عالم اسلام

آہ وہ اُمت نہ رہی

ابراہیم جمال بٹ

اسلامی اخوت کی بنیاد پراگر مسلمان ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھ جائیں تو اس ملت کا وہ سرمایہ جو صدیوں پہلے اس سے کھو چکا ہے کا حصول آسان سے آسان تر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ کیوں کہ تاریخ رقمطراز ہے کہ مکہ مکرمہ میں جو لوگ اسلام قبول کر رہے تھے ان میں عقیدہ توحید کے بعد سب سے پہلے جس چیز کی اہمیت کا اندازہ دلایا گیا وہ یہی اخوت کا رشتہ تھا۔ اسی ایک رشتے کی بنیاد پر جب مختلف قبیلے ایک جگہ جمع ہوئے تو انہوں نے تعدادی اعتبار سے کم ہونے کے باوجود وہ کارنامے انجام دئے جو آج تک نہیں دئے جا چکے ہیں اور نہ دئے جانے کے امکانات ہیں ۔

مکہ مکرمہ میں ایک دوسرے کے ساتھ منظم انداز میں کام کرنے کے بعد جب وہاں کی سرزمین مسلمانوں کے لیے تنگ کی گئی، انہیں ایسی اذیتیں اور تکالیف دی گئیں کہ جان بھی خطرے میں پڑ گئے تو گنے چنے ان متحدہ مسلمانوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ایک ایسا حکم ملا جس نے انہیں خدا کی طاقت کا اصل تصور دلایا۔ جس نے انہیں خوف ، ظلم، استحصال سے نکال کر ایک ایسی فضا کا ماحول عطا کیا جہاں دشمن بھی تھے لیکن دشمنوں سے ڈر نہیں تھا، جہاں بظاہر انہیں طاقت تو نہیں تھی لیکن جذبوں اور حوصلوں کا ایک ماحول قائم ہو گیا تھاکہ کم و قلیل ہونے کے باوجود کثیر تعداد کا مقابلہ کرنے کی ہمت اپنے اندر پا گئے۔

یہ سب کچھ اس ایک اہم بنیادی نقطہ کو پانے کے بعد حاصل ہوا جسے تاریخ اسلامی ’’انما المومنون اخوۃ‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ مسلمان تعداد میں گنے چنے تھے لیکن سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند، مسلمان مہاجر غریبی اور مسکینی کی حالت میں تھے لیکن جذبہ اس قدر مضبوط تھا کہ کوئی نہ غریب لگ رہا تھا اور نہ ہی مسکین، بلکہ سب مسلمان جن میں مہاجر بھی تھے اور انصار بھی ایک جیسے لگ رہے تھے۔ انصار کا مال وجدائیداد انصار نے اپنی طرف منصوب کرنے کے بجائے مہاجر مومنین ومسلمین کی طرف موڑ دیا۔ گھر پیش کئے، مال وزر پیش کیا، باغات پیش کئے، وہ سب کچھ پیش کیا جس کے لیے ہجرت و اسلام سے قبل لوگ ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے۔ یہ رشتہ ایک ایسا رشتہ قائم ہو گیا کہ دنیائے عالم دیکھتا ہی رہا، اور آج بھی دیکھتا ہی جا رہا ہے۔ دنیا میں بسنے والے لوگ، یہاں کے مذاہب وادیان، یہ سن کر آج بھی ششدر وپریشان ہیں ، انہیں اندازہ نہیں ہو رہا ہے، انہیں یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ’’اخوت‘‘ کا رشتہ اُن لوگوں میں قائم ہو گیا جو قبیلوں کی بنیاد پر بٹے ہوئے تھے، جو معمولی سی باتوں پر ایک دوسرے کے ساتھ آدھی آدھی صدیوں تک جنگ کر رہے تھے۔

ہجرت مدینہ کے بعد یہی وہ گنے چنے جانباز ہیں جنہوں نے پوری دنیا پر اپنی چھاپ قائم کی۔ یہ انہی جانبازوں کی محنت کا پھل ہے کہ آج ہم اور آپ سب مسلمان ہونے پر فخر کر رہے ہیں ۔ یہ انہی جانبازوں کی محنت شاقہ اور مضبوط رشہ کی بنیاد پر قائم کی ہوئی وہ مالا ہے جسے توڑنے کی سازشیں پوری دنیا میں ہو رہی ہیں ۔ تین سو تیرہ مسلمانوں کا قافلہ تھا اور ہزاروں کی تعداد میں دشمن تھے لیکن جب مقابلہ ہوا تو مسلمانوں کے رشتہ کی مضبوطی کا اثر دیکھئے کہ ہزاروں سینکڑوں بن گئے اور سینکڑوں ہزاروں کی سی شکل اختیار کر گئے۔ اس رشتۂ اخوت نے پوری دنیا کو اپنے رنگ میں رنگ لیا، یہ ایسا رشتہ تھا کہ نہ کوئی سفید رہا اور نہ ہی سیاح ، نہ کوئی غریب کہلایا اور نہ ہی امیربلکہ سب ایک ہی مالا میں پروئے گئے۔ اک طرف بلالؓ تھا تو دوسری طرف ابوبکرؓ ،عمرؓ، عثمان ؓوعلیؓ جو اسی بلالؓ کو سیدی ’’میرے سردار‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ خدا کی اس عظیم نعمت کی بدولت ہی وہ کارنامے انجام دئے گئے جو رہتی دنیا تک لاثانی کارنامے کہلائے جائیں گے۔

بدرو احد کی ہو،خندق وتبوک کی ہو یا کسی اور جنگ کی منظر کشی ہو سب میں اسی اخوت کے رشتے میں مضبوطی پائی گئی۔ یہ نتیجہ تھا قرآن پاک کے اس حکم کا کہ ’’انما المومنون اخوۃ‘‘ ، یہی محبت کی بنیاد پر قائم کیا ہوا وہ رشتہ تھا جسے نبی پاکﷺ نے یہ کہہ کر قائم کیا تھا کہ’’المسلم اخوہ المسلم‘‘ اسی رشتے کا دوسرا نام ’’امت‘‘ پڑ گیا۔ اسی رشتہ کی مضبوطی کے لیے امت کو ’’خیر امت‘‘ کا لقب دیا گیا۔ اسی امت کو کہا گیا کہ جب تک تو اس رشتے کو مضبوط رکھے گا، نہ ایک دوسرے پر ظلم کرے گا اور نہ ہی ایک دوسرے کو بے یارومددگار چھوڑے گا، تب تک تو امت بن کر رہ جائے گا لیکن جب یہ سب کچھ تم میں مفقود ہو جائیں گی تو سب کچھ حاصل ہو گا لیکن اسلامی اخوت کی بنیاد پر قائم کی ہوئی امت نہ رہے گی۔

آج اسی رشتے کی مضبوطی میں رخنے ڈالے جا رہے ہیں ، ہر طرف ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی سازشیں ہو رہی ہیں ، اپنے کو اعلیٰ اور دوسرے کو نیچا رکھنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ آج یہ امت اس قدر بٹی ہوئی ہے کہ عرب کوعجم سے سروکار نہیں ،عجم کو عرب سے رشتہ نہیں ، سیاہ اور سفید کے نام پر دراڑیں ڈالی جا چکی ہیں ، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور اہل حدیث تو سب ہیں لیکن مسلمان کہلانے والے نظر نہیں آرہے ہیں ۔ ہر ایک فخراً کہہ رہا ہے کہ میں فلاں جماعت، مسلک اور امامت سے وابستہ ہوں لیکن میں خالص مسلمان ہوں یہ کوئی نہیں کہہ رہا ہے۔ یہ اخوت کا رشتہ اس قدر کمزور کیا جاچکا ہے کہ ایک ہی ملک اور ایک ہی علاقے میں رہنے والے یہ بٹے ہوئے مسلمان جب کسی ظالم و جابر کی بربریت کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ دور تماشائی بن کر چپ سادھ لیتے ہیں ۔

آج عالمی پولیس مین کا کردار ادا کرنے والے مسلم دشمن امریکہ کے صدر ٹرمپ سعودیہ تشریف لے جاتے ہیں لیکن مقصد مسلم ممالک کے درمیان تفرقہ میں مزید اضافہ کرنے کے لیے، آج مصر میں مسلمان ملت کو نیست ونابود کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں اور طبقاتی اور فرقہ پرستی کی وجہ سے جنرل سیسی جو مصر میں قتل وغارت گری کرنے کا سبب بنے کو وہاں کے ہی ایک مسلم طبقہ کی حمایت نصیب ہوتی ہے، کیوں ؟ اس لیے کہ ان کا طبقہ اور ان کا فرقہ ان سے الگ ہے۔ انہیں دشمن ہی دوست لگتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ دشمن کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت تو کرتے ہیں لیکن دوسرے مسلمانوں کی نہیں سنتے۔ قطر اور دیگردوسرے مسلم وعرب ممالک کا تنازعہ دیکھئے کہ کس طرح دشمن چال چل رہے ہیں اور کس طرح آسانی سے یہ بٹی ہوئی مسلم اُمہ کا رشتہ کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔

قبلہ اول فلسطین کی بات کی جانب دیکھئے، یہودیوں نے وہاں کیسے کیسے ظلم روا رکھے لیکن اردگرد سبھی مسلم ممالک دور تماشائی بن کر جی رہے ہیں ۔یہ سب کچھ ایک منظم کوشش کا نتیجہ ہے، ایک ایسی سوچ کا پھل ہے جو دشمن کو آج آسانی سے گھر بیٹھے حاصل ہو رہا۔ دشمن دشمن بن کر نہیں بلکہ دوستی کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آرہا ہے اور بجائے اس کے کہ اس کی بظاہر دوستی کو جانچ لیا جاتا، اس پر غور کیا جاتا، الٹا ہی اسے قبول کر کے آپسی انتشار میں اضافہ کروایا جا رہا ہے۔

ان حالات میں اگر مسلمان اپنے رشتے کی مضبوطی کی فکر نہ کریں تو وہ دن دور نہیں جب اس نسلِ مسلمان کو نیست ونابود کر کے اس کی جگہ دوسری نسل کو کھڑا نہ کیا جائے گا۔ کیوں کہ یہ خدائے ذوالجلال کی سنت ہے کہ تبدیلی اس سے پہلے نہیں آتی جب تک نہ وہ قوم خود کھڑی ہو جائے۔ فرقوں ، مسلکوں اور تنظیموں میں بٹی اس قوم میں روح باقی نہیں ہے اور اگر اس بٹے ہوئے جسمِ ناتواں میں روح کو پھر سے ڈالنا ہے تو ایک نعرہ لگا کر، ایک جھنڈا اٹھا کر، ایک آواز بن کر اس رشتہ کو پھر سے قائم کرنا ہو گا جسے ’’اخوت کا رشتہ‘‘ یا ’’ملت‘‘ کا نام دیا جاچکا ہے۔

تاریخ وہ منظر پھر پیش کرے گی جسے غیر دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں لیکن اس منظر کے لیے ہمیں خود اٹھنا ہو گا، ہمیں ملت بن کر رہنا ہو گا، ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا ہو گا، ہمیں اپنے کو کمتر اور دوسرے کو اہم تر سمجھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔ یاد رہے کہ صالح انقلاب کے لیے ایک طرف اگر صالح افراد کی ضرورت پڑتی ہے تو دوسری جانب ان صالح افراد کو تیار کرنے کے لیے ایک گروہ کی بھی اشد ضرورت پڑتی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب صالحیت کا دعویٰ کرنے والے حقیقی معنوں میں صالحیت کی طرف لوگوں کو گامزن کرنے کی کوشش کر رہے ہوں ۔ چنانچہ صالح انقلاب صالحیت کی متقاضی ہے اور اس صالحیت کے فروغ کے لیے صالح انقلاب لانا تب تک ممکن نہیں جب تک نہ اس کی بنیاد توحید کی صحیح تعلیمات پر ہوں ۔ دور صحابہؓ میں اخوت کا رشتہ جو صالحیت کی قیام کے لیے وجود میں آچکا تھا اس کی ایک بنیادتوحید پر قائم ہو چکی تھی۔ خدائے ذوالجلال پر صحیح ایمان ویقین ہو، تمام رسل عموماً اور آخری رسولﷺ پر خصوصاًمکمل ایمان اوراس کی اطاعت کی جا رہی ہو،اور آخرت کے دن پر یقین محکم ہو تووہ اخوت کا رشتہ جو آج مفقود نظر آرہا ہے کا قیام ممکن ہے، اور اس کے قیام میں ہی صالح انقلاب کا راز مضمر ہے۔

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close