عالم اسلاممذہبی مضامین

اسلام کا قانونِ جنگ: امن وعافیت کا ضامن

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

 اسلام کا قانونِ جنگ جسے اصطلاح شرع میں ’’جہادفی سبیل اللہ ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، کچھ تو خود ہماری بداطواریوں، اوجھی ونامناسب حرکات وسکنات، اور ہوش سے زیادہ جوش وجذباتیت کے اظہار، دوسری جانب اعداء اسلام کی سازشوں، افواہوں اور غلط پروپیگنڈوں اور ان کی جانب سے اس کی غلط توضیح وتشریح، اس کے حقیقی مفہوم کو پردۂ خفامیں رکھنے کی وجہ سے، معاشرہ کی اصلاح، امنِ عامہ کے قیام اور سماج سے ظلم وسفاکیت اور فسادوبگاڑ کے دور کرنے میں اس کا حقیقی اور بامعنی کردار نگاہوں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے۔

ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈے کے اس دور میں ایک حقیقی مسلمان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مختلف ذرائع تشہیر کے ذریعے اسلامی احکام وتعلیمات کے روشن اور تابناک پہلوؤں کا اظہار کرتا رہے، تاکہ رفتار زمانہ اور خود مسلمانوں کی غفلت اور نادانی کے نتیجے میں، اسلامی تعلیمات کی خوبیوں پر گردوغبار کی جو دبیز تہہ جم چکی ہے اس کی صفائی ہو، اور اسلامی تعلیمات کا حقیقی روشن وتابناک چہرہ لوگوں کے سامنے آئے، جس کا ایک نقد فائدہ تو یہ ہوگا کہ اغیار واجانب کی غلط فہمیوں پر مبنی نظریات وتصورات کا خاتمہ ہوگا، دوسری جانب ان کے حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کی راہیں کھلیں گی، یہ تحریر اسی تناظر میں ضبطِ تحریر میں لائی جارہی ہے کہ اسلامی قانونِ جنگ کے مختلف محاسن سامنے آئیں، اور غلط وباطل نظریات ومفروضات کا ازالہ ہو، گرچہ مذہب اسلام سراپا خیر ورحمت ہے، لیکن مطلب پرستوں، نفسانیت کے پجاریوں اور عدل وانصاف کے خونیوں اور قاتلوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ کتر وبینت، حذف واضافہ اور ردوبدل کے ذریعے کسی بھی عبادت کے حقیقی مفہوم کو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کرکے اس سے اپنے مطلب براری کے فن میں خوب ماہر اور طاق ہوتے ہیں۔

چونکہ اس وقت اسلام کا نظریۂ جنگ اقوامِ عالم کی آنکھوں کا کانٹا بنا ہوا ہے، وہ تعصب اور جانب داری کی عینک اپنے آنکھوں پر چڑھائے ہوئے عمدا اور باتکلف اسلام کے قانون جنگ کو دوسرا رنگ وآہنگ دینے پر تلے ہوئے ہیں، چونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام کا حقیقی صاف وروشن چہرہ لوگوں کے سامنے ہوگا تو اس سے ان کی چودھراہٹ اور سرداری خطرہ کی زد میں آجائے گی، اس لئے یہ لوگ مختلف عنوانات سے اسلام کے چمکدار اور تابناک اور بلند قامت سور ج پر تھوک پھینکنے کی ناتمام اور احمقانہ کوشش کرتے رہتے ہیں، ظاہر ہے کہ سورج پر تھوکنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خود گندگی میں تلوث کا شکار ہوجائیں گے۔

جنگ علی الاطلاق ممنوع نہیں ہے :

اللہ عزوجل نے انسان کو مجموعۂ اضداد بنایا ہے، خیر وشر دونوں پہلو انسانی طبیعت میں ودیعت کئے ہیں، انسان میں خیر کا پہلواسے نیکی اور بھلائی پر ابھارتا ہے، جب کہ شر کا پہلو اسے آمادۂ معصیت اور ظلم وستم کرتا ہے، اسلئے روزِ اول ہی سے اللہ عزوجل کا یہ قانون رہا ہے کہ وہ مختلف قوموں کو آمادۂ پیکار کئے رہتے ہیں تاکہ اس طرح نیکی اور بھلائی کا پلڑا بھاری ہوجائے، سچائی وصداقت کی حقانیت آشکارا اور برائی کی قباحت وشناعت بھی عیاں ہوجائے۔

چنانچہ دنیا میں حق وصداقت کے غلبہ اور برتری اور شر وفساد کے خاتمہ کے لئے مختلف قوموں کے درمیان آویزش وٹکراؤ کے اپنے اسی ازلی قانون وروایت کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے یوں ارشاد فرمایا : ’’جو اپنے گھروں سے بے وجہ نکالے گئے محض اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہیاور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالی لوگوں کا ایک کا دوسرے سے زور نہ گھٹواتا رہتا تو نصارے کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور وہ مسجدیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے سب منہدم ہوگئے ہوتے بے شک اللہ تعالی اس کی مدد کرے گا جو (اللہ کے دین) کی مدد کرے گا، بے شک اللہ تعالی قوت والا، غلبہ والا ہے وہ جس کو چاہے غلبہ دے سکتا ہے ‘‘۔ مذکورہ بالا آیت میں مسلمانوں کو جو قتال کی اجازت دی گئی ہے وہ نہایت ہی ناگزیر حالت میں ہے، چوں کہ اسلام کی آمد کے بعدمسلسل تیرہ سالہ مدت کو انہوں نے نہایت ہی کٹھنائیوں او ر مصائب میں اپنی قوم کی جانب سے ہر قسم کے مظالم کو سہتے ہوئے گذارا ہے اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو یہ جنگ کی اجازت اس لئے نہیں دی گئی ہے کہ وہ زمین میں فساد وبگاڑ کریں ؛ بلکہ اس جنگ کی اجازت کا مقصد یہ ہے کہ وہ جملہ مذاہب کی آزادی کو قائم رکھیں، بد امنی اور انارکی کا خاتمہ کریں، پارسیوں، عیسائیوں، یہودیوں کی عبادت گاہوں اور مسلمانوں کی مساجد کو ہر طرح کے نقصانات اور گزند سے مامون ومحفوظ رکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قتال اور جہاد کا حکم کوئی نیا حکم نہیں۔ پچھلے انبیااور ان کی امتوں کو بھی قتال کفار کے احکام دیئے گئے ہیں اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کسی مذہب اور دین کی خیر نہ تھی سارے ہی دین و مذہب اور ان کی عبادت گاہیں ڈھا جی جاتیں۔

اسلام میں جہاد کا حقیقی مفہوم :

جہاد سے متعلق سب سے پہلی غلط فہی یہ ہوتی ہے کہ اس لفظ کو ’’جنگ ‘‘ کے معنی میں لیا جاتا ہے اور اسے عربی لفظ ’’حرب ‘‘ کے مرادف باور کیا جاتا ہے جو تباہی وبربادی کے معنی میں آتا ہے ( المعجم الوسیط : ۱۴۶) یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے کہیں بھی اپنے اسلامی نظریۂ جنگ کے لئے لفظ ’’حرب ‘‘ کا استعمال نہیں کیا ہے، قابلِ التفات امر یہ ہے کہ جس ملت ومذہب ہی کے نام میں امن وعافیت کا مفہوم شامل ہو وہ کیوں کر بے جا کشت وخون اور فساد وبگاڑ کی دعوت دے سکتا ہے ؛ بلکہ دین دنیا میں آیا ہی اس لئے ہے کہ اس قسم کی مبنی بر ظلم فساد وخراب پر مشتمل جنگوں کا خاتمہ کرے اور امن وامان اور عدل واعتدال اور مساوات پر قائم ایک ایسا نظریۂ جنگ اقوامِ عالم کے سامنے پیش کرے کہ دورانِ جنگ بھی کسی کی حق تلفی یا اس پر ظلم وستم جائز نہ ہو۔ چنانچہ مذکورہ بالا لغت میں لفظ’’جہاد ‘‘ کی تشریح یوں کی گئی ہے ’’قتال من لیس لھم ذمۃ من الکفار ‘‘ ( المعجم الوسیط : ۱۴۲) شرعاً جہاد اسے کہتے ہیں کہ غیر ذمیوں کو چھوڑ کر دیگر لوگوں سے قتال کیا جائے (یعنی جو غیر مسلم ہمارے عہد وپیمان میں ہیں ان سے ہر گز کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے ) رہی یہ بات کہ اسلام ’’حرب‘‘ بمعنی تخریب وتہدیم کا خاتمہ چاہتا ہے اس بارے میں ارشادِ خداوندی ہے ’’کُلَّمَا أَوْقَدُواْ نَاراً لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَہَا اللّہُ وَیَسْعَوْنَ فِیْ الأَرْضِ فَسَاداً وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْن‘‘ ( المائدۃ : ۶۴)جب کبھی لڑائی کی آ گ بھڑکانا چاہتے ہیں حق تعالی اس کو فرو کردیتے ہیں، اور ملک  میں فساد کرتے پھرتے ہیں۔ اور اللہ تعالی فساد کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتے۔ مذکورہ بالا آیت کا یہ مفہوم ملحوظ ہرے کہ اسلام ’’حرب ‘‘ بمعنی خون ریزی، قتل وغارت گری اور فساد وبگاڑ کو ختم کرنے کے لئے آیا ہے، ، اس کے لئے فرمایا : جب کبھی لڑائی کی آگ یہ لوگ بھڑکانا چاہتے ہیں تو حق تعالیٰ اس کو فرو کردیتے ہیں یعنی ختم فرمادیتے ہیں۔

اسلام میں جنگ کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کے لئے قاضی سلیمان منصورپوری کی تالیف رحمۃ اللعالمین کی یہ تحریر بھی ملاحظہ کیجئے :’’ افسوس ہے کہ مسلمانوں کی ہر کوشش کو جو انہوں نے جنگ سے بچنے کے لئے کی لوگوں نے اس کا نام جنگ رکھ لیا ہے، یہ لوگ نہ واقعہ کی علت دریافت کرتے ہیں، نہ مسلمانوں کے مدعا کی تلاش، پھر جلدی سے اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں، اسی غلطی کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ بے خبر مسلمان بھی سمجھنے لگے کہ مسلمانوں کی ہر نقل وحرکت جنگ ہی کے لئے تھی ‘‘ پھر آگے لکھتے ہیں : ’’ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قدیم مسلمان مؤرخین نے اس نقل وحرکت کا نام غزوات اور سرایا رکھا ہے، لیکن یہ زمانہ ٔ حال کی خوش فہمی ہوگی کہ غزوات وسرایا کے الفاظ کو جنگ کا مترادف سمجھا جائے ؛ حالانکہ ان کے لغوی معنی قصد وسیر کے ہیں ‘‘ (رحمۃ اللعالمین: ۳؍۲۳۳)

اسلامی جنگ کا مقصود فتنہ وفساد کا خاتمہ ہے : مذکورہ بالا تحریر سے پتہ چلا کہ اسلام میں جنگ ایک نہایت مقدس اور شریف عمل ہے ؛ لہذا ہمیں اس کے تعلق سے کسی طرح کے بھید بھاؤ یا معذرت خواہانہ رویہ کے اختیار کرنے کر نے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے، اس کے بعد یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے، اس کی تعلیمات دیگر مذاہب کی طرح محض چند رسوم وعقائد کا مجموعہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ انسان کا خود ساختہ اپنے ہاتھوں بنایا ہوا قانون ودستور ہے ؛ بلکہ خالق کائنات کا نازل کردہ نظامِ حیات ہے جس میں ہر شعبۂ زندگی کے متعلق انسانیت کے لئے رہنمایا نہ اصول بتلائے گئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیمات کو ہر شخص اپنا سکتا ہے کوئی بھی شخص ان آئین واصول کو اپنا کر اس کے دامنِ رحمت وعافیت میں جگہ پاسکتا ہے ’’اسلامی نظامِ جنگ ‘‘ ’’جہاد‘‘ یا اس جیسی نقل وحرکت کا مقصود بھی یہی ہے کہ فطرتِ انسانی سے موزوں، عدل واعتدال پر مبنی ان تعلیمات کا ہرسمت بول بالا ہو، روئے زمین سے ناانصافی، بد امنی، ظلم وجبر، زور وزبردستی اور شروفساد کا خاتمہ ہو اور ہر شخص آزادی کے ساتھ اس خدائی نظام کے تحت امن وسکون کے ساتھ زندگی گذارسکے، اشاعتِ اسلام کا ہرگز یہ مقصود نہیں کہ لوگوں کوبجر واکراہ داخلِ حظیرۂ اسلام کیا جائے، ارشاد خداوندی ہے ’’لّا إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ‘‘دین میں زور زبردستی نہیں، اگر کوئی شخص جزیہ کی مشروعیت پر غور کرے گا تو یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ اسلامی جنگ کا مقصود اسلام کا غلبہ ہے خواہ وہ مخالف کے اسلام لانے سے ہو یا رعیت بن کر رہنا منظور کرنے سے ؛ چوں کہ جزیہ دے کر اسلامی سلطنت میں رہنا بھی در اصل اسلامی قانون کی بالا دستی کو تسلیم کرنا ہے، جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو چکا تو فتنہ وفساد کے امکانات بھی ختم ہوچکے ؛ لہٰذا اب جنگ بھی موقوف کردی جائے گی، اب اس ذمی شخص کو اسلامی سلطنت میں وہ تمام حقوق ورعایات حاصل ہوں گے جو ایک مسلمان شخص کو حاصل ہوتے ہیں، اسی کو اس آیت کریمہ میں یوں بیان کیا گیا ہے : ’’اور ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ فسادعقیدہ (شرک) نہ رہے اور دین (خالص)اللہ ہی کا ہوجاوے۔ اور اگر وہ لوگ (کفر سے)بازآجاویں تو سختی کسی پر نہیں ہواکرتی بجز بے انصافی کرنے والوں کے‘‘(البقرۃ :۱۹۳) اس آیتِ کریمہ میں جنگ بندی کی انتہا فتنہ وفساد کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔

دورِ رسالت کی غزوات وسرایا کی تعداد ِ مجموعی؍۸۲ہوتی ہے، اگران لڑائیوں کو جارحانہ اور اقدامی تسلیم کیا جائے بھی تو ان میں مقتولین کی مجموعی تعداد (۱۰۱۸) ہے اور (۸۲) پر ان کو تقسیم کرنے سے فی جنگ 12.414اوسط نکلتا ہے، کیا کوئی ذی عقل ایسی لڑائیوں کے متعلق یہ قرار دے سکتا ہے صدہاسالہ مذاہب کو تر ک کر انے اور نئے مذہب کے بہ جبر قبول کروانے کے لئے اور وہ بھی عرب جیسے خونخوار ملک یہ کافی مؤثر ـتھیں، دشمنوں کے مجموعی اسیران کی تعداد (۶۵۶۴) ہے جو جزیرہ نما عرب کی وسعت کے مقابلہ میں ہیچ ہے اور چوں کہ ان کی تعدادکے اندر بڑی تعداد (۶۰۰۰) ایک ہی غزوہ حنین کی ہے (جوکہ بعد میں تمام آزاد کردیئے گئے ) اس لئے باقی جنگوں میں اوسط اسیران جنگ ( ۷) رہتا ہے۔ اس کے مقابل زمانہ گذشتہ کی دو عظیم جنگیں اور ان کی ہلاکت خیزیوں اور تباہیوں کا اندازہ لگائے جو صرف چھوٹی سلطنوں کو آزاد کرانے کی غرض سے لڑی گئیں تھیں، مقتولین، مجروحین کی تعداد ساتھ ستر لاکھ  سے متجاوز ہے، اہل دنیا کی لڑائیوں کا ذکر چھوڑو، مقدسین کی لڑائیاں لو، مہابھارت کے مقتولین کی تعداد کروڑوں سے کم نہیں، یورپ کی مقدس مذہبی انجمنوں نے جس قدر نفوس ہلاک کیا ان کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے (تمام اعداد شمار کے لئے ملاحظہ ہو : رحمۃ للعالمین : ۲؍۴۶۴)

جزیہ کی ادائیگی کوبھی جو کہ در اصل اسلامی تعلیمات کی بالادستی وفوقیت اور روئے زمین پر فتنہ وفساد مچانے سے رکنے کا اعتراف اور عہد ہوتا ہے اس کو بھی جنگ بندی کی انتہا بتلایاگیا ہے۔ اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے :’’اہل کتاب جوکہ نہ خدا پر (پورا پورا)ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو خدا تعالی نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے حرام بتلایا ہے اور نہ سچے دین (اسلام)کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہوکر اور رعیت بنکر جزیہ دینا منظور کریں ‘‘(التوبۃ : ۲۹)جزیہ کہتے ہیں اس مال کو جو اسلامی سلطنت کے ما تحت رہنے والے غیر مسلموں سے ان کی جان مال، عزت وآبرو کی حفاظت کے لئے لیا جاتا ہے اور بالکل معمولی رقم ہوتی ہے، جزیہ کی یہ رقم ادا کرنے والے یہ لوگ ذمی کہلاتے ہیں اور ان کے اسلامی سلطنت کے باشندے ہونے کی حیثیت سے ان کے جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت اسلامی حکومت کے ذمہ ہوتی ہے، ان کے مذہبی امور میں مداخلت کو اسلام منع کرتا ہے، پھر اس میں بچے، بوڑھے، عورتیں اور معذورین سے جزیہ نہیں لیا جاتا، اسی طرح مکاتب، مدبر، ام الولد پر بھی جزیہ نہیں ہوتا، مذہبی پیشواجو گوشہ نشیں ہوں ان سے بھی جزیہ نہیں لیا جا تا۔ (اصح السیر : ۴۷۴)

دورانِ جنگ بے قصور لوگوں سے تعرض کی ممانعت :

اسلامی قانونِ جنگ کا ایک حسین اور خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے دورانِ جنگ بے قصور، نہتے اور کمزور لوگوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کی ہے، عملا جن لوگوں نے جنگ میں حصہ لیا ہے یا جنہوں نے مشوروں اور خدمات کے ذریعے ان کو مدد بہم پہنچائی ہے یہی لوگ قتل کے مستحق ہوں گے، بقیہ بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور خلوت نشیں عابدوں، زاہدوں سے ہرگز تعرض نہ کیا جائے گا، دوران جنگ بے قصور لوگوں کے قتل کو تو رہنے دیجئے، اسلام نے سرسبز وشاداب کھیتوں، پھل دار درختوں اورباغات کو بھ نقصان پہنچانے سے روکا ہے، ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ نے فرمایا : کھوسٹ بوڑھوں، چھوٹے بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کیا جائے (ابوداؤد:باب دعوۃ المشرکین إلی الإسلام : حدیث:۸۴۹)اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایک لشکر کو جو ملکِ شام ایک مہم کے لئے روانہ ہوا تھاانہیں اس قسم کی ہدایات دی تھیں کہ وہ بچوں کو قتل نہ کریں، کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھائیں، کسی ضعیف بوڑھے کو نہ ماریں، کوئی پھلدار ردخت نہ کاٹیں، کسی باغ کو نہ جلائیں ( مؤطامالک : ۱۶۸)

یہ بات پیشِ نظر رہے کہ عہدِ نبوی میں آنحضرت ا نے جہاں کہیں بھی پوری نشانہ بنایا ہے وہاں ساری آبادی اور قبیلے کو سارے لوگ بنفس نفیس اور عملاً جنگ میں شریک تھے، البتہ عہد صحابہ میں عموماً مسلمانوں کا مقابلہ وہاں کی آبادی سے نہیں ؛ بلکہ حکومت کے منظم فوجیوں سے ہوا ہے، اس لئے مجاہدین نے اس ملک میں فاتحانہ داخل ہونے کے بعد وہاں کی عوامی املاک یا وہاں کے باشندوں کے مال وجان پر کسی طرح کی دست درازی نہیں کی ہے ؛ بلکہ وہاں کے مقامی لوگوں نے مسلمانوں کے حسن سلوک اور رواداری اور انصاف پر مبنی طرزِ عمل کو دیکھ کر کئی موقعوں پر اپنے ہم مذہب عیسائیوں اور پارسیوں کے خلاف ہی جاسوسی، خبر رسانی اور رسد بہم پہنچانے اور اس قسم کی مختلف طرح سے امداد کی ہے، یہی وجہ تھی کہ جب جنگِ یرموک پیش آنے کے وقت جب مسلمان شہر حمص سے نکلے تو یہودیوں نے توریت ہاتھ میں لے کر کہا : ’’ جب تک ہم زندہ ہیں کبھی رومی یہاں نہ آنے پائیں گے‘‘، عیسائیوں نے نہایت حسرت سے کہا : ’’ خدا کی قسم ! تم رومیوں کے بہ نسبت کہیں بڑھ کر ہم کو محبوب ہو ‘‘ (الفاروق : ۲؍ ۱۲۰)غور طلب امر یہ ہے کہ اگر اسلامی جنگ کا مقصود کشیدگی اور بد امنی اور انارکی کا ازال اور وہاں انصاف وعدل پر مبنی طرزِ حکومت کا قیام نہ ہوتا تو وہاو کے مقامی باشندے اپنے ہم مذہب پیشواؤں کے خلاف مسلمانوں کا ساتھ کیوں دیتے ؟ اور ان کے ساتھ اس جذباتی محبت وعقیدت کا اظہار کیوں کرتے ؟

معاہدے کی پاسداری کی تاکید:

اسلام نے دورانِ حنگ جن چیزوں کی سخت تاکید ہے، ان میں سے ایک عہد کی پاسداری بھی ہے؛ بلکہ عام حالات میں بھی وفائے عہد کو ایک مسلمان کے لئے اس کے ایمان کا لازمہ اور خاصہ قرار دیا گیا ہے، ایک ایمان والے کے شایان شان نہیں کہ وہ وعدہ خلافی یا عہد شکنی کرے، بدعہدی یہ تو منافق کا شیوہ ہوتا ہے (ریاض الصالحین : ۲۹۳)عہد وپیمان کے پاس ولحاظ کی تاکید کر تے ہوئے اللہ عزوجل نے یوں ارشاد فرمایا : ’’معاہدے کی پاسداری کرو؛کیوں کہ اس کے تعلق سے بازپرس ہوگی ‘‘ عام حالات میں پابندیٔ عہد کا اس قدر سختی کے ساتھ اسلام مطالبہ کرتا ہے، ظاہر ہے کہ جنگ کی حالت میں اس کی اہمیت مزید دوچند ہوجاتی ہے، اس لئے خصوصا دورانِ جنگ یہ تاکید کی گئی ہے کہ خواہ دشمن بدعہدی کیوں نہ کرے پیمانِ وفا کیوں نہ توڑے، مسلمانوں کے لئے ہرگز یہ اجازت نہیں کہ قبل از اطلاع ان کی جانب پیش قدمی کریں یا بغیر انقطاع عہد کی اطلاع کے ان پر چڑھ دوڑیں، بلکہ ان کی جانب سے عہد شکنی کے باوجود بھی مسلمانوں کے لئے یہ ضروری قراردیا گیا ہے کہ وہ پہلے صاف اور صریح الفاظ میں معاہدہ کے خاتمہ کا اعلان کردیں، پھر اس کے بعد جس قسم کی کاروائی چاہے وہ کر سکتے ہیں، اس بارے ارشاد خداوندی ہے : ’’اور اگر تجھ کو ڈر ہو کسی قسم سے دغا کا تو پھینک دے ان کا عہد ان کی طرف ایسی طرح پر کہ ہو جا تم اور وہ برابر، بیشک اللہ کو خوش نہیں آتے دغا باز۔ ‘‘(الانفال :۵۸)اس آیت کریمہ میں قانون کی ایک اہم دفعہ بتلائی گئی ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی خاص اہمیت کے ساتھ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت معاہدہ کے دوسرے فریق کی طرف سے خیانت یعنی عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ ہم معاہدہ کی پابندی کو بدستور قائم رکھیں لیکن یہ بھی جائز نہیں کہ معاہدہ کو صاف طور پر ختم کر دینے سے پہلے ہم ان کے خلاف کوئی اقدام کریں بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ ان کو اطمینان و فرصت کی حالت میں اس سے آگاہ کر دیا جائے کہ تمھاری بدنیتی یا خلاف ورزی ہم پر ظاہر ہوچکی ہے یا یہ کہ تمھارے معاملات مشتبہ نظر آتے ہیں اس لئے ہم آئندہ اس معاہدہ کے پابند نہیں رہیں گے تم کو بھی ہر طرح اختیار ہے کہ ہمارے خلاف جو کارروائی چاہو کر۔ اس سلسلہ کا ایک دلچسپ اور مشہور واقعہ جس کا ذکر مفتی شفیع صاحب نے کیا ہے :حضرت معاویہ کا ایک قوم کے ساتھ ایک میعاد کے لئے التوا جنگ کا معاہدہ تھا، حضرت معاویہ نے ارادہ فرمایا کہ اس معاہدہ کے ایام میں اپنا لشکر اور سامان جنگ اس قوم کے قریب پہنچا دیں تا کہ معاہدہ کی میعاد ختم ہوتے ہی وہ دشمن پر ٹوٹ پڑیں۔ مگر عین اس وقت جب حضرت معاویہ ص کا لشکر اس طرف روانہ ہو رہا تھا یہ دیکھا گیا کہ ایک معمر آدمی گھوڑے پر سوار بڑے زور سے یہ نعرہ لگا رہے ہیں اللہ اکبر اللہ اکبر وفآ لا غدرا۔ یعنی نعرہ تکبیر کے ساتھ یہ کہا کہ ہم کو معاہدہ پورا کرنا چاہئے اس کی خلاف ورزی نہ کرنا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس قوم سے کوئی صلح یا ترک جنگ کا معاہدہ ہوجائے تو چاہئے کہ ان کے خلاف نہ کوئی گرہ کھولیں اور نہ باندھیں۔ حضرت معاویہ کو اس کی خبر کی گئی۔ دیکھا تو یہ کہنے والے بزرگ حضرت عمرو بن عنبسہ صحابی تھے۔ حضرت معاویہ نے فورا اپنی فوج کو واپسی کا حکم دے دیا تاکہ التوا جنگ کی میعاد میں لشکر کشی پر اقدام کرکے خیانت میں داخل نہ ہو جائیں (معارف القرآن : ۴؍۲۷۰)۔

اسیرانِ جنگ کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ :

دنیا میں جتنی قومیں اور سلطنتیں گذریں ہیں وہ اسیرانِ جنگ کے ساتھ نہایت ہی وحشیانہ اور بہیمانہ سلوک کرتے تھے، موجودہ یورپین حملہ آور اقوام کا جنگی قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک ان کے اسیرانِ جنگ کے ساتھ سلوک کے حوالے سے شاہدِ عدل ہیں، گوانتاموبے اور ابوغریب کی بدنامِ زمانہ جیل اور وہاں کی انسانیت سوز اور حیا باختہ انواعِ تعذیب وعقوبت کو دیکھ کر ہر شخص تلملا اٹھا، اس کے ساتھ اسلام کا اسیرانِ جنگ کے ساتھ حسنِ سلوک بھی مشاہد ہ کرتے ہوئے چلئے :

 جنگ بدر کے بہتر ( ۷۲) قیدیوں میں آنحضرت ا نے ستر ( ۷۰) قیدیوں کو جرمانہ لے کر آزاد فرمادیا تھا، ان قیدیوں کو دورانِ اسارت مہمانوں کی طرح رکھا گیا، اہل مدینہ نے ان کے ساتھ نہایت ہی اچھا برتاؤ کیا، اپنے بچوں سے بڑھ کر ان کی خاطر مدارت کی … ایک دفعہ آنحضرت ا کو بدر کے قیدیوں کی بندس کے تنگ ہونے کی وجہ سے کراہنے کی آوازیں سنائی دی، آنحضرت اکو ان کی اس تکلیف کی وجہ سے ساری رات نیند نہ آئی، جب آپ اکے حکم سے تمام قیدیوں کی بندش ڈھیلی کی گئی تب آپ کو راحت ہوئی، بدر کے تما م قیدیوں میں سے صرف دو شخص ( عقبہ بن معیط اور نضر بن حارث ) ان کے ساتھ ان کے بھیانک جرائم کی وجہ سے قتل کر دیئے گئے۔ جنگ بدر کے بعد غزوہ بنی مصطلق میں بھی (۱۰۰) سے زیادہ مرد وزن قید ہوئے، آپ نے ان سب کو بلاکسی شرط اور جرمانہ کے آزاد کردیا، آپ ا نے ان میں سے ایک عورت جویریہ کو ام المؤمنین کا شرف عطا ہوا۔ جنگ حنین کے موقع سے بھی چھ ہزار مردوزن قیدیوں کو بلا کسی شرط ومعاوضہ کے آزاد فرمادیا ؛ بلکہ بعض اسیروں کی آزادی کا معاوضہ آپ انے اسیر کنندگان کو خود ادا کیا، پھر اکثر اسیروں کو خلعت اور انعام سے نواز کر رخصت کیا۔ ان جملہ نظائر سے اسلام کے حملہ آور دشمنوں اور قابویافتہ قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک اور رحم وکرم کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

آنحضرت اکی پاک تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا کہ خلفائے راشدین کے عہد میں جب کہ عراق، مصر، شام، ایران اور خراسان جیسے بڑے اور متمدن علاقے فتح ہوئے ؛ لیکن کسی بھی جگہ حملہ آور یا جنگ آزما رعایا میں سے کسی کو لونڈی، غلام بنانے کا ذکر نہیں ملتا، بلکہ مغلوب دشمن سے تاوانِ جنگ لینے کا ذکر بھی درج نہیں ہے (رحمۃ للعالمین : ۱؍۲۱۲)

مذکور ہ بالا تحریر کی روشنی میں یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کا قانونِ جنگ امن وعافیت کا ضامن ہے، سسکتی، بلکتی اور تڑپتی انسانیت کو اگر کوئی جائے پناہ اور موقع نجات مل سکتا ہے تو اسلامی تعلیمات کے زیر اثر، ورنہ یہ خوف او راندیشوں کے سائے انسانیت کا یوں ہی پیچھا کرتے رہیں گے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close