عالم اسلام

اسلام امن و آشتی کا درس دیتا ہے!

احساس نایاب

نہ ہم گرے نہ ہماری امیدوں کے مینار گرے 

پر کچھ لوگ ہمیں گرانے میں کئی بار گرے

چاہے آج کا دور ہو یا نبیوں کا ہر دور میں مشرکین، یہودو نصاریٰ اور کفار مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں، اس لئے اسلام کو بدنام کرنے کی سازشیں آج سے نہیں بلکہ زمانہ نبوت سے چلی آرہی ہیں اور انکی سازشوں میں منافقین بھی شامل رہے ہیں جسکی تاریخ خود گواہ ہے،لیکن ان کی سازشوں اور منافقین کی منافقتوں کے باوجود اسلام عرب ممالک کے ساتھ  پوری دنیا میں رحمت بن کے پھیل گیا اور جن لوگوں نے ابتدا میں اسلام کی شدت سے مخالفت کی تھی ان میں سے اکثر و بیشتر کو اللہ نے ہدایت کی توفیق دے کر صاحب ایمان کے حلقے میں شامل کر دیا اور جن کی عقل پہ تالے پڑے تھے انکے دلوں پہ اللہ تعالی نے مہر لگادی اور وہ ہمیشہ کے لئے ظلمت و جہالت کے اندھیروں میں تباہ وبرباد ہوگئے، کیونکہ جن لوگوں نے اللہ پہ ایمان نہیں لایا، اُس کی وحدانیت پہ یقین نہیں کیا اور اُس کے نبیوں کی اطاعت نہیں کی، اللہ تعالیٰ نے انہیں رہتی دنیا تک کے لئے نشان عبرت بنا دیا جس کی جیتی جاگتی مثال  فرعون ہے جو ہر عقل رکھنے والے انسان کے لئے درس عبرت ہے. لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب سب کچھ دیکھنے، جاننے اور سمجھنے کے باوجود غرور، تکبر اور اسلام سے نفرتوں کا سلسلہ چلتا ہی آرہا ہے اور آج اس میں جو شدت آئی ہوئی ہے اُسے دیکھ کر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہی دور کانا دجال کی آمد کا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ظلم، جہالت، خون ریزی، فرقہ پرستی، شرک وبدعت اور زنا جیسے کبیرہ گناہ عام ہوچکے ہیں اور دجال کے پیروکار اپنے آقا کی عنقریب آمد پر اپنے پر تول رہے ہیں، جب کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ جب کسی حقیر سے کیڑے کو پر نکل آئیں تو وہ اس کے خاتمہ کی علامت ہوتی ہے۔

 ٹھیک اسی طرح آج دنیا بھر کے ساتھ ہمارے اپنے برادران وطن میں بھی چند بھٹکے ہوئے گمراہ لوگ اور نفرت کے سوداگروں نے سستی شہرت حاصل کرنے کی چاہ میں کھلے عام اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یلغار کر دیا ہے، اشتعال انگیز تقریریں کرکے اور فتنہ پرور مضامین لکھ کر دلوں میں نفرت کا بیج بو رہے ہیں جس کے بدلے انہیں جیسی ذہنیت کے لوگ ان کی خوب واہ واہی کرتے ہوئے انہیں انعامات و اعزاز سے نواز رہے ہیں اور گذشتہ چند سالوں سے یہ انکی گھٹیا سوچ بن چکی ہے اور جسے بھی راتوں رات شہرت حاصل کرنی ہوتی ہے وہ بس اسی نفرت انگیز طریقے سے اسلام کے خلاف کسی بھی جلسہ و جلوس میں یا سوشل میڈیا پہ پاگل کتے کی طرح بھونکنے بھی لگ جائے تو ایک ہی پل میں اسکی حوصلہ افزائی کے لئے سینکڑوں شئر، لائکس اور کمنٹس مل جاتے ہیں اور اسکے فالوورس کی لمبی قطار لگ جاتی ہے، اس سے یہ بات تو صاف طور پہ واضح ہوجاتی ہے کہ آج ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کے تئیں ہر عام خاص کے دلوں میں نفرت اور زہر گھولنے کا کام بڑی تیزی سے کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ آئے دن اسطرح کی ویڈیوز واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب  اور دیگر سوشل میڈیا پر  برق رفتاری سے پھیلائی جارہی ہیں اور حال ہی میں جو اترپردیش کے نجیب آباد سے تعلق رکھنے والی مذہبی منافرت کی علمبردار عورت کی ویڈیو سوشل میڈیا پہ بڑی ہی تیزی سے وائرل ہوئی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک عورت ناگن کی طرح زہریلے انداز میں چلا چلا کر اپنا گلا پھاڑ کر اسلام کے خلاف اپنے ساتھیوں کو اشتعال دلا رہی ہے اور وہاں پہ جمع لوگ اسکی حمایت میں تالیاں بجاتے ہوئے اسکی پیٹھ تھپتھپارہے ہیں اور اس کی واہ واہی کررہے ہیں۔

 ویسے تو یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے بھی سنگھی ذہنیت رکھنے والے کئی بی جے پی رہنما ایسی ویڈیوز بناکر وائرل کرچکے ہیں، جن میں کئی سادھو سنت بھی شامل ہیں اور کہنے کو تو یہ سادھو سنیاسی اہنسا، شانتی اور امن کے پیامبر کہلاتے ہیں لیکن آج کل یہی لوگ دہشت کی علامت بن چکے ہیں اور فسادی مردوں اور عورتوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں، دراصل یہ بدبخت جاہل عورت اسلامی ارکان کی جھوٹی اور غلط تشریح دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کڑوڑوں مسلمانوں کی دینی حمیت اور ملی غیرت کو للکار رہی ہے، کلمہ توحید، قرآن کی تلاوت، نماز، روزہ، عید، حج جیسی عبادتوں کے خلاف جھوٹ اور نفرت کا پرچار کرکے ملک میں نفرت کا زہر گھولنے کی کوشش کررہی ہے، اور یہ سب کچھ کرنے کے پیچھے کسی بھی طبقے کے لئے ہمدردی نہیں بلکہ انہیں تو اپنا الو سیدھا کرنا ہوتا ہے، اور جسطرح سے اس جاہل اور نفرت کی پجاری عورت نے اسلام کے خلاف زہر اگلا ہے اس سے اس کی ذہنی خباثت کا  صاف پتہ چل رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ انہیں نہ تو قانون کا ڈر ہے نہ ہی آئین اور دستور کا پاس و لحاظ ہے، انہیں تو صرف اپنا مفاد عزیز ہے اور اس کے لئے نفرتوں کا بازار گرم کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے، اور جب یہ مسلمانوں پہ الزامات لگاتے ہوئے ہماری عبادتوں کے خلاف اتنا سب کچھ کہہ ہی رہے ہے، تو ایک دفعہ اپنے اُن دنوں کو بھی یاد کرلیں، جب رمضان کے مہینے میں یہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر افطار پارٹیوں کے مزے لیتے ہیں، آج نجانے ان افطار پارٹیوں کو وہ کیسے بھول گئے ؟ جب ہمارے گھروں میں عیدالفطر کی سوئیاں اور عیدالاضحٰی کے سیخ کباب اور بریانیاں کھانے کے بعد پارسل بھی ساتھ لے جاتے ہیں، ہماری وہ دعوتیں اور میزبانی آج یہ کیسے بھول گئے؟ اور ہماری مسجدوں و مدرسوں سے نفرت کرنے والو وہ دن بھی تو یاد کرو جب اپنے بیمار بچوں اور اہل خانہ کو ہرطرف سے ناامیدی کے بعد ہماری دعاؤں پہ یقین کرکے  دعائے شفاء کروانے ہمارے انہیں مسجد مدرسوں کے دروازوں پر لائن لگا کر کھڑے رہتے ہو، آخر وہ دن رات تم کیسے بھول گئے ؟

 آج ہماری اذانوں و نمازوں کی وجہ سے فضاؤں میں جو خوشگوار ماحول بنا ہے اور اسی اذان کی آواز سنکر جب سبھی لوگ کیا ہندو اور کیا مسلمان وقت کا اندازہ لگایا کرتے تھے آخر وہ وقت تم کیسے بھول گئے ؟خیر ابھی ہماری یہ بات تو ذہن نشین کرلو، جس طرح آج حج  کو لیکر شعلے برسا رہے ہو، ایک دن وہی شعلے تمہارے دامن کو جلاکے راکھ کردیں گے، کیونکہ جب ایک ہندوستانی مسلمان سفر حج پہ جاتا ہے تو اپنی دعاؤں میں وہ پہلے اپنے مادر وطن کو شامل کرتا ہے، غلاف کعبہ پکڑ کر اپنے تمام برادرانِ وطن کو دعاؤں میں شریک رکھتا ہے، ہندوستان کے امن و امان، بھائی چارگی، اتحاد و اتفاق کے لئے دعا کرتا ہے، کیونکہ ہندوستان جتنا تمہارا ہے اُس سے کئی گنا زیادہ ہم مسلمانوں کا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں نے تقسیم کے وقت اپنے  عزیز و اقارب، دوست و احباب حتی کہ اپنے دینی بھائی بہنوں کو اپنے وطن کے خاطر قربان کردیا اور جیتے جی اور مرنے کے بعد بھی اپنے پیارے وطن ہندوستان سے اپنی وفاداری نبھانے کا عہد کر کے اسی کی مٹی میں دفن ہوکر ہمیشہ کے لئے اسی میں بس جانے کے لیے یہیں کے ہو کر رہ گئے، ہم نے اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بننے والے ملک کو ٹھکرادیا۔

 آج مسلمانوں کی وفاداری کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہوگی کہ وہ مرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو اسی کی پاک مٹی میں دفن ہونے کو پسند کرتا ہے جبکہ تم لوگ جلنے کے بعد راکھ بن کر پانی میں بہتے ہوئے ناجانے کس گٹر نالی میں ڈوب جاتے ہو یا بہتے ہوئے انہی ملکوں میں چلے جاتے ہو جس کا جھوٹا طعنہ ہمیں دیتے رہتے ہو، اور ایک بات اپنے موٹے ذہن میں گانٹھ باندھ لو کہ آزادی کا بگل آپ سے پہلے ہمارے بزرگوں نے بجایا تھا اور تحریکِ آزادی میں ہمارے علماء اور رہنماء نے دیگر مجاہدین آزادی کے  شانہ بشانہ کھڑے ہو کر انگریزوں کے خلاف جنگیں لڑی تھیں، اگر مسلمانوں کو تمہیں نقصان پہنچانا ہی ہوتا تو کب کا تمہارا نام صفحہ ہستی سے مٹا چکے ہوتے، نہ کہ تمہاری گنیش پوجا، ہولی، دیوالی جیسے تہواروں میں چندہ دیکر اتحاد کا مظاہرہ کرتے، اس لئے اس طرح مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینا اور مسلم نوجوانوں کو جانوروں کے نام پہ قتل کرنا بند کردیں ورنہ، آج جو ہم خاموش ہیں کل ہماری یہی خاموشی طوفان بن کر اٹھے گی اور انسانیت کے دشمنوں کی ہستی کو مٹادیگی، اور ہاں اسلام کے نام پر بھولی بھالی عوام کو ڈرانا بند کریں، کیونکہ اسلام ڈرنے والوں کا نہیں محبت کرنے والوں کا مذہب ہے، جس دن ڈر کی جگہ محبت کرنا سیکھ جائیں گے اُس دن صحیح معنون میں اسلام کو سمجھ پائینگے!!

اور ہاں! یہ جو تم پہ بوکھلاہٹ , غصہ اور نفرت کا بھوت سوار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ اسلام سے تمہارا ڈر اور خوف ہے جو زمانہ قدیم سے تمہیں اپنے آباءواجداد کی طرف سے  وراثت میں ملا ہے وہ آج بھی تمہارے دل ودماغ پہ حاوی ہے. دورِ نبوت میں بھی مشرکین کو یہی ڈر حاوی تھا کہ مسلمان ان پہ غلبہ نہ حاصل کرلیں اور اسی وجہ سے انہوں نے ہمیشہ اسلام کو نقصان پہنچانے کی ناپاک کوشش کی لیکن انہیں خود منہ کی کھانی پڑی،اور آج بھی جو کچھ ہورہا ہے ان کے اسی ڈر کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے یہ مسلمانوں کو جابجا تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں، تاکہ ہمارے دلوں میں دہشت قائم کرکے روہنگیا مسلمانوں کی طرح ہمیں بھی اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیں، اور اس کا فائدہ اٹھاکر ہندوستان کے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو دبا کے رکھ سکیں، لیکن یاد رہے کہ ہندوستان میں جب تک مسلمان رہے گا، سنگھیوں کا مکمل راج ناممکن ہے، کیونکہ ہندوستان میں مسلمان دوسری بڑی اکثریت رکھنے والی طاقتور قوم ہے اور ہماری موجودگی سے انہیں اپنی ناپاک سازشوں میں کامیابی کبھی حاصل  نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ہندو راشٹر کا ان کاادھورا خواب پورا ہو سکے گا. اس لئے یہ اپنا غصہ اپنی نفرت سب کچھ سیدھے اسلام اور اس کے ماننے والوں پر اتار رہے ہیں، لیکن ان بیوقوفوں کو کیا پتہ جسکی حفاظت خود اللہ کررہا ہے، جن کا نگہبان خود پوری کائنات کا پیدا کرنے والاہے،  اُنہیں  نقصان پہنچانے کی کسی کی اوقات نہیں اور یہ کیا ان کے آباء و اجداد صدیوں سے اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں لیکن اسلام کو جتنا دبایا گیا وہ اتنا ہی زیادہ طاقتور بن کر ابھرا اور انشاءاللہ آئندہ بھی ابھرتا رہے گا. یہ ایک اٹل حقیقت ہے اور تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ہر دور میں حق اور باطل کا ٹکراؤ ہوا ہے اور غلبہ بالآخر حق کا ہی ہوا ہے. ححضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اللہ کے آخری اور محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باطل سے مقابلہ کرنا پڑا ہے اور باطل حق کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا ہے.

برادران وطن کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے، اسلام امن و شانتی کا درس دیتا ہے، لفظ اسلام کے معنی ہی سلامتی کے ہیں، اسلام صرف انسانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا درس دیتا ہے، وائرل ویڈیو میں غیر مسلم خاتون نے جس طرح اسلام اور اسلامی عبادات کے خلاف زہر افشانی کی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اسے اسلام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے، میں ان کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ پہلے اسلام کا مطالعہ کریں پھر انہیں خود سمجھ آجائے گا کہ اسلام کا مطلب کیا ہے. اور اس وقت جن لوگوں نے بھی ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول بنا رکھا ہے انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمان بزدل قوم نہیں ہے بلکہ مسلمان اپنے مذہب پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے دستور اور قانون پر بھی پابند عمل ہے اسی لیے مسلمان خاموش ہے ورنہ اگر مسلمان جواب دینے پر اتر جائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گی.. مسلمان امن پسند قوم ہے، اسے اشتعال دلاکر ملک کے ماحول کو ابتر بنانے کی کوشش ہرگز ہرگز نہ کریں……..!

مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close