شخصیاتعالم اسلام

ایک مسافر کاروانِ زندگی کا

انس بدام

وہ ایک معلم تھا، مفکر تھا، مؤرخ تھا، مصنف تھا، داعی تھا۔ وہ کاروان سلف کا ایک پس ماندہ راہی تھا جو وقت اور مسافت کے لحاظ سے اس کارواں سے پیچھے تھا۔ وہ جب اپنے علم و عمل کی ضیا پاشی کرتا تو کیا عالم و داعی، کیا مفکر و مؤرخ، کیا ادیب و نقاد، کیا صوفی و بزرگ سب اس کے علم و عمل سے خوشہ چینی کے لیے ہمہ تن منتظر رہتے۔

فکر و عمل کا، عقل و خرد کا استعارہ تھا، مفکر و مؤرخ، عالم و داعی، مصنف و مؤلف کے لاحقے اس پر ناز کرتے۔ وہ جب لکھتا تو ادب و انشاء اپنا حق ادا ہوتا ہوا محسوس کرتے، بر محل اشعار، موزوں الفاظ و تراکیب اس کے نوک قلم پہ آنے کے لیے بے قرار رہتے۔ وہ جب بولتا تو تقریر درد و غم سے معمور ہو کر الفاظ کا روپ دھارے آبشار کی طرح اس کی زبان درد سے رواں دواں ہوجاتی۔ سننے والے اپنے مسائل کا حل اس کے آبشار علم و آگہی میں ڈوب کر حل کرتے۔ وہ جب اسلام کے تحفظ و بقا پر گویا ہوتا تو معلوم ہوتا کہ خدا نے اپنے دین کی پاسبانی و حفاظت کے لیے ہی اسے منتخب کیا ہے۔ وہ جب ملی، سماجی اور قومی مسائل پر خامہ فرسائی کرتا تو معلوم ہوتا اپنی قوم و ملت کا سچا ہمدرد و غمخوار اس کے سوا بمشکل کوئی ہوگا۔ علامہ اقبال کا یہ شعر گویا اسی کے لیے تخلیق ہوا لگتا ہے؎

نگہ بلند، سخن دلنواز، جان پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

اس نے کئی امور میں اپنی انفرادیت و امتیاز کو منوایا تھا۔ اہل دل کی صحبت میں جاتا تو وہاں یہ محسوس کیا جاتا کہ کوئی بہت قریبی ہے جو اس قدر پسند کیا جارہا ہے۔ بلکہ ایک صاحب دل بزرگ نے اس سے اپنی کٹیا (خانکاہ)کا روشن ہونا اس طرح بتلایا تھا جس طرح شمس تبریزؒ کے آنے سے مولانا رومیؒ کے آستانے پر بہار آئی تھی۔ اہل علم کے مجمعوں میں وہ کبھی اجنبی معلوم نہ ہوتا۔ ملی و قومی تحریکوں کے پلیٹ فارم پر ہوتا تو اس جیسا فعال و مخلص کارکن اس کے سوا کوئی ذہن میں نہ آتا۔ قوم و ملک کی تاریخ کے غیر معمولی اشخاص کا ترجمان، ان کی زندگی کے گوشوں کو گم نامی سے نکال کر حوصلہ و امید کے خواہاں افراد کے لیے امید کی کرن بنانے والا، جس نے ان کی آفتاب کی طرح چمک‐دمک رکھنے والی زندگیوں کو عام کرکے لوگوں کی آنکھوں کو ان کے فکر و عمل کی روشنی سے چندھیا دیا تھا۔

وہ پیدا بھی غیر معمولی خاندان میں ہوا تھا۔ خاندانوں میں سب سے باعزت سید خاندان میں۔  اس کے والدین بھی اپنے زمانہ کے ممتاز افراد میں تھے جن کے علم و عمل کا زمانہ معترف تھا۔ ان کے والد جو "نزہۃ الخواطر”جیسے وقیع موسوعہ کی تصنیف کی وجہ سے اہل ہند کے فخر کا سبب تھے۔ وہ ہند کی تاریخ کے فیصلہ کن دور میں آفتاب کی طرح رونما ہوا تھا۔ تقریباً ایک صدی کی تاریخ کا وہ شاہد تھا۔ جس نے اپنے مشاہدہ و تجربات کو ہزاروں صفحات پر بکھیر کر کاروان زندگی کے نام سے موسوم کرکے نسلوں اور قوموں کو پوری صدی کی تاریخ کا مشاہدہ کروایا۔

وہ اس عالم فانی میں ظاہر ہوا تو اس وقت ملک انگریزوں کے زیر تسلط تھا اور جب عالم باقی کی طرف کوچ کی تو کالے انگریز اس ملک کا وہی حشر کر رہے تھے جو گوروں نے کیا تھا۔ وہ اس درمیانی وقفہ میں نمودار ہوا اور ایک تاریخ رقم کرکے چلا گیا۔ محرم کی ۶ تاریخ تھی اور ھجری سن اپنا ۱۳۳۳ واں سال کا آغاز کر رہی تھی۔ جس کے بعد اس کی زندگی کے وہ دن شروع ہونے جارہے تھے جہاں اسے حیرت انگیز کارہائے نمایا انجام دینے تھے۔

بچپن عام بچوں کی طرح گزارا لیکن پاکیزہ ماحول میں۔ جہاں علم و مطالعہ کا غلغلہ تھا۔ جہاں تربیت و تعلیم کا چرچا تھا۔ جہاں دین و مذہب سے بے پناہ لگاؤ تھا۔ وادی علم میں قدم رکھا تو اپنی صلاحیت و استعداد کے جوہر دکھلانے لگا۔ عملی زندگی میں آیا تو ملک و ملت کے بے پناہ مسائل نے اسے مفکر ملت بنا دیا۔ میدان تصنیف میں قدم رنجہ ہوا تو اہل علم و فکر کو اپنی کم عمری کے جوہر سے مبہوت اور مجسم حیرت بنا دیا۔ صرف سولہ سال کی عمر میں وقت کے مجاہد و داعی کبیر حضرت سید احمد شہیدؒ پر عربی زبان میں مضمون لکھا اور وقت کے مستند و معیاری رسالہ "المنار” میں شائع ہوا۔ زبان و بیان پر قدرت، اسلوب میں ندرت،  تحریر کا معیاری اور علمی و فکری بلندی کا ہونا اس رسالہ کا لازمی معیار تھا۔ یہ اس کا پہلا مقالہ تھا جو نہ صرف ہند سے بلکہ مصر سے بھی شائع ہوا۔

اپنے علمی کیرئر کے لیے ضروری تمام زبانون پر یکساں قدرت تھی۔ انگریزی کی اس قدر استعداد سے لیس تھا کہ کسی کتاب کو سمجھ کر اس سے اپنے تصنیفی کاموں میں استفادہ کر سکیں۔ اردو تو اس کے لکھنوی معاشرے کی باندی اور گھر کی لونڈی تھی۔ عربی زبان، مذہب سے رشتہ اور عربی تعلیم کے ماحول کی وجہ سے اور اہل زبان اساتذہ سے تلمذ نے اسکی مادری زبان بنا دیا تھا۔

وقت کے نامور ادیب و انشاءپرداز اس کی عربی اور اردو دانی کے معترف تھے۔ بلکہ ان کے علمی و ادبی معیار و استناد پر  کسی عرب ادیب نے یہاں تک کہا تھا کہ”علی میاں کے مقدمے کے بعد کسی کے لیے مقدمہ لکھنا جائز نہیں۔ "(مولانا تقی الدین ندوی)

وہ تواضع و انکساری، خشیت و انابت، علم و عمل، ورع و تقوی کا مجسم پیکر تھا۔ اگر کوئی آدمی ان صفات سے ناواقف ہو تو اسے اس کے سامنے کھڑا کردیں تو وہ ان صفات کی حقیقت کو پالیں۔

بقول مفتی تقی عثمانی وہ ان سعید روحوں میں سے تھے جس کے متعلق کوئی گروہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ، "وہ صرف ہمارے تھے، بلکہ ہر گروہ یہ کہتا ہے کہ وہ ہم میں سے تھے۔ "وہ ظاہر و باطن کے اس یکساں کردار کا حامل تھا کہ جو کہتا تھا کرتا تھا اور جو محسوس کرتا لکھتا تھا۔ فکر و عمل کا تضاد کیا ہوتا ہے اس سے یکسر نابلد تھا۔

جب بات تصوف و سلوک کی آتی تو وہ اس کا شناور و رمزشناس معلوم ہوتا۔ ادب و انشاء کا میدان ہوتا تو اس کا ہم پلہ مشکل سے نظر آتا، تاریخ و سیر کے وسیع کاروان پر نظر کی جاتی تو وہ سالار قافلہ نظر آتا۔ سلامت فکر اور اصابت رائے اس پر ختم معلوم ہوتی۔ اعتدال و میانہ روی تو گویا اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔ مصلحوں اور داعیوں کی فہرست بنائی جائیں تو اس کا نام سر فہرست ہوتا۔ شخصیت کی ہمہ گیری و ہمہ جہتی اس پر ختم تھی۔

اس کا حلیہ بقول مفتی خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کچھ ایسا تھا، (جب انہوں نے پہلی بار زیارت کی تھی۔ )” متوسط قدوقامت، فراخ جبیں، کھلا ہوا رنگ، سفید ریش جس میں اس وقت چند سیاہ بال بھی تھے، لبوں پر تبسم کھیلتا ہوا اور چہرے سے معصومیت نمایاں، سفید کرتا، چوڑا پاجامہ، بادامی رنگ کے اوسط درجے کے کپڑے کی شیروانی اور اسی کپڑے کی کشتی نما چوڑی پٹی والی ٹوپی، یہ تھا اس وقت مولانا کا سراپا۔ نہ عبا،  نہ قبا، نہ جبہ و دستار، نہ خدم و حشم۔ ہر ہر ادا سے سادگی نمایاں۔ "

وہ کوئی اور نہیں مولانا علی میاںؒ تھے۔ معروف نام علی میاں تھا۔ اور لکھنے پڑھنے والے انہیں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوؒی کے نام سے جانتے ہیں۔ (1999-1914) حضرت مولانا نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ملک و ملت اور دین و اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ وہ جب کبھی عالم اسلام پر خطرات کے بادل منڈلاتے دیکھتے تو بے قرار ہوجاتے اور اپنے علم و تجربہ سے جہاں تک بن پڑتا اس کے ازالہ کی مقدور بھر کوشش کرتے۔ ان کو عالم اسلام اور عالم عربی سے بےپناہ تعلق و لگاؤ تھا۔ جس کی بنا پر انہوں نے اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے عربی کا انتخاب کیا تھا جو بعد میں بالکل صحیح اور مفید فیصلہ ثابت ہوا۔

مولانا نے اپنی تصنیفات سے ایک عالم کو سیراب کیا ہے۔ ان کا اصل میدان تاریخ و سیر کا تھا۔ لیکن تفسیر، حدیث اور ادب میں بھی اپنا ایک مقام رکھتے تھے۔ ان کی تصانیف جو عربی میں ہے اس نے ان کی عربی دانی اور ادب و انشاء کی صلاحیت سے عربی کے نامور ادباء و مصنفین سے اپنا لوہا منوایا ہے۔ خاص کر جب ان کی کتاب "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمیں”منظر عام پر آئی تو عرب دنیا میں بھونچال آ گیا۔ ان کی اسی کتاب سے انہوں نے عرب ممالک میں اپنا مقام بنایا اور پھر تو یہ سلسلہ ایسا چلا کہ اس میں "، الصراع بین الفکرۃ الاسلامیۃ و الفکرۃ المغربیۃ‌، الارکان الاربعۃ، الطریق الی المدینۃ، روائع اقبال، العقیدۃ والعبادۃ والسلوک، ” اور عرب جامعات میں کیے گئے علمی و فکری محاضرات نے ان کی علمی و فکری اور ادبی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا۔ بعد ازاں یہی علمی شناسائی دعوت و تبلیغ کے کام کے لیے بڑی مفید و مؤثر ثابت ہوئی۔

اردو میں حضرت کی سب سے معروف کتابوں میں تاریخ دعوت و عزیمت، سیرت سید احمد شہیدؒ، پرانے چراغ، سوانح مولانا الیاسؒ، نبی رحمت، پاجا سراغ زندگی، عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح، قادیانیت ایک جائزہ وغیرہ اپنے موضوع پر بہت قیمتی اور اہم ہے۔

حضرت مولانا کا تعلق اپنے دور کی اکثر دینی تحریکوں سے رہا۔ دعوت و تبلیغ کے بانیوں میں اگر ان کا شمار کریں تو بے جا نہ ہوگا۔ خصوصا عرب ممالک میں تبلیغی کام کا تعارف اور اشاعت کے سلسلہ میں حضرت نے جن مساعئ جمیلہ کو انجام دیا ہے وہ ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ اس کے علاوہ مسلم پرسنل لاء بورڈ، مسلم مجلس مشاورت، تحریک انسانیت وغیرہ میں حضرت کا کلیدی کردار رہا ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے ملی و ملکی تقاضوں کے پیش نظر حضرت مولانا نے جو کارہائے نمایا انجام دیے ہیں وہ مستقل ایک ضحیم کتاب کے متقاضی ہیں۔ جس کا ہلکا سا تعارف ان کی آپ بیتی "کاروان زندگی”کی ان ضحیم جلدوں سے ہو سکتا ہے جو انہوں نے سات جلدوں میں کئی ہزار صفحات پر لکھی ہے۔

دراصل یہ مضمون میں نے ان کی اسی کتاب کی جلد اول پر تبصرہ کرنے کے لیے لکھنا شروع کیا تھا لیکن وفورجذبات اور تاثیر کی رو میں بہ کر ایک جذباتی، تعارفی مضمون کی شکل اختیار کر گیا۔ جس کی وجہ سے شاید آپ کو کچھ مبالغہ کا احساس ہو، لیکن کیا کروں یہ میرے ذاتی تاثرات ہے اسے میں کس طرح روکوں؟

سو یہ ٹوٹی پھوٹی لکیریں لکھ کر اپنے دل کو ٹھنڈا کر رہاہوں اور حضرت سے اپنی جذباتی وابستگی کا اظہار کرکے اپنے ضمیر کو تسلی دے رہا ہوں۔

مزید دکھائیں

2 تبصرے

متعلقہ

Close