عالم اسلام

اندھیروں سے روشنی کی طرف جانے کا راستہ

عالم نقوی

’لاالہ‘ سے  شروع ہوکر ’اِلّا اللہ ‘کی طرف جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ فیصلہ کیجیے کہ جھوٹ نہیں بولیں گےاور ہر قیمت پر اپنی استطاعت بھر’ قوت‘ حاصل کریں گے ۔ علم کی قوت، معاش کی قوت، بازوؤں کی قوت اور ہر طرح کی اضافی و خارجی دفاعی  قوت جو سکون و استحکام کے لیے ضروری ہے۔ ہم  آنکھیں بند کر کے خود غرضی اور اِسراف کے ملکی، قومی اور عالمی دھارے  میں بہنے کے بجائے شعوری طور پر  ایثار، قربانی، خدمت اور انفاق کے اسلامی دھارے میں شامل رہیں گے۔

پھر یہ طے کر لیجیے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ہم  اپنے  نافع علم پر  صد فیصد عمل کریں گے اور اللہ کی عطا کردہ اور اپنی کوششوں سے حاصل کردہ  اپنی قوتوں کا ناجائز استعمال ہر گز  نہیں کریں گے۔ نہ ہم  خود کبھی غیر مفید اور انسانیت کے لیے غیر نفع بخش علم حاصل کریں گےنہ اپنے بھائیوں، بہنوں، بچوں اور زیر دستوں کو حاصل کرنے دیں گے۔ ہم ہر حال میں اپنے قول، عہد اور وعدے کی پابندی کریں گے۔ یاد رکھیے کہ  جھوٹ کے انکار میں جھوٹے خداؤں کا انکار تو ہے ہی، زندگی کے تمام جھوٹے فلسفوںاور  دنیا کے تمام  جھوٹے نظاموں کا انکار بھی   شامل ہے۔

ابھی پندرہویں صدی ہجری کے ختم ہونے میں ساٹھ سال اور اکیسویں صدی عیسوی کے خاتمے میں قریب اِکیاسی بیاسی سال باقی ہیں۔ یہ آنے والے ساٹھ ستر یا اسی سال ہمارے تصور سے کہیں زیادہ ہولناک، خطرناک، اور عبرت ناک ہوں گے ۔ کیونکہ یہ قُرب ِقیامت کے آثار کی تکمیل کے  سال ہیں۔ یہ ابلیس کے طاقتورترین ظاہری نمائندے ’دَجّاؔل ‘کے چکر وِیُوہ کی وُسعت، یاجوج و ماجوج  کی ہیبت اور اس کے بعد عیسٰیؑ ابن  مریم ؑکی آمد ثانی اور مہدی ؑموعود  علیہم السلام کے ظہور کے قریب ترین سال ہیں۔

تو آئیے عہد کریں کہ ہم آنے والے ماہ و سال کو’’ سچائی، علم اور قوت ‘‘کے ماہ و سال میں تبدیل کر دینے  کی اُسی طرح اپنی استطاعت بھر امکانی کوشش کریں گے  جس طرح ہمیں اللہ کی کتاب اور اللہ کے سچے اور آخری ’صادق و امین نبی ﷺ ‘ نے کرنے کا حکم دیا ہے!

ہم اسلام کا اقرار صرف زبان  ہی سے نہیں کریں گے  بلکہ ’ استقامت کے ساتھ ایمان ‘کو  اپنے عمل و  کردار  میں ڈھال کر دکھائیں گے !اور قریب ڈیڑھ اَرَب نفوس پر مشتمل اُمّتِ مسلمہءِ عالمیاں کو ایک ’جسدِ واحد ‘ سمجھیں گے !

آئیے ہم سب عہد کریں ہم آدھے اَدھورے نہیں  پورے  کے پورے اسلام میں داخل ہونے کی کوشش میں اپنی استطاعت بھر کوئی کمی اور کوئی کوتاہی نہیں  کریں گے۔ ہم علم کی غیر حقیقی اور باطل تقسیم کو ختم  کیے بغیر چین سے نہ بیٹھیں گے ۔

جن علوم کو آج دنیوی اور سائنسی علوم کہا جاتا ہے اگر اُخروی باز پرس  اور جواب دہی کو نگاہ میں رکھتے ہوئے  اُن کا حصول اور اُن کا استعمال ’فساد فی لارض ‘کے خاتمے اور’  مستضعفین فی ا لا رض ‘کی صلاح و فلاح  کے لیے  اوراللہ کی مخلوق کی بلا استثنیٰ  مجموعی  خدمت کے لیے کیا جائے تو کون کہہ سکتا ہے کہ اُن کا درجہ اُن علوم سے کمتر ہے جنہیں خالص دینی علوم سمجھا جاتا ہے ؟

اور اگر قرآن و حدیث و فقہ  وغیرہ علوم دینیہ کا استعمال آخرت کی پکڑ سے بے خوف ہوکر محض دنیا کمانے اور اہل دنیا کو بے وقوف بنانے کے لیے ہوتا ہے تو کون کہہ سکتا ہے ایسا کرنے والے  بے عمل علمائے سوء آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے نہیں ہوں گے ؟

تو آئیے عہد کریں کہ ملک اور  دنیا  کے حالات  خواہ کتنے ہی ناسازگار اور ناموافق کیوں نہ ہوں، ہم حقِّ بندگی اور فرض ِمنصبی اَدا کرتے ہوئے ایمان استقامت اور اتحاد کے ساتھ خود کو  ’خیرِ اُمّت ‘ ثابت کرنے کی حتی المقدور  بھر پور   کوشش سے کبھی منہ نہ موڑیں گے !

کیا ہمارے صادق و امین نبی ﷺ نے ہمیں یہ مژدہ نہیں سنایا   ہے کہ قیامت  اُس وقت  تک برپا نہ ہوگی جب تک کہ یہ زمین عدل و قسط سے اُسی طرح نہ بھر جائے جس طرح وہ اس وقت ظلم و جَور سے بھری ہوئی ہوگی !؟تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں کہ  ہم ’حَبلُ مِّنَ اللہ  اور عُروَۃُ ا لوُثقی ٰ‘ ٰ کو مضبوطی سے تھام کرشعوری ایمان، استقامت علی الحق اور مکمل باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ  ’مغضوبین اور ضالّین‘ دونوں کے، جہنم کو جانے والے راستوں سے، خود کو بچاتے ہوئے ’صراطِ مسُتقیم ‘پر چلنے کی کو شش کرتےر ہیں جس کی ہدایت ہمیں کی جا چکی ہے اور جو ابلیس ِلعین کی تلبیس حق و باطل کے باوجود اظہر من الشمس ہے !

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close