خصوصیعالم اسلام

اخوان المسلمون: پُرشکوہ عمارت، عظیم معمار

آج بھی اخوان کی 'عمارت' اسی طرح متنوّع مشکلات سے دوچار ہے جس طرح ماضی میں تھی

سید قطب/مترجم:ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی

[اخوان المسلمون کے بانی شیخ حسن البنا رحمہ اللہ کی شہادت پر سید قطب نے عزیمت سے بھرپور ایک مضمون ‘حسن البنّاء و عبقریۃ البِنَاء’ کے عنوان سے لکھا تھا ۔ اس مضمون میں انھوں نے پیشین گوئی کی تھی کہ حسن البنّا کا خون ضرور رنگ لائے گا اور اخوان کی تنظیم مزید مضبوط ہوگی۔ بعد میں اخوان کو استحکام بخشنے میں خود سید قطب کا خون بھی شامل ہوگیا۔ نصف صدی کے بعد سید قطب کی پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہو رہی ہے۔ سخت آزمائشوں کے باوجود اب اخوان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا کسی بھی سرکش و متکبّر حکم راں کے لیے ممکن نہیں رہا۔

سید قطب کا یہ مضمون ان کے مجموعۂ مضامین ‘ دراسات اسلامیۃ’ میں شامل ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت راقم کو حاصل ہوئی ہے اور اس کی اشاعت ہندوستان سے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے اور پاکستان میں عکس لاہور سے ہوئی ہے۔ آج حسن البنا کا یومِ شہادت ہے۔ اس مناسب سے یہ مضمون ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ رضی الاسلام]

 بسا اوقات بعض چیزیں اچانک ظہور پذیر ہوتی ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قضا و قدر کا فیصلہ بھی یہی تھا اور اس میں بڑی حکمت پوشیدہ تھی ۔ حسن البنّا کے نام کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے ۔ یہ محض اتفاق ہی ہے کہ ‘البنّاء’ ان کا لقب ہے، لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ یہ محض ایک اتفاق ہے، درآں حالے کہ اس شخص کی عظیم حقیقت یہی ‘ تعمیر’ ہے، حسنِ تعمیر، بلکہ عبقریتِ تعمیر۔

 اسلامی عقیدہ کی طرف دعوت دینے والے بہت سے لوگ ہیں، لیکن ان کا امتیازی وصف ‘ تعمیر’ کے علاوہ کچھ اور ہی ہے ۔ ہر داعی ‘معمار’ ہوسکتا ہے نہ ہر ‘معمار’ کو حسنِ تعمیر کی خداداد صلاحیت حاصل ہوتی ہے ۔

 یہ عظیم عمارت۔ ۔اخوان المسلمون۔ ۔ جماعتوں کی تشکیل میں اسی عظیم عبقریت کی مظہر ہے ۔ اخوان المسلمون محض افراد کا ایک مجموعہ نہیں، جن کے احساسات اور وجدانات کو داعی نے برانگیختہ کر دیا ہو اور اس کی وجہ سے وہ ایک عقیدے کے گرد جمع ہو گئے ہوں، بلکہ تعمیر کی عبقریت تنظیم میں اسرہ، شعبہ، حلقہ، مجلسِ منتظمہ، مجلسِ تاسیسی اور مرکزی دفتر تک قدم قدم پر ظاہر ہوتی ہے ۔ یہ تو صرف ظاہری ہیئت کے لحاظ سے ہے ( جو اس عبقریت کا ایک ادنیٰ سا مظہر ہے۔ ) ورنہ اس کا اندرونی ڈھانچہ اس سے کہیں زیادہ دقیق، محکم اور مضبوط ہے ۔ اس کے نظم اور اس کی روحانی تعمیر کی عبقریت پر وہ نظام دلالت کرتا ہے جس سے خاندان، ڈویژن اور شعبہ کے افراد وابستہ ہیں۔ یہ اجتماعی مطالعہ، یہ اجتماعی نمازیں، یہ اجتماعی تربیت، یہ اجتماعی سیر و سیاحت، یہ اجتماعی تربیت گاہیں۔ ۔۔ اور آخر میں یہ مشترک جذبات و احساسات۔ ۔۔ جماعت کے نظم کو ایک عقیدے کی صورت میں ڈھال دیتے ہیں اور اس سے وابستہ افراد انہیں تنظیمی ہدایات اور احکام کی بنا پر نہیں بجا لاتے، بلکہ اندرونِ نفس موج زن جذبہ انہیں ان پر آمادہ کرتا ہے۔

تعمیر کی عبقریت افراد اور جماعتوں کی قوت و صلاحیت کے صحیح استعمال میں ظاہر ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ ہر دم رواں پیہم دواں ہو جائیں ۔ محض دینی شعور کو برانگیختہ کر دینا کافی نہیں ہے ۔ اگر داعی اپنی جدّوجہد صرف اسی حد تک محدود کر لے تو اس کا یہ فائدہ تو حاصل ہوگا کہ بالخصوص نوجوانوں میں دینی جوش و جذبہ پیدا ہو جائے گا، لیکن محض اس کے ذریعے کچھ نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح محض عقیدے کا علمی مطالعہ بھی کافی نہیں ہے ۔ اگر داعی محض اسی پر اکتفا کرلے تو اس سے وہ روحانی سر چشمے خشک ہو جائیں گے جن سے تراوٹ، حرارت اور شادابی حاصل ہوتی ہے ۔ اسی طرح وجدان کی برانگیختگی اور علمی مطالعہ دونوں کے ذریعہ بھی مطلوبہ قوتوں اور صلاحیتوں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا ۔ کیوں کہ ان کے علاوہ دوسری صلاحیتیں (مثلاً جسمانی صلاحیت، عملی صلاحیت اور فطری صلاحیت وغیرہ) ہیں جو انسان کو کسبِ معاش، عزت و شہرت کے حصول اور جہاد و قتال پر ابھارتی ہیں۔

حسن البنّا نے تمام چیزوں پر غور کیا، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ان پر ان تمام چیزوں کا الہام ہوا۔ انہوں نے اپنی جماعت کا نظم کچھ اس طرح بنایا کہ ایک مسلمان اس کے دائرے میں رہتے ہوئے ان تمام میدانوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور جماعت کے لیے کام کے دوران اور اس کے نظم کے دائرے میں اپنی تمام فطری صلاحیتیں بروئے کار لا سکے۔  انہوں نے مختلف نظام قائم کیے، جیسے عسکری یونٹوں کا نظام، عسکری تربیت گاہوں کا نظام، اخوانی کمپنیوں کا نظام، داعیوں کا نظام، فدائیوں کا نظام، وغیرہ وغیرہ۔ اخوان کے ان فدائیوں نے فلسطین اور نہر سوئز کے معرکوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔  یہ معرکے ان کی فداکاری و جاں نثاری اور اس نظام کی عبقریت پر گواہ ہیں۔

 تعمیر کی عبقریت مختلف طرز کے لوگوں کو جمع کرنے میں ظاہر ہوتی ہے۔ حسن البنّا نے صرف ربع صدی کے عرصے میں مختلف ذہنیتوں، مختلف عمروں اور مختلف ماحول کے لوگوں کو ایک نظم سے وابستہ کر دیا اور ایک لڑی میں پرو دیا ۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک عبقری لحن میں مختلف نغمے یکجا ہوں۔ انہوں نے احساسات، ادراکات، عمروں اور حلقوں کے اختلاف کے باوجود تمام لوگوں کو ایک رنگ میں رنگ دیا، ایک رخ پر لگا دیا اور ایک راہ پر گام زن کردیا۔

بتائیے، کیا ان کا یہ لقب ۔ ۔البنّا۔ ۔۔محض اتفاقیہ تھا؟ یا ایک خدائی فیصلہ، جس کے تحت چھوٹے بڑے اتفاقات اور مقدّرات ایک وحدت اور نظم کے ساتھ لوحِ محفوظ میں رقم ہیں ؟

حسن البنّا اپنے رب کی جوارِ رحمت میں پہنچ گئے ۔ اس وقت ان کی تعمیر کی ہوئی ‘عمارت’ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکی تھی۔ پھر ان کی شہادت جس انداز سے ہوئی اس میں بھی تعمیر کا ایک نیا پہلو پوشیدہ تھا۔ اس کے ذریعے اس کی بنیادیں مزید گہری ہو گئیں اور اس کی دیواریں اور مضبوط ہوگئیں۔  مرحوم کی ہزارہا تقریروں اور صدہا تحریروں سے اخوان کے دلوں میں دعوت کا وہ جذبہ پیدا نہ ہو پاتا جو ان کے پاکیزہ خون کے قطرات سے پیدا ہوا ہے۔

 ہماری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ موم کی گڑیوں کے مثل بے جان ہوتے ہیں، یہاں تک کہ جب ہم ان کی راہ میں اپنی جان قربان کر دیتے ہیں تو ان میں روح پڑ جاتی ہے اور وہ لافانی ہو جاتی ہیں۔

 ‘سرکش بونوں’ نے جب اخوان پر لوہے اور آگ کی طاقت مسلّط کر دی تو وقت گزر چکا تھا ۔ جس عمارت کی بنا حسن البنّا نے ڈالی تھی وہ اس قدر بلند ہو گئی تھی کہ اس کا منہدم کرنا اب ممکن نہ تھا ۔ اس کی بنیادیں اس قدر گہری ہوگئی تھی کہ اسے اکھاڑ پھینکنا ان کے بس میں نہ تھا ۔ اس وقت وہ ایسے نظریے میں ڈھل گئی تھی جسے لوہے اور آگ کی طاقت کے ذریعہ فنا نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ ۔۔ اور آخر لوہے اور آگ کی طاقت کب کسی فکر کو فنا کے گھاٹ اتارنے میں کام یاب ہوسکی ہے؟۔ ۔۔ تعمیر کی عبقریت ‘سرکش بونوں’ کی پہنچ سے کہیں بلند تھی۔ چنانچہ سیلاب گزر گیا اور اخوان باقی رہ گئے ۔

بارہا اخوان میں سے بعض لوگوں کے دلوں میں دوسرے رجحانات ابھرے اور ہر مرتبہ ایسے رجحانات رکھنے والے اخوان سے اس طرح کٹ کر الگ ہوگئے جس طرح ایک تناور درخت سے سوکھا پتّہ ٹوٹ کر الگ ہو جاتا ہے، یا وہ رجحانات ہی ختم ہوگئے، مگر اخوان کی صفوں میں کوئی انتشار پیدا نہ ہوسکا۔

بارہا اخوان کے دشمنوں نے اس ‘درخت’ کی کوئی ٹہنی پکڑ لی، جسے وہ بہت مضبوط اور درخت کی جڑ تک گہرا سمجھ رہے تھے۔  ان کا خیال تھا کہ جوں ہی وہ اسے اپنی طرف کھینچیں گے پورا درخت ان کی طرف کھنچ آئے گا، یا وہ پورے درخت کو اکھاڑ پھینکیں گے۔ لیکن جب انہوں نے ایسا کیا تو وہ ٹہنی خشک لکڑی کی طرح ان کے ہاتھ میں آ گئی، جس میں نہ تری تھی، نہ پتّے، نہ پھل۔

 یہ ہے تعمیر کی عبقریت، جو ‘معمار’ کے چلے جانے کے بعد بھی قائم ہے۔

 آج بھی اخوان کی ‘عمارت’ اسی طرح متنوّع مشکلات سے دوچار ہے جس طرح ماضی میں تھی، لیکن آج اس کی بنیادیں پہلے سے زیادہ گہری اور اس کی دیواریں پہلے سے زیادہ بلند اور مضبوط ہیں ۔ آج وہ نفس میں راسخ عقیدہ، تاریخ میں ثبت ماضی، مستقبل کی امید اور زندگی کا مقصد ہے۔  اور ان سب کے پس پردہ اللہ کی مشیّت ہے، جس پر کوئی غلبہ نہیں پا سکتا اور امام شہید کا خون ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

 جو شخص بھی اس ‘عمارت’ کے بارے میں بری نیت رکھتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ فاروق کی سرکشی اس کی ایک اینٹ بھی نہ ہلاسکی اور نہ اس میں معمولی سا بھی شگاف پیدا کرسکی، جب کہ اس کی پشت پر انگلینڈ اور امریکہ بھی تھے ۔ اسے سوچ لینا چاہیے کہ مستقبل اسی عقیدے کا ہے جس پر اخوان کی عمارت قائم ہے اور اسی اجتماعی نظام کا ہے جو اس عقیدے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ ۔۔ آج ہر اسلامی سرزمین میں ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کی آواز گونج رہی ہے، جسے ماضی میں استعمار نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا، تاکہ عالمِ اسلامی کو نگلنا اس کے لیے آسان ہو جائے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ٹکڑے پھر جڑ جائیں اور ایک زندہ اور مکمل جسم بن جائیں، جو خود استعمار کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے ۔

 اشیاء کی طبائع اس نظریے کے غلبہ پانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ افتراق و انتشار اور پراگندگی کی لہر گزر چکی، لیکن اسلامی نظریہ اس تاریک دور میں بھی فنا نہ ہوسکا تو اب وہ کیوں کر فنا ہو سکتا ہے؟ جب کہ اب بیداری اور زندگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اسلامی نظریہ اخوان المسلمون کی عمارت کے ساتھ گھل مل گیا ہے۔ جب ماضی میں کسی کے لیے ممکن نہ رہا کہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی کردے تو حال یا مستقبل میں کسی کے لیے ان دونوں کے درمیان جدائی کرنا کیوں کر ممکن ہو سکے گا؟

استعمار ماضی میں بے دینی پیدا کرنے کے مختلف وسائل کو مذہب کا لبادہ اڑھا کر استعمال کرتا تھا ۔ اس نے جہاں صوفیہ کو استعمال کیا وہیں علمائے ازھر کو بھی اپنا آلۂ کار بنایا، جس طرح کہ شاہ نے انہیں آلہ کار بنایا تھا، لیکن اب اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہا ۔ آج اخوان اسلامی نظریہ کی بھرپور نمائندگی کررہے ہیں ۔ اس لیے اب  اسے کسی بھی طریقے سے مسخ کرنا ممکن نہیں۔ آج خود ازہر، جو ماضی میں طویل عرصے تک ظالموں اور اہل استعمار کے تابع رہا ہے، بیدار اور ان کے چنگل سے آزاد ہو رہا ہے۔  اس کے طلبہ اور اساتذہ فرداً فرداً اور جماعت در جماعت اخوان کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں، جو کہ حقیقی اسلامی نظریے کا اولین گہوارہ ہے ۔ قرآن کہتا ہے :

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيۡزٌ(المجادلۃ :21)

’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے۔‘‘

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close