ایک، رب ایک، رسول ایک، قرآن ایک، اور قبلہ ایک ہو پھر بھی ہزاروں طرح کی مذہبی جھگڑے کیوں ؟ آخر اللہ ان پر اپنی رحمتیں کیوں نازل فرمائے اور کیوں نہ مصیبت میں ڈالے آج جو حالات پوری دنیا میں مسلمانوں کے ہیں وہ ہماری اپنی غلطی اور پاگلپن کا نتیجہ ہیں..

    *اب بھی وقت ہے کہ مسلمان سدھر جائیں اور اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لیں اور ایک ٹھوس امت بن جائیں. پچھلی بے وقوفیاں نہ دہرائی جائیں.*

    *متحد ہو جائیں، تعلیم حاصل کریں ، ہر شعبے میں اپنی جگہ بنائیں، تعلیم حاصل کرنے میں قوم کے ہر بچے کی مدد كریں تب ہی تم اپنے قوم کی فلاح کے لئے کچھ کر پاؤ گے.*

    *باہمی تفرقہ بازی سے باہر نکلیں، جہالت چھوڑیں، چاہے خود بھوکے رہ لیں لیکن اپنے بچوں کو اعلی درجے کی تعلیم دیں. قوم کو متحد اور مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں. بس اسی طرح آپ دشمنان اسلام کی سازشوں اور ان کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کر سکتے ہیں.*

    اللہ ہم سب کو نیک ہدایت دے.

    آمین۔

متعلقہ

Close