عالم اسلام

اور گیرٹ ویلڈرز کے ہاتھ ٹوٹ گئے

ذوالقرنین احمد

تاریخ گواہ ہے جس نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار اصحاب کے ہاتھوں واصل جہنم ہوئیے اور ان لوگوں پر اللہ کی لانت ہوئی جیسے ابو لہب وغیرہ ، دنیا جسے تا قیامت نہیں بھول سکتی، مسلمانوں کے دلوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا جذبہ اس طرح سے ہے جیسے جسم میں روح ہوتی ہے، اور کیوں نا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت تمام جہانوں سے افضل و برتر ہیں۔دنیاکو وجود بخشنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں نبی بناکر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور آدم و حوا علیہ السّلام کو جنت سے نکال کر دنیا میں بھیج دینا یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت کے اعلان کے بعد قریش مکہ میں کھلبلی مچ گئی اور وہ آپ کے دشمن ہو گئے، لیکن آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے پیغام کو ان لوگوں تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور ایک مختصر عرصے میں عرب کے اندر سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اجمعین کا لشکر تیار ہوگیا۔نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار نے پوری دنیائے انسانیت کو متاثر کر کے رکھ دیا۔ کہ تاقیامت تک اس کائنات میں اب کوئی نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا ثانی پیدا نہیں ہو سکتا۔ اتنے عظیم الشان نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر کچھ نا ہنجار گستاخی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنہیں ابھی پتہ نہیں کہ وہ کس ذات اقدس پر انگلیاں اٹھا رہے ہے، وہ ذات کے چاند جسکی انگلی کے اشارے سے دو تکڑے ہو جاتا ہو، وہ ذات کے کائنات کا ذرہ ذرہ جسکے قدموں تلے آنے کیلئے تیار بیٹھا ہو، وہ ذات کے جس کی اڑان ساتواں آسمانوں سے بالاتر ہوکر صدرتالمنتہی کے پار ہو، وہ ذات کے جس کے صدقے میں کائنات کو وجود بخشا گیا، وہ ذات کے جس کے ایک اشارے پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جان نثار کرنے کے لئے ہر وقت تیار بیٹھتے تھے، سمندر سیاہی دیتے ختم ہو جائے، درخت قلم دیتے ہوئے ختم ہوجائے، اور تمام جاندار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف لکھنا چاہے تو نا لکھ سکے۔

اس دور کے کچھ ملعون اس ذات اقدس پر کیچڑ اچھالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، جن میں ہالینڈ کی فریڑم پارٹی کا رہنما گیرٹ ویلڈرز جس نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی نعوذباللہ نمائش کا اعلان کیا تھا، اس ملعون کو پاکستان کے غیور مسلمانوں اور نئے دور اقتدار میں آئے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دو ٹوک جواب دیا گیا اور انکے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ ہندوستان و دیگر مقامات پر بھی سوشل میڈیا پر احتجاج درج کیا گیا، اور شدید غم غصے کے ساتھ اس مقابلے کو روکنے کی کوشش کی گئی، اللہ نے ان چند افراد کی آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا عشق و محبت و  اخلاص کے بدلے اس ملعون کے حوصلوں کو پست کردیا، اور اسے اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔کیوں کہ ہم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک ہمیں اپنی جان مال اپنے خاندان اور تمام دنیا سے زیادہ نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا نہ ہو جائے۔

یہی ایک جزبہ ہے ساری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں موجود ہیں کہ زرہ برابر بھی نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ابھی صرف گیرٹ ویلڈرز ک ہاتھ لرزے ہیں بہت جلد انشاء اللہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا ادنا غلام اس ملعون کو اور تمام اس کام میں شریک افراد کا کام تمام کر دیگے، یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہیں کہ ہم ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کیلئے اپنی جان کو بلا خوف و خطر قربان کرنے کا جزبہ اپنے اندر رکھتے ہیں،اور یہیں جزبات ہم اپنے بچوں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے، کہ پھر کوئی گستاخ سر اٹھانے کی کوشش کریں تو ہمارے بچے انکے سر تن سے جدا کردے، انشاء اللہ۔

مزید دکھائیں

ذوالقرنین احمد

Freelance journalist Article writer Social Activitist مہاراشٹر۔انڈیا

متعلقہ

Close