اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے!

تحریر: مولانا سید ابوالحسن علیؒ ندوی۔ ترتیب:عبدالعزیز

  تاتاری قوم کا قصہ ہمارے لئے عبرت اور نصیحت ہے۔ ایک ایسی قوم جو مسلمانوں کی جانی دشمن تھی اور ان کے دین و ایمان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتی تھی وہ کس طرح اسلام کی پیروکار ہوگئی؟ علامہ اقبالؒ نے اس واقعہ سے متاثر ہوکر کہا تھا   ؎

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

میری مراد تاتاریوں کے اس حملہ سے ہے جو 616ھ میں اس وقت کی سب سے بڑی شہنشاہی (Empire) علاء الدین خوازم کی شاہ کی سلطنت پر ہوا، یہ ساتویں صدی ہجری کا آغاز تھااور تیرہویں صدی مسیحی چل رہی تھی تاتاری مورو ملخ کی طرح اٹھے اور عالم اسلام پر چھا گئے ، ترکستان اور ایران کو زیر و زبر اور پورے پورے شہروں کو انھوں نے تاراج و بے چراغ بنا دیا، انسانی سروں اور لاشوں کے مینارے بنائے گئے، جن پر چڑھ چڑھ کر انھوں نے صدا لگائی، پورے پورے شہر قبرستانوں میں تبدیل ہوگئے، اس واقعہ کی ہولناکی کا اندازہ آپ سے کیجئے کہ ایڈورڈگین نے اپنی کتاب ’’سقوط و زوال روما‘‘ (Decline and Fall of the Roman Empire)  میں لکھا ہے کہ ’’سویڈن کے باشندوں نے روس کے ذریعہ تاتاری طوفان کی خبر سنی، ان پر اتنی دہشت طاری ہوئی کہ وہ ان کے خوف سے اپنے معمول کے مطابق انگلستانی سواحل پر شکار کھیلنے کلئے نہیں نکلے‘‘(5)۔

خیال کیجئے کہ سوڈان کہاں واقع ہے؟ انگلستان کا ساحل اس علاقے سے جس پر تاتاریوں کی تاخت ہوئی تھی، جغرافی طور پر کتنی دور تھا، سویڈن کے ماہی گیر جن کا پیشہ ہی ماہی گیری تھا، کچھ عرصہ انگلستان کے ساحل پر شکار کھیلنے خوف و دہشت کے مارے نہیں آئے، کیمبرج کی ’’تاریخ عہد وسطیٰ‘‘ کے لکھنے والے کو اس واقعہ کی ہولناکی کی تصویر کھینچنے کیلئے اس سے بہتر الفاظ نہیں ملے کہ ’’آسمان نے زمین پر گر کر سب چیزوں کو مٹا دیا‘‘ (6)۔

 یہ دونوں ان مغربی مصنّفین کے بیانات ہیں، جو جذبات اور گرد و پیش کے حالات سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے، اور جن پر براہ راست تاتاری حملہ کی زد نہیں پڑی تھی، مسلمانوں نے اس واقعہ کو کس نظر سے دیکھا، اس کا اندازہ اس مشہور مقولہ اور کہاوت سے کیا جاسکتا ہے، جو اس زمانہ میں مسلمانوں کی زبان زد تھی۔

’’اذا قیل لک ان التتر انھزموا فلا تصدق‘‘ (ہر بات مان لین لیکن جب یہ کہا جائے کہ معرکہ میں تاتاریوں نے شکست کھائی تو اس کو باور نہ کرنا) وہ مسلمان قوم جو یاس کے مفہوم سے نا آشنا تھی، جس سے کہا گیا تھا:

لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘(الزمر:53) ۔ وہ مسلمان جنھوں نے قرآن مجید میں پڑھا تھا:

  انہ لا یایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون ’’اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی لوگ ہوتے ہیں‘‘ (سورہ یوسف:87)۔

  اس وقت مسلمانوں پر ایسی مایوسی طاری تھی کہ ان کیلئے یہ کہاوت بن گئی تھی کہ ہر بات قابل تسلیم ہے، قرین قیاس ہے، کوئی بات دنیا میں ناممکن نہیں، ناممکن بات صرف یہ ہے کہ تاتاریوں نے کہیں شکست کھائی۔

  علاء الدین خوارزم شاہ کی ایک غلطی سے تاتاری اپنے صدیوں کے ’’حصار‘‘ سے نکلے تھے، جس کی تفصیل آپ تاریخ میں پڑھ سکتے ہیں، نشانہ مسلمان تھے، اور انھوں نے وہاں سے نکل کر پورے ترکستان اور ایران و عراق کا تختہ الٹ دیاتھا اور ان ملکوں کی حکومت اور تہذیب و تمدن کا چراغ گل کر دیا تھا، یہی وقت ہے جب ذہین انسانوںکے قافلے تیزی کے ساتھ ہندستان کی طرف آئے اور ان کو یہاں پناہ ملی، یہ تیرہویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے، آرنلڈ نے اپنی کتاب (Preaching of Islam) میں مسلمانوں کی مایوسی اور شکستہ دلی کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی ہے، اس وقت ہر حساس آدمی جس کو خدا نے دیکھنے کیلئے دو آنکھیں دی تھیں، اور مقدمات و اسباب سے نتائج نکالنے کی صلاحیت عطا کی تھی، پیشین گوئی کر سکتا تھا کہ اسلام کے دن پورے ہوچکے ہیں، مسلمانوں کا ستارۂ اقبال اب ہمیشہ کیلئے غروب ہورہا ہے، اس عالم آشوب واقعہ سے مسلمانوں کو اصل نقصان پہنچا تھا، کیونکہ وہی اصل نشانہ تھے، اس لئے سب سے زیادہ مسلمانوں کیلئے کام کرنے کا میدان تنگ تھا اور سب سے کم میدان کیلئے تھی، آرنلڈ لکھتا ہے:

  ’’(اسلام کے علاوہ) وہ مذہب اور اس بات کی کوشش میں تھے کہ مغلوں اور تاتاریوں کو اپنا حلقہ بگوش بنائیں، وہ حالت بھی عجیب و غریب اور دنیا کا بے مثل واقعہ ہوگی ، جس وقت بودھ مذہب اور عیسائی مذہب اور اسلام اس جدوجہد میں ہوں گے کہ ان وحشی اور ظالم مغلوں کو جنھوں نے تین بڑے مذہبوں کے معتقدوں کو پامال کیا تھا، اپنا مطیع بنائیں‘‘۔

  اسلام کیلئے ایسے وقت میں بودھ مذہب اور عیسائی مذہب کا مقابلہ کرنا اور مغلوں کو ان دونوںمذہبوں سے بچا کر اپنا پیرو بنانا ایسا کام تھا، جس میں بظاہر کامیابی ناممکن معلوم ہوتی تھی‘‘ (7)۔

  سارے قرائن اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ عیسائیت کو کامیابی ہوگی، اس لئے بھی کہ اس جنگ میں عیسائیت اصل فریق نہیں بنی تھی،اور دوسری مشکل یہ تھی کہ چنگیز خاں کے شہزادوں کے گھر میں عیسائی عورتیں تھیں، اور ان کے پادری ان کے درباروں میں تھے، اس لئے اگر قبول مذہب کا سوال ہوتا تو حتمی طور پر یہ بات کہی جاسکتی تھی کہ وہ تنہا عیسائیت کو قبول کریں گے لیکن آپ کو معلوم ہے کیا ہوا؟ آرنلڈ کو یہ الفاظ لکھنے پڑے کہ ’’بالآخر اپنی گزشتہ شان و شوکت کے خاکستر سے اسلام اٹھا اور واعظین اسلام نے ان ہی وحشی مغلوں کو جنھوں نے مسلمانوں پر کوئی ظلم باقی نہ رکھا تھا مسلمان کرلیا‘‘ (8)۔

 آرنلڈ مزید لکھتا ہے کہ ’’باوجود ان مشکلات کے، مغلوں اور وحشی قوموں نے جو بعد میں آئیں، انھوں مسلمانوں کا مذہب قبول کیا، جن کو انھوں نے اپنے پیروں سے روندا تھا‘‘ (9)۔

وہ صدی جس کا آغاز نحوست سے ہوا تھا (اگر نحوست کا کوئی لفظ اسلام کی ڈکشنری میں ہے) وہ صدی جس کا آغاز عالمگیر تاریکی اور عالمگیر مایوسی سے ہوا تھا، وہ صدی اسلام کی ’’فتح مبین‘‘ کی صدی بن گئی اور دنیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں بلکہ اس کی آنکھیں پھٹ گئیں کہ وہ تاتاری جن کی تلواروں سے ابھی مسلمانوں کے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے وہ اسلام کے حلقہ بگوش بن گئے، ہوورتھ لکھتا ہے کہ ’’مگلوں نے مسلمانوں پر ایسے ظلم کئے کہ چینی تماشے والے جو پردے پر عکس کی تصویریں دکھاتے ہیں تو ایک تصویر میں سفید داڑھی کا ایک بڈھا آدمی آتا ہے، جس کی گرد گھوڑے کی دم سے بندھی ہوتی ہے اور گھوڑا اس کو گھسیٹے گھسیٹے پھرتا ہے، یہ تصویر گویا ظاہر کرتی ہے کہ مغلوں کے سواروں نے مسلمانوں کو کیسے آزار پہنچائے‘‘ (10)۔

   لیکن دنیا نے یہ دیکھا کہ اس اسلام نے فاتح تاتاریوں کو فتح کرلیا۔

  بات یہ تھی کہ مسلمانوں نے سب کچھ کھو دیا تھا، ایمان و عقیدہ نہیں کھویا تھا، روحانی طاقت نہیں کھوئی تھی، شکست کس نے کھائی تھی؟ شکست کھائی تھی، (مجھے بہت تکلیف کے ساتھ کہنا پڑتا ہے) نالائق مسلمان بادشاہوں نے، ایک کمزور و مریض معاشرہ نے، اسلام اپنی جگہ پر تھا، اسلام کے شیشہ پر کوئی بال بھی نہیں پڑا تھا، مسلمانوں نے اس وقت یہ سمجھ لیا تھا کہ تاتاریوں کو تلوار سے زیر کرنا ممکن نہیں، اسلام کی تلوار کند ہوچکی ہے، تقریباً ٹوٹ چکی ہے یا نیام میں جاچکی ہے، تاتاری یہ ثابت کرچکے ہیں کہ ان کے پاس مسلمان سے بہتر فوجی طاقت ہے، وہ دولت و حکومت اور تمدن و تہذیب کی خرابیوں اور بیماریوں سے دور ہیں، ان کے اندر مشقتوں اور دشواریوں کو برداشت کرنے کی وہ طاقت ہے جو کبھی تازہ دم عربوں اور فاتحین اسلام میں تھی، وہ صدیوں کے بعد صحرا سے نکلے ہیں، ان کی ساری توانائی (Energy) ان کے اندر محفوظ ہے، ان کا مقابلہ تلوار سے نہیں کیا جاسکتا۔

  آپ جانتے ہیں کہ پھر کس نے تاتاریوں کو فتح کیا؟ کس نے تاتاریوں کو اسلام کا کلمہ پڑھایا؟

 اس نازک گھڑی اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں، اہل دل سامنے آئے، جن کے اندر روحانی طاقت تھی اور تقریباً نصف صدی کے اندر اندر انھوں نے تاتاریوں کو من حیث القوم مسلمان بنالیا، قبول اسلام کے واقعات پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں، افراد کے قبول اسلام کے، خاندانوں کے قبول اسلام، شہروں کے قبول اسلام کے، لیکن قوموں کے من حیث القوم اسلام کی مثالیںہمارے علم میں تین یا چار سے زیادہ نہیں، عربوں نے من حیث القوم اسلام قبول کیا، افغانوں نے من حیث القوم اسلام قبول کیا (افسوس ہے کہ وہ بھی آج ابتلاء و آزمائش میں ہیں)، تاتاریوں اور ترکوں نے انفرادی طور پر نہیں، من حیث القوم سو فیصدی اسلام قبول کیا، تاریخ کا یہ معمہ ہے اور میں بھی اس آزمائش سے گزر چکا ہوں، یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ یہ تاریخ ساز اور ساری دنیا کے مستقبل پر اثر ڈالنے والا واقعہ (تاتاریوں کے قبول اسلام کا واقعہ) پیش آئے اور ہمیں ان لوگوں کے نام بھی نہ ملیں جن کے سر تاتاریوں کے قبول اسلام کا سہرا ہے، یہ کیا بات ہے؟

   اس موقع پر مجھے بے اختیار وہ واقعہ یاد آیا کہ جب مدائن کی فتح میں ایک مسلمان سپاہی کے ہاتھ کسریٰ کا تاج لگا اور وہ اس کو اپنے دامن میں چھپا کر امیر افواج اسلامی سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس لایا، جیسے کوئی چوری کا مال چھپا کر لاتا ہے’’ایہالا میر! یہ کوئی بہت قیمتی چیز معلوم ہوتی ہے، یہ میں آپ کے حوالہ کر رہا ہوں، تاکہ بیت المال میں داخل ہوجائے‘‘ پہلے تو مسلمان امیر نے جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، سپاہی کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور حیرت کے دریا میں ڈوب گئے کہ اللہ اکبر! اتنا قیمتی جواہرات سے مرصع تاج زریں اور اس غریب سپاہی اور عرب کے بدو کی نیت خراب نہیں ہوئی، اس کو کسی وقت یہ خیال نہیں ہوا کہ بجائے یہاں لانے کے اس کو اپنے خیمہ میں لے جاکر رکھ دے، کہاکہ آپ کا نام؟ اس نے دروازہ کی طرف منھ کرکے اور پیٹھ پھیر کر کہا ’’جس کیلئے میںنے یہ کام کیا ہے، وہ میرا نام جانتا ہے‘‘ اور یہ کہہ کر روانہ ہوگیا۔

   یہ ایک فرد کا واقعہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تاتاریوں کو کلمہ پڑھانے والوں کا یہی طرز عمل تھا، انھوں نے اپنے نام کو چھپایا، مجھے بڑی تحقیق و جستجو کے بعد جب میں اس موضوع پر لکھ رہا تھا دو آدمیوں کے نام ملے ہیں، ایک درویش صفت وزیر امیر توزوں کا نام (11) جو عراق پر حکومت کرنے والی تاتاری نسل کے بادشاہ کے وزیر اعظم تھے، وہ صوفی منش اور عابد و زاہد وزیر تھے اور ان کا عمل اس پر تھا کہ  ع

دروش صفت باش و کلاہ تتری دار

  تاتاری بادشاہ کے کان میں وہ اچھی بات ڈالتے رہے، حتیٰ کہ بغداد والوں نے اچانک ایک دن یہ دیکھا کہ جمعہ کا مبارک دن ہے اور تاتاری حکمراں سلطان غازان اور اس کے وزراء ہاتھ میں تسبیحیں لئے ہوئے مسجد کو جارہے ہیں،(12)۔



⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

نماز کا مقصد اور فوائد (دوسری قسط)

 انتخابِ امیر: انسان اجتماعی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اجتماعی زندگی کے ہر مرکز کیلئے … خاندان ہو یا قبیلہ، محلہ ہو یا بستی، شہر ہو یا ملک … ایک سربراہ کی ضرورت ہوگی۔ اب ضرورت ہے کہ ملک کے اندر جگہ جگہ ایسے مراکز قائم ہوں جہاں سربراہوں کو قیادت کی اور عوام کو سمع و طاعت کی تربیت دی جائے اور آپس میں ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت کی عملی تعلیم دی جائے تاکہ ایک خاندان سے لے کر ملک تک کے باشندوں کو امن و سکون کی زندگی بسر کرنا نصیب ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے